گودی میڈیا کی خاموشی ملک کو لے ڈوبے گی

بنگلہ دیش اپنی فوج کا طالبانی کرن کرنے جا رہا ہے یہ وہ خبر ہے جسے انڈین گودی میڈیا سب سے زیادہ اپنے پلیٹ فارم پر اچھال رہی ہے حالانکہ طالبانی کرن کرنے کا مطلب وہ شدت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں وہی طالبان جس کے نام کا وہ طعنہ دے رہے ہیں پچھلے سال وہ انڈیا آ کر یہاں کی کچھ پالیسیوں میں معاہدہ وغیرہ کر کے گئے بہرحال طالبانی کرن کرنے کا طعنہ اس بنا پر ہے جو بنگلہ دیش کی اخبارات نے لکھا ہے اس بات کو کہ بنگلہ دیش کو پہلے کے مقابلے میں کافی تبدیل کیا جا رہا ہے ، بنگلہ دیش کی فوج نے اپنی بٹالین کو چاروں خلفاء کے نام پر رکھنا شروع کر دیا ہے اسلام میں خلفائے اربعہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ دوسرے خلیفہ حضرات عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ اور چوتھے خلیفہ ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ، ان خلفاء اربعہ کو بنگلہ دیش کی آرمی میں پہلی مرتبہ جگہ ملی ہے کہ ان چاروں خلفاء کے نام پر بٹالین کا نام رکھا گیا ہے اس کے علاوہ ہر ایک بٹالین میں 700 فوج شامل ہے مزید چوکانے والی بات یہ کہ بھارت سے جو لگتی ہوئی بنگلہ دیش کے سرحد ہے وہاں پر ان چاروں بٹالین کو تعینات کیا گیا ہے۔ 
مزید برآں کہ بنگلہ دیش نے اب اپنی ارمی کا نعرہ جے بنگلہ سے بدل کر اللہ اکبر کا رکھ دیا ہے یعنی بنگلہ دیشی آرمی اب جے بنگلہ کا نعرہ نہیں لگائے گی بلکہ اس کی جگہ پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرے گی چونکہ اب تک کے بنگلہ دیش میں بنگلہ دیش کی آرمی کا نعرہ جے بنگلہ ہوا کرتا تھا لیکن اب ان نعروں کو بدل کر اللہ اکبر کا نعرہ رکھ دیا گیا ہے انہی چیزوں کو دیکھ کر انڈین گودی میڈیا کہہ رہی ہے کہ بنگلہ دیش اپنی فوج کا طالبانی کرن کر رہا ہے ۔ جب کی بات یہ ہے کہ انڈین گودی میڈیا کے پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ سرخیوں میں یہی خبریں ہیں اور اس کے علاوہ ساری خبریں دبی ہوئی ہیں جیسے کہ بنگلہ دیش کا چین کے ساتھ معاہدہ بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ معاہدہ ڈیفنس کا معاہدہ بنگلہ پورٹ کا معاہدہ منگلہ پورٹ جو اب تک بھارت کے استعمال میں تھا اب چین کے ساتھ معاہدہ کر کے منگلا پورٹ چین کے حوالے کر دیا گیا اور منگلاپورٹ پر اب چین ڈیولپمنٹ کر رہا ہے آپ کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ چین کا کسی علاقے میں انویسٹمنٹ کرنے کا مطلب ہے اس جگہ پر قبضہ کرنا اس علاقے کو غلام بنا لینا چین کی پالیسی غلام بنانے کی کچھ الگ ڈھنگ سے رہی ہے امریکہ سے بالکل الگ جیسے کہ امریکہ اگر کسی ملک کو غلام بنانا چاہتا ہے وہاں اپنی مرضی کی سرکار بنانا چاہتا ہے تو وہاں پر قبضہ کرتا ہے حملہ کرتا ہے اور اس طرح سے اس ملک پر اپنا کنٹرول جما لیتا ہے لیکن چین ایسا نہیں کرتا چین اس ملک کو قرضے دیتا ہے انویسٹمنٹ کرتا ہے اور اس طرح سے اس کو اپنا مقروض بنا لیتا ہے پھر اسی دباؤ میں آکر اس ملک کو قرض دہندہ کی بات ماننی ہوتی ہے ۔ بنگلہ دیش کے ساتھ ان مختلف معدوں سے بھارت کی پالیسی کے اوپر کیا اثر پڑے گا انڈین گودی میڈیا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں تو مطلب ہے اپنے اقا کو خوش کرنے سے انہیں مطلب ہے اپنے مالک کو راضی کرنے سے اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی