طیارے کے محفوظ اترنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آخر ایسا ہوا کیسے؟ایک جدید ایئربس A330، جس میں پرواز سے پہلے مطلوبہ مقدار سے بھی زیادہ ایندھن بھرا گیا تھا، بحرِ اوقیانوس کے اوپر دونوں انجنوں سے محروم کیسے ہو گیا؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے کینیڈا کے فضائی تحقیقاتی اداروں نے جامع تحقیقات کا آغاز کیا۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حادثے کی وجہ کوئی ایک غلطی نہیں تھی، بلکہ کئی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں کا مجموعہ تھی۔ سب سے پہلے انجن کی تبدیلی کے دوران مختلف ڈیزائن کی فیول لائن اور ہائیڈرولک لائن ایک ساتھ نصب کر دی گئی تھیں، حالانکہ کمپنی کی ہدایات کے مطابق ایسا کرنا سخت منع تھا۔
اسی غلط تنصیب کی وجہ سے دونوں دھاتی پائپ مسلسل ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے رہے، یہاں تک کہ فیول لائن میں سوراخ ہو گیا اور ایندھن تیزی سے خارج ہونے لگا۔ اس کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا کہ طیارے میں فیول لیک کی نشاندہی کرنے والا کوئی خودکار نظام موجود نہیں تھا، اس لیے پائلٹوں کو وقت پر معلوم ہی نہ ہو سکا کہ اصل خرابی کیا ہے۔ تیسری اہم غلطی کاک پٹ میں ہوئی۔ جب فیول کا توازن بگڑا تو عملے نے تحریری چیک لسٹ کے بجائے اپنی یادداشت پر انحصار کیا اور کراس فیڈ والو کھول دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں دونوں ٹینکوں کا ایندھن بھی اسی خراب لائن کے ذریعے ضائع ہونے لگا۔ اگر چیک لسٹ کے مطابق کارروائی کی جاتی تو ممکن تھا کہ کافی مقدار میں ایندھن محفوظ رہ جاتا اور دونوں انجن بند نہ ہوتے۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کینیڈین حکام نے ایئر ٹرانزٹ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ کمپنی پر اس وقت کینیڈا کی فضائی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ عائد کیا گیا،کیونکہ یہ ثابت ہو چکا تھا کہ دیکھ بھال کے دوران بنیادی تکنیکی ہدایات پر مکمل عمل نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ متعدد مسافروں نے بھی ایئر لائن کے خلاف اجتماعی مقدمہ دائر کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر زندہ بچ گئے، لیکن اس خوفناک تجربے نے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچایا، جس کے اثرات برسوں تک ان کی زندگی پر باقی رہے۔
حادثے کے بعد دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے کپتان رابرٹ پیچ کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ لیکن چند ہی دن بعد ان کی زندگی کا ایک پرانا راز منظرِ عام پر آیا۔ رپورٹس کے مطابق، کئی برس پہلے امریکہ میں وہ منشیات کی اسمگلنگ کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوئے تھے اور کچھ عرصہ قید بھی کاٹ چکے تھے۔ یہ خبر سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہو گئی کہ آیا ماضی میں سزا یافتہ شخص کو دوبارہ کمرشل پائلٹ بننے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ تاہم اس تنازع کے باوجود ایک حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکا۔ 24 اگست 2001ء کی صبح اگر رابرٹ پیچ کا تجربہ، حوصلہ اور مہارت نہ ہوتی تو شاید اس پرواز کے 306 مسافر کبھی زندہ واپس نہ آتے۔ ختم شد۔
قسط اول پر جانے کے لیے کلک کریں ...