آنے لگیں ۔ ساتھ ہی قیدیوں کی چیچنیں ۔ زمینوں اور راستوں پر ہانکنے اور بھاگنے کی آوازیں۔ مجھے اندازہ ہوا کہ گرفتار شدگان کی نئی کھیپ آگئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ چھ یا سات نوجوان تھے، ان کی عمریں بارہ سے پندرہ برس کے درمیان تھیں، وہ سب کسی مسجد میں تھے، جہاں سے گرفتار کر کے انھیں یہاں لایا گیا تھا ، جہاں سیل کا رقبہ میٹر یا ڈیڑھ میٹر سے زائد نہ تھا۔ وہ سب خوف زدہ تھے، ان میں سے ایک خوف یا تعذیب سے سخت چلا رہا تھا اور بار بار مطالبہ کر رہا تھا کہ اسے بیت الخلا لے جایا جائے ۔ اہل کار سال نو کی تقریبات میں مگن تھے، اس کی چیخ و پکار کے جواب میں ایک ہی آواز سنائی دیتی: اپنا حلق بند کرو۔ لیکن لڑکا اپنے قابو میں نہ تھا، وہ پھر چیخنا چلانا شروع کر دیتا اور واسطے دیتا اور مدد کی درخواست کرتا:
اللہ کی قسم میرے پیٹ میں بہت درد ہے۔ بخدا۔ میں اپنے اوپر کنٹرول نہیں کر سکتا۔ زیادہ چیخ و پکار کے بعد ایک اہل کار آتا، کھر کی کھول کر اسے دو چار بید رسید کرتا اور چلاتا ہوا واپس چلا جاتا: اپنا حلق مت پھاڑو، چپ کر جاؤ اوئے ، ایسی ہی ایک مار کے بعد نوجوان اچانک چپ ہو گیا، مگراف ۔ اتنی تیز بدبو پھیلی کہ پورے سیل میں دم گھٹنے لگا۔ ایک اہل کار لعنت ملامت کرتا ہوا بھا گتا ہوا آیا اور کہنے لگا: تم نے یہاں کر دی اوئے! اور باہر نکال کر پاگلوں کی طرح اسے پیٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے سیل سے میری امی کی ڈانٹ بھری آواز سنائی دی: اللہ تمھیں برباد کرے ۔ تم انسانوں کے سینے میں دل نہیں؟ وہ تمھاری منتیں کرتا رہا کہ اسے بیت الخلا لے جاؤ لیکن تم نے ایک نہ سنی اور اب وہ بے بس ہو گیا تو ۔ یہ غریب اور کیا کرتا ؟ سیل میں دوبارہ سکون ہو گیا، یہ پہاڑ جتنی لمبی رات کاٹے نہ کٹ رہی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مجھے قتل کرنے سے پہلے یہ کتنی بار گھسیٹ کر عقوبت خانے میں لے جائیں گے، میرالباس نو چیں گے اور کتنا ٹارچر کریں گے۔ فجر کے قریب سیل کی دیوار کسی نے ہولے سے بجائی۔ میں سمجھ گئی، یہ ماجدہ تھی جو ہمیشہ کی طرح مجھے فجر کا وقت ہونے کی اطلاع دے رہی تھی۔ میں نے تیمم کر کے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا مگر قبلہ معلوم نہ تھا، میں نے دروازہ بجایا تو حسین آگیا، میں نے اس سے پوچھا تو کہنے لگا: میں نے کبھی نماز نہیں پڑھی۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن قیدی جوان کمروں میں اس رخ پر پڑھتے ہیں۔ اس نے ایک جانب اشارہ کر دیا۔ میں نماز پڑھ رہی تھی کہ ایک اہل کار آ گیا، بڑے طنزیہ انداز میں کہنے لگا: اب نمازیں یاد آگئیں ہیں۔ اللہ قبول فرمائے۔ بوڑھا اہل کار پھر آگیا، اس نے ناشتہ رکھا اور بیت الخلا میں جانے کا پوچھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ آگے چلنے لگا۔ ہر طرف سکوت تھا۔ اس نے بتایا کہ میرے، ماجدہ اور امی کے علاوہ سب لوگ رہا ہو گئے ہیں۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی: انھیں کیوں رہا کر دیا گیا اور ہمیں کیوں نہیں کیا؟ مجھ پر بھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ میں بے گناہ ہوں۔ وہ بولا: میں کچھ نہیں جانتا ۔ سب سے پوچھ لو میں تو ادنی سا ملازم ہوں۔ بولا: کھانا کھالو، بھوک لگی ہوگی؟ میں نے اپنے ناشتے سے مکھن، جام وغیرہ بچا کر رکھا ہے۔ میں نے شکریے کے ساتھ معذرت کر دی ۔ میری بھوک اڑ چکی تھی۔ میں نے اس قید تنہائی میں اسی طرح پریشان حال آٹھ دن گزار دیے۔
الخط اور چرواہا
جب کفر السوسہ میں میں نے صبح کے وقت اپنے سیل پر نظر ڈالی تو وہ کسی اور چیز سے زیادہ ایک قبر سے مشابہ تھا، جس کی دیواروں پر لال بیگ (کیڑا نما) رینگ رہے تھے۔ شروع میں تو دیواروں پر سیاہی کا گمان ہوتا تھا مگر جب نظر اندھیرے میں کسی قدر د یکھنے کے قابل ہوئی تو کچھ خطوط بھی نمایاں ہو گئے۔ کئی جگہوں پر اللہ اکبر وللہ الحمد کھود کر لکھا گیا تھا، اور کتنے ہی لوگوں کے نام بھی تھے جو یہاں اس سے پہلے مکین رہ چکے تھے۔ اسی طرح ایک مسجد کا نشان تھا جس کے گرد لا الہ الا الله محمد رسول اللہ اور اس کے نیچے غالباً لکھنے والے کا نام کندہ تھا۔ اسی طرح ایک جگہ فلسطین کا نقشہ بنا کر اس کے نیچے اللہ اکبر وللہ الحمد لکھا تھا۔ نماز فجر کے دو گھنٹے بعد جیل میں دن کا آغاز ہو گیا ۔ جلد ہی گالی گلوچ ، لعنت ملامت اور کافرانہ کلمات کے ساتھ قیدیوں کی پیٹھوں پر کوڑے اور زنجیریں برسنے کی آواز یں نمایاں ہو گئیں۔ انھیں وہ بیت الخلا یا جیل کی مروج زبان میں الخط لے جا رہے تھے۔ ایک عسکری یاسین زنجیر کا ایک سرا ہاتھ میں پکڑ کر قیدیوں کو گھسیٹتا اور چھترول کرتا ہوا لے کر چلتا تھا۔ وہ انھیں مسلسل گالیاں بکتے ہوئے جانوروں کی طرح ہانکتے ہوئے لے کر جاتا تھا۔ ایسے میں اگر کوئی کراہ اٹھتا تو بس اس کی شامت ہی آجاتی اور کوئی دوسرا ایسی جرات نہ کر پاتا۔ میری امی کی ان کے سیل سے ملائمت بھری مگر طنز کے نشتر چلاتی آواز ابھری: میرے بیٹے ۔ تم کیا سمجھ رہے ہو کہ تم ابھی تک اپنے ریوڑ کے ہمراہ ہو، یہ جیل تمھاری چرا گاہ ہے اور یہ گائیں ہیں جنھیں تم ہانک رہے ہو۔ یاسین صبح سویرے کچھ سیکھنے کے موڈ میں نہ تھا۔ اس نے ایک نوجوان پر تعذیب جاری رکھی اور اس خوف ناک منظر سے مزا لینے لگا۔ میری امی دروازہ پیٹتی رہیں اور ان کو تعذیب میں دیکھ کر دکھ سے روتی رہیں مگر انھیں جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ کچھ ہی دیر میں میرے سیل کا دروازہ کھلا اور ایک اہل کار نے مجھے بیت الخلا جانے کا اشارہ کیا۔ میں فارغ ہوئی تو سوچا فرصت پا کر وضو بھی کرلوں، اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ امی میرے سامنے کھڑی ہیں۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئیں ۔ وہ مجھ سے لپٹ گئیں اور بڑے اضطراب سے پوچھنے لگیں: انھوں نے تمھیں مارا؟ تعذیب دی؟ میں انھیں پریشان نہ کرنا چاہتی تھی اس لیے بڑے سکون سے کہا: نہیں۔ میں خیریت سے ہوں۔ میں نے جوں ہی پاؤں دھونے کے لیے آگے بڑھی، ان کی نظر میرے پیروں پڑ گئی، وہ بھانپ گئیں: لیکن یہ کیا ہے؟ تمھارا پاؤں تو بالکل نیلا ہو چکا ہے اور انگلیاں بھی سوجن کے سبب نظر نہیں آرہیں۔ کیا تمھیں ٹارچر کیا گیا ہے؟ تمھیں کسی نے مارا ہے؟ میں نے دوبارہ کہا نہیں ۔ الحمد للہ مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا۔ وہ فورا ہی پہلے بولیں: پھر انھوں نے تمھیں کیوں پکڑا ہے؟ میں نے کہا: بخدا میں نہیں جانتی ۔ وہ صفوان بھائی کو تلاش کر رہے ہیں، مجھے ان کا پتا پوچھنے کے لیے پکڑا ہے۔ اتنی دیر میں حسین چیختا چلاتا آگیا اور دوسرے اہل کار پر ناراض ہونے لگا کہ ایک کی موجودگی میں اس نے دوسری کو سیل سے باہر کیوں نکالا۔ وہ دونوں میری والدہ کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ میں امی سے پوچھ بھی نہ پائی کہ وہ ان کو کیوں اور کیسے لائے ہیں۔ کچھ دن بعد جب ہماری سیل کے بلاک میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے تفصیل بتائی۔ میں چھٹیوں میں کئی چھوٹی چھوٹی چیزیں گھر بھول آئی تھی۔ میری والدہ صفوان بھائی کے پاس اردن جانے سے پہلے مجھ سے ملنے آرہی تھیں، ان کے ہمراہ ایک اور خاندان کے لوگ بھی
قسط نمبر آٹھ کا انتظار کریں کل دوپہر کے تین بجے تک
الله هم سب كي سماوي بلاٗو سے محفوظ فرماٗے
جواب دیںحذف کریںیا اللہ ھم سب کی آسمانی بلاوں سے حفاظت فرما
جواب دیںحذف کریں