شام کی سلاخوں میں لرزہ خیز حالات خونی داستان ، ازہبہ الدباغ ، قسط نمبر پندرہ

ان دونوں نے آپس میں یہی طے کیا تھا کہ اگر کوئی پوچھے تو اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ میری بہن کا منگیتر ہے۔ اس طرح تحقیقی ٹیم کے سامنے بھی یہی بات دہرائی گئی۔ نتیجتا وہ منی کی بہن کو بھی لے آئے جو اس سارے معاملے سے بے خبر تھی اور اسے بھی ہمارے ساتھ جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ حکام نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ وہ ان کے باپ اور بھائی کو بھی اٹھا لائے، پھر بھائی کو تو رہا کر دیا لیکن بوڑھے باپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ جب ہمارے پاس آئی بڑی حسرت سے رو رہی تھی۔ بالکل بچوں کی مانند ۔ ہم سب بھی اپنی عادت کے مطابق ان دونوں کے گرد جمع ہو گئے۔ ان کا حجاب دیکھ کر ہماری ان سے ہمدردی دو چند ہو چکی تھی ، ہم نےان سے پوچھا:
تم کون ہو اور یہ تم دونوں کو کیوں لے آئے ہیں؟ انھوں نے ہمیں پورا قصہ سنا دیا۔ ہم نے حیرت سے سوال داغا: جب انھوں نے تم پر تشدد بھی نہیں کیا تو تم بچوں کی طرح رو کیوں رہی تھی ؟ منی بولی: مجھے اہل کار نے کہا؛ اندر چلو اور جب میں تیزی سے داخل نہ ہوئی تو اس نے میرے باپ کو گالی دی۔ الحاجہ نے پوچھا: تو کیا ہوا ؟ بولی: میرا باپ گالی کے قابل نہیں۔
منی ۱۹۸۵ء تک ہمارے ساتھ رہی، پھر اسے لاذقیہ منتقل کر دیا گیا اور اس کے ایک برس بعد وہ قطنا لائی گئی، پھر اسے ہمارے ہمراہ دو ما منتقل کیا گیا اور ہمارے ساتھ ہی اسے رہائی ملی۔ البتہ اس کی بہن کو کفر السوسہ ہی میں رہائی مل گئی تھی۔ ہمارے بلاک میں ام یاسمین ساریج بھی لائی گئیں جن کے بیٹے پر ۱۹۸۱ء کے حادثہ از بکیہ دمشق میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ہمیں ان کے مقتول بیٹے کی تصویر شناخت کے لیے دکھائی گئی جس میں اس کا چہرہ کٹا پھٹا تھا اور تصویر واضح تھی۔ ہم نے نفی میں سر ہلا دیا ، شام کو وہ اس کی والدہ کو بھی لے آئے ، وہ بھی اس کی تصویر نہ پہچان سکیں، کیونکہ ان کا بیٹا حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث نہ تھا۔ انھیں جس وقت میت کا چہرہ دکھایا گیا، اللہ نے انھیں صبر و ثبات کی نعمت سے نوازا اور انھوں نے بس اس قدر کہا: حسبنا اللہ ونعم الوکیل انھوں نے ان کے ہمراہ ان کے شوہر اور ۱۲ و ۱۶ برس کے دو بیٹوں کو بھی گرفتار کر لیا، جنھیں جنوبی حصے میں رکھا گیا ۔ انھیں ہمارے ہمراہ اور ان کے شوہر اور بچوں کو ہمارے بعد رہا کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہمیں محکمہ میدانیہ میں دھماکے کے مقتولوں کی تصویر میں دکھا کر کہا گیا۔
ان ہی معصوموں کے خون کی وجہ سے آپ سے تفتیش کی جارہی ہے۔ اللہ کی قسم ہم ان کے خون کا بدلہ آپ کی گردنوں سے لیں گے۔ آپ کو خبر ہونی چاہیے کہ اخوان با ہر جو بھی سرگرمی دکھا ئیں گے ہم اندر والوں کو اس کی سزا دیں گے۔ اس طرح جب ہم پر تشدد بڑھایا جاتا تو ہمیں معلوم ہو جاتا کہ باہر کچھ ہوا ہے۔ بلکہ ایسی صورت میں ہمارا ہوا کا راستہ بھی بند کر دیا جاتا اور روشنی فراہم کرنے والا اکلوتا روشن دان بھی ۔ نوجوانوں کی کراہوں اور چیخوں میں بھی اضافہ ہو جاتا اور الحاجہ ریاض بڑی سادگی سے کہتیں: آؤ اخوان ہمارا حال دیکھو تم جو چاہو کرتے ہو اور ہماری قبر ہم پر مزید تنگ ہو جاتی ہے۔ جیل دکھ اور الم کا دوسرا نام ہے، قیدیوں اور گرفتار شدگان کے حالات سن کر عجب یاس طاری ہو جاتی ہے، لیکن جیل کے تمام عرصے میں ہالہ سے زیادہ درد ناک اور الم ناک قصہ میں نے نہیں سنا ۔ اس روز میں روشن دان کے سوراخ سے باہر دیکھ رہی تھی جب اچانک میری نگاہ غیر ارادی طور پر اس کی جانب اٹھی۔ میں نے لڑکیوں کو متوجہ کر کے کہا؟
ایسا لگتا ہے وہ کسی غیر ملکی خاتون کو لے آئے ہیں جو عربی نہیں بجھتی۔ حسن اس سے بات کر رہا تھا اور اسے کندھے سے پکڑے ہوئے تھا اور اسے دھکیلتا ہوالا رہا تھا۔ وہ غریب بلا کچھ جانے بوجھے اس کے ساتھ گھٹتی ہوئی آرہی تھی، لیکن وہ غیر ملکی مسلمان لگتی تھی؛ کیونکہ اس نے سر پر سکارف باندھ رکھا تھا۔
جب میں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا وہ اسے قید تنہائی کے سیلوں سے لائن میں لے جا رہے تھے۔ میں وہیں کھڑی انتظار کرتی رہی، پھر میں نے اسے واپس لوٹتے ہوئے دیکھا۔ تقریبا پورا مہینہ اسے مختلف اوقات میں اسی طاق سے دیکھتی رہی۔ وہ اسے لاٹھی سے ہانکتے ہوئے لاتے اور ہر قدم پر اسے گھسیٹ کر لے جاتے گویا اس کے اعصاب تشنج زدہ ہوں۔ اس پر عجب سرد مہری کی کیفیت طاری رہتی ۔ نہ وہ بات کرتی نہ کسی تکلیف کا اظہار کرتی۔ وہ اسے کسی جانور یا نعش کی مانند کمرہ تفتیش میں لے کر جاتے ، وہ انھیں پتھرائی نظروں سے دیکھتی اور خالی نظریں دائیں بائیں گھماتی رہتی ! ایک ماہ بعد جب ہم اس کے بارے میں مایوس ہو چکے تھے وہ اسے ہمارے بلاک میں لے آئے۔ مجھے اب بھی وہ لمحہ یاد ہے جب داروغہ ابراہیم نے دروازہ کھولا تھا اور اسے کندھے سے تھامے ہوئے مجھے پکارا تھا: ہیں۔ آؤ ذرا اسے پکڑو۔ اب یہ تمھارے حوالے ہے۔ اور وہ اس خاتون کو ہمارے بلاک میں چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا، یہ تو وہی تھی جسے میں ایک ماہ سے دیکھ رہی تھی۔ اب بھی اس نے حجاب پہن رکھا تھا اور اس کا بڑا سا کمیل زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ اس کے کپڑے بری طرح گندے تھے، پتا نہیں کب سے وہ اس حال میں تھی۔ ہم نے کچھ دیر اس کے آگے بڑھنے کا انتظار کیا، مگر وہ اسی طرح ساکت کھڑی رہی، جہاں اسے ابراہیم چھوڑ کر گیا تھا اور سر مو حرکت نہ کی ۔ ہم سب اس کی جانب بڑھے اور نری سے پوچھا: تمھارا کیا نام ہے؟ وہ کچھ نہ بولی۔ تم کہاں سے آئی ہو؟ وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ الحاجہ مدیحہ نے آگے بڑھ کر کہا: پیچھے ہٹو ۔ بخدا تم لوگوں نے تو اسے پریشان کر دیا ہے۔ ہم پیچھے ہٹ گئے اور الحاجہ بڑی اپنائیت سے آگے بڑھیں اور نئے سرے سے پوچھنے لگیں: بیٹی تمھارا کیا نام ہے؟ اس کی نحیف و نزار کپکپاتی آواز کسی اندھے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ دور افق میں کسی ایک نقطے پر نظر ٹکائے ہوئے بلا حس و حرکت بولی: آپ کون ہیں؟ تقریبا ایک گھنٹہ گزر گیا، لیکن باوجود کوشش کے اس نے کوئی اور کلمہ منہ سے نہ نکالا۔ ہم اس سے مایوس ہو گئے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ ہم نے سوچا: شاید وہ خوف زدہ ہے اور کچھ دیر میں اس کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔ اس وقت منیرہ ریڈیو سن رہی تھی ۔ اس پر جب تلاوت قرآن نشر ہوتی اور خاص طور پر تعلیم قرآن کا پروگرام ناشیء فی رحاب قرآن“ لگتا تو وہ ہماری خاطر اس کی آواز بلند کر دیتی یا ریڈیو ہمارے حوالے کر دیتی اور ہم اسے پائپ کے سوراخ کے قریب رکھ دیتے تاکہ قریبی سیلوں کے نوجوان بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ اس وقت بھی ایک بچے کی تلاوت نشر ہو رہی تھی میں نے جوں ہی اس کی آواز بلند کی اس کے چہرے پر شکنیں نمودار ہو گئیں اور وہ قدرے غصے سے چیخی: اسے بند کرو۔ بند کرو ۔ یہ قرآن کو غلط پڑھ رہا ہے حرام یہ سب جھوٹ اور افترا ہے ۔

قسط نمبر سولہ کے لیے انتظار کریں 

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی