ملک شام کی خوفناک کہانی ہبہ الدباغ کی زبانی , صرف پانچ منٹ ، قسط نمبر پانچ

پہلے سے بھی بڑھ کر تھا حتی کہ مجھے یہ بھی خبر نہ رہی کہ کتنے لوگ مجھ پر تشدد کر رہے ہیں اور کتنے کوڑے اور ڈنڈے میرے پاؤں پر برس رہے ہیں ۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ پورا کمرہ ڈنڈوں اور کوڑوں پر مشتمل ہے اور اہل کاروں کے سوالات بیک آواز مینڈکوں کی ٹرٹراہٹ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ پھر میں نے ان کو جواب دینا بھی چھوڑ دیا۔ رائد ثلجہ بولا : تم اخوان کی مسلح کا رکن ہو۔
میں اس بڑے الزام کو سہار نہ سکی اور چیخ کر بولی: میرا نہ کسی سے تعلق ہے اور نہ ہی میرے پاس اسلحہ ہے۔ وہ بولا تمھاری ساتھی ماجدہ اس کا اعتراف کر چکی ہے۔ میں نے کہا: مجھے اس کا یقین نہیں۔ اسے لاؤ تا کہ وہ میرے سامنے یہ کہہ دے۔ ہو سکتا ہے اس نے تعذیب سے بچنے کے لیے ایسا کیا ہو۔ بولا نہیں۔ تمھاری ساتھی جھوٹ نہیں کہتی۔ وہ تم سے زیادہ سچ بولتی ہے۔ میں نے بس اس سے بات کی ہے، اسے ٹارچر نہیں کیا اور تم بھی جب تک اعتراف نہیں کروگی اسی طرح مار کھاتی رہوگی۔ ثلجہ آگے بڑھا اور اس نے بجلی کی ننگی تار میری زبان پر رکھ دی اور دھمکاتے ہوئے کہنے لگا: کیا اب بھی نہیں بولو گی ؟ میں نے کہا: میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ تم مجھے کرنٹ لگاؤ یا کوڑے مارو، میں کچھ نہیں جانتی اور میں جھوٹ نہیں بول سکتی ۔ اس وقت ناصیف چلا کر بولا : آؤ اسے اٹھا لاؤ اور اسے کاغذ قلم دو، تا کہ یہ جو کچھ جانتی ہے اس پر مبنی اپنا تحریری بیان لکھے۔ اس کے بعد ہم اسے دیکھ لیں گے۔ وہ جاتے ہوئے مجھے دھمکاتے ہوئے کہنے لگا: اگر تم نے سچ سچ نہ لکھا تو جان رکھو کہ ہمارے پاس ایسے اہل کار ہیں جو دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ پھر بولا تم نے کبھی چلے کاٹتے سادھووں کو دیکھا ہے ان کی شکلیں کیسی ہو جاتی ہیں؟ اگر تم نہیں جانتی تو ہم تمھیں ان کا چہرہ دکھا دیں گے۔ انھوں نے مجھے ٹکٹکی سے اتارا تو میرے کپڑے بھیگے ہوئے تھے، شاید میں دوران تعذیب بے ہوش ہو گئی تھی اور انھوں نے مجھے ہوش میں لانے کے لیے پانی ڈالا تھا۔ میں اونگھتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی۔ کمرے سے تقریبا سب لوگ جا چکے تھے۔ کمرے کی کھڑ کی سے مجھے اندازہ ہوا کہ رات ہو چکی ہے، گویا دویا تین گھنٹے سے مجھے ٹارچر کیا جا رہا تھا۔ میں ابھی اپنے حواس بھی درست نہ کر پائی تھی کہ ایک اہل کار کا غذ قلم لے کر آ گیا اور بولا :

سنو ۔ اگر سچ لکھو گی تو اپنے آپ کو عذاب سے بچالو گی ، ورنہ تمھارے نام و نشان کی بھی کسی کو خبر نہ ہوگی ۔ میں نے کہا۔ لیکن میرے پاس کہنے کو کچھ ہے ہی نہیں ۔ بولا: یہاں کوئی بھی معصوم نہیں آتا ، اس کے پاس ضرور کچھ ہوتا ہے۔ یہاں جو بھی آئے وہ گناہوں کے سبب ہی پکڑا جاتا ہے۔ میں نے کہا۔ لیکن میرے پاس واقعی کچھ نہیں۔ بولا : تم اپنے فیصلے میں آزاد ہو۔ میں نے کاغذ پر اپنے بارے میں سب کچھ لکھ دیا، کیا تعلیم حاصل کیا اور کہاں پر حاصل کی ، میرا اخوان کی تنظیم سے کیا تعلق ہے۔ میں نے جو کچھ حقیقت تھا۔ لکھ کردے دیا وہ اسے لے کر چلا گیا، ذرا دیر بھی نہ گزری تھی کہ رائد ثلجہ ورق ہاتھ میں تھا مے آگیا اور چلانے لگا کہ کیا یہی کچھ لکھنے کو تمھیں کہا گیا تھا بہن !
پھر اس کی زبان سے گالیوں اور مغلظات کی بوچھاڑ ہونے لگی، گویا کہ وہ یہ سب کہنے کا پہلے سے منتظر تھا۔ آخر میں کہنے لگا:
تمھیں بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ تمھارا بھائی اور اس کے ساتھی کس گھر میں رہتے ہیں اور تمھیں ابھی بتانا پڑے گا، لیکن میں جانتا ہوں کہ تم اب تک خاموش کیوں ہو۔ تم ان کو فرار کا موقع دے رہی ہوتا کہ وہ اپنا ٹھکانہ بدل لیں ، پھر تم بتاو گی۔ اس نے اس ورق پر کچھ لکھا اور اسے لے کر چلا گیا۔ جاتے جاتے کہنے لگا، اس صورت میں تو تم موت تک یہاں سے نہیں نکل سکو گی ۔ میں نے کہا: اچھا۔

 موت مومن کے لیے راحت ہے۔

وہ غضب ناک ہو کر بولا تمھارا گھر تباہ ہو تم جانتی نہیں کہ میں نے کتنوں کو موت کا مزا چکھایا ہے؟ کیا تم سوچتی نہیں کہ اپنے اوپر کچھ رحم کرو اور اس عذاب سے چھوٹ جاؤ ؟ناصیف نے اندر آتے ہی گالیوں کی بوچھاڑ کر دی اور بہت گندے الفاظ استعمال کیے، کہنے لگا:
اگر تم ابھی اور اسی وقت ہر چیز کا اعتراف نہیں کرتی ۔ تو میں سب کے سامنے تمھارے کپڑے اتار دوں گا۔ اس دھمکی نے مجھے دہلا کر رکھ دیا، میں نے چیختے ہوئے کہا: لیکن میں کچھ نہیں جانتی۔ اس نے حاکمانہ لہجے میں کہا: اپنا جلباب اتار دو۔ میں نے اسے پتھرائی نظروں سے دیکھا، میرا رواں رواں کانپ رہا تھا۔ بولا : اگر تم اسے خود نہیں اتارتی ؟ تو میں اتار دیتا ہوں۔ وہ میری جانب بڑھا اور اس نے جلباب کا ازار کھولنا چاہا لیکن اسے اس کا سرا نہ ملا کیونکہ اس کا ازار اندرونی جانب تھا، اس نے بڑی کوشش کی مگر میں اپنا بچاؤ کرتی رہی۔ میں نے اسے سر سے مضبوطی سے پکڑے رکھا تا کہ وہ ڈھیلا ہو کر اتر نہ جائے، وہ کوشش کے باوجود مجھے بے حجاب کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس نے جلباب کے نیچے سے میرے بندھے ہوئے بالوں کو پکڑ لیا جو اس وقت کافی لمبے ہوتے تھے ۔ اس نے بندھے بالوں سے مجھے اپنی جانب کھینچنا شروع کیا اورمیں گھٹتی چلی گئی۔ اس نے مڑ کر میرا سر پوری قوت سے دیوار سے دے مارا۔ اور اس کے منہ سے گندی گالیوں کا آتش فشاں پھوٹ پڑا لیکن وہ اس چھینا جھپٹی کے باوجود میر احجاب نہ اتار سکا ، وہ طیش میں آکر بولا: تمھارے انکار کے باوجود تمھارالباس اور جلباب بتا رہا ہے کہ تم اخوانی ہو۔ اس نے کسی کو زنجیر اور کوڑا لانے کے لیے کہا۔ اس وقت تعذیب سے میرے پاؤں سوج چکے تھے اور جوتے پہننا بھی ممکن نہ تھا۔ میں سزا سے بچنے کے لیے بھاگ کھڑی ہوئی۔ ناصیف نے چڑ کر کہا: اسے میری نظروں سے دور منفردہ ( قید تنہائی کے سیل ) لے جاؤ۔ میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ مجھے یقین نہ آرہا تھا کہ ان کی ٹارچر پارٹی اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ منفردہ کے معنی کیا ہیں ۔ اہل کار مجھے کئی زمینوں اور راستوں سے گزارتا ہوا ایک نئی جگہ لے گیا۔ راستے میں کہنے لگا: تم بتا کیوں نہیں دیتی ؟ تمھارے حق میں یہی بہتر نہیں؟ کم از کم اپنے حال پر ہی رحم کرو۔ دیکھو تمھارا چہرہ کس قدر سوج گیا ہے، تمھارے ہاتھ نیلے ہو گئے ہیں اور پاؤں جوتا پہننے کے قابل نہیں رہے اور تمھارا حال یہ ہے کہ مر کر بھی راز دبائے بیٹھی ہو۔ میں نے کہا: میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ میرا دل بھر آیا اور میں نے صرف یہ کہا: اللہ ان ظالموں کو عافیت نہ دے۔

1 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی