بحرِ اوقیانوس کے اوپر موت کا سفر ، ایک غلط فیصلہ جس نے حالات مزید سنگین بنا دیے ، قسط سوم

صبح تقریباً 5 بج کر 33 منٹ پر کاک پٹ میں ایک نیا انتباہی پیغام ظاہر ہوا۔ اس میں بتایا گیا کہ طیارے کے بائیں اور دائیں ونگ میں موجود فیول ٹینکوں کے درمیان ایندھن کا توازن بگڑ گیا ہے۔ دائیں جانب ایندھن معمول سے کہیں زیادہ تیزی سے کم ہو رہا تھا۔ عام حالات میں ایسی صورتحال کبھی کبھار پیش آ جاتی ہے اور اس کے لیے طیارے کے آپریشنل دستور میں ایک باقاعدہ طریقۂ کار (Checklist) موجود ہوتا ہے۔ پائلٹوں کو چاہیے تھا کہ وہ تحریری ہدایات کے مطابق مرحلہ وار کارروائی کرتے، مگر اس روز قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

کپتان اور معاون پائلٹ نے چیک لسٹ کھولنے کے بجائے اپنی یادداشت پر اعتماد کیا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ اس مسئلے کا حل اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن یہی اعتماد بعد میں ان کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ طیارے کی اصل چیک لسٹ میں واضح طور پر درج تھا کہ اگر ایندھن کے رسنے کا ذرا سا بھی شبہ ہو تو فیول لیک پروسیجر پر عمل کیا جائے، نہ کہ صرف فیول اَن بیلنس پروسیجر پر۔ چونکہ عملہ تحریری ہدایات دیکھ ہی نہیں رہا تھا، اس لیے یہ انتہائی اہم نوٹ ان کی نظر سے اوجھل رہ گیا۔ انہوں نے سمجھا کہ مسئلہ صرف ایندھن کے عدم توازن کا ہے، اس لیے انہوں نے کراس فیڈ والو (Crossfeed Valve) کھول دیا۔ اس والو کا مقصد عام حالات میں ایک ونگ کے ٹینک سے دوسرے ونگ کو ایندھن فراہم کرنا ہوتا ہے، تاکہ دونوں طرف توازن برقرار رہے۔

چونکہ دائیں جانب کی فیول لائن پہلے ہی پھٹ چکی تھی، اس لیے کراس فیڈ والو کھلتے ہی بائیں ونگ کا ایندھن بھی اسی خراب لائن کی طرف بہنا شروع ہو گیا۔ اب صرف دائیں ٹینک کا ایندھن ضائع نہیں ہو رہا تھا، بلکہ دونوں ٹینکوں کا ایندھن ایک ہی جگہ سے بحرِ اوقیانوس میں گر رہا تھا۔ چند لمحوں میں صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گئی۔ پائلٹ جس خرابی کو درست کرنا چاہتے تھے، انجانے میں انہوں نے اسی خرابی کو کئی گنا بڑھا دیا۔اس سے چار سال پہلے، 1997ء میں، ایک اور ایئربس طیارے کو بھی اسی قسم کے فیول لیک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس حادثے کے بعد فرانسیسی تحقیقاتی اداروں نے سفارش کی تھی کہ ایئربس طیاروں میں ایسا خودکار نظام نصب کیا جائے جو ایندھن کے غیر معمولی رساؤ کی فوری نشاندہی کر سکے۔ اگرچہ بعد میں کچھ آپریشنل ہدایات ضرور تبدیل کی گئیں، مگر ایسا خودکار انتباہی نظام نصب نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار سال بعد تقریباً وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہو گئی، اور اس بار سینکڑوں انسانوں کی جان خطرے میں پڑ گئی۔

کراس فیڈ والو کھولنے کے باوجود ایندھن کی مقدار مسلسل کم ہوتی جا رہی تھی۔ کاک پٹ میں موجود آلات وہی کچھ دکھا رہے تھے جسے دیکھ کر ہر تجربہ کار پائلٹ پریشان ہو جاتا ہے۔ اعداد و شمار کسی معمولی خرابی کی طرف اشارہ نہیں کر رہے تھے، بلکہ یہ بتا رہے تھے کہ جہاز کا ایندھن غیر معمولی رفتار سے ختم ہو رہا ہے۔ اب کپتان کو اندازہ ہونے لگا کہ شاید معاملہ ان کی ابتدائی سوچ سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت دی کہ کھڑکیوں سے باہر دائیں اور بائیں ونگ کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کہیں ایندھن باہر تو نہیں نکل رہا۔
لیکن باہر گھپ اندھیری رات تھی۔ نیچے صرف سیاہ سمندر تھا اور آسمان پر بھی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ ایسی حالت میں کسی رساؤ کو دیکھنا تقریباً ناممکن تھا۔ عملہ کچھ بھی نہ دیکھ سکا۔

ادھر مسافروں کی دنیا بالکل مختلف تھی۔ کچھ لوگ گہری نیند میں تھے، کچھ فلمیں دیکھ رہے تھے، جبکہ کئی افراد یہ سوچ رہے تھے کہ چند گھنٹوں بعد لزبن پہنچ کر اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات ہوگی۔ انہیں اندازہ تک نہ تھا کہ جس رفتار سے ایندھن ختم ہو رہا ہے، اس حساب سے طیارہ اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ اب جہاز کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امید کم اور خطرہ بڑھتا جا رہا تھا۔ بحرِ اوقیانوس کے عین اوپر، چاروں طرف ہزاروں میل تک کوئی بڑا ہوائی اڈہ موجود نہ تھا۔ اب عملے کے سامنے صرف ایک ہی سوال تھا: کیا یہ طیارہ باقی بچے ہوئے ایندھن کے ساتھ کسی محفوظ مقام تک پہنچ سکے گا، یا چند ہی لمحوں بعد اس کے دونوں انجن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے؟

(جاری ہے۔۔قسط چہارم کے لیے کلک کریں...۔)

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی