کیا اس کمرے میں کوئی آیا تھا ؟ کلرک صاف گوئی سے بولا نہیں سر۔ اس نے کرید کر پوچھا: کیا محترمہ نے اپنی جگہ سے حرکت کی ہے؟ کیا تم کمرے سے باہر گئے تھے؟ اس نے دوبارہ جواب دیا: نہیں۔ وہ اوراق الٹنے لگا ، اس نے سب کو چھان پھٹک کر دیکھا لیکن کچھ نہ ملا۔ نجانے خط اس نے کہاں کھو دیا تھا۔ اس کا غصہ دو آتشہ ہو گیا اور اس نے پنجم دھاڑ شروع کر دی، اور بڑے کمینے انداز میں مجھے دھمکانے لگا: تمھاری ساتھی نے دوران تحقیق میرے سامنے اعتراف کر لیا ہے کہ تم آرگنائزر ہو، اگر تم نے سیدھے طریقے سے اعتراف نہ کیا تو ہمیں منوانا آتا ہے۔ اس کی دھمکیوں اور فضول باتوں نے مجھے رنجیدہ کر دیا مگر میں نے کہا:
آپ جو بھی وسائل آزمالیں میں آرگنا ئز نہیں ہوں۔ رجسٹر ڈ ملزمہ نے مجھے کمرہ تحقیق سے نکال کر ایک اور کمرے میں داخل کیا جو استقبالی کمرے کی مانند آلات اور مشینوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کمرے کی روشنیاں مسلسل جل بجھ رہی تھیں ۔ میری ساتھی ماجدہ کو وہ برانچ کے سربراہ کے پاس لے گئے ۔ ابھی میں سانس بھی نہ لینے پائی تھی کہ وہ دوبارہ آگئے ۔ انھوں نے میرا نام پکارا اور مجھے دوبارہ باہر لے گئے، جہاں تین افراد پر مشتمل کمیٹی الزامات سنانے کے لیے میرا انتظار کر رہی تھی۔
تم پر الزام ہے کہ تم (اخوان المسلمون کی ) آرگنائزر ہو تم مجلہ تقسیم کیا کرتی تھی ۔ اور دمشق کی مساجد میں سید قطب کے افکار پر مشتمل دروس دیتی تھی۔ تم نے تنظیم کے لیے ایک مکان بھی خریدا اور تم نے ایک گاڑی کے ذریعے معلومات کے نیٹ ورک کو مہاجرین کے علاقے میں بھیجوایا۔ تمھاری ایک ساتھی ان سب الزامات کا اقرار کر چکی ہے۔ تمھاری ساتھی نے ان باتوں کو کامل یقین سے بیان کیا ہے اور وہ تمھیں بھی اچھی طرح جانتی ہے۔ وہ تمھاری کلاس فیلو بھی ہے اور تمھارے ساتھ رہائش پذیر رہی ہے، اس نے تمھارے بارے میں کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔ وہ جھوٹ کہتی ہے، میرا ان الزامات سے کوئی تعلق نہیں جو اس نے بیان کیے ہیں ، نہ ہی میں نے یہ سب کیا ہے، نہ ان کاموں میں شریک رہی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں کچھ کچھ حقیقت کی تہہ تک پہنچ رہی تھی۔ ان کی باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہی الزامات دوسروں پر بھی عائد کیے گئے ہیں اور یہی جھوٹ کا پلندہ ان کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے ۔ یہ وہی عبد الکریم رجب تھا: خفیہ والوں کا جاسوس، وہ اخوان کی صفوں میں ان کے لیے کام کرتا یا ان کے بیچ سازشیں کرتا تھا۔ اس شخص سے ہم ہمیشہ چوکنا رہتے تھے اس کے باوجود کہ میں نے اسے دیکھا تک نہ تھا۔ اس سے میری کچھ ہمت بندھی اور مجھے یقین ہو گیا کہ انھوں نے محض خانہ پری کے لیے یہ سب التزام تراشی کی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ میرا یہ احساس پختہ ہو گیا۔ اور جب میں نے برانچ کے انچارج کی دھمکیوں کا کوئی جواب نہ دیا تو وہ نئے سرے سے الزامات دہراتے ہوئے بولا : اگر تم اعتراف نہیں کرتی۔ تو ہمارے پاس ایسے طریقے ہیں کہ تم خود اعتراف کرو گی۔
موت کے انتظار میں
تفتیشی مگر ان کے اشمارے پر خفیہ کا ایک اہل کار مجھے ایک تاریک کمرے میں لے گیا۔ فور آہی وہ میری ساتھی ملک کو لے آیا۔ وہ غریب نئی نئی دمشق آئی تھی اور میرے ہی ادارے میں سال اول کی طالبہ تھی۔ وہ نہ تو اس علاقے سے زیادہ واقف تھی نہ ہی میرے سوا کسی کو جانتی تھی۔ ہمیں ایک اہل کار کی زیر نگرانی کمرے میں چھوڑ کر وہ ماجدہ سے تفتیش کرنے لگے۔ اسے فارغ کیا تو اس کے بعد دوبارہ میہ کی باری آگئی۔ رات کا بیشتر حصہ گزر چکا تھا، وہ ان میں گھسے پٹے الزامات کو دہرانے لگا: تمھارے پہلے ساتھی (اس کا اشارہ عبد الکریم رجب کی جانب تھا) نے سب سے پہلے تمھارے خلاف بیان دیا اور ماجدہ نے بھی اس سب کی تصدیق کی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ تم منتظمہ ہو، تمھارے پاس اسلحہ ہے، تم تنظیم کے لیے کئی قسم کے کام کرتی ہو، اور محلہ اللہ میری سرکولیٹ کرتی ہو۔
اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اس نے اہل کار سے کہا کہ وہ مجھے باہر لے جائے۔ وہ میرے پیچھے چلتا رہا، پھر اس نے میرا رخ دیوار کی طرف کر دیا اور کہنے لگا کہ میں اپنا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں اوپر اٹھالوں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: قصہ ختم ۔ انھوں نے مجھ سے تفتیش مکمل کر لی ہے۔ اب گولی لگے گی یا پھانسی۔ تھوڑی دیر میں ایک اہل کار میری ساتھی ملک کو ہانکتا ہوا اسی کمرے میں لے آیا اور اسے بھی میری طرح کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ میرا احساس پختہ ہو گیا کہ وہ اب ہمیں گولی مار دیں گے۔ مجھے وقت گزرنے کا کچھ پتا نہ چلا۔ میری پوری توجہ اس انجام کی جانب تھی جو قریب تر آ رہا تھا۔ اب کیا ہو گا : عقب سے سنسناتی ہوئی گولی یا پھانسی کا پھندا یا کچھ اور ؟ مجھے ایسا لگا جیسے تکمیل آرزو کا وقت آ گیا ہو۔ میں نے بڑے تحمل سے اپنی ساری توانائیاں جمع کر کے نہایت نرمی سے اپنی نگرانی پر مامور اہل کار سے پوچھا:
تم نے ہمیں اس طرح کیوں کھڑا کر رکھا ہے۔ ہم نے کیا کیا ہے؟ وہ لا پروائی سے بولا : آپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: تم یہ کہ رہے ہو کہ وہ ہمیں مار ڈالیں گے۔ و سختی سے بولا نہیں۔ تم کیا بجھتی ہو کہ موت اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے آجائے گی۔
ہاتھ پاؤں باندھ کر تشدد
آدھے گھنٹے سے زائد وقت گزر گیا۔ ایسی جگہ پر گھڑی کی سوئیوں کی کیا وقعت؟ انھوں نے مجھے دوبارہ کمرہ آلات میں داخل کیا اور بیٹھ جانے کا حکم دیا، میں بیٹھ گئی۔ وہ فورا ہی ملک کو بھی لے آئے اور اسے میرے سامنے دروازے کی جانب رخ کر کے صوفے پر بٹھا دیا جو کسی قدر کھلا ہوا تھا، وہ مسکین صوفے پر بیٹھتے ہی سو گئی اور اسے ارد گرد کا کوئی ہوش نہ رہا۔ اضطراب مجھے کاٹ رہا تھا۔ کمرہ تحقیق سے کبھی ماجدہ کی آواز سنائی دیتی مگر میں باوجود کوشش کے اسے نہ سن پاتی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی یا اس پر کسی نوع کا تشدد ہو رہا تھا۔ میں ملک کی جانب متوجہ ہوئی اور سرگوشی کی ، مگر اسے سنانے کے لیے تو پوری توانائی درکار تھی:
ملک ملک۔ دروازے سے باہر دیکھنے کی کوشش کرو اور مجھے بتاؤ کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ لیکن وہ گھوڑے بیچ کر سورہی تھی۔ اس نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور صبح تک اسی طرحبے سدھ ہوتی رہی۔ میرے اعصاب اس قدر کھینچ چکے تھے کہ میرے لیے کرسی پر بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔ نیند تھکاوٹ اور خوف اکٹھے ہو چکے تھے ۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک اہل کار آتا اور دوسرا چھالا جاتا۔ کوئی بے مقصد سوال کرتا اور کوئی معنی خیز نظروں سے دیکھ کر مسکرا دیتا۔ حتی کہ ایک صبح ہوتے ہی پوچھنے لگا: آپ کچھ کھانا چاہتی ہیں؟ آپ کو بھوک تو نہیں لگ رہی؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر بولا : آپ کیا نہیں گی؟ میں نے جوابا کہا: کچھ نہیں۔ شکر ہے۔ بولا: میں آپ کے لیے چائے کا کپ لاتا ہوں، آپ کا سر درست ہو جائے گا۔ وہ چلا گیا اور چائے کا کپ لاکر میرے سامنے رکھ دیا لیکن مجھے اس قدر پریشانی اور تھکاوٹ تھی کہ اسے ہونٹوں تک لانا دشوار لگ رہا تھا ۔ آٹھ بجے وہ دوبارہ اندھا گئے اور ملک کو جگا دیا۔ اس مرتبہ تحقیق کے لیے ہمیں ایک سرنگ نما تھے میں لایا گیا۔ ہم سیڑھیاں اتر رہے تھے میں نے ملک کو سر گوشی میں کہا:بہن ۔ اب یہ لازما ہمیں ہاتھ پاؤں باندھ کر تشدد کرنے لے جا رہے ہیں۔
اس کی رنگت پیلی پڑ گئی گھبرا کر بولی: یہ تو نہ کہو۔
میں نے کہا: اور تم سے کس نے کہا تھا کہ پوری رات سوتی رہو؟ تم نے کیوں نہیں سنا کہ وہ ماجدہ سے کیا کہہ رہے تھے؟ ہم اس سے کچھ استفادہ کرتے یا ہمیں یہ اندازہ تو ہو جاتا کہ کیا ہونے والا ہے۔
تم وطن دشمن ہو
اس تاریک راستے کو پاٹتے ہوئے وہ مجھے ایک دوسرے کمرہ تعذیب میں لے گئے، جہاں میں نے ایک نیا چہرہ دیکھا۔ وہاں ایک ترکی النسل نگران تھا۔ اس نے مجھے کمرے کے ایک جانب پڑی فوجی چار پائی پر بٹھا دیا اور تقریباً نصف گھنٹے تک ان ہی الزامات کو سوالاً جواباً دہراتا اور ڈائری میں نوٹ کرتا رہا۔ میں اس قدر خوف زہ اور تھکاوٹ کا شکار تھی کہ اس کی باتوں کا جواب دینا مشکل ہو رہا تھا۔ نیند سے میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔ مجھے اونگھ آجاتی اور پھر میں چونک کر اپنے آپ کو درست کرتی ۔ اس کی سخت کھردری ثقیل عربی لہجے کی گرج دار آواز میرے کانوں میں پڑتی تو ایسا لگتا جیسے میری آنتیں حلق میں آجائیں گی۔ جب اس نے بات مکمل کی تو میری ایک ہی خواہش تھی کہ مجھے کھر در افرش بھی مل جائے تو میں اس پر اپنا تھکاوٹ سے چور بدن ڈال کر کچھ دیر کے لیے سو جاؤں لیکن فورا ہی اہل کار آ گیا اور اسی سرنگ نما راستے پر چلتا ہوا مجھے ایک دوسرے کمرے میں لے آیا۔ وہاں ایک اور اخر منتظر تھا جس نے کالیوں کی بوچھاڑ سے میرا استقبال کیا۔ اس کا ٹھیٹہ علوی لہجہ واضح تھا یہ وہ تقریبا ایک گھنٹے تک .....۔
Tags
واقعات و حوادث