بحرِ اوقیانوس کے اوپر موت کا سفر ، ایک معمول کی پرواز جو تاریخ کا حصہ بن گئی : قسط اول

23 اگست 2001ء کی رات کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر معمول کے مطابق چہل پہل تھی۔ گرمیوں کی تعطیلات اپنے عروج پر تھیں اور مختلف ممالک کی جانب جانے والی پروازوں کے لیے مسافروں کی بڑی تعداد ایئرپورٹ پر موجود تھی۔ انہی پروازوں میں ایک پرواز ایئر ٹرانزٹ فلائٹ 236 بھی تھی، جو ٹورنٹو سے پرتگال کے شہر لزبن کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔

اس طیارے میں 293 مسافر اور عملے کے 13 ارکان سوار تھے، یعنی مجموعی طور پر 306 افراد اس سفر کا حصہ تھے۔ زیادہ تر مسافر پرتگالی نژاد کینیڈین تھے، جو موسمِ گرما کی چھٹیاں اپنے آبائی وطن میں گزارنے جا رہے تھے۔ کسی کے ذہن میں یہ خیال تک نہ تھا کہ چند گھنٹوں بعد یہی سفر جدید ہوابازی کی تاریخ کے حیرت انگیز ترین واقعات میں شمار ہونے والا ہے۔

24 اگست کو رات 12 بج کر 52 منٹ پر ایئربس A330 نے کامیابی سے ٹیک آف کیا اور بحرِ اوقیانوس کی طویل پرواز پر روانہ ہو گیا۔ کچھ ہی دیر میں طیارہ تقریباً 39 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ مسافروں کو کھانا پیش کیا گیا، کچھ لوگ فلمیں دیکھنے لگے، بچے سو گئے اور کیبن کی روشنیاں مدھم کر دی گئیں۔

باہر ہر طرف رات کا گہرا اندھیرا تھا اور نیچے ہزاروں فٹ گہرا بحرِ اوقیانوس پھیلا ہوا تھا۔ بظاہر یہ ایک عام بین الاقوامی پرواز تھی، مگر حقیقت میں اس جہاز کے اندر ایک ایسا خاموش خطرہ موجود تھا جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید سنگین ہوتا جا رہا تھا۔ طیارے میں موجود کسی ایک شخص کو بھی معلوم نہ تھا کہ اس کے انجن میں ایک ایسی خرابی پیدا ہو چکی ہے جو چند گھنٹوں بعد دونوں انجنوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دے گی۔

اس خطرناک حادثے کی اصل کہانی پرواز سے نو دن پہلے شروع ہوئی تھی۔ 15 اگست 2001ء کو ایئر ٹرانزٹ کے انجینئروں نے معمول کی جانچ کے دوران دائیں انجن کے آئل سسٹم میں باریک دھاتی ذرات (Metal Chips) دریافت کیے۔ ہوابازی کی دنیا میں یہ ایک انتہائی خطرناک علامت سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انجن کے اندر کسی حصے میں شدید گھساؤ شروع ہو چکا ہے۔ دو دن بعد، 17 اگست کو دوبارہ معائنہ کیا گیا تو مزید دھاتی ذرات ملے۔ اب انجینئروں کے لیے یہ واضح ہو گیا کہ انجن کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ایئر ٹرانزٹ کے پاس اس ماڈل کا اضافی انجن موجود نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے رولز رائلس کمپنی سے ایک متبادل انجن عارضی طور پر حاصل کیا۔ یہیں سے ایک ایسی غلطی کا آغاز ہوا جس کی قیمت بعد میں سینکڑوں جانوں کو تقریباً چکانی پڑی۔ وہ نیا انجن دیکھنے میں پرانے انجن جیسا ہی تھا، لیکن اس کا ڈیزائن دراصل پرانے ماڈل پر مبنی تھا، جبکہ طیارہ نئے ڈیزائن کے مطابق تیار کیا گیا تھا۔ باہر سے دونوں انجن تقریباً ایک جیسے دکھائی دیتے تھے، مگر اندر موجود فیول لائنوں اور ہائیڈرولک پائپوں کی ساخت مختلف تھی۔ بدقسمتی سے یہ فرق ابتدائی معائنے میں کسی کی نظر میں نہ آ سکا۔

انجن کی تبدیلی کا کام جلد از جلد مکمل کرنا ضروری تھا کیونکہ اتوار کی دوپہر تک اسی طیارے نے دوبارہ سروس میں واپس آنا تھا۔ وقت کی کمی نے انجینئروں پر شدید دباؤ ڈال رکھا تھا۔ جب نیا انجن نصب کیا جا رہا تھا تو ایک نئی مشکل سامنے آئی۔ ہائیڈرولک پمپ اپنی جگہ صحیح طرح فٹ نہیں ہو رہا تھا کیونکہ درمیان میں فیول لائن رکاوٹ بن رہی تھی۔ مرکزی ٹیکنیشن نے رولز رائلس کا تکنیکی رہنما (Manual) کھولنے کی کوشش کی تاکہ درست طریقۂ کار معلوم کیا جا سکے، مگر تین مختلف کمپیوٹروں پر بھی نیٹ ورک دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ دستاویز نہ کھل سکی۔ دلچسپ اور افسوس ناک حقیقت یہ تھی کہ یہی ہدایات آف لائن سی ڈی کی صورت میں اسی عمارت میں موجود تھیں، مگر کسی کو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ کہاں رکھی ہیں۔ وقت کم تھا، اس لیے انجینئروں نے مکمل رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے اپنے اندازے پر کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہی فیصلہ بعد میں ایک خاموش تباہی کی بنیاد ثابت ہوا۔

(جاری ہے۔۔۔قسط۔دوم کے لیے کلک کریں....)

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی