سن 2013 تک ترکی کی معیشت ایک ایسی منزل پر جا پہنچی جہاں اسے دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں میں شمار کیا جانے لگا۔ برسوں کی مسلسل منصوبہ بندی، صنعت کاری، تجارت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نے اس ملک کو عالمی اقتصادی نقشے پر نمایاں مقام عطا کیا۔ وہ ترکی، جسے کبھی معاشی مشکلات کی علامت سمجھا جاتا تھا، دنیا کی بڑی معیشتوں کے کلب (G-20) کا حصہ بن گیا اور اس نے 2023 تک خود کو مزید مضبوط اقتصادی اور سیاسی قوت بنانے کا ہدف مقرر کیا۔
استنبول کا عظیم الشان ہوائی اڈہ اس ترقی کی زندہ علامت بن کر ابھرا، جہاں روزانہ ہزاروں مسافر دنیا کے مختلف خطوں سے آتے اور جاتے ہیں۔ ترک ایئر لائن نے بھی عالمی فضائی صنعت میں اپنے معیار اور خدمات کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا اور ترکی کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔
ترقی صرف شہروں اور عمارتوں تک محدود نہ رہی۔ لاکھوں نہیں بلکہ اربوں درخت لگا کر ماحول کو سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی۔ دفاعی صنعت میں خود انحصاری کے سفر کا آغاز ہوا، جہاں مقامی ٹینک، بغیر پائلٹ طیارے، جنگی سازوسامان اور سیٹلائٹ جیسے منصوبے قومی خودمختاری کی علامت بنے۔
تعلیم کو قوموں کی اصل طاقت سمجھتے ہوئے نئی جامعات، اسکول، اسپتال اور ہزاروں نئی کلاس رومز تعمیر کیے گئے تاکہ ہر طالب علم بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کر سکے۔ اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور علمی تحقیق کے لیے ایسے منصوبے تشکیل دیے گئے جن کا مقصد ترکی کو علم و تحقیق کے میدان میں بھی ممتاز بنانا تھا۔
معاشی استحکام کے ساتھ عوامی معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا، مزدوروں کی اجرتیں بہتر ہوئیں، بے روزگاری میں کمی آئی اور صحت و تعلیم پر توجہ کو قومی ترجیحات میں شامل کیا گیا۔ یہ وہ شعبے تھے جنہیں مستقبل کی مضبوط ریاست کی بنیاد سمجھا گیا۔
خارجہ پالیسی میں بھی کئی دیرینہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ داخلی سطح پر امن قائم کرنے، مختلف طبقات کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے اور علاقائی استحکام کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ عالمی سطح پر فلسطین کے مسئلے پر ترکی کا مؤقف بھی نمایاں رہا، جہاں غزہ کے عوام کی حمایت اور اسرائیلی پالیسیوں پر سخت تنقید نے اسے مسلم دنیا میں ایک منفرد آواز کے طور پر پیش کیا۔
ترکی میں مذہبی آزادیوں کے حوالے سے بھی کئی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ جامعات اور سرکاری اداروں میں حجاب پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، دینی تعلیم کے فروغ کی کوششیں اور عثمانی تہذیبی ورثے سے وابستگی نے معاشرے میں ایک نئی فکری بحث کو جنم دیا۔ اردگان نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ جدید ترقی اور مذہبی شناخت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔
اسی دوران نوجوان نسل کو ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کی طرف راغب کرنے کے لیے ہزاروں ٹیکنالوجی لیبارٹریاں قائم کی گئیں تاکہ مستقبل کی قیادت علم، ہنر اور خود اعتمادی سے آراستہ ہو۔
یہ تمام اقدامات اردگان کے حامیوں کی نظر میں ایک ایسی قیادت کی تصویر پیش کرتے ہیں جس نے ترکی کو معاشی، سائنسی، تعلیمی اور سیاسی میدانوں میں نئی سمت دینے کی کوشش کی۔ ناقدین یقیناً ان پالیسیوں پر مختلف آراء رکھتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ رجب طیب اردگان نے اکیسویں صدی کی ترک سیاست، معیشت اور قومی شناخت پر گہرے اثرات مرتب کیے اور ان کا دور جدید ترکی کی تاریخ کا ایک اہم باب بن چکا ہے۔
ماشاء اللہ بہت خوب
جواب دیںحذف کریں