ڈاکٹر زغلول النجار کہتے ہیں:
ایک دن میں سورہ الرحمٰن کی تلاوت کر رہا تھا، تو ایک بزرگ شخص نے مجھے سن لیا۔ انہوں نے مجھے ایک ایسی معلومات دی جس نے مجھے یہ احساس دلایا کہ جیسے میں سورہ الرحمٰن زندگی میں پہلی بار پڑھ رہا ہوں، اور اس سے پہلے میں نے اسے کبھی پڑھا ہی نہیں۔
اس بزرگ نے مجھ سے ایک سوال پوچھا:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
۱- آیت ۴۶: (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ) "اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، دو باغ (جنتیں) ہیں۔"
۲- آیت ۶۲: (وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ) "اور ان دو کے علاوہ دو اور باغ (جنتیں) ہیں۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں چار جنتیں ہیں جو دو دو کی شکل میں تقسیم ہیں۔ تو ان دونوں (جوڑوں) کے درمیان کیا فرق ہے؟
میں نے کہا: "میں نہیں جانتا۔"
انہوں نے کہا: "میں تمہیں واضح کرتا ہوں"۔۔۔ اور یہاں مجھے ایک حیرت انگیز جھٹکا لگا کہ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان کا فرق ہے!
۱- پودوں اور درختوں کا فرق
پہلی دو اعلیٰ جنتیں (جو ڈرنے والے متقیوں کے لیے ہیں): ان کے بارے میں فرمایا: (ذَوَاتَا أَفْنَانٍ) یعنی ان میں گھنے اور پھیلے ہوئے درخت ہیں جن کے درمیان سے روشنی چھن کر آتی ہے، اور یہ ایک ایسا خوبصورت اور دلکش منظر ہے جو دل اور روح کو خوش کر دیتا ہے۔
بعد والی دو کم درجے کی جنتیں: ان کے بارے میں فرمایا: (مُدْهَامَّتَانِ) یعنی ان میں درخت اتنے شدید گھنے ہیں کہ روشنی اندر نہیں جا پاتی، بلکہ مکمل سایہ ہے، اس لیے یہ منظر حسن و جمال میں پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔
۲- چشموں کا فرق
متقیوں کی جنتیں: (فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ) "ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیں۔" بہتے ہوئے چشموں کا پانی سب سے پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ کبھی گدلا (خراب) نہیں ہوتا کیونکہ وہ مسلسل رواں رہتا ہے۔
کم درجے کی جنتیں: (فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ) "ان دونوں میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔" یعنی پانی جوش مار کر چشمے سے باہر تو آتا ہے لیکن بہتا نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ بہنے والے چشمے ابلنے والے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ابلنے والے چشموں کا بہنا ضروری نہیں (اس لیے بہتے چشمے اعلیٰ ہیں)۔
۳- پھلوں کا فرق
متقیوں کی جنتیں: (فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ) "ان دونوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔" یعنی دو طرح کے: تر (تازہ) اور خشک۔ دونوں ہی لذت اور اچھائی میں ایک دوسرے سے کم نہیں ہوں گے۔
کم درجے کی جنتیں: (فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ) "ان میں پھل اور کھجوریں اور انار ہیں۔" یعنی (مطلق طور پر) ایک ہی قسم ہوگی، جو کہ لطف اندوزی میں پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔
۴- تکیوں اور آرام گاہوں کا فرق
متقیوں کی جنتیں: (مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ) "وہ ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوں گے جن کے استر (اندرونی حصے) باریک ریشم کے ہوں گے، اور دونوں باغوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔"
ذرا سوچیں! جب بستروں کے اندرونی حصے (استر) کا یہ حال ہے، تو ان کے اوپر کا ظاہری حصہ کیسا ہوگا؟ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "ان کے ظاہری حصے چمکتا ہوا نور ہیں۔"
اس کے علاوہ، جب انسان لیٹا ہوا ہوگا تو درخت خود اس کے قریب آ جائیں گے تاکہ وہ بیٹھے یا لیٹے ہی اپنی پسند کا پھل توڑ سکے۔ ذرا اس عظمت کا تصور کریں کہ درخت آپ کی جگہ پر خود چل کر آ رہا ہے!
کم درجے کی جنتیں: (مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ) "وہ سبز مسندوں اور نفیس و خوبصورت قالینوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔" یہاں صرف ظاہری حسن کا ذکر ہے اور اندرونی حقیقت کو مخفی (مبہم) رکھا گیا ہے، جو کہ پہلے وصف (جہاں اندرونی حصہ ہی ریشم کا تھا) کے مقابلے میں کم درجے کا ہے۔
اصل سبق اور عبرت
ان کم درجے کی دو جنتوں کا مالک وہ شخص ہے جس نے نیک اعمال تو کیے، لیکن وہ تنہائیوں میں کبھی کبھار اللہ جل وعلا کی نافرمانی کر بیٹھتا تھا، یہ سوچ کر کہ اسے کوئی انسان نہیں دیکھ رہا۔
آپ تصور کریں کہ "تنہائی کے گناہوں" نے جنت میں ان کے درمیان کتنا بڑا فرق پیدا کر دیا!
اللہ والوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ:
"تنہائیوں کے گناہ ہی انسان کے ایمان کی بربادی (انحطاط) کی اصل وجہ ہیں، اور چھپ کر کی جانے والی عبادات ہی ایمان پر ثابت قدمی کی اصل بنیاد ہیں۔"
اس لیے متقیوں میں شامل ہو جائیے اور اپنی تنہائیوں (خلوتوں) کی حفاظت کیجیے۔
ڈاکٹر زغلول النجار ۔
ترجمانی ثناءاللہ حسین:21/5/26
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
آپ اپنی رائے ضرور لکھیں