الوہا ایئر لائنز فلائٹ 243 کی لرزہ خیز داستان : قسط نمبر ایک

28 اپریل 1988...بحرالکاہل کی نیلگوں وسعتوں پر سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ ہوائی کے سر سبز جزائر رنگ، خوشبو اور زندگی سے بھرپور تھے۔ساحلوں پر سیاحوں کی ہنسی بکھری ہوئی تھی، سمندر کی لہریں ریت سے کھیل رہی تھیں اور آسمان پر تیرتے سفید بادل گویا امن و سکون کا پیغام دے رہے تھے۔ گویا ہر طرف زندگی مسکرا رہی تھی... لیکن قدرت نے اسی دن کی پیشانی پر ایک ایسا باب لکھ دیا تھا جسے دنیا آج بھی یاد کرتی ہے۔ امریکہ کی ریاست ہوائی کے جزیرے ہیلو ( ایک جزیرہ کا نام ہے ) سے دارالحکومت ہونولولو ( ایک شہر کا نام ہے ) جانے والی الوہا ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 243 معمول کے مطابق روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ یہ کوئی غیر معمولی سفر نہیں تھا، صرف پینتیس منٹ کی مختصر پرواز، جسے اس ایئرلائن کے پائلٹ روزانہ کئی مرتبہ طے کرتے تھے۔ یہ جہاز اس دن بھی کئی پروازیں مکمل کر چکا تھا، مگر کسی کو اس بات کی خبر نہ تھی کہ فولاد کی مضبوط دیواروں کے اندر ایک ایسی خاموش کمزوری پل رہی ہے جو چند ہی لمحوں بعد آسمان کو قیامت کا منظر بنا دے گی۔ مسافر ایک ایک کرکے جہاز میں سوار ہورہے تھے۔ کوئی خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے جا رہا تھا، کوئی کاروباری سفر پر تھا، تو کوئی اپنے پیاروں سے ملاقات کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھا تھا۔ کسی کے چہرے پر خوف کا نام و نشان نہ تھا۔

اسی دوران ایک مسافر کی نظر جہاز کے دروازے کے قریب پڑی۔ ایلومینیم کی چادروں کے درمیان اسے ایک باریک سا شگاف دکھائی دیا۔ وہ چند لمحے رک گیا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ شاید عملے کو اطلاع دینی چاہیے..لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خود کو تسلی دی کہ : "یہ اتنی بڑی ایئرلائن ہے... جہازوں کا روزانہ معائنہ ہوتا ہوگا۔ اگر واقعی کوئی خطرہ ہوتا تو یہ جہاز ہرگز اڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔" وہ خاموشی سے اپنی نشست پر جا بیٹھا۔ دوستو یاد رکھیے کبھی کبھی ایک لمحے کی خاموشی خطرناک حادثہ میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ دوپہر ایک بج کر پچیس منٹ پر جہاز نے رن وے پر دوڑنا شروع کیا۔ چند ہی لمحوں بعد اس کے پہیے زمین سے جدا ہوئے اور فلائٹ 243 نیلے آسمان کی وسعتوں میں بلند ہونے لگی۔ ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔
کپتان اپنے کیبن میں موجود آلات پر نظریں جمائے ہوئے تھا، معاون پائلٹ پرواز کی نگرانی کر رہی تھی، جبکہ کیبن کریو مسافروں کی خدمت میں مصروف تھا۔ ایئر ہوسٹسیں مسکراتے ہوئے مشروبات پیش کر رہی تھیں، بچے کھڑکیوں سے بادلوں کو دیکھ کر خوشی سے چہک رہے تھے، اور مسافر اس مختصر سفر کو ایک عام پرواز سمجھ کر بے فکر بیٹھے تھے۔ جہاز مسلسل بلندی حاصل کرتا ہوا چوبیس ہزار فٹ کی مقررہ بلندی کے قریب پہنچنے لگا۔ پھر...پھر ایک ایسا دھماکہ ہوا کہ گویا آسمان پھٹ گیا ہو۔

ایک لمحے میں جہاز کے اندر کا فضائی دباؤ ختم ہو گیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی دیو ہیکل قوت نے جہاز کی چھت کو جڑ سے اکھاڑ کر آسمان میں اچھال دیا ہو۔ پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی یخ بستہ ہوائیں جہاز کے اندر یوں داخل ہوئیں جیسے کسی طوفان نے قید خانے کا دروازہ توڑ دیا ہو۔ مسافر اپنی نشستوں سے چمٹ گئے۔ کسی کی چیخ فضا میں گونج رہی تھی، کوئی اپنے بچوں کو سینے سے لگائے آنسو بہا رہا تھا، اور کئی لوگ اس خوف سے لرز رہے تھے کہ شاید اب اگلا لمحہ ان کی زندگی کا آخری لمحہ ہو۔ سامان، کاغذات، کپڑے، کھانے پینے کی ٹرے اور ہر چیز ہوا میں بے قابو ہو کر ادھر اُدھر اڑنے لگی۔ سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ یخ بستہ ہوائیں جسم میں سوئیاں چبھونے لگیں، جبکہ باہر کا درجہ حرارت منفی پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا۔ ایسے میں ایک اور ہولناک منظر سامنے آیا۔ جہاز کے درمیانی حصے میں موجود ایئر ہوسٹس سی بی لانسنگ ایک مسافر کو مشروب پیش کر رہی تھیں۔ اچانک طوفانی ہوا نے انہیں اپنی لپیٹ میں لیا اور پلک جھپکتے ہی وہ جہاز سے باہر جا گریں۔

یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ کسی کو انہیں بچانے کا موقع ہی نہ ملا۔ان کی ساتھی ایئر ہوسٹسیں یہ منظر دیکھ کر سکتے میں آ گئیں، مگر وقت ماتم کا نہیں تھا۔ جہاز میں درجنوں جانیں موت کے دہانے پر کھڑی تھیں۔ دوسری ایئر ہوسٹس، مشیل، زخمی ہونے کے باوجود خود کو سنبھالتی ہیں۔ فرش پر گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے وہ ایک ایک مسافر تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چاروں طرف چیخیں، دعائیں اور خوف کی لرزتی آوازیں گونج رہی تھیں۔ کچھ مسافروں کو یقین ہو چکا تھا کہ اب یہ جہاز کبھی زمین تک نہیں پہنچے گا۔ کوئی اپنے رب کو یاد کررہا تھا، کوئی خاموشی سے آنکھیں بند کیے اپنے اہلِ خانہ کو یاد کر رہا تھا، اور کئی لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے بیٹھے تھے، جیسے آخری سفر میں یہی سہارا باقی رہ گیا ہو۔ مشیل بار بار کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہیں، مگر تیز شور کی وجہ سے کوئی جواب سنائی نہ دیتا تھا۔ ان کے دل میں ایک ہولناک خیال نے جنم لیا... "اگر پائلٹ بھی اس حادثے کا شکار ہو گئے تو؟" یہ خیال ان کے چہرے کا رنگ اڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ لیکن حقیقت اس سے مختلف تھی۔ جہاز کے اگلے حصے میں کپتان رابرٹ شورنسٹائمر اور ان کی معاون پائلٹ میمی ٹامکنز ابھی تک اپنی نشستوں پر موجود تھے۔ شدید جھٹکے نے انہیں ضرور ہلا دیا تھا، مگر انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔

دونوں نے فوراً اپنے آکسیجن ماسک پہن لیے۔ کاک پیٹ میں مسلسل خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں ۔ جہاز کی ساخت بری طرح متاثر ہو چکی تھی، مگر کپتان جانتے تھے کہ اگر ایک لمحے کی بھی غلطی ہوئی تو یہ جہاز سمندر میں بکھر جائے گا۔ انہوں نے فوراً ہنگامی طور پر جہاز کو نیچے لانے کا فیصلہ کیا۔ اب یہ صرف ایک پرواز نہیں رہی تھی... یہ وقت کے خلاف ایک جنگ تھی۔ ہر گزرتا لمحہ مسافروں کی سانسیں چھین رہا تھا، اور ہر سیکنڈ موت کو ان کے مزید قریب لا رہا تھا۔ کپتان نے جہاز کا رخ نیچے موڑا۔ان کے ہاتھ کنٹرول پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے، مگر دل میں صرف ایک دعا تھی... "اے خدا! بس اتنا وقت دے دے کہ میں ان لوگوں کو زمین تک پہنچا سکوں۔"

قسط دوم کے لیے انتظار کریں 

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی