اور التماس کے باوجود اس کا رویہ تبدیل نہ ہوا اور جس دن میرے گھر والوں کو شہید کیا گیا تو فادیا کو متعلقہ افسر سے اس کی خبر مل گئی۔ وہ اندر آئی تو اس کی خوشی دیدنی تھی بلکہ اس نے بلاک کی زمین پر ہی خوشی سے قلابازیاں لگانی شروع کر دیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ جشن منا رہی ہے یا خوشی سے پاگل ہوگئی ہے۔ ہم نے اس سے اس قدر خوشی کا سبب پوچھا تو کہ کہنے لگی انھوں نے مجھے ٹیپ ریکارڈر کی اجازت دے دی ہے۔
تاہم ذہن نے تسلیم نہ کیا کہ یہی سبب ہے؛ کیونکہ کافی عرصے سے اس کے پاس ریڈیو موجود تھا اور ان دونوں میں اتنا بڑا فرق نہیں تھا کہ اس کی یوں خوشی منائی جائے ۔ کچھ دیر بعد الحاجہ اسے الگ لے گئیں۔ اسے یہ بیان کرتے ہوئے ذرا بھی حیا نہ آئی کہ اس نے آج حمات کے واقعات میں اعلیٰ افسر سے میرے گھر والوں کی شہادت کی خبر سن لی ہے اور یہی اس کی خوشی کا سبب ہے۔ وہ ریڈیو پر بھی بڑے اہتمام سے خبریں سنتی رہی مگر اس نے ہمیں ایک لفظ تک بتانا گوارا نہ کیا ۔ اس رات وہ بہت دیر تک ریڈیو سے کان لگائے بیٹھی رہی۔ ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ جب ہمیں قطنا جیل میں منتقل کیا گیا تو فادیا کو کفر السوسہ سے ہی رہا کر دیا گیا اور وہ تکمیل تدریس کے لیے فرانس چلی گئی، جب چھٹیوں میں وہ گھر آئی تو ہمیں چڑھانے کے لیے قطنا بھی چلی آئی، تاکہ ہم اس کے اور اپنے حال کا موازنہ کر کے کڑھ سکیں۔
ایک بار وہ ایک فلسطینی خاتون کو قید تنہائی میں لے آئے اور اس کے ذریعے ہم سے ایک نیا کھیل کھیلا ۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی فادیا کی مانند مخبرہ تھی جس نے اپنے طریقے سے یہ کام انجام دیا۔ شروع میں فادیا نے بتایا کہ اس کے لیے اس کی خدمات بطور خاص حاصل کی گئی ہیں، وہ سارا دن قید تنہائی میں اس سے ہمدردیاں جتاتی رہتی ہے اور شام کو اس کے راز افسر کے سامنے فاش کر دیتی ہے، وہ ہر روز سیل سے آکر ہمیں اس کی داستانیں بھی سنا دیتی۔ یوں ہمارے دلوں میں اس کے بارے میں کافی ہمدردی پیدا ہو گئی ۔ ایک روز انھوں نے اسے بلاک میں منتقل کر دیا۔ ہم نے اس کے ساتھ بڑا اچھا معاملہ رکھا اور اپنے دل کے سارے دریچے اس مظلوم قیدی کے لیے وا کر دیے اور وہ بھی ایک ایک سے جا کر ہمدردی سے ان کی باتیں سنتی اور ان کے راز کھوجتی رہی۔ کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اس کا نام رہائی کے لیے پکارا گیا ، ہم سب نے مل کر خوب خوشی منائی اور اسے الوداع کہا۔ جانے سے پہلے اس نے ہم سب سے کہا کہ جو بھی اپنے گھر والوں کے لیے کوئی پیغام یا خط دینا چاتی ہو اسے دے دے، مجھے نہیں معلوم وہ کیا احساس تھا کہ جب وہ مجھ سے یہ مطالبہ کر رہی تھی تو میں نے اپنے گھر یا خاندان کے حوالے سے اسے کچھ نہ بتایا اور وہ سب کا شکریہ ادا کر کے ان کے پیغامات اور خطوط لے کر چلی گئی اور کچھ ہی دیر میں یہ سارا مواد افسر کے ہاتھ میں تھا، لیکن فادیا اس سارے معاملے سے بالکل لاتعلق رہی، گویا کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو، بلکہ وہ ہمارے ساتھ آخری ہڑتال میں بھی شریک ہوئی اور جو بھی ہڑتال میں نرمی یا اس کے خاتمے کی بات کرتا وہ اسے آڑے ہاتھوں لیتی ۔ یہ سب بڑے کیموفلاج طریقے سے ڈرامے کی تکمیل تھی۔ اسی عرصے میں ہمارے بلاک میں ایک نئی مہمان داخل کی گئی۔ اس کا نام ترفہ نہ تھا، نہ اس کا کوئی مسلک تھا نہ دین۔ طبیعت میں فادیا کے بالکل بر عکس خاموش اور مہربان۔ اپنے قول اور فعل سے کسی کو گزند نہ پہنچاتی۔ ترفہ تو ما دمشق کے سر بر آوردہ مسیحی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی عمر تقریباً تئیس برس تھی ، وہ بے اولاد تھی اور شوہر کے ہمراہ بغرض علاج اردن اور عراق گئی تھی، لیکن اس کے شوہر کو عراق سے تجارت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور اس کے ہمراہ وہ بھی دھر لی گئی۔ اس کے باوجود کہ اس نے اپنے شوہر کے کسی بھی معاملے میں ملوث ہونے یا نہ ہونے سے لاعلمی کا اظہار کر دیا تھا، اسے پہلے کفر السوسہ میں قید کیا گیا اور وہ بری طرح تعذیب سے دو چار کی گئی، پھر قطنا لے جایا گیا جہاں ہماری رہائی کے کچھ عرصے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔
قیدیوں کے نئے وفود آتے رہتے اور ہمارے بلاک کی تنگ دامانی کے باوجود اس میں ٹھونستے رہتے ، اسی طرح لاذقیہ سے دو بہنیں لائی گئیں ۔ یہ مینی اور امل تھیں۔ مینی ۳۵ یا ۳۶ برس کی تھی اور دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں تھی اور امل اٹھارہ انیس برس کی دوشیزہ تھی۔ مینی بہت ہی نیک دل اور سادہ خاتون تھی ۔ اس کا شوہر لاذقیہ میں خفیہ والوں اور مخالفین کے مقابلے کے وقت وہاں سے گزر رہا تھا۔ شیر خوار بچی اس کی گود میں تھی، جب ایک سنسناتی گولی اس کے ہاتھ کو چھیدتی ہوئی دل میں پیوست ہوگئی اور اللہ کی قدرت کا کیا کہنا کہ وہ اسی جگہ جان کی بازی ہار بیٹھی جب کہ زندہ سلامت بچی اس کے سینے سے چمٹی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد لاذقیہ کے ایک مشہور اخوانی نے جس کا نام ابو عنتر یا احمد عنتر تھا، یہ کہہ کر اس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ وہ تیل بیچ رہا ہے۔ اس نے تیل لینے کے لیے دروازہ کھولا تو اس نے درخوا ست کی کہ وہ اسے اپنے گھر میں پناہ دے دے کیونکہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ مینی نے بڑی سادگی سے اس کی بات مان کر اسے گھر میں چھپا دیا۔ لیکن خفیہ والوں نے اس گھر پر چھاپا مارا اور اسے ایک الماری سے برآمد کر لیا، اسے اس وقت گولی مار دی اور مینی کو جیل لے آئے ۔ جب دوران تحقیق اس سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا تو مینی بولی: مہمان تھا۔ وہ حیرت سے بولے: مہمان؟ وہ اتنا بڑا مجرم تھا اور تم نے اسے گھر میں رکھا ہوا تھا ؟ وہ بولی: کیونکہ مہمان اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔ تفتیشی اہل کار استہزائیہ انداز میں بولا : اللہ کا مہمان؟ وہ اسی معصومیت اور سادگی سے کہنے لگیں: بخدا! اگر کوئی مجھ سے آکر کہے کہ میرا کوئی نہیں، نہ رہنے کا ٹھکانہ ہے اور مجھ سے ضیافت کا مطالبہ کرے تو کیا میں اسے یوں ہی لوٹا دوں؟
قسط نمبر پندرہ کے لیے انتظار کریں
Tags
واقعات و حوادث
بہت خوب مضمون
جواب دیںحذف کریںاللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کی حفاطت فرمائے۔
جواب دیںحذف کریںرمضان المبارک کے فضائل سے متعلق مضمون آتے رہیں تو بہت اچھا ہوتا
جواب دیںحذف کریں