قسط نمبر سترہ : ہبہ الدباغ کی دلوں کو لرزہ دینے والی ناقابل یقین داستان رنج و الم

​اہلِ کاروں کے علاج پر مامور تھا، وہ اس کے معائنے کے بعد کہنے لگا:"اسے کچھ نہیں ہے، صرف قبض کا عارضہ ہے۔"وہ اسے خود ہی ادویات استعمال کروایا کر گیا۔ کچھ دیر بعد ہی بلاک کی فضا ایسی ہو گئی کہ سب کا دم گھٹنے لگا۔ الحاجہ مدیحہ نے زور سے دروازہ بجا کر کہا:"دروازہ اور روشن دان سب کھول دو، ورنہ ہم مر جائیں گے۔"اہلِ کار کا بلاک سے باہر دم گھٹنے لگا، وہ چیخا:"یہ کیا ہے۔ اندر کیا چیز ہے۔ تم لوگوں نے کیا کیا ہے؟"الحاجہ بولی: "وہ بیت الخلا میں گئی ہے۔"

​گوشت جلنے کی بو

​ایسا لگتا تھا کہ فرع کے ذمہ داران کو ہالہ کے کچھ مزید امتحان مقصود تھے۔ انھوں نے اسی بلاک کے اسی ونگ سے اس کے چچازاد بھائی کو باہر نکالا اور ان کی اتفاقیہ ملاقات کروا دی، تاکہ ان کا ردِ عمل دیکھ سکیں۔ الحاجہ مدیحہ نے محکمہ تفتیش کے سربراہ کو درخواست دی کہ وہ اسے اس کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں، تاکہ وہ اطمینان محسوس کرے اور کوئی بات کر سکے جسے انھوں نے قبول کر لیا۔ انھوں نے ان دونوں کو ایک وقت میں باہر نکالا، اس وقت ہالہ کی حالت اتنی بری ہو چکی تھی کہ ایک دفعہ حجاب اتارنے کے بعد اب وہ ستر اور لباس کا بھی اہتمام نہ کرتی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور چہرہ پھٹا ہوا تھا، وہ پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی، اس کا کزن اسے دیکھتے ہی چیخنے لگا: "ہالہ۔ ہالہ۔ یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے؟ میں تمھارا چچا زاد ہوں۔" اس نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا، لیکن وہ گویا زندہ ہی نہ تھی۔ وہ بلک اٹھا​ہالہ۔ میں تمھارا چچا زاد ہوں۔ میں فلاں ہوں۔لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ گویا وہ دیواروں سے سر پھوڑ رہی ہو۔ ابراہیم اسے بلاک میں واپس لانے کو مڑا، اس نے دروازہ کھولا مگر وہ وہیں جمی کھڑی رہی۔ اس نے اسے اندر دھکیلا تو وہ دروازے کا ہینڈل پکڑ کر کھڑی ہوگئی، چار اہل کار مل کر اسے اندر لانے کی کوشش کرتے رہے لیکن ایک انگلی بھی اس کی جگہ سے نہ سرکا سکے۔ ایک نے سگریٹ سلگا کر اس کے ہاتھ پر لگایا، وہ نہ ہلی، نہ ہی اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔ اس نے بھی غصے میں سگریٹ سے اس کا ہاتھ داغ دیا۔ واللہ گوشت جلنے کی بو ہمارے ناک تک پہنچ گئی مگر وہ اسی طرح اکڑی رہی گویا کہ اسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ میں اس خوف ناک منظر میں اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکی اور بے اختیار چیخ کر کہا:

خدا کا خوف کرو....... خدا اسے چھوڑ دو...... رک جاؤ!ان سب نے مل کر اسے کسی خشک لکڑی کی مانند بلاک کے فرش پر پھینکا اور دروازہ بند کر دیا۔کچھ دیر بعد وہ اسے والدہ سے ملاقات کروانے کے لیے دوبارہ لے گئے، جنھوں نے اس سے ملاقات کے لیے کافی پیسہ خرچ کیا تھا۔ ہالہ کی گرفتاری کی خبر ان کے والد پر بجلی بن کر گری تھی۔ وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور دل کے درد کے ساتھ ہسپتال داخل ہوئے جہاں وہ جان کی بازی ہار گئے۔ اس کی والدہ تڑپتی ہوئی جیل پہنچیں، وہ ابھی تک ماتی لباس پہنے ہوئے تھیں۔اس ملاقات کا ماں بیٹی دونوں پر سلبی اثر ہوا، جہاں بیٹی کے لیے باپ کی موت کا صدمہ عقل کھونے کو کافی تھا وہاں ماں بیٹی کی مجنونانہ حالت دیکھ کر خون کے آنسو پی رہی تھیں۔ اس کے جسم پر تریچ کی سی کیفیت تھی۔ انھوں نے جب اسے جیل کی بیرک سے باہر نکالا تو وہ ایک لاش کی مانند تھی۔

​اور ہالہ بول پڑی

​مقابلہ ختم ہو گیا، مگر اس بے چاری پر عذاب کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ تقریباً تین ماہ بعد جب بلاک کا دروازہ کھلا ہوا تھا، ہالہ نے اپنے کپڑے درست کیے، بیگ اٹھایا، سر پر نماز کا اسکارف اوڑھا اور بلا کچھ کہے سنے بلاک سے باہر چل دی۔ جب داروغہ بیثم نے اسے دیکھا تو اسے پکڑنے کے لیے بھاگا۔ اسی چھینا جھپٹی میں ہالہ کا پاؤں پھسلا اور وہ پوری قوت سے زمین پر آ رہی۔ باقی اہل کار بھی بھاگ کر آئے اور اسے اندر دھکیل دیا۔ الحاجہ نے اس سے نرمی سے پوچھا: تم کہاں جا رہی تھیں؟ بولی: امی کی سال گرہ..... میں امی کی سال گرہ میں جا رہی تھی۔ ابراہیم اندر آیا تو وہ اسی جگہ بیٹھی اپنی چوٹیں سہلا رہی تھی۔ اس نے آتے ہی اسے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا، اس کا سر دوسری مرتبہ دیوار سے ٹکرایا، پھر وہ اسے جھنجھوڑ کر چلانے لگا: تم چاہتی ہو کہ ہمیں دھوکہ دے کر فرار ہو جاؤ.....اس نے اس کے ہاتھ پیچھے کی جانب مروڑے اور ایک اور چانٹا لگایا۔ پھر اس کے ہاتھ کو اپنے آہنی ہاتھ میں جکڑ کر اس کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ ہم اس کی خاطر چیخنے اور مدد کے لیے پکارنے لگے، لیکن ابراہیم کو ذرا رحم نہ آیا اور وہ ہونٹ سے اس عذاب کو برداشت کرتی رہی۔ نہ جانے کتنی دیر ہالہ پر عذاب کا یہ سلسلہ جاری رہا۔

اس کے بعد ہالہ نے مجھ سے بات چیت شروع کر دی۔ میں نے دیکھا کہ اس کے ناخن قدرے بڑھے ہوئے ہیں، سوچا میں دوبارہ کچھ کوشش کرتی ہوں۔ میں نے دھیرے سے پوچھا: میری بہن مجھے بتاؤ تو سہی۔ تمھار نام کیا ہے؟اس کی آواز دور کسی کنویں سے آتی محسوس ہوئی: میرا نام قسمت کی نظر ہو گیا ہے۔ میرا نام ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے۔اس نے بات ختم کر دی اور میں چیختی ہی رہ گئی: ہالہ بتاؤ..... بتاؤ! میں شش و پنج میں پڑ گئی اور بات بدلنے کے لیے کہا: کیا خیال ہے میں تمھار نے ناخن نہ کاٹ دوں؟ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا، لیکن اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر دبوچ لیا اور زور آزمائی کرنے لگی، میں سخت خوف زدہ ہوگئی، اس روز کے بعد میں نے اس کے قریب آنے کی کوشش نہ کی۔ایک مرتبہ جب ہم نے اسے غسل پر آمادہ کرنا چاہا اور کپڑوں کی پوٹلی کے ساتھ اسے نسبتاً کھلے غسل خانے کی جانب لے کر چلے تو وہ پوچھنے لگی: تم مجھے کہاں لے کر جا رہی ہو؟ ٹیلی ویژن کے لیے؟اور اس نے زور زور سے چیخنا اور رونا شروع کر دیا، سو ہم اسے واپس لے آئے۔ پھر ہم نے اسے کئی روز کی کوشش کے بعد غسل کرنے پر آمادہ کر ہی لیا، اس نے الحاجہ سے کہا: ایک شرط پر، اگر یہ مجھے اپنے کپڑے اتار کر دے۔ اس نے ماجدہ کی جانب اشارہ کر دیا۔ الحاجہ کہنے لگیں: لیکن اس کے پاس تو مزید کپڑے نہیں ہیں، یوں کرتے ہیں میرے گھر والوں نے میرے لیے جو نیا جوڑا بھیجا ہے تم وہ پہن لینا، بہت پیارا ہے اور قیمتی بھی۔

اور واقعی الحاجہ نے بڑے اہتمام سے اس جوڑے کو کسی موقعے پر پہننے کے لیے بچا رکھا تھا، لیکن اس نے ماجدہ کے کپڑے لینے کا اصرار جاری رکھا اور آخر ماجدہ ہی کو اس کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا اور الحاجہ نے آگے بڑھ کر اپنا سوٹ ماجدہ کو دے دیا۔

سرخ رنگ ممنوع اور پانی نا قابل قبول

ہم نے محسوس کیا کہ ہالہ ہر سرخ شے سے خوف زدہ ہو کر بھاگ اٹھتی ہے۔ بیت الخلا میں گیزر کی سرخ روشنی دیکھ کر اس کی حالت عجیب ہو جاتی، اس کے اعصاب تشنج زدہ ہو جاتے،

جاری......

8 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

  1. گمنام12 فروری

    بڑی زبردست تحقیق

    جواب دیںحذف کریں
  2. گمنام14 فروری

    hozaifamalik2005@gmail.com

    جواب دیںحذف کریں
  3. گمنام16 فروری

    बोहत अच्छा

    جواب دیںحذف کریں
  4. گمنام18 فروری

    ہہت شاندار

    جواب دیںحذف کریں
  5. گمنام23 فروری

    اس پوسٹ میں ایک ایڈ آتا ہے اس پر کلک کریں تو مانا جاتا ہے کہ نہیں اور مہینہ پورا ہونے پر انکم ایکٹیوٹی کی انکم ملنی تھی کب تک ملیگی

    جواب دیںحذف کریں
جدید تر اس سے پرانی