بحرِ اوقیانوس کے اوپر موت کا سفر ، ایک معمولی غلطی جو موت کا پیغام بن گئی ۔ قسط دوم

انجن کی تنصیب کے دوران مرکزی ٹیکنیشن ایک ایسے مسئلے سے دوچار تھا جس کا حل صرف کمپنی کی تکنیکی ہدایات (Service Bulletin) میں موجود تھا۔ لیکن نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان ہدایات تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔ وقت کی کمی اور پرواز کے شیڈول کے دباؤ نے اسے ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جس کے نتائج نہایت خطرناک ثابت ہوئے۔

اس نے نئے انجن پر نئی قسم کی فیول لائن تو نصب کر دی، لیکن ہائیڈرولک لائن پرانے ڈیزائن کی ہی رہنے دی۔ بظاہر یہ تبدیلی معمولی معلوم ہوتی تھی، مگر حقیقت یہ تھی کہ یہ دونوں پائپ ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے بنائے ہی نہیں گئے تھے۔ رولز رائلس کی تکنیکی ہدایات میں واضح طور پر درج تھا کہ فیول لائن اور ہائیڈرولک لائن ہمیشہ ایک مکمل سیٹ کی صورت میں تبدیل کی جائیں۔ مگر چونکہ یہ ہدایات کسی نے پڑھیں ہی نہیں، اس لیے یہ بنیادی اصول نظر انداز ہو گیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جب انجن چلتا تو ہائیڈرولک سسٹم میں دباؤ پیدا ہوتا۔ اس دباؤ کی وجہ سے ہائیڈرولک لائن معمولی سی حرکت کرتی اور فیول لائن کے انتہائی قریب آ جاتی۔دونوں دھاتی پائپ، جنہیں کبھی ایک دوسرے سے ٹکرانا نہیں چاہیے تھا، اب ہر پرواز کے دوران ایک دوسرے سے رگڑ کھانے لگے۔ ابتدا میں یہ رگڑ اتنی معمولی تھی کہ نہ کوئی آواز سنائی دیتی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا الارم ظاہر ہوتا تھا۔ انجن کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد اس کا زمینی تجربہ (Ground Run) بھی کیا گیا۔ تمام آلات معمول کے مطابق کام کر رہے تھے۔ نہ کہیں ایندھن کا رساؤ تھا اور نہ کسی خرابی کا اشارہ۔اسی اطمینان کے ساتھ طیارے کو دوبارہ سروس کے لیے منظور کر دیا گیا۔ کسی کو اندازہ نہ تھا کہ اصل خطرہ ابھی شروع ہوا ہے۔اگلے چند دنوں میں یہی طیارہ کئی کامیاب پروازیں کرتا رہا۔ ہر بار انجن کی کمپن اور مسلسل دباؤ کی وجہ سے دونوں دھاتی لائنیں ایک دوسرے سے رگڑ کھاتی رہیں۔یہ عمل آہستہ آہستہ فیول لائن کی دیوار کو کمزور کرتا گیا، یہاں تک کہ اس میں ایک نہایت باریک دراڑ پیدا ہو گئی۔

یہ دراڑ اتنی چھوٹی تھی کہ عام معائنے میں نظر آنا تقریباً ناممکن تھا، مگر یہی معمولی سا شگاف بعد میں بحرِ اوقیانوس کے اوپر ایک خوفناک سانحے کا سبب بنا۔ 24 اگست 2001ء کی صبح، جب فلائٹ 236 بحرِ اوقیانوس کے اوپر تقریباً چار گھنٹے سے پرواز کر رہی تھی، تو اس باریک دراڑ سے ایندھن رسنا شروع ہو گیا۔ ابتدا میں رساؤ بہت کم تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ دراڑ بڑی ہوتی گئی اور ایندھن تیزی سے باہر نکلنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں ہزاروں لیٹر قیمتی جیٹ فیول سمندر میں گر رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کاک پٹ میں موجود کسی بھی آلے نے اس رساؤ کی اطلاع نہیں دی۔

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس وقت ایئربس A330 میں فیول لیک کا براہِ راست پتہ لگانے والا کوئی سینسر موجود ہی نہیں تھا۔ پائلٹ یہ سمجھ رہے تھے کہ جہاز میں موجود تمام ایندھن محفوظ ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ان کی زندگی کا واحد سہارا خاموشی سے بحرِ اوقیانوس میں بہہ رہا تھا۔ صبح تقریباً 5 بج کر 3 منٹ پر پائلٹوں نے دائیں انجن کے آئل سسٹم کی ریڈنگ میں معمولی تبدیلی محسوس کی۔ یہ دراصل اسی حصے میں پیدا ہونے والی خرابی کا ابتدائی اثر تھا، مگر چونکہ فیول لیک کی کوئی وارننگ موجود نہیں تھی، اس لیے عملے نے اسے کسی سینسر یا کمپیوٹر کی معمولی خرابی سمجھا۔

کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا کہ انجن سے ایندھن تیزی سے خارج ہو رہا ہے۔ ادھر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ رساؤ کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔ طیارے کے دونوں بازوؤں میں موجود فیول ٹینک آہستہ آہستہ خالی ہو رہے تھے، جبکہ نیچے بے کنار بحرِ اوقیانوس اس ایندھن کو خاموشی سے اپنے اندر سمیٹتا جا رہا تھا۔ جہاز میں سوار 306 افراد اپنی نشستوں پر مطمئن بیٹھے تھے۔ کچھ سو رہے تھے، کچھ کتاب پڑھ رہے تھے اور کچھ صبح کے ناشتے کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں اس بات کا ذرہ برابر احساس نہیں تھا کہ ان کی پرواز اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر منٹ ان کی بقا کے امکانات کم ہوتے جا رہے تھے۔

(جاری ہے۔۔قسط اول ۔۔قسط سوم کے لیے کلک کریں...۔)

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی