اس پر انتظامیہ نے اس سوراخ کو سیمنٹ لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا لیکن جب سب سو جاتے تو الحاجہ مدیحہ پھر بھی ٹونٹی پر ہاتھ مار کر ان سے کوئی بات کر ہی لیتی تھیں۔ حالانکہ اس میں بھی پکڑے جانے کا اندیشہ ہمیشہ رہتا تھا۔ ان دنوں نو جوانوں پر بہت سختی ہو رہی تھی اور کوئی معمولی سا واقعہ بھی انھیں ہلاکت تک پہنچا دیتا تھا۔ ہر روز کتنے ہی نوجوان سزائے بے گناہی کاٹتے ہوئے موت کے منہ میں بھیج دیے جاتے تھے۔ انتظامیہ کا ذمہ دار شخص جس کا نام ابو طلال تھا ہر روز نماز فجر سے پہلے آکر بلاک کا دروازہ بجاتا، مطلوب افراد کو اپنے ہاتھوں سے ہتھکڑیاں لگاتا پھر ایک ایک کا نام پکار کر گنتی پوری کرتا تھا۔ ہر روز یہ فہرست بیس تیس افراد پر مشتمل ہوتی۔ اسی اندھیرے میں دو دو نو جو ان کو ایک زنجیر ہاتھ اور پاؤں میں ڈال کر جکڑا جاتا۔ کچھ کو مار مار کر چلایا جاتا کچھ کے آسمان کا سینہ چیرتے نالہ و شیون ہمارے کانوں کے پردوں سے ٹکراتے تھے۔ کچھ کو جب آخری وقت ہونے کا احساس ہوتا تو وہ غم سے بے ہوش ہو جاتے ۔ وہ انھیں زمین پر گھیسٹتے ہوئے گاڑی کی جانب لے جاتے جو پہلے ہی ان ذبیحوں کے انتظار میں کھڑی ہوتی۔ یہ گاڑی انھیں لے کر فراٹے بھرتی ہوئی قتل گاہوں میں پہنچا دیتی۔ کچھ تو نو جوان یہ خبر سن کر ہی یا اس کے ہول ہی سے بے ہوش ہو جاتے تھے۔
ہر روز یہ آہ و بکا اور گریہ وزاری ہماری سماعتوں سے ٹکراتی تو ہماری ہمت جواب دے جاتی اور جب پہلی کھیپ مقتل میں پہنچائی جاتی تو ان کی جگہ لینے اس سے بھی تین چار گنا زیادہ قیدی یہاں لائے جاتے ۔ ان دنوں سارے بلاک اور قید خانے قیدی نوجوانوں سے پٹ گئے۔ حتی کہ بعض اوقات غسل خانوں میں بھی قیدی ٹھہرائے جانے لگے۔
جیل میں عجیب واقعہ پیش آیا۔ امی نے مجھے بتایا تھا کہ میرا بھائی وارف الدباغ شام سے ہجرت کر کے لبنان جا رہا ہے اور وہاں سے وہ کسی دوسرے ملک سکونت اختیار کرنا چاہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نے یہ بات اچھی طرح سے اس لیے کہی تھی تا کہ وہ اس کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ ابھی تک شام میں ہی تھا۔ ایک روز امی تہجد اور فجر کی نماز کے بعد سورج چڑھنے کے انتظار میں بیٹھ گئیں اور ٹیک لگائے وہیں سو گئیں۔ اچانک وہ نیند سے بیدار ہو کر کہنے لگیں: میں نے جیل میں تمھارے بھائی وارف کے قدموں کی چاپ سنی ہے۔ جیل میں اس وقت مکمل خاموشی تھی اور نو جوان الخط سے لوٹ رہے تھے ۔ اہل کاروں کی زیادہ تعداد سورہی تھی۔ مجھے کوئی آہٹ سنائی نہ دی ۔۔۔ میں نے ان سے کہا: آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ یہاں کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔
میں نے یقین کرنے کے لیے طاق کے سوراخ سے باہر جھانکا تو میں کانپ اٹھی۔ میں نے اس کی جیکٹ پہچان لی، اہل کارا سے جیکٹ سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جا رہے تھے۔ اُنھوں نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی اور ہاتھ پشت پر باندھ کر ہتھکڑی لگا رکھی تھی۔ اس نے وہی سفید جو گر ز پہن رکھے تھے اور حسین اسے ہانکتے ہوئے کہہ رہا تھا: ادھر قید تنہائی کے سیل میں آجاؤ۔ میں کسی اور ہی عالم میں پہنچ گئی تھی ، میں نے چکراتے سر کو قابو کرتے ہوئے امی سے بمشکل یہی کہا: ادھر تو کوئی نہیں۔ لیکن میرے دل میں کسی نے انگارے بھر دیے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں چیخیں مار کر روؤں اور کسی سے یہ دکھ بیان کروں لیکن امی کی موجودگی میں ایسا ممکن نہیں تھا اور کچھ عرصے بعد ہم نے دوسری ہڑتال کی اور اہل کار نے ہمیں سزا کے طور پر قید تنہائی کے سیلوں میں بند کر دیا تو یہ محض اتفاق تھا کہ مجھے اُم شیما اور امی کو ایک ہی جگہ رکھا گیا اور یہ وہی سیل تھا جس میں وارف کو قید رکھا گیا تھا۔ امی نے داروغہ کو بلانے کے لیے دیوار پر دستک دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اچانک ان کی نظر اس پر کھود کر بنائی گئی مسجد کی تصویر پر پڑگئی ، اس کے نیچے لکھا گیا۔
لا الہ اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد الشهید محمد وارف دباغ ۔ امی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں اور انھیں بلند آواز سے پکار کر پوچھنے لگیں کہ انہیں بتائیں کہ اُن کا بیٹا کہاں ہے اور اسے کب گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن انہیں کسی نے جواب نہ دیا۔ وہ اس عذاب میں سلگتی رہیں لیکن کوئی جواب دینے والا نہ تھا۔ ہمیں بعد میں خبر ہوئی کہ اُنھوں نے وارف اور اُس کے دوست غسان کو پہلے حمات میں گرفتار کیا لیکن کوئی ثبوت نہ پا کر چھوڑ دیا۔ پھر وارف کو دوبارہ پکڑ لیا اور کفر السوسہ جیل میں لے آئے۔ اگر چہ وہ اس بار بھی کچھ ثابت نہ کر سکے، لیکن اس کو شہید کر دیا۔ اس سلسلے میں اعلی افسر نے ماجدہ کو بتایا: ہم نے پہلے اسے مجرم سمجھ کر پکڑا تھا لیکن وہ بے گناہ نکلا، سو ہم نے اسے رہا کر دیا۔ دوسری بار ہم نے اسے بے گناہ سمجھتے ہوئے پکڑا لیکن وہ مجرم ثابت ہوا اور اپنے کیے کی سزا پائی۔ لیکن یہ اللہ کی قدرت ہے کہ اس کو شہید کرنے والا شخص خود بھی کچھ عرصے بعد قتل ہو گیا۔ جیل کے مصائب و آلام بڑھتے رہے ۔ کچھ عرصے بعد میری کمر میں شدید درد ہو گیا حتی کہ میں اٹھنے کے قابل بھی نہ رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل اسہال اور قے کی شکایت بھی ہو گئی۔ حتیٰ کہ ایک روز میں واقعی موت کے منہ میں جاتے جاتے بچی۔ اس وقت میرا بستر مرکزی گیزر کے پائپ کے قریب تھا جو خراب ہو چکا تھا اور اب اس سے ٹھنڈک اور سیلن ہی میں اضافہ ہوتا تھا۔ بلاک میں قیدیوں کی تعداد اب اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اپنے لیے جگہ کا انتخاب ممکن نہ رہا تھا، بلکہ اب تو سوتے ہوئے بھی آدھا کمبل نصیب ہوتا اور اگر ایک خاتون کروٹ لینا چاہتی تو پورے بلاک کی خواتین کو حرکت دینی پڑتی۔ شروع میں تو مجھے سردی کا کچھ
زیادہ احساس نہ ہوا لیکن اچانک مجھے کمر میں اتنا شدید درد ہوا کہ میں اپنے جسم کو حرکت دینے پر قادر نہ رہی۔ سب لڑکیاں مجھے تکلیف میں دیکھ کر گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور اُنھوں نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا، تاکہ میرے لیے ڈاکٹر کو بلوایا جا سکے لیکن کسی اہل کار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ یہ صورت حال دیکھ کر ڈاکٹر عائشہ نے اُن سے پلاسٹک کا ایک طشت منگوایا، جو انھوں نے بڑی منت سماجت کے بعد فراہم کر دیا، وہ مجھے گرم پانی سے مساج کرتی رہیں اور الحمد اللہ دو دن کی مشقت کے بعد میں کچھ بہتر ہوئی۔
دن، یوں ہی گزرتے رہے، ہر روز کوئی نیا واقعہ رونما ہوتا یا یا قصہ جنم پاتا۔ امی نہ تو خود آرام کرتیں اور نہ ہمیں اور داروغوں اور اہل کاروں کو آرام کرنے دیتیں۔ اُن کی واضح سیاست تھی کہ اپنے مطالبات اُن کے سامنے پیش کرتے رہو، ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ایک دو منظور ہو ہی جائیں۔ ایک دو روز اُنھوں نے منیزہ (اشترا کی قیدی ) کو ثانویہ میں امتحان کی تیاری کرتے دیکھا تو اُنھوں نے بلاک میں یونیورسٹی کی طالبات قیدیوں کو اپنے لیے یہی مطالبہ پیش کرنے کو ورغلایا۔ ظاہر ہے یہ مطالبہ استہزاء اور اہانت کے ساتھ رد کر دیا گیا ۔ ام شیما نے تجویز دی کہ ہم مطالبے کے قبول ہونے تک بھوک ہڑتال کر دیتے ہیں۔ ہم سب کو یہ تجویز بہت پسند آئی اور یوں جب رات کا کھانا آیا تو ہم نے لینے سے انکار کر دیا۔ اہل کاروں نے پوچھا: کیوں؟ ہم یک زبان بولے : ہڑتال۔ وجہ ؟ ہم نے جواب دیا: ہم اپنا سلسلہ تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اہل کار ابراہیم بولا: اگر کھانا وصول نہیں کرو گی تو ہم تمھیں قید تنہائی کے سیلوں میں لے جائیں گے۔
قسط نمبر بارہ کے لیے انتظار کریں
اللہ ہدایت دے
جواب دیںحذف کریںاللہ امت مسلمہ کی ہر گمراہی سے حفاظت فرمائے
جواب دیںحذف کریں