شام کی لرزہ خیز داستان ، ازہبہ الدباغ ، صرف پانچ منٹ ، قسط نمبر آٹھ

تھے جن کا بیٹا بھی حکومت سے چھپتا چھپا تا صفوان بھائی کی طرح عمان چلا گیا تھا۔ امی نے بتایا:
جس رات تم گرفتار ہوئیں تمھارے والد نے ایک برا خواب دیکھا تھا، بلکہ اس سے پہلے صفوان کے حوالے سے بھی دیکھا تھا تبھی انھوں نے مجھے کہا کہ میں اس سے ملنے اردن چلی جاؤں۔ میں دمشق میں تمھارے گھر کے قریب پہنچی اور میں نے اندر جانے کا ارادہ کیا تو مجھے ایک واضح آواز سنائی دی: خالہ جان واپس چلی جائیے ، اندر نہ جائیں۔ یہ کوئی پڑوسی تھا، جو مجھے خود تو نظر نہ آیا مگر اس کی آواز آ گئی، وہ مجھے خبر دار کر رہا تھا کیونکہ اس سے پچھلی رات تم گرفتار ہو چکی تھیں، لیکن میں نے گمان کیا کہ وہ مجھے نہیں کسی اور کو کہہ رہا ہے، پھر جوں ہی ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا برستی گولیوں سے ہمارا استقبال ہوا اور ایک سخت ہاتھ نے ہمیں اندر گھسیٹ لیا ، اور کچھ ہی دیر میں ہمیں کفر السوسہ کی جیل پہنچا دیا گیا۔

احکم الحاکمین سے شکایت

میری امی کو میرے حال سے بڑھ کر عمر کے گھرانے کے افراد کی فکر تھی جنھیں محض ان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی والدہ اپنے اٹھارہ سالہ بیٹے ایمن اور چودہ سالہ بیٹی مجد کے غم بھی نہ بھولی تھیں جنھیں خفیہ والوں نے گھر کی سڑک پر ہی گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ اس وقت سے ان کی والدہ کا ذہنی توازن درست نہ رہا تھا۔ انھوں نے حجاب اتار دیا تھا اور اب وہ درد کی شدت کی وجہ سے اپنا سرسختی سے باندھ کر رکھتی تھیں ۔ اس اچانک گرفتاری سے ان کے اعصاب جواب دے گئے اور پہلی رات اہل کار ان کے کان میں زور سے چیختے تو بھی انھیں سنائی نہ دیتا۔ ان کے شوہر کی ان سے بھی بری حالت تھی، وہ ستر سال سے زیادہ عمر کے تھے۔ وہ کمرہ تحقیق کے دروازے پر ہی بے ہوش ہو گئے اور انھیں ان کی دو بیٹیوں اور بیوی نے سہارا دے کر چلنے میں مدد دی تھی ۔ میری والدہ نے انھیں جھنجوڑ کر بیدار کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ جب اہل کاروں نے اس گھرانے کی بری حالت دیکھی تو انھیں کمرہ تحقیق سے سیل میں منتقل کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی انھیں کوئی کمرہ نہ دیا گیا بلکہ وہ پوری رات ان بزرگوں کو میرے زندان کے سامنے رہ گزر کے کھرے فرش پر گزارنی پڑی۔ میری والدہ سے اہل کار پوچھتے رہے: ہمیں اپنے مجرم بیٹے کے بارے میں بتاؤ۔ وہ کہاں ہے؟ وہ جواب دیتیں: میرا کوئی مجرم بیٹا نہیں۔ میرا بیٹا تو گھر سے یونیورسٹی اور یونیورسٹی سے گھر کا راستہ جانتا تھا۔ اس نے تمسخر اڑانے کے انداز میں دوسرے اہل کارسے کہا: اگر یہ سیدھی طرح نہیں بتاتی تو تکنکی (ایک قسم کا وہ آلہ جس کے سہارے مجرموں کو الٹا لٹکاکر پوچھ تاچھ کرتے ہیں ) پر لٹکا دو۔ وہ بولی: کوئی بھلا کام کرو۔ میں تمھاری ماں کی عمر کی ہوں اور تم مجھے منکی پر لٹکاؤ گے؟ کہنے لگا: لیکن تم کچھ بتاتی بھی تو نہیں۔
بولی: کیا کہوں؟ جو سچ کہیں تم ان سے یہ سلوک کرتے ہو۔
سبحان اللہ۔ اس نے انھیں بلا تعذیب چھوڑ دیا۔ سیل میں وہ ہر روز محقق ( تفتیش کار ) کو بلا بھیجتیں اور اس سے پوچھتیں: بتاؤ تم نے مجھے قید کیوں کر رکھا ہے؟ وہ کہتا: میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ کہتیں مگر یہ سارا علاقہ تمھارے اختیار میں ہے۔ میں برانچ کے انچارج کو لکھنا چاہتی ہوں، مجھے کا غذ قلم فراہم کرو۔ وہ اتنا کہتے ہوئے چل پڑتا ممنوع کچھ نہیں ملے گا۔ اس کی ہمیں اجازت نہیں۔ وہ اس پر خوب غصہ جھاڑتیں اور اسے بد دعائیں دیتے ہوئے کہتیں: میں تمھاری شکایت کسی اور سے کردوں گی ۔ احکم الحاکمین ہے۔ وہ تمھیں بھی میری طرح بٹھائے گا اور تم میری طرح صبر بھی نہ کر سکو گے۔ سبحان اللہ۔ ایک دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ وہ شخص کار کے حادثے میں مارا گیا۔ سٹیرنگ ویل اس کے پیٹ میں گھس گیا تھا اور میری والدہ نے اپنی موت سے قبل اس کی موت کی خبر سن لی۔ میری والدہ کی گرفتاری کے بعد بھی ہمارے ہاسٹل پر خفیہ والوں کی گھات جاری رہی اور انھوں نے وہاں کی رہائشی اور ملاقات کے لیے آنے والے دس سے زائد افراد کو وہاں سے گرفتار کیا۔ ان میں فاطمہ سوسن (ایک علاقہ کا نام ہے ) سے ، منی اور اس کی بہن ، بیسری، منہا اور لاذقیہ سے ایک طالبہ کے علاوہ اس کا بھائی اور بھائی کا دوست، وغیرہ شامل تھے۔ لیکن جب انھیں گرفتار رکھنے کا کوئی فائدہ نظر نہ آیا تو رہا کر دیا گیا۔

امی کی ہڑتال

کوئی دن ایسا نہ گزرتا جب مجھے تحقیق کے نام پر حاضر نہ کیا جاتا ، ہر بار پہلے زیادہ سخت ٹارچر کیا جاتا اور دھمکایا جاتا تھا۔ کم و بیش وہی سوالات اور وہی جوابات، اور وہی تھرڈ ڈگری۔ یہی پورے ہفتے کی روٹین ہوتی۔ اگر بدلتا تو صرف ٹارچر کا طریقہ سیل میں واپسی ہوتی تو رات دن دوسرے لوگوں کی کراہیں مزید بے چین کر دیتی تھیں ۔ اگر کوئی نماز ادا کرتا پایا جاتا تو بس اس کو بے رحمی سے پیٹا جاتا، اس پر کفریہ کلمات اور گالیوں کی بوچھاڑ کر دی جاتی تھی۔ اسی طرح اگر وہ آپس میں بات کر لیتے تو بھی ان پر تشدد کیا جاتا مگر الحمد للہ ہم خواتین کو انھوں نے اس پر کبھی ٹارچر نہ کیا۔ ہم ان کے سامنے بھی نماز ادا کر لیا کرتیں۔ ایک مرتبہ اہل کار سامنے نہ تھا تو ماجدہ نے دیوار پر ہاتھ مار کر مجھے متوجہ کیا اور ہم آپس میں بات کرنے لگے، اچانک اہل کار بھاگتا ہوا آیا، کہنے لگا یہ کس کی آواز آرہی ہے؟ اس خوف سے کہ کوئی نوجوان ہماری وجہ سے تعذیب کا نشانہ نہ بن جائے ماجدہ پورے اعتماد سے کہنے لگی: میری۔ وہ غصے سے بولا: کس کے ساتھ بات کر رہی تھیں؟ بولی: اپنی سہیلی ہے۔ کیا یہ منع ہے؟ اور الحمد للہ اس روز بھی کچھ نہ ہوا۔

میری والدہ مجھ سے ملنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں ۔ اگر چہ انھیں خود تکلیف ہی کیوں نہ اٹھانی پڑ جائے ۔ وہ انہیں بیت الخلا لے جانے کے لیے باہر نکالتے تو وہ میرے سیل کے سامنے آکھڑی ہوتیں، اور اس وقت تک وہاں سے نہ ہلتیں جب تک وہ قفل کھول کر ہماری ملاقات نہ کروا دیتے تھے۔ کبھی وہ طاق کھول کر ان سے کہتے لو دیکھ لومگر بات نہیں کرنا۔ مگر وہ انکار کر دیتیں کہ دروازہ کھولو۔ اسی طرح کے ایک موقعے پر جب ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو انھوں نے کھانے اور بیت الخلا میں جانے حتی کہ سونے کی بھی ہڑتال کر دی ۔ مجھے اس کی اطلاع اس طرح ملی کہ رئیس النوبہ میرے پاس آکر کہنے لگا: اب جب تمھاری امی سے ملاقات ہو تو انھیں کچھ دین کا درس بھی دینا۔ ان کو بتاؤ کہ ان کے جسم کا بھی ان پر حق ہے۔ کیا تم نے شریعت نہیں پڑھی؟ ان سے کہنا کہ کھانا کھالیں ۔ میں نے کہا: وہ ماں ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ماں کا دل کیسا ہوتا ہے اور وہ حق پر بھی ہیں۔ اگلے دن وہ مجھے ان کے سیل میں لے گیا اور کہنے لگا: ان سے کہو۔ جیسا کہ کل ہم نے طے کیا تھا۔ میں نے کہا: میں کیا کہوں ... یہ مختار ہیں۔
کہنے لگا : تم ان کی ہڑتال ختم کرانے میں ہماری مدد نہیں کرو گی؟ میں نے کہا: میں کیا کروں ۔ آپ ان کی حالت نہیں دیکھ رہے؟ اللہ ان کی مدد فرمائے۔ وہ ان سے کہنے لگا: تم نے بیٹی کو دیکھ لیا ؟

قسط نمبر نو کے لیے انتظار کریں 

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی