17 صفر المظفر 1447ھ مطابق 12 اگست 2025ء
مختصر المعانی کی سال دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ امام المنطق والفلسفہ مولانا عبدالرحیم بستویؒ نوراللہ مرقدہ کا سانحہ ارتحال پیش آیا۔ دارالعلوم کے اساتذہ کی تقریباً عادت شریفہ ہے۔ جب بھی کسی استاذ یا خدام دارالعلوم کی وفات ہو۔ اس دن درس مختصر کرکے یا بالکلیہ ترک کرکے متوفی شخصیت کی خدمات،دارالعلوم سے وابستگی ، اساتذہ، تعلیمی سفر، تصنیفی وتالیفی کارنامے وغیرہ پر کلام کرتے ہیں۔ یہ ہونا بھی چاہیے۔ مختصر المعانی کی سال حضرت الاستاذ مولانا منیر الدین عثمانی استاذ دارالعلوم دیوبند نے پورے گھنٹے مولانا عبدالرحیم بستویؒ نوراللہ مرقدہ کی خدمات، درس و تدریس، دارالعلوم سے وابستگی اور تعلق ، زمانہ طالب علمی کے واقعات سنائے۔ جن میں ایک اہم واقعہ دارالعلوم میں جنات کی تعلیم کا بھی تھا۔ جن کے ہم درس و تکرار کرانے والے مولانا عبدالرحیم بستویؒ قدس سرہ العزیز تھے۔ ویسے تو اساتذہ دارالعلوم اور طلبہ کے درمیان تعلیم جنات کے واقعات تقریباً حد تواتر تک پہونچے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ استناد کی حیثیت رکھتا ہے۔پھر چشم دید واقعہ بھی۔ کیونکہ یہ واقعہ مولانا عبدالرحیم بستویؒ نوراللہ مرقدہ کو پیش آیا تھا۔انہو نے اساتذہ میں بیان کیا۔ اور ہم کو سنانے والے حضرت الاستاذ مولانا منیر الدین عثمانی زید مجدہ استاذ دارالعلوم دیوبند ابھی بھی بقید حیات ہیں۔ اطال اللہ عمرہ و ظلہ
واقعہ : حضرت مولانا عبدالرحیم بستویؒ صاحب زمانہ طالب علمی میں سینئر رہے ہیں۔ طلبہ کو تکرار کرایا کرتے تھے۔ شاید پنجم ششم کی بات ہوگی۔تکرار بہت مقبول تھا۔ کافی طلبہ شریک ہوتے تھے۔ایک مرتبہ رات کو بارہ ایک بجے کے قریب درسگاہ سے واپس آرہے تھے۔مدنی گیٹ اور مسجد قدیم کے بیچ میں جو جگہ ہے۔ فی الوقت وہاں دار جدید تعمیر ہوگئی۔ جس میں مولانا عبدالخالق مدارسی کے بھی کمرے ہیں۔ ان دنوں ادھر کمرے تھے ۔ جب گذرے تو ایک کمرے کے طلبہ نے حضرت کو روک لیا۔ تعداد دس بارہ تھی۔ سب نے اصرار کیا کہ حضرت کمرے میں چلیں۔ تھوڑی دیر ہم میں بیٹھیں۔آج تک ملنا بھی نہ ہوا۔ حضرت نے معذرت کی۔ کہ رات بہت ہوچکی۔ لیکن ان کے اصرار کے سامنے مجبور ہوگئے۔ کمرے میں بیٹھے۔ سب نے ایک ساتھی کو کہا۔ کہ جاکر ناشتہ مٹھائی وغیرہ لائے۔ مولانا پہلی بار ہمارے پاس آئے ہیں۔ حضرت نے منع کیا کہ اس وقت دیوبند کی سبھی دکانیں بند ہوں گی۔ تکلیف مت کیجیے۔ لیکن جانے والا جا چکا تھا۔ گفت و شنید جاری تھی۔ دس منٹ گذری کہ ایک بولا کہ وہ ابھی تک نہیں آیا۔مولانا کا وقت ویسے بھی قیمتی ہے۔ اس کو اب تک آجانا چاہیے تھا۔ مولانا نے کہا۔ کہ دیر ہوجاتی ہے۔ انسان ہے۔ پندرہ منٹ گذری۔ اسی طرح بیس پچیس منٹ کا وقفہ گذر گیا۔ اب تو سب سیخ پا اور آگ بگولہ ہوگئے۔ قسمیں کھانے لگے۔ کہ آنے دو۔ اسے دیکھتے ہیں۔مرنے مارنے کو تیار تھے۔ نصف گھنٹے پر وہ بندہ مٹھائی لیکر آیا۔ تو سب اسے مارنے کھڑے ہوگئے کہ تو نے اتنا وقت کیسے اور کہاں لگایا؟ تجھے معلوم نہیں کہ حضرت کا وقت کتنا قیمتی ہے! وغیرہ وغیرہ۔ قریب تھا کہ اسے مار بیٹھتے۔ حضرت بولے۔ بھئی اس کی بھی تو سن لو۔ وہ بھی کچھ کہنا چاہتا ہے۔مٹھائی لانے والا بولا۔ بھئی۔ پہلے میری بات سن لیں۔ پھر جو سزا تجویز کریں مجھے منظور ہے۔میں باہر نکل کر پورے دیوبند میں گھوما لیکن مٹھائی نہ ملی۔ پھر میں سہارنپور گیا۔ پورے سہارنپور میں مٹھائی نہ ملی۔ حضرت کے ہاتھ میں برفی کا جو قاش تھا۔ اس سمیت ہاتھ و جسم سن ہوکر رہ گیا۔وہ پھر بولا۔ میں مظفر نگر گیا۔ لیکن مٹھائی نہ ملی۔ میرٹھ بھی گیا۔ اس کے بعد دہلی گیا لیکن مٹھائی نہ ملی۔ پھر سیدھا بمبئی گیا۔ وہاں ایک سردار جی اپنی دکان بند کررہے تھے۔ ان سے کہا کہ ہمارے خاص مہمان آئے ہوئے ہیں۔ مٹھائی دے دیں۔ انہو نے مٹھائی دی۔ تو لیکر اب آیا ہوں۔ وقت تو لگے گا نا؟۔! جواب سے سب مطمئن ہوگئے۔ مولانا عبدالرحیم صاحب فرماتے ہیں کہ میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔اب کھانے کا کسے ہوش تھا؟! کیا کھایا اور کیا ہی کھا لیتا۔ بالآخر یہ کیسی مخلوق ہے جو نصف گھنٹے میں بمبئی سے مٹھائی حاضر کررہی ہے۔پیہم اصرار پر ایک ٹکڑا بہ مشکل کھا پایا۔ پسینے میں شرابور حالت میں اجازت لی۔نکل کر ایسا آیا۔ کہ پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا۔ پھر آئندہ زمانہ طالب علمی تو دور تدریسی ایام میں بھی ادھر نہیں گیا۔فرمایا یہ طلبہ جنات تھے۔
جنات کے لیے فاصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جن ایک براعظم سے دوسرے برے اعظم تک ایک قدم رکھ سکتا ہے۔ اس کو رب نے یہ قدرت دی ہے کہ وہ کسی بھی شکل میں مجسم ہوکر سامنے آسکتا ہے۔ جن جب انسانی شکل میں ہو تو اس کے اندر ایک انسان جتنی ہی طاقت و صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ طاقتور انسان اس سے بھڑ سکتا ہے۔حدیث میں حضرت عمرؓ کا جن سے کشتی کا واقعہ جو موجود ہے وہ اس کی بین دلیل ہے۔ان کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ
کے خاندان میں کوئی شاہ صاحب ؒ تھے (شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے متعلق بھی یہ ملا ہے لیکن مجھے شاہ تورک نام سے کوئی اور بھی یاد ہیں) جن ہونے سانپ کو مار دیا تھا۔ دراصل وہ جن تھا۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر دو بندوں نے دستک دی۔ کہ بادشاہ طلب فرمارہے ہیں۔سوچا کہ بادشاہ سلامت نے مدعو کیا ہے۔ لیکن انہوں نے تو جمنا کے مضافات میں جنگلات میں لاکر کھڑا کردیا۔ دیکھا ایک میت ہے۔ بادشاہ وہ نہیں۔ جو ہونا چاہیے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم نے ہمارا آدمی مار دیا ہے۔ قصاص میں تم کو قتل کیا جائے گا۔ حضرت تو سہم کر رہ گئے۔ فوراً وہ حدیث سنائی جس میں شکل تبدیل کرنے کی صورت میں قاتل پر کوئی ضمان نہیں۔خون ھدر ہے۔ بادشاہ نے اس حدیث پر گواہی طلب کی۔ تو دو جنات نے گواہی دی کہ یہ حدیث ہم نے براہِ راست حضورﷺ سے سنی ہے۔ مطلب وہ جنات صحابی تھے۔یہاں علماء نے ان شاہ صاحبؒ (نام مستحضر نہیں) کے تابعی ہونے کی بحث بھی کی ہے۔
علامہ سیوطیؒ نے جنات کے حالات پر "لقط المرجان فی احکام الجان" جو کتاب لکھی ہے۔ اس میں ابلیس لعین کے پوتے یا پڑپوتے ھامہ بن ہیم بن لاقیس بن ابلیس کا حضورﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی درج کیا ہے۔حضورﷺ نے ان سے کہا بھی تھا کہ ھامہ ملتے رہا کرو۔سندی حیثیت سے قطع نظر حضورﷺ کا فرمان موجود ہے کہ ھامہ اہل جنت میں سے ہے۔حضرت ھامہؓ قابیل اور ہابیل کے قتل کے وقت چھوٹے تھے۔بعد کے سارے زمانے پائے ہیں۔حضورﷺ کو متعدد انبیاء کرام کا سلام بھی پیش کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ جنات کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں۔ بہرکیف اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند میں باقاعدہ جنات پڑھتے رہے ہیں۔کافی واقعات سنائے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے یہی واقعہ مستند لگا۔ کیونکہ بذات خود سنا۔ اور بیان کرنے والے حضرت الاستاذ مولانا منیر الدین صاحب زیدمجدہ ہیں۔ یہ واقعہ اسی دن درسگاہ میں سنایا۔ جس دن حضرت مولانا عبدالرحیم بستوی صاحبؒ کا انتقال ہوا تھا۔ اور دوسرے دن دارالحدیث تحتانی میں ایصال ثواب کی مجلس کا انعقاد ہوا۔اور مولانا بستویؒ کی شخصیت پر حضرت مہتمم صاحب مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم کا بیان بھی ہوا۔ مولانا عبدالرحیم بستویؒ کو آخری ایام میں مشکوۃ شریف بھی دی گئی تھی۔ باری تعالیٰ غریق رحمت رکھے۔ خدمات قبول فرمائے۔ آمین