ہم سیل کے پاس پہنچے تو حسین وہیں کھڑا تھا۔ یہ وہی اہل کار تھا جو اس نوجوان کو تعذیب دینے میں پیش پیش تھا۔ وہ بڑے تمسخرانہ انداز میں ہتھکڑیاں لیے میری جانب بڑھا : اصلا ۔ اھلا و سھلا ۔ زہے نصیب۔
مرغیوں کا ڈریہ
حسین نے مجھے کندھے سے پکڑ کر پانچ سیڑھیاں نیچے اتار دیا اور مجھے قید تنہائی کے لیے ایک نئے راستے پر میرے آگے چلنے لگا۔ پھر ایک جانب اشارہ کر کے کہنے لگا: یہ رہا تمھارا کمرہ۔ آباد کمرہ۔ ان شاء اللہ مزے سے سودگی یہاں۔ اس کی تاریکی اور وحشت سے میرا دل گھبرا اٹھا۔ میں بے ساختہ بولی: نہیں بخدا میں اس میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے اس وقت اپنی روم میٹ فاطمہ ایک سیل میں نظر آئی میں بھاگ کر اس کے قریب چلی گئی اور خوشی سے چلائی: فاطمہ! اس نے مجھے گھسیٹتے ہوئے کہا: ادھر آؤ۔ چلو تم کسی ہوٹل یا پکنک پوائنٹ پر نہیں آئی ہو۔ وہیں بیل نمبر ۲۴ سے مجھے اپنی امی کی آواز سنائی دی، شاید انھوں نے بھی میری آواز سن لی تھی، انھوں نے بلند آواز میں ان ظالموں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور زور سے بولیں: ان خواتین پر تم طاقت آزمارہے ہو ظالموں تم رحم سے نا آشنا ہو۔ بخدا میں نے ساری عمر تمھارے بارے میں یہیں قصے سنتے تھے کہ تمھارے سینوں میں دل نہیں ہوتے لیکن اب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ مجھ میں اتنی طاقت نجانے کہاں سے کئی۔ میں چھلانگ لگا کر آواز کی جانب بھا گئی ۔ میں باآواز بلند پکار رہی تھی: امی ! آپ بھی یہاں ہیں؟ اللہ تمھیں برباد کرے۔ تم ان کو کیوں لے آتے ہو؟ میری بہنیں چھوٹی ہیں اور والد بیمار ہیں۔ ان کا کوئی اور مددگار بھی نہیں۔ مجھے حسین کا استہزائیہ قہقہہ سنائی دیا: ہمیں تمھارے باپ اور بہن بھائیوں سے کیا سروکار ؟ ہمیں صرف تمھاری ماں مطلوب تھی۔
اس نے تمام سیلوں کی کھڑکیاں بند کر دیں اور بولا : اندر جاتی ہو یا اہل کاروں سے اٹھوا کراندر پھینکوں۔ میں نے کہا: اندر سیاہ اندھیرا ہے۔ وہ تمسخرانہ انداز میں بولا تمھارے وجود سے سب تاریکی چھٹ جائے گی۔ آؤ اندر آ جاؤ۔ میں نے دیکھا تو وہاں ایک تھالی میں چاول اور دوسرے برتن میں پانی رکھا تھا۔ میں نے کہا: بخدا یہ تو بالکل مرغیوں کا ڈربہ ہے اور بعینہ جانوروں کا سا معاملہ ہے۔ بولا: یہ تمھارا عشائیہ ہے دل مانے تو کھالو۔ میں نے غصہ دباتے ہوئے کہا تم جانتے ہو کہ اگر یہ تمھیں پیش کیا جائے تو تم بھی نہ کھاؤ۔ وہاں ایک اور قدرے بڑی عمر کا اہل کار آگیا ، جس کا معاملہ بعد میں بھی بہت اچھا رہا۔ وہ دھیرے سے کہنے لگا: بخدا میری بہن اندر چلی جاؤ اور ان کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔
میں فورا اندر چلی گئی، میری ماں کی آواز اب تک آرہی تھی ۔ پھر ان کی آواز اہل کاروں کے قہقہوں ، ہاؤ ہو اور دھمکیوں میں دب گئی ۔ کچھ ہی دیر بعد ہر طرف شراب کی بدبو پھیل گئی اور تیز شور ہونے لگا۔ ہاں اس روز اہل کار سال نو کا جشن منا رہے تھے۔ اس تاریک وحشت کے گھر میں میرا دم گھٹنے لگا۔ میں مسلسل ایک جگہ بیٹھی رہی اور میرے اعصاب کھنچتے چلے گئے ۔ خاص طور پر مجھے ماجدہ کا خیال پریشان کر رہا تھا کیونکہ وہ میرے بعد ماجدہ کو تعذیب کے لیے لے گئے تھے۔ میں سوچ رہی تھی اس گھڑی اس پر وہی حربے آزمائے جا رہے ہوں گے۔ آدھی رات گزر چکی تھی جب ایک اہل کار مجھے دوبارہ کمرہ تفتیش میں لے گیا۔ کمرہ تفتیش میں رائد ثلجہ میر امنتظر تھا، دیکھتے ہی بولا: تمھارا اخوان سے کوئی تعلق نہیں، کیا ایسا ہی نہیں؟ نہ تم نے ان کے لیے کام کیا ہے، اس لیے تم اعتراف نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن آج اللہ نے ایک شخص بھیج ہی دیا جس نے تمھارے بارے میں اعتراف کر لیا ہے۔ یہ تمھاری ہی سہیلی ہے اس کی مراد ماجدہ سے تھی۔ اس نے بتایا ہے کہ تم مسلح تھیں اور اس نے خود تمھارے پاس اسلحہ دیکھا تھا۔
میں نے چیلنج کے انداز میں کہا: اسے میرے سامنے لے آؤ تا کہ میں خود تسلی کرلوں۔ لائو ا سے تا کہ وہ یہ سب میرے سامنے کہہ دے۔
بولا: وہ جھوٹ نہیں کہہ رہی ۔ وہ تم سے زیادہ بچی ہے، اور تمھارا لیموں کی طرح پیلا رنگ خود تمھارے چھوٹا ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔ میں نے کہا: میں دو راتوں سے مسلسل جاگ رہی ہوں، نہ میں نے کھانا کھایا ہے نہ پانی پیا ہے نہ بیت الخلا گئی ہوں، اس کے ساتھ آپ نے جس طرح عقوبت کا نشانہ بنایا ہے اور مجھے قتل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور میرے دل پر جو چھ کے لگائے ہیں، اس کے بعد بھی تم کہتے ہو کہ میرا رنگ زرد کیوں ہو گیا ہے۔ اس نے سر ہلایا اور ہونٹ سکیڑ کر دربان کو بلایا تا کہ وہ مجھے دوبارہ میرے سیل میں لے جائے۔ میں دوبارہ اپنی جگہ پر پریشان حال اور مضطرب بیٹھ گئی۔ میں نے خوف کے مارے کمیل بھی نہ کھولا کہیں ایسا نہ ہو کوئی اہل کار اندر آجائے اور میں سورہی ہوں۔ میں سیل کے درمیان بھٹی ہوئی بیٹھی تھی کہ اچانک میری نظر دیوار پر پڑی، اس تاریکی میں بھی اس پر رینگتے لال بیگ نظر آرہے تھے۔ شاید وہ اپنی نئی مہمان کے استقبال کے لیے دیواروں پر آگئے تھے ۔ اچانک سکون کی چادر میں دراڑ پیدا ہوگئی اور باہر سے ملی جلی آوازیں
قسط نمبر سات کے لیے انتظار کریں
Tags
واقعات و حوادث
ماشاء اللہ مزیدار لگی پوسٹ
جواب دیںحذف کریںبہت خوب مضمون
جواب دیںحذف کریں