صبح تقریباً 5 بج کر 45 منٹ پر صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی تھی کہ اب لزبن تک پہنچنا ممکن نہیں رہا تھا۔ کاک پٹ میں موجود آلات مسلسل کم ہوتے ہوئے ایندھن کی نشاندہی کر رہے تھے۔ اس وقت طیارے کی کمان کپتان رابرٹ پیچ کے ہاتھ میں تھی، جن کے پاس تقریباً 16,800 گھنٹے کا فلائنگ تجربہ تھا۔ ان کے ساتھ معاون پائلٹ ڈرک ڈی جاگر موجود تھے، جن کے پاس بھی تقریباً 4,800 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا۔ کپتان رابرٹ پیچ عام کمرشل پائلٹ نہیں تھے۔ ماضی میں وہ بش پائلٹ بھی رہ چکے تھے، جہاں انہیں دشوار گزار علاقوں، چھوٹے رن ویز اور ہنگامی حالات میں طیارہ اتارنے کا عملی تجربہ حاصل ہوا تھا۔ یہی تجربہ چند لمحوں بعد سینکڑوں جانوں کے لیے امید کی آخری کرن بننے والا تھا۔
اب پائلٹوں نے فوری فیصلہ کیا کہ لزبن کے بجائے قریب ترین ہوائی اڈے کی طرف رخ کیا جائے۔ بحرِ اوقیانوس کے وسط میں واقع ازورس (Azores) کے جزائر پر موجود لاجس ایئر بیس نسبتاً قریب تھا۔ یہی واحد جگہ تھی جہاں پہنچنے کی امید باقی تھی۔ صبح 5 بج کر 48 منٹ پر عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس ایندھن تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اس وقت بھی پائلٹوں کو مکمل یقین نہیں تھا کہ اصل مسئلہ فیول لیک ہے، مگر وہ جان چکے تھے کہ اگر فوری لینڈنگ نہ کی گئی تو نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ صبح 6 بج کر 13 منٹ پر، جب طیارہ تقریباً 34 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا، اچانک دایاں انجن ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا۔ کاک پٹ میں خطرے کے الارم گونج اٹھے۔ اب ایک ایسا طیارہ، جو دو انجنوں کی طاقت سے بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، صرف ایک انجن کے سہارے اڑ رہا تھا۔
عام حالات میں ایک انجن بند ہونے کے بعد دوسرا انجن طیارے کو محفوظ ہوائی اڈے تک پہنچا سکتا ہے، لیکن اس بار صورتحال مختلف تھی۔ دوسرے انجن کا ایندھن بھی تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ کپتان نے فوراً رفتار، بلندی اور سمت کو اس انداز میں سنبھالنا شروع کیا کہ باقی بچی ہوئی طاقت سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کیا جا سکے۔ پہلا انجن بند ہونے کے صرف 13 منٹ بعد وہی ہوا جس کا سب کو خوف تھا۔
صبح 6 بج کر 26 منٹ پر دوسرا انجن بھی مکمل طور پر بند ہو گیا۔ اب 306 افراد پر مشتمل یہ دیوقامت ایئربس A330 بحرِ اوقیانوس کے اوپر بغیر کسی انجن کے محض اپنی رفتار اور ہوا کے سہارے گلائیڈ کر رہا تھا۔ کمرشل ہوابازی کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی غیر معمولی صور تحال تھی۔ دونوں انجن بند ہوتے ہی طیارے کے مرکزی برقی نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ کیبن کی روشنیاں بجھ گئیں۔ مسافروں نے محسوس کیا کہ وہ مسلسل گونجنے والی آواز، جو ہر پرواز میں انجنوں سے سنائی دیتی ہے، اچانک غائب ہو چکی ہے۔
ایک ایسا سناٹا چھا گیا جو ہر مسافر کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ کچھ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا، کچھ نے کھڑکیوں سے باہر جھانکنے کی کوشش کی، مگر باہر صرف اندھیرا اور بے کنار سمندر تھا۔ دونوں انجن بند ہوتے ہی طیارے کا ریم ایئر ٹربائن (Ram Air Turbine - RAT) خودکار طور پر باہر نکل آیا۔
یعنی طیارہ کا ایمرجنسی نظام فعال ہو گیا ۔ یہ ایک چھوٹا سا پنکھا نما نظام ہوتا ہے جو تیز ہوا سے گھوم کر محدود مقدار میں بجلی اور ہائیڈرولک طاقت پیدا کرتا ہے، تاکہ بنیادی آلات، کنٹرول سسٹم اور ضروری ہائیڈرولکس کام کرتے رہیں۔ اگر یہ نظام فعال نہ ہوتا تو پائلٹ طیارے پر مکمل کنٹرول بھی برقرار نہ رکھ سکتے۔ لیکن اب بھی سب سے بڑا سوال باقی تھا۔ کیا یہ طیارہ بغیر انجن کے لاجس ایئر بیس تک پہنچ سکے گا؟
اسی دوران کیبن کریو نے مسافروں کو حقیقت سے آگاہ کرنا شروع کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ ممکن ہے طیارہ سمندر میں ہنگامی لینڈنگ کرے۔ یہ سنتے ہی پورے کیبن میں بے چینی پھیل گئی۔ فلائٹ اٹینڈنٹس نے تمام مسافروں کو لائف جیکٹ نکالنے، پہننے اور بریس پوزیشن اختیار کرنے کی ہدایات دینا شروع کر دیں۔ کئی مسافر گھبراہٹ میں لائف جیکٹ صحیح طرح پہن ہی نہ سکے۔ کچھ لوگ مسلسل دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ خاموشی سے اپنی نشستوں پر بیٹھے آنسو بہا رہے تھے۔ کئی افراد نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا، گویا یہی ان کی آخری ملاقات ہو۔ایک نوجوان مسافر کو 1996ء میں پیش آنے والے ایک مشہور طیارہ حادثے کی یاد آنے لگی، جس میں جہاز سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
اس کے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ شاید آج ان کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے۔ ادھر کاک پٹ میں کپتان رابرٹ پیچ مکمل یکسوئی کے ساتھ طیارے کو گلائیڈ کر رہے تھے۔ اب ان کے پاس دوبارہ کوشش کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ اگر وہ رن وے تک نہ پہنچ سکے تو اگلا مقام صرف بحرِ اوقیانوس کا یخ بستہ پانی تھا۔ لیکن برسوں کے تجربے نے انہیں ایک ہی سبق دیا تھا: جب تک طیارہ فضا میں ہے، تب تک امید باقی ہے۔ اسی امید کے ساتھ وہ خاموش مگر انتہائی مہارت سے اس بے جان طیارے کو رن وے کی طرف لے جا رہے تھے۔
(جاری ہے۔۔۔قسط پنجم کے لیے کلک کریں....)