بحرِ اوقیانوس کے اوپر موت کا سفر ، تاریخ کی عظیم ترین گلائیڈ لینڈنگ جب دونوں انجن بند ہو چکے تھے ، قسط پنجم

306 افراد پر مشتمل ایئربس A330 اب محض اپنی رفتار، بلندی اور ہوا کے سہارے بحرِ اوقیانوس کے اوپر گلائیڈ کر رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں معمولی سی غلطی بھی سینکڑوں جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی تھی۔ کپتان رابرٹ پیچ جانتے تھے کہ اب ان کے پاس صرف ایک ہی موقع ہے۔ اگر پہلی کوشش میں رن وے تک نہ پہنچ سکے تو دوبارہ انجن اسٹارٹ کرنے یا دوبارہ چکر لگا کر لینڈ کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں تھا۔ صبح تقریباً 6 بج کر 31 منٹ پر طیارہ لاجس ایئر بیس سے رابطے میں آیا۔ کچھ ہی دیر بعد کپتان کو دور افق پر رن وے کی روشنیاں دکھائی دیں۔ یہ منظر ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھا۔

اب انہیں یقین ہو گیا کہ اگر رفتار اور بلندی کا درست حساب رکھا گیا تو شاید یہ بے جان طیارہ رن وے تک پہنچ جائے۔ انہوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ گلائیڈ کا زاویہ برقرار رکھا اور ہر لمحہ رفتار پر نظر رکھی۔ لینڈنگ سے چند لمحے پہلے ایک اور اہم فیصلہ کرنا تھا۔ رن وے پر اترنے کے لیے لینڈنگ گیئر کھولنا ضروری تھا، لیکن جیسے ہی گیئر کھلتا، طیارے کی رفتار کم ہونے لگتی اور گلائیڈ کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی۔ اگر گیئر بہت جلد کھول دیا جاتا تو جہاز رن وے تک پہنچنے سے پہلے ہی نیچے گر سکتا تھا، اور اگر بہت دیر سے کھولا جاتا تو محفوظ لینڈنگ ممکن نہ رہتی۔ کپتان نے عین مناسب وقت پر لینڈنگ گیئر کھولنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ان کی مہارت اور برسوں کے تجربے کا بہترین ثبوت تھا۔

صبح 6 بج کر 45 منٹ پر، تقریباً انیس منٹ تک بغیر انجن کے گلائیڈ کرنے کے بعد، ایئربس A330 نے لاجس ایئر بیس کے رن وے کو چھو لیا۔ لیکن اصل امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ دونوں انجن بند ہونے کی وجہ سے ریورس تھرسٹ دستیاب نہیں تھا، جو عام طور پر لینڈنگ کے بعد رفتار کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کپتان نے صرف بریک اور محدود ہائیڈرولک نظام کی مدد سے طیارے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ رفتار بہت زیادہ تھی۔ شدید رگڑ کی وجہ سے ٹائروں سے دھواں نکلنے لگا۔ چند لمحوں بعد کئی ٹائر پھٹ گئے، لینڈنگ گیئر کے دھاتی حصوں سے چنگاریاں اٹھنے لگیں اور معمولی آگ بھی بھڑک اٹھی۔ مگر خوش قسمتی سے ایئرپورٹ کی فائر بریگیڈ پہلے ہی تیار کھڑی تھی۔انہوں نے چند لمحوں میں آگ پر قابو پا لیا۔ طیارہ مکمل طور پر رکتے ہی کیبن کا دروازہ کھولا گیا اور ایمرجنسی سلائیڈز کے ذریعے مسافروں کا انخلا شروع ہوا۔ صرف چند منٹوں میں تمام 306 افراد بحفاظت طیارے سے باہر آ چکے تھے۔

سب سے حیرت انگیز حقیقت یہ تھی کہ اتنے بڑے حادثے کے باوجود ایک بھی شخص کی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔کچھ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں، جبکہ چند مسافروں کو سلائیڈ سے اترتے وقت ہلکی پھلکی زخمی ہونے کی شکایت ہوئی، مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جو لوگ چند لمحے پہلے اپنی زندگی کی آخری دعائیں مانگ رہے تھے، اب وہ محفوظ زمین پر کھڑے تھے۔ بہت سے مسافر خوشی سے رو رہے تھے۔کچھ لوگ خاموشی سے زمین کو دیکھ رہے تھے، جیسے انہیں یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ وہ واقعی زندہ بچ گئے ہیں۔ اور پھر اچانک پورے ماحول میں تالیوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ یہ تالیاں اس شخص کے لیے تھیں جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ کپتان رابرٹ پیچ۔

ان کی مہارت، حاضر دماغی اور غیر معمولی فیصلہ سازی نے ایک ایسے حادثے کو، جو دنیا کے بدترین فضائی سانحات میں شمار ہو سکتا تھا، انسانی جانوں کے محفوظ بچاؤ کی ایک عظیم مثال بنا دیا۔اس روز انہوں نے ثابت کر دیا کہ بعض اوقات تجربہ، اعتماد اور درست فیصلہ سینکڑوں زندگیاں بچا سکتا ہے۔ لیکن جب تحقیقات شروع ہوئیں تو اس حیرت انگیز واقعے کے پیچھے چھپی حقیقت نے پوری ہوابازی کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

(جاری ہے۔۔۔قسط ششم کے لیے کلک کریں.....)

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی