قسط نمبرتیرہ ، شام کی جیلوں میں درندگی کا خوفناک باب ، از ہبہ الدباغ

جو رقم عمان سے لائی تھیں اس کا کچھ حصہ منتہی کو بھی دیا گیا تھا۔ جب تعذیب نا قابل برداشت ہوگئی تو الحاجہ نے انھیں منتہی کے بارے میں بھی بتا دیا، وہ فورا ہی ان کو گرفتار کرنے جا پہنچے اور بڑی بیدردی سے ان کی شیر خوار بچی کو ان سے چھین کر پرے پھینکا اور انھیں دبوچ کر خفیہ کے دفتر لے گئے۔ بد قسمتی سے ان کے بارے میں مزید انکشاف ہو گیا کہ مصطفیٰ قصار نے انھیں پیغام نکاح بھجوایا ہے ، سو ان کی تعذیب دو چند ہو گئی۔ انھیں برہنہ کر کے چھت سے الٹالٹکا دیا گیا اور ہر طرح کا تشدد آزمایا جانے لگا۔ انھوں نے بڑی سادگی سے کہا کہ مجھے نکاح کا پیغام تو ملا ہے مگر میں نے آمادگی ظاہر نہیں کی ، البتہ انھوں نے رقم وصول کرنے کا اعتراف کر لیا جس کی مالیت چار سولیرے سے زیادہ نہ تھی اور یہ رقم میری بیٹی کو تحفہ دی گئی تھی۔ اس پر نہ ماں کا حق تھا نہ کسی اور کا۔ منتہی کا قصور شاید بہت بڑا تھا کہ تحقیقات اور رسوا کن تشدد کے بعد انھیں سجن المسلیہ اور وہاں سے کفر السوسہ منتقل کر دیا گیا۔ ان کے ہمراہ آنے والی ایک اور حلبی دوشیزہ ایمان تھی جو آٹھویں یا نویں جماعت کی طالبہ تھی، اس پر فقط اتنی ہی تہمت تھی کہ اس نے اپنے بھائی مصطفی کا پیغام نکاح منتہی کو دیا تھا۔ اسی بنا پر دوران تحقیق نہ تو اس پر تشدد کیا گیا نہ اسے دوسری خواتین کی مانند بے لباس کیا گیا اور اللہ کا شکر کہ اسے جلد ہی رہا کر دیا گیا۔ یعنی ۱۹۸۴ ء میں اُم شیما کے ہمراہ۔

باقی دونوں قیدیوں رغداء اور امی کو بیروت سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ تنظیم کے مرکز اخوان المسلمین میں تنظیم میں شمولیت کے ارادے سے گئی تھیں لیکن جس کے رکن نے انھیں وہاں بلایا تھا وہ اس سے قبل ہی گرفتار ہو چکا تھا۔ چونکہ انھوں نے ابھی نویں جماعت پاس کی تھی ، اس بنا پر دوران تحقیق ان پر تشدد نہ کیا گیا۔ لیمی نے بتایا کہ وہاں پر اس کے زخمی چچازاد کو لایا گیا جس کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ انھیں تحقیقات کے لیے جب کفر السوسہ لے جایا گیا تو وہ بری طرح روتی ہوئی واپس آئیں ۔ الحاجہ نے پیار سے سبب پوچھا تو وہ جلے دل سے بھڑک کر بولی: انھوں نے مجھے بازو سے پکڑ کر گھسیٹا اور میرے باپ کو گالی دی۔ اس کے نزدیک شاید یہی انتہائی اہانت تھی اور اس سے بڑھ کر عذاب کا وہ تصور بھی نہ کر سکتی تھی۔ جیل میں عذاب کی کتنی ہی صورتیں اور رنگ ہوتے ہیں تھپڑوں کی بارش، ڈنڈوں کی بوچھاڑ اور گالی گلوچ کا طوفان اس کے محض چند انداز ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ تھی کہ قید خانے کی کوٹھڑیوں کو قیدیوں سے اس طرح بھر دیا جائے کہ ہلنا جلنا اور سانس لینا بھی دشوار ہو جائے۔ کبھی کبھار ان کی عادات اور انداز و اطوار کے اختلافات کھل کر سامنے آ جاتے لیکن ان کی مجبوری تھی کہ انھیں اکٹھا رہنا تھا۔ ہمارے پاس گاؤں کی ایک خاتون اسلحے کی تجارت کے الزام میں لائی گئی۔ ہم نے جوں ہی اسے نظر اٹھا کر دیکھا، وہ بلا جھجک کہنے لگی:
آنکھیں پھاڑے کیا دیکھ رہی ہو۔ اپنی بد شکل صورت دیکھو ، اس کا نام ام جبیری تھا، سڈول جسم ، اونچا لمبا قد، چوڑے کندھے لیکن وہ انتہائی اجڈ خاتون تھی اور اس پر مستزاد یہ کہ انتہائی گندی بھی۔ صفائی کے معنی سے نا آشنا اور سمجھ بوجھ سے بعد المشرقین پرے ۔ وہ نہ اپنے بدن کی صفائی کا خیال رکھتی نہ جگہ کی ، بیت الخلا میں جاتی تو وہ کسی اور کے استعمال کے قابل نہ رہتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جانب جوئیں پھیل گئیں، سب سے برا حال منیرہ کا تھا جو اس کے پہلو میں سوتی تھی اور اب وہ کھجا کجھا کر بے بس ہو رہی تھی ، الحاجہ مدیحہ نے بتایا کہ ایک دوا ان کے علم میں ہے۔

حسین کو بلا کر اس کی منتیں کر کے دو امنگوائی گئی۔ دواختم ہو گئی مگر مسئلہ ہنوز باقی تھا۔ ان کا خاتمہ بھی ہوا جب اس وقت کے رئیس وزرا محمود زعمی کی سفارش سے ام جبیری دو ماہ کی قید کے بعد رہا ہوئی ، جب نہ صرف ہم اس سے عاجز آچکے تھے بلکہ اہل کاروں کو بھی اس کا نام سنتے ہی جنون لاحق ہو جاتا تھا۔ خفیہ والوں کا خیال تھا کہ اس کی اسلحے کی تجارت کے پیچھے کوئی سیاسی ہاتھ ہے، وہ اس سے کرید کر پوچھتے : تم کسی حزب سے ہو ؟ تو وہ برجستہ جواب دیتی جزب ہر موشیہ ہے۔ اس کی مراد اس قصبے سے تھی جہاں سے وہ آئی تھی۔ وہ اسے جھوٹا سمجھ کر پھر تعذیب شروع کر دیتے اور اس غریب کو سمجھ بھی نہ آتی کہ آخر اس نے ایسا کیا کہہ دیا ہے جو تفتیش کار اتنا غضب ناک ہو رہے ہیں۔ ام جبیری کے بعد ہمیں جیل میں ایک ایسی ہی قیدی کے ہاتھوں ایسے مصائب اٹھانے پڑے کہ جن سے یہ ابتلا بہت ہلکی محسوس ہوئی ۔ یہ ایک کینہ پرور کمیونسٹ تھی ۔ دمشق میں ۱۹۸۱ء کے اواخر میں جب باپردہ طالبات کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو دوسری طالبات کے ہمراہ یہ بھی گرفتار ہوئی۔ یہ میرے بھائی کی کلاس فیلو تھی اور اس کا نام فادیا لاذقانی تھا۔ وہ اخوانی بن کر طلبہ میں حکومت کے خلاف پوسٹر تقسیم کرتی تا کہ اخوان پر مصائب میں اضافہ ہو، یہاں بھی اس نے جلد ہی رئیس فرع سے ہماری مخبری شروع کر دی۔ اسے اپنے کمیونسٹ ہونے پر فخر تھا اور خود کو بہت بڑی چیز سمجھتی تھی ۔ ہمارے درمیان کئی بار بحث بھی چھڑ جاتی مگر ہمیشہ ہی بے نتیجہ رہتی ، اس کے باوجود ہم اس سے بھلا معاملہ کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ جان بوجھ کر ہمیں تنگ کرتی اور نہیں پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھی۔ اسے بھی منیرہ کی طرح ریڈیو رکھنے کی اجازت مل گئی۔ ہم جوں ہی نماز کی نیت کرتے یا تلاوت قرآن شروع کرتے وہ فورا ریڈیو کا والیم فل کر دیتی اور فلمی گیت اور گانے ہمارے کانوں کے پردے پھاڑتے رہتے ۔ وہ مزے سے کانوں پر ہیڈ فون لگا کر بیٹھ جاتی اور کتنی ہی بار کی عرضداشت

قسط نمبر چودہ کے لیے انتظار کریں 

2 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی