صرف پانچ منٹ : از ہبہ الدباغ ، شام کی لرزہ خیز خون میں ڈوبی داستان ، قسط اول

دسمبر ۱۹۸۰ - دسمبر ۱۹۸۹

یہ اکتیس دسمبر بروز بدھ ۱۹۸۰ء کی رات تھی، دمشق میں اس رات بڑی ٹھنڈ تھی۔ گھر میں اکثر لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے، میں آدھی رات گزرنے کے بعد بھی فقہ کی کتاب پر جھکی ہوئی تھی اور ابھی تک رقص کرتی سطور سے معنی تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی، بلکہ زیادہ سے زیادہ معلومات ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہی تھی، کیونکہ صبح میرا سال آخر کا امتحان تھا۔ اونگھ ، سردی اور بستر کی گرماہٹ بار بار میری توجہ اپنی جانب پھیر رہی تھی اور میں ہر باران کا خیال جھٹک کر پھر کتاب پر جھک جاتی تھی۔ شدید خوف کی ایک لہر میرے پورے بدن میں سرایت کر گئی اور میرے اندر کوئی ڈر پرورش پانے لگا۔ میں خود بھی نہ جانتی تھی کہ یہ انجانا خدشہ کیا ہے۔ نہ معلوم میں کب ماضی میں چلی گئی اور گزشتہ کئی دنوں کے واقعات کسی فلم کی طرح میرے ذہن کے کینوس پر ابھرنے لگے۔ میں اپنی یادداشت میں اس خوف و اضطراب اور پریشانی کا جائزہ لینے لگی۔

شریعہ کالج میں میرا پورا سال بڑے مزے سے گزرا تھا یا کم از کم پچھلے سال جیسا ہی تھا، جب میں امتحانات کے بعد اپنے شہر "حمات چلی گئی تھی اور چھٹیاں اپنے خاندان اور اپنی دوستوں کے درمیان بسر کی تھیں۔ اسی دوران اچانک ایک روز میری والدہ میرے پاس آئیں اور مجھ تک صفوان بھائی کی خواہش پہنچائی کہ میں فورا سلسلہ تعلیم منقطع کردوں اور اس شہر کو بھی چھوڑ دوں اور اردن کے دار الحکومت عمان چلی آؤں، جہاں وہ کچھ مہینوں سے مقیم تھے؛ کیونکہ حکومت ان پر اخوان المسلمون کی تنظیم سے تعلق کا الزام لگارہی تھی اور وہ چھپتے پھر رہے تھے۔ میری والدہ مرجھا الله صفوان کے پاس گئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ بھائی میرے بارے میں خدشات کا شکار ہیں۔ انھیں ڈر ہے حکومت کہیں ان کی جگہ مجھے گرفتار نہ کرلے یا مجھے ان کے بدلے رہن کے طور پر نہ رکھ لے۔ تاہم میں خود کو ان کی جگہ جواب دو نہ بجھتی تھی، نہ ہی مجھے زندگی میں کبھی اس صورت حال کا سامنا ہوا تھا ، اسی لیے میں نے یہاں سے کہیں اور جانے سے انکار کر دیا۔ میں نے معمول کے مطابق چھٹیاں گزاریں اور دوسرے سال کے آغاز میں دوبارہ دمشق آگئی۔

ہم طالبات نے مل کر جی البر: مکہ میں اس رہائشی فلیٹ کو دوبارہ کرائے پر لے لیا جس میں ہم گزشتہ سال رہے تھے۔ میں نے یونیورسٹی جانا شروع کر دیا اور میں اس معاملے کو مکمل طور پر بھول گئی ہوتی اگر ہمارے ارد گرد پولیس نفری بڑھ نہ جاتی۔ مسلح اہل کاروں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی، اور ماضی میں جس قسم کے ناکے حمات میں لگتے اور شخصی تفتیش ہوتی تھی بعینہ دار الحکومت دمشق میں شروع ہو گئی، بلکہ اس کا دائرہ جامعہ دمشق تک پھیل گیا۔ اچانک ہی امن فورسز یونی ورسٹی کے شریعہ ڈیپارٹمنٹ کے دروازے پر شناختی کارڈ چیک کرنے لگیں اور ایک ایک طالب کا نام پکار کر تفتیش کی جانے لگی۔ باہم سرگوشیاں ہوتیں اور کسی کی گرفتاری کی خبر آ جاتی اور کسی کے قتل کی کسی سے تصادم کی اور کسی پر تشدد کی ، بلکہ اب تو بہت کچھ علانیہ ہونے لگا۔ دن دہاڑے گولیاں چلنے کی آواز میں آتیں اور آئے روز دمشق میں بم دھماکے ہوتے ۔ ریڈیو اور سرکاری اخبارات عموما اس قسم کے واقعات پر رائے زنی سے احتراز کرتے کہ ان فورسز نے کہاں کہاں سے کون مجرم پکڑے اور کہاں پر ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ساری گڑ بڑ میں ہر شخص پریشان ہو کر رہ گیا اور ایک نا معلوم خوف ہر دل میں سرایت کر گیا ۔ مجھے بھی اپنے ارد گرد غیر فطری حرکات و سکنات محسوس ہونے لگیں۔

اللہ تمھارے ساتھ ہو

مثال کے طور پر میں دو روز پہلے اپنی سہیلی اور کلاس فیلو ماجدہ ل کے ساتھ سوق الحمید یہ گئی، مجھے اپنی بیمار بچی کے لیے ایک تحفہ خریدنا تھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص ایک دکان سے دوسری اور ایک سڑک سے دوسری سڑک پر مسلسل ہمارا پیچھا کر رہا ہے، بلکہ جب ہم چی کے ہاں جانے کے لیے انیم کی بس میں سوار ہوئے تو میں نے اس شخص کو اپنے پیچھے بس میں سوار ہوتے دیکھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے ماجدہ کو بتانے کی کوشش کی مگر خوف سے میری آواز بند ہو گئی۔ میں نے بمشکل سرگوشی کی ۔ ماجدہ مسکرا کر بولی: یہ محض تمھارا وہم ہے اور اگلی صبح جب میں معمول کے مطابق اپنے ڈیپارٹ منٹ کے داخلی دروازے پر پہنچی ، گارڈز نے مجھے روکا معمول کے مطابق میرا شناختی کارڈ لیا اور اسے اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد واپس کیا۔ لیکن لیکچر ز مکمل کر کے واپسی پر جب میں ماجدہ کے ساتھ گھر جارہی تھی ، مجھے محسوس ہوا کوئی مسلسل ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ میں نے ماجدہ کو بتایا تو اس نے یہ کہ کر مجھے ٹال دیا کہ میں وہمی ہوں اور سب کچھ نارمل ہے اور مجھے فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن میرا اضطراب بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ بلکہ اس ٹھنڈی پر سکون رات میں اور بڑھ گیا تھا، اور مجھے سوئیاں چھورہا تھا۔ ابھی تک یہ معاملہ میری سمجھ میں نہ آیا تھا۔ ہمارے فلیٹ سے نیچے سڑک پر اچانک گاڑیوں کے دروازے کھلنے کی آوازیں آئیں اور خفیہ والوں کی گاڑی کا مخصوص ہارن بھی سنائی دیا۔ میرے خیالات کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور میں نئی صورت حال پر غور کرنے لگی ۔ اب نئے سرے سے دروازے دھڑ دھڑائے جائیں گے، اور آج ہمارے محلے سے مطلوب افراد کی پکڑ دھکڑ ہوگئی۔ میں تجس کے مارے کھڑ کی کی جانب بڑھی، تاکہ حقیقت کا مشاہدہ کروں۔ ابھی میں کھڑ کی تک پہنچنے بھی نہ پائی تھی کہ ہمارے فلیٹ کے دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔ میں نے کھڑکی کے کنارے سے دیکھا تو باہر خفیہ والوں کی لا تعداد گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سڑک پر تھی دھرنے کو جگہ ب تھی۔ ہمارے دروازے پر کوئی کڑک دار آواز میں گر جا اگر تم نے دروازہ نہ کھولا تو ہم تالے کو گولی سے اڑاویں گئے ، میں نے مشینی انداز میں اپنی نماز کی چادر کھینچی اور سر پر اوڑھ لی اور فوراً دروازے کی

قسط دوم کے لیے انتظار کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی