صرف پانچ منٹ : از ہبہ الدباغ ، شام کی لرزہ خیز خون میں ڈوبی داستان ، قسط دوم

جانب بھاگی لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کروں۔ میں دروازہ کھول دوں، جبکہ سب طالبات گہری نیند سو رہی ہیں؟ مجھے شدید حیرت اور اضطراب گھیر چکے تھے۔ میں بھاگ کر معلمہ فاطمہ کے پاس چلی گئی، وہ عمر میں ہم سے بڑی تھیں اور فلیٹ کے معاملات کی نگران بھی۔ میں نےٹوٹے پھوٹے الفاظ میں انھیں جگانے کی کوشش کی:
آئیے۔ خفیہ والے آپ کے پاس آئے ہیں۔ مجھے فورا ہی فلیٹ میں اپنی دوسری ساتھی کا خیال آیا جن کا نام سوسن تھا۔ وہ BDS کا امتحان پاس کر چکی تھیں اور آج کل دمشق میں ہاؤس جاب کر رہی تھیں۔ ان کا بھائی قید میں تھا اور اسے آج ہی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، جس کی انھیں کہیں سے خبر ملی تو ہمیں بھی بتا دیا۔ مجھے دوسرا خیال یہ آیا کہ یہ لوگ ان کے لیے آئے ہیں۔ اسی دوران خفیہ والوں نے دروازے پر ضر میں لگانی شروع کر دیں اور اس پر گن پاؤڈر چھڑکنا شروع کر دیا، فاطمہ نے جلدی سے حجاب پہنا اور دروازہ کھول دیا۔ وہ اندر داخل ہو گئے ۔ یا ربی کتنی نا معقول حرکت ہے۔ ایک چھلانگ لگا کر گیلری میں جا پہنچا اور چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگا۔ دوسرا کھڑ کی کی جانب بھاگا۔ تیسرا باورچی خانے میں اور چوتھا اور دسواں ۔ ایک دوڑ کر ہمارے کمرے میں داخل ہو گیا ، اس نے دیواروں پر لگی ہر چیز کو اتارنا شروع کر دیا، وہ ہر چیز زمین پر پھینک کر انھیں قدموں تلے روند تا چلا جارہا تھا، بالکل پاگلوں کی طرح کچھ دوسرے لوگوں نے ہماری ایک ایک چیز کو کھنگالنا شروع کر دیا۔ گویا ہمیں اس سے کچھ سروکار نہ تھا کہ وہ کون ہیں اور کیوں اور کسے تلاش کر رہے ہیں۔ اسی حیرت کے سمندر میں میں نے ہال میں کسی کو اپنا نام پکارتے سنا: ہبہ دباغ ، میں دہشت زدہ آگے بڑھی جیسے وہ میرے بجائے میرا سایہ ہو، اور گھٹی ہوئی آواز میں بولی: ہمارے ہاں اس نام کا کوئی نہیں۔

لیکن میرا دل اسی وقت گھٹ کر رہ گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میرے لیے ہی آتے ہیں۔ انھیں ان کا انچارج کہنے لگا: ان سب کو ان کے کمروں میں لے جاکر ان کے شناختی کارڈ چیک کرو۔ ہم اس کے پکارنے پر پیچھے چلنے لگے۔ ہم کمرے میں داخل ہوئے تو ہمارے پینے چھوٹ رہے تھے اور کانپ رہے تھے۔ ایک سپاہی میری جانب بڑھا گویا وہ خدمت پر مامور ہو۔ اس نے کارڈ پر میرا نام پڑھا، اور میری جانب دیکھا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں ، وہ وقت سے بولا : تم تو میرے شہر کی بیٹی ہو۔ اللہ تمھاری مدد کرے۔ میں نے اس سے استفسار کیا: کیوں؟ کیا کوئی بات ہے۔ وہ بولا : اللہ تمھیں صبر دے۔ تم کیا کر سکتی ہو؟ اللہ تمھارے ساتھ ہو۔

میں نے اس سے سوال کیے مگر مجھے ایسے لگ رہا تھا، جیسے میں کسی کنویں کی گہرائی میں اترتی چلی جا رہی ہوں: کیوں؟ کیا وہ میرے لیے آئے ہیں؟ وہ میری جانب دیکھے بنا بولا ہاں۔ وہ چلا گیا اور اس نے کارڈ ہیڈ کو دے دیا، جس نے اس سے نام پکارا ” وہیہ دباغ " اور پھر مجھے دیکھ کر غصے سے کہنے لگا: تم تو پورے یقین سے کہہ رہی تھی کہ اس نام کی کوئی لڑکی تمھارے ہاں نہیں ۔

پھر وہ دوسرے سپاہی سے کہنے لگا: اسے اکیلے میں کمرے میں لے جاؤ اور اس سے اچھی طرح چھان بین کرو۔ قہوہ ۔ یا چائے ، سپاہی مجھے دوسرے کمرے میں لے گیا اور ایک اور لڑکی سے کہنے لگا: اس کی تلاشی لو۔ میں نے اس سے کہا: میرے پاس کیا ہو سکتا ہے؟ آپ پورے گھر کی تلاشی لے چکے ہیں، اور انھوں نے آتے ہی ہم سب کی بھی تلاشی لی تھی۔

لیکن میری کپکپاتی آواز آپریشنل ہیڈ کی کھردری تیز آواز میں دب کر رہ گئی، وہ کسی شخص سے وائرلیس پر کہہ رہا تھا: اسے لے آؤ۔ اس نے مجھ سے کہا: چلو اپنے کپڑے پہن لو۔ تمھیں ہمارے ساتھ جانا ہوگا . صرف پانچ منٹ کے لیے۔
میں نے نماز کے لباس کے اوپر اپنا جلباب پہن لیا، میرے پاس کچھ رقم تھی، میں نے اپنی ساتھی کے حوالے کرنا چاہی تو وہ مجھ سے کہنے لگا: نہیں۔ انھیں اپنے پاس ہی رہنے دو، ہو سکتا ہے کبھی ان کی ضرورت پڑے۔ میں نے اپنا توازن درست کرتے ہوئے کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں، آپ ہی تو کہہ رہے ہیں کہ مجھے صرف پانچ منٹ کے لیے جانا ہو گا۔ پھر مجھے ان کی کیسے ضرورت پڑے گی ؟ لیکن اس نے اپنی رائے پر اصرار کیا اور تاکیدا کہا کہ مجھے ان کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے، میں نے اس کی پروانہ کی، اور رقم قریب کھڑی ساتھی کے حوالے کر دی۔ انھوں نے مجھے فورا باہر دھکیلا، آپریشنل ہیڈ کسی سپاہی سے کہہ رہا تھا: اس کو بازو سے پکڑ کر لے جاؤ۔ سیڑھیوں پر اندھیرا تھا اور بجلی کئی ہوئی تھی۔ میں نے انکار کر دیا کہ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر لے جائے ، وہ بولا : مجھے یہی حکم ہے۔ میں نے اس سے کہا: مجھے جھکڑی لگا دو لیکن ہاتھ نہ پکڑو۔

اس نے ہاتھ چھوڑ دیا لیکن جب میں دروازے سے باہر نکلی وہ پھر قریب آگیا تا کہ مجھے گاڑی تک لے جائے ، ایسا لگا جیسے بھیڑیوں کا غول منہ کھولے اپنے شکار کا منتظر ہوں میں نے وائرلیس پر کسی کو پوچھتے سنا: اس کے ساتھ کمرے میں اور کون تھی؟ اس نے کہا: فلاں اور فلاں ۔ وہ بولا : ان کو بھی ساتھ لے آؤ۔ وہ دوبارہ اوپر گیا اور میری روم میٹس ماجدہ اور ملک کو لے آیا۔ گاڑی نے اس وقت تک حرکت نہ کی جب تک تمام خفیہ والوں نے سڑک پر کافی دور تک اپنی پوزیشنیں نہ سنبھال لیں۔ پھر ساری گاڑیاں بڑے رعب داب کے ساتھ مختلف سمتوں میں روانہ ہو گئیں۔ پلک جھپکتے میں ہم عباسیہ تشرین گراؤنڈ پہنچ گئے جہاں خفیہ والوں کا ذیلی دفتر تھا، جس کا نام ” السادات" تھا۔ وہ ہمیں ایک کمرے میں لے آئے جہاں مسلسل تیز سبز اور سرخ روشنیاں جل بجھ رہی تھیں ، جیسے سبز اور وہ ٹیلیفون یا وائرلیس کے آلات ہوں۔ ابھی ہم بیٹھے بھی نہ تھے کہ وہاں موجود افسر پوچھنے لگا:

آپ کیا پسند فرمائیں گی ۔ قہوہ یا چائے ؟ مارے خوف کے ہمارے منہ سے کوئی بات نہ نکلی، وہ بولا : میں آپ کے لیے کڑک قہوہ لاتا ہوں تا کہ آپ کا سر درست ہو جائے۔ وہ گیا اور ہم سب کے لیے ایک ایک پیالی قہوہ لے آیا، اور ہمیں غور سے دیکھتے لگا، جب اس نے دیکھا کہ ہم میں سے کسی نے پیالی منہ کو نہیں لگائی، تو مجھ سے پوچھا: تم پی کیوں نہیں رہیں؟ چلو ہوتا کہ تمھارا سر درست ہو جائے ۔ اس وقت رات کے دو بچ رہے ہیں اور یقینا تم نیند محسوس کر رہی ہوگی ۔ میں کانپتے ہونٹوں سے بولی: میں پی لوں گی۔
وہ بولا نہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے اس سے کہا: کیا آپ ہماری نگرانی کر رہے ہیں؟ مجھے ابھی اس کی خواہش نہیں۔ وہ تمسخرانہ انداز میں کہنے لگا: تمھیں پینا پڑے گا، تا کہ تمھاری عقل ٹھکانے آجائے اور تم اچھی طرح بیان کر سکو۔میں خاموش ہو گئی۔ میں نے پیالی اٹھا کر ہونٹوں سے لگالی جیسے میں پی رہی ہوں۔ میں نے دوبارہ پیالی ہونٹوں سے لگائی تو وہ قریب آکر کھڑا ہو گیا۔ میرا تمام جسم کا پینے لگا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اگلے لمحوں میں کیا ہونے والا تھا۔

کمرہ تحقیق میں

پہلے کمرے میں میرا قیام زیادہ دیر نہ رہا۔ تھوڑی ہی دیر میں کسی نے میرا نام پکارا اور سپاہی مجھے اس برانچ کے ہیڈ کے پاس لے گیا۔ اس کا نام معین ناصیف تھا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ صدر مملکت کا بھانجا تھا۔ اندر بیٹھے ہوئے شخص کی آنکھوں میں خون تیر رہا تھا اور اس کے پوٹے پھولے ہوئے تھے۔ اس نے نہایت پتلے کپڑے کا رقیق جلباب پہن رکھا تھا۔ اس نے دو لوگوں کو ایک دوسرے پر اس طرح ڈال رکھا تھا کہ انتہائی کر یہ منظر نظر آرہا تھا۔ اس نے حکم دیا: یہاں بیٹھ جاؤ۔ اس نے سخت کھردرے اور اجڈ لیجے میں کہا، اور میں ابھی کمرے کے وسط میں پڑی کرسی تیک پہنچ بھی نہ پائی تھی کہ اس نے سوال داغ دیا:
تم آرگنا ئز رہو، کیا ایسا ہی نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ وہ بولا: تو پھر تمھارا اخوان سے کیا تعلق ہے؟ میں نے کہا: میرا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اپنی کرسی پر جھولتے ہوئے کہنے لگا پھر تمھیں مجلات الندیہ کو تقسیم کرنے کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی ہے اور پھر یہ رسالہ ہم نے کہاں سے برآمد کیا ہے؟

اس نے اپنی انگلیوں میں کاغذ کا ایک ورق لہرایا۔ میں نے پہچان لیا۔ یہ میرے بھائی صفوان کا خط تھا جو انہیں شام سے جانے سے قبل والد صاحب نے وصیت کے طور پر لکھا تھا، جب وہ بڑے بھائی کے ہمراہ علاج کے لیے عمان جا رہے تھے، کیونکہ صفوان کے بارے میں مسلسل خوف اور پریشانی نے ان کی صحت پر برا اثر ڈالا تھا لیکن بارڈر پر کاغذات میں سقم کی بنا پر انھیں واپس لوٹا دیا گیا۔ میں نے اس خط کو اپنے بھائی کی یادگار کے طور پر محفوظ کر رکھا تھا۔ انھوں نے گھر کی تلاشی لی تو یہ ان کے ہاتھ لگ گیا، اور اس پر لکھا ہوا تھا کہ حامل مکتوب فلاں مجاہد کے والد ہیں۔ انھیں یہ بہت بڑی بات لگی اور برانچ کا نگران بڑے تمسخرانہ انداز میں اسے پڑھنے لگا اور بولا :

ہوں ۔ فلاں مجاہد کا والد، کیا یہی نہیں لکھا ہوا ؟ تمھارا باپ خود اشتراکی ہے اور یہ دوسرا شخص اخوان کے زعماء سے ہے اور میں اس کے فرار کے بارے میں بھی جانتا ہوں۔ اللہ کی قسم میں اس کے ( والد ) جسم کو چھلنی کی طرح چھید دوں گا۔ اس کے یہ جملے میرے ذہن سے چپک کر رہ گئے، حتی کے کئی برس بعد جب میں نے حمات کے واقعات سنے ۔ مجھے پتا چلا کہ انھوں نے میرے والد پر بہیمانہ تشدد کیا، حتی کہ ان کا جسم بالکل چھلنی کی طرح ہو گیا۔

الزام تراشی

میں نہ تو اخوان کی آرگنائزر ہوں نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے۔میں نے کہہ تو دیا لیکن ابا جان اور اپنے بارے میں سوچ کر میر ابدن لرزنے لگا۔ وہ بولا: اور اس خط کے بارے میں کیا کہوگی؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتی۔ ہو سکتا ہے کوئی اسے میرے کمرے میں رکھ کر بھول گیا ہو یا کسی نے اسے میرے لیے رکھا ہو۔

اس نے اپنا مقصد دوسرے انداز میں پورا کرنا چاہا، وہ خط کو الٹتے پلٹتے ہوئے پوچھنے لگا:اپنے بھائی کے دوستوں میں سے کس کس کو جانتی ہو؟کسی کو نہیں۔ میں بہت عرصے سے اپنے بھائی سے نہیں ملی، اور اس کے دوستوں سے میرا کیا واسطہ؟ وہ شعلے اگلتی آنکھوں سے گھورتے ہوئے بولا : عبد الکریم رجب کے بارے میں کیا کہو گی؟ میں نے کہا: یہ کون ہے۔ میں اسے نہیں جانتی۔ تو پھر تم یہ بھی تسلیم نہیں کرتی کہ تم آرگنائزر ہو۔ میں نے کہا: نہیں۔ جب میں آرگنا ئز نہیں ہوں تو اس کا اعتراف کیسے کرلوں؟

اس نے پاؤں میں پڑا اپنا کوڑا اٹھایا اور میری جانب گھمایا، میں نے سر نیچے کر لیا، تو وہ پیچھے کھڑے کا تب (رجسٹرار ) کو جالگا۔ وہ مجھے گالیاں دیتے ہوئے بولا : تم کہتی ہو کہ تم اخوانی نہیں ہو، لیکن اخوان کے بالکل یہی انداز و اطوار ہوتے ہیں۔ اس نے خط میرے سامنے لہرایا اور دوبارہ اس خط کے بارے میں پوچھنے لگا۔ وہ جب اچانک کمرے سے باہر نکلا تو میں سمجھی کہ وہ جلا دیا کس کو مجھ پر تشدد کرنے کے لیے بلانے گیا ہے۔ واپس لوٹا تو دوبارہ خط مجھے دکھانے کو جھکا ، تاکہ پھر تفتیش کرے۔ وہ کاغذات کی ٹوکری میں سے ہمارے گھر سے برآمد کیے گئے اوراق نکال کر ٹٹو لنے لگا۔ وہ ہر چیز کا تنقیدی انداز میں جائزہ لے رہا تھا تا کہ میرے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کر سکے ۔ اسی تگ و دو میں وہ یہ خط نجانے کہاں رکھ بیٹھا تھا۔ وہ میرے پیچھے کھڑے کلرک سے پوچھنے لگا:

قسط سوم کے لیے انتظار کریں 

3 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی