بعض شخصیات کی یاد کسی کتاب، کسی تصویر یا کسی مخصوص تاریخ سے وابستہ نہیں ہوتی۔ ان کا ذکر آتا ہے تو زندگی کے کئی گوشے بیک وقت روشن ہوجاتے ہیں؛ کچھ ملاقاتیں، کچھ گفتگوئیں، کچھ منصوبے، کچھ ادارے اور کچھ ایسے سوالات جو ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی جواب طلب رہتے ہیں۔ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔آج سوشل میڈیا پر ان کی ایک گفتگو سننے کا اتفاق ہوا۔ وہ دین اور شریعت پر عمل کی ضرورت کو سمجھاتے ہوئے راستے کی مثال دے رہے تھے کہ آدمی کسی راستے پر چلنا چھوڑ دے تو ایک وقت آتا ہے جب وہ راستہ بھی اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔ بات بظاہر بہت سادہ تھی، مگر اسے سنتے ہوئے مجھے بے اختیار حضرت قاضی صاحبؒ یاد آگئے۔ شاید اس لیے کہ ان کی پوری زندگی ایک راستے پر مسلسل چلنے کی مثال تھی، اور یہ راستہ کسی ایک شعبے یا ایک ادارے تک محدود نہیں تھا۔ وہ دین و شریعت، فقہ و قضاء، تعلیم و تربیت، ملت کی اجتماعی زندگی اور بدلتے ہوئے زمانے کے مسائل کو ایک مربوط تناظر میں دیکھتے تھے۔ان سے میری نسبت بھی محض ایک رسمی یا دور کی نسبت نہیں۔ وہ ہمارے خانوادے کے بزرگ تھے، اور زندگی کے مختلف ادوار میں ان کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کے مواقع بھی ملے۔ اسی لیے جب ان کی شخصیت کا ذکر آتا ہے تو میرے لیے یہ محض ایک علمی شخصیت پر لکھنے کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ ایک ایسے عہد کی یاد بھی ساتھ آتی ہے جس میں چند اہلِ علم اپنی ذاتی صلاحیتوں سے آگے بڑھ کر اداروں اور اجتماعی زندگی کی سمت متعین کرنے کی کوشش کررہے تھے۔حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ ان لوگوں میں تھے جن کے بارے میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے مسائل کو صرف دیکھا نہیں، ان کے لیے راستے تلاش کیے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کی صلاحیتوں کو سب سے پہلے قریب سے محسوس کرنے والوں میں میرے چچا محترم حضرت مولانا ابو ظفر رحمانیؒ بھی تھے۔ امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ کی طلب پر حضرت قاضی صاحبؒ کو جامعہ رحمانی مونگیر بھیجا گیا۔ جامعہ رحمانی کی علمی فضا میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا ایسا اظہار کیا کہ بہت کم مدت میں ان کی علمی اور فکری استعداد نمایاں ہوگئی۔
حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ دوراندیش آدمی تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ قاضی مجاہد الاسلامؒ جیسی صلاحیت کو کسی ایک ادارے کے محدود دائرے میں نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے امارتِ شرعیہ کی وسیع تر ملی ذمہ داریوں میں استعمال ہونا چاہیے۔ چنانچہ حضرت قاضی صاحبؒ امارتِ شرعیہ تشریف لائے اور امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ کی سرپرستی میں اپنے عملی سفر کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا۔ یہاں انہیں اچھے رفقاء بھی میسر آئے۔ خصوصاً حضرت مولانا سید نظام الدینؒ کی رفاقت کا ذکر اس دور کے حوالے سے ناگزیر ہے۔ قاضی صاحبؒ کی طبیعت میں علمی غور و فکر، انتظامی صلاحیت اور نئے امکانات کو محسوس کرنے کی جو قوت تھی، اسے امارتِ شرعیہ کے وسیع میدان نے اپنے اظہار کا موقع دیا۔ حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ کے انتقال کے بعد یکے بعد دیگرے کئی امرائے شریعت آئے۔ قاضی صاحبؒ نے سب کے ساتھ نظم و اطاعت کے ساتھ کام کیا۔ یہ بات بھی ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ اپنی علمی حیثیت اور غیر معمولی ذہنی صلاحیت کے باوجود انہوں نے ادارے کے نظم کو اپنی ذات سے نیچے نہیں سمجھا۔ وہ امیرِ شریعت کے معاون، رفیق اور ادارے کے ذمہ دار کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
البتہ وقت کے ساتھ یہ بات خود امارتِ شرعیہ کے مختلف ادوار کے لوگوں پر واضح ہوتی گئی کہ ادارے کی ترقی، اس کے نئے شعبوں کی تشکیل اور اس کی وسعت کے پیچھے حضرت قاضی صاحبؒ کی فکری قوت کا ایک نمایاں حصہ تھا۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ کسی کام کو صرف اس کی موجودہ صورت میں نہیں دیکھتے تھے؛ اس کے آئندہ امکانات بھی ان کے ذہن میں رہتے تھے۔ اسی وجہ سے امارتِ شرعیہ میں ان کی موجودگی محض ایک ذمہ دار افسر یا عالم کی موجودگی نہیں تھی۔ وہ ادارے کے اندر ایک فکری محرک کی حیثیت رکھتے تھے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کے تعلیمی نظریات کو سمجھنے کے لیے ان کے مختلف کاموں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ وہ نہ اس تصور کے قائل تھے کہ مسلمان بچے کو صرف عصری تعلیم دے دی جائے اور دینی شناخت کی فکر بعد میں کی جائے، اور نہ یہ سمجھتے تھے کہ ہر قسم کے عصری علوم کو مدارس کے نصاب میں بھر دینا ہی زمانے کا تقاضا ہے۔
ان کے نزدیک مسلمان بچے کے لیے بنیادی دینی تعلیم ناگزیر تھی۔ کلمہ، قرآن، نماز اور ضروریاتِ دین سے واقفیت اس کی بنیادی شناخت کا حصہ ہے۔ بچہ کسی بھی اسکول میں پڑھے، اس بنیاد سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ابتدائی عمر کی تعلیم کے سلسلے میں ماحول کی اہمیت کو بھی بہت محسوس کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کم سن بچہ صرف کتاب سے تعلیم حاصل نہیں کرتا، بلکہ ماحول، زبان، تہذیب، معاشرت اور روزمرہ کے رویوں سے بھی بہت کچھ قبول کرتا ہے۔ اس لیے ابتدائی تعلیم کے اداروں میں اسلامی ماحول اور بنیادی دینی تربیت کی موجودگی ان کے نزدیک غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔ اسی فکر کے تحت مکاتب کے قیام اور انہیں مضبوط اور خودکفیل بنانے کی کوشش کی گئی۔ امارتِ شرعیہ کے شعبۂ تعلیم کے ذریعے بڑی تعداد میں مکاتب کا قیام اسی فکری ضرورت کا نتیجہ تھا۔
لیکن یہاں بھی ان کی نظر صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ ان کے نزدیک جب بچے کی دینی بنیاد مضبوط ہوجائے تو اس کی صلاحیت اور رجحان کے مطابق اسے عصری علوم کی طرف بھی لے جانا چاہیے۔ وہ اس بات کو اہم سمجھتے تھے کہ مسلمان نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، ٹیکنیشن، ماہرِ معاشیات، وکیل اور دوسرے مفید شعبوں کے ماہر بنیں، لیکن دینی شناخت اور اخلاقی تربیت سے محروم ہوکر نہیں۔ اسی لیے فنی تعلیم کے مراکز کے قیام پر انہوں نے خاص توجہ دی۔ ان کے نزدیک محض ڈگری حاصل کرنا ہمیشہ روزگار یا خودکفالت کی ضمانت نہیں بنتا۔ ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتی ہے۔ امارتِ شرعیہ کے زیر اہتمام مختلف علاقوں میں ٹیکنیکل اداروں کے قیام کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی۔
یہاں ان کی فکر کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: تعلیم ان کے لیے محض ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی؛ وہ اسے فرد کی دینی، ذہنی، معاشی اور سماجی تشکیل کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
مدارس کے بارے میں ان کا موقف : عصری تعلیم کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے باوجود حضرت قاضی صاحبؒ مدارس اسلامیہ میں ہر قسم کے عصری علوم کو پوری طرح داخل کردینے کے قائل نہیں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر ادارے کی ایک بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مدرسے کا بنیادی کام علومِ قرآن، حدیث، فقہ، اصول، عربی اور دوسرے علومِ دینیہ کی حفاظت، تدریس اور تحقیق ہے۔ اگر مدرسے کو ہر علم کا مرکز بنانے کی کوشش کی جائے گی تو خطرہ ہے کہ اس کی اصل شناخت کمزور ہوجائے۔ یہاں بھی ان کی فکر میں توازن تھا۔ وہ ابتدائی ضرورت کے درجے میں انگریزی، ہندی اور حساب وغیرہ کی تعلیم کو مفید سمجھتے تھے، لیکن یہ نہیں چاہتے تھے کہ مدارس کی اصل علمی ترجیح تبدیل ہوجائے۔ ان کا ایک اہم فکری سوال یہ تھا کہ اگر میڈیکل کالج سے ہم انجینئر پیدا کرنے کی توقع نہیں رکھتے تو مدرسے سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ بیک وقت فقیہ، محدث، ڈاکٹر، انجینئر اور ہر عصری شعبے کا ماہر تیار کرے؟ ان کے نزدیک علوم کی تقسیم، تخصص اور ادارہ جاتی تخصیص علمی زندگی کی ضرورت ہے، کمزوری نہیں۔
یہی سوچ آگے چل کر تخصصات کے قیام کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
المعہد العالی اور تخصص کا تصور : حضرت قاضی صاحبؒ اس بات کو بہت اہم سمجھتے تھے کہ مدرسے سے فراغت کے بعد طالب علم کی علمی زندگی ختم نہ ہوجائے۔ کسی طالب علم میں افتاء کی صلاحیت ہے تو اسے افتاء کی باقاعدہ تربیت ملنی چاہیے، کسی میں قضاء کا ذوق اور استعداد ہے تو اسے قضاء کے عملی تقاضوں سے واقف کرایا جائے، کسی میں تحقیق کی صلاحیت ہے تو اسے تحقیق کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اسی فکر کا عملی اظہار المعہد العالی کے قیام میں ہوا، جہاں تدریبِ افتاء و قضاء کو منظم انداز میں آگے بڑھایا گیا۔ آج ہندوستان میں تخصص کے مختلف ادارے موجود ہیں اور اس میدان میں بہت کام ہورہا ہے، لیکن حضرت قاضی صاحبؒ کی یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انہوں نے اس ضرورت کو اس وقت محسوس کیا جب اس کی طرف عمومی توجہ ابھی اتنی نہیں تھی۔
ان کا ذہن ہمیشہ اگلے مرحلے کی طرف دیکھتا تھا۔
فقہ اور جدید دنیا : حضرت قاضی صاحبؒ کی علمی شخصیت کا شاید سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ وہ فقہ کو کتابوں کی الماری میں محفوظ رکھنے کے بجائے اسے زندگی کے نئے مسائل سے متعلق دیکھتے تھے۔ ان کا منہج یہ تھا کہ جدید مسئلہ سامنے آئے تو پہلے اس کی حقیقت معلوم کی جائے۔ متعلقہ شعبے کے ماہرین سے پوچھا جائے کہ مسئلہ فی الواقع ہے کیا، اس کے عملی پہلو کیا ہیں، اس کے اثرات کیا ہیں؛ پھر علماء اس کی شرعی حیثیت قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں متعین کریں۔ یہی فکر اسلامک فقہ اکیڈمی کے علمی منہج میں نظر آتی ہے۔
یہاں حضرت قاضی صاحبؒ کی شخصیت کا ایک بڑا وصف سامنے آتا ہے: وہ عصری ماہرین کو شریعت کا متبادل نہیں سمجھتے تھے، اور علماء کو جدید دنیا سے بے نیاز بھی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ دونوں کے درمیان علمی تعاون چاہتے تھے۔
یہ تصور آج کے زمانے میں شاید پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔
آخری ملاقات: پونے کی وہ شام : حضرت قاضی صاحبؒ کے انتقال سے تقریباً چند ماہ پہلے ان سے میری آخری تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ایک دن عبدالستار یوسف شیخ صاحب سیکرٹری مسلم پرسنل بورڈ نے مجھے فون پر بتایا کہ حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کا فون آیا ہے، آپ ان سے بات کیجیے۔ میں نے فون پر سلام کیا تو حضرت قاضی صاحبؒ نے فرمایا: "بیٹا! میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، لیکن دوستوں کے بہت اصرار پر میں پونے آرہا ہوں۔ لی میریڈیئن ہوٹل میں قیام رہے گا۔ تم ایک جوڑے کپڑے کے ساتھ وہاں آجاؤ تاکہ مجھے تسلی رہے۔ تم پونے سے قریب بمبئی میں ہو اور تمہارے علاوہ وہاں ہمارا کوئی دوسرا نہیں ہے۔"
ان کی آواز میں بیماری کی تھکن محسوس ہوتی تھی، مگر بات کرنے کا انداز وہی تھا۔ مجھے ان کے ساتھ جانے میں کسی تکلف کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ میں پونے پہنچا۔ حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری صاحب دامت برکاتہم بھی میرے ساتھ تشریف لے گئے۔
جب ہم حضرت قاضی صاحبؒ کے پاس پہنچے تو میں نے مولانا ازہری صاحب کا تعارف کرایا۔ حضرت قاضی صاحبؒ نے انہیں دیکھا اور فرمایا: "ابو ظفر! تم نے بہت دیر کردی۔"
بس یہ جملہ سننا تھا کہ حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری صاحب پر رقت طاری ہوگئی۔ انہوں نے سلام و مصافحہ کیا اور پھر زیادہ دیر حضرت قاضی صاحبؒ کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ واپس تشریف لے آئے۔
اس مختصر ملاقات میں جو کچھ تھا، اسے بیان کرنا آسان نہیں۔ بیماری اپنی شدت پر تھی، لیکن شخصیت کی وہ وقار بھری کیفیت اب بھی قائم تھی جس سے ہم انہیں برسوں سے دیکھتے آئے تھے۔
اسی دوران جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب، رکنِ پارلیمنٹ، حضرت قاضی صاحبؒ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے۔قاضی صاحبؒ کی بیماری اس وقت بہت بڑھ چکی تھی۔ جسمانی تکلیف اور بے چینی صاف محسوس ہورہی تھی۔ جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب کچھ دیر ان کے پاس بیٹھے رہے۔ پھر ان کی حالت دیکھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا:"اے اللہ! آپ کے علم میں ہے کہ ابراہیم کی عمر کتنی باقی ہے۔ ابراہیم کی جتنی عمر بھی باقی ہے، اس امت کے لیے اس کو قاضی مجاہد الاسلام صاحب کو دے دیجیے۔"یہ دعا میرے لیے زندگی کے ان مناظر میں سے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ذہن سے محو نہیں ہوتے۔
ایک طرف ایک ملک کا منتخب نمائندہ تھا اور دوسری طرف شدید بیمار ایک عالمِ دین۔ ان دونوں کے درمیان کوئی رسمی تعلق نہیں تھا جو اس دعا کی شدت کو سمجھا سکے۔ یہ دراصل اس اعتماد اور محبت کا اظہار تھا جو حضرت قاضی صاحبؒ نے اپنی زندگی میں مختلف طبقات کے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا تھا۔اس منظر کو دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ آدمی کے منصب ختم ہوجاتے ہیں، عہدے بدل جاتے ہیں، اداروں کے سربراہ آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن کسی عالم کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب لوگ اس کے لیے اپنے دل سے دعا کرتے ہیں۔
آل انڈیا ملی کونسل کی ایک یاد : آل انڈیا ملی کونسل کی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں بھی حضرت قاضی صاحبؒ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد اور اہداف مرتب کیے جارہے تھے۔ تمل ناڈو بیت الحجاج، بھنڈی بازار، ممبئی میں حضرت قاضی صاحبؒ نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ املا بھی کرایا تھا۔ یہ میرے لیے ایک معمولی واقعہ نہیں تھا۔ ایک طرف ان کی بے پناہ مصروفیات تھیں اور دوسری طرف وہ ایک ایسی تنظیم کی فکری بنیادیں مرتب کررہے تھے جس سے انہیں ملک کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ایک مؤثر کردار کی توقع تھی۔ ان کے انتقال سے غالباً چند ماہ قبل پونے کی ملاقات میں اس پورے سفر کی کئی یادیں ایک ساتھ ذہن میں آئیں۔ شاید اس لیے بھی کہ وہ ہماری آخری تفصیلی ملاقات تھی۔
ایک اور یاد: پونے کا اعزاز : ایک امریکی مسلم تنظیم نے حضرت قاضی صاحبؒ کو اعزاز سے سرفراز کرنے کے لیے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔ بیماری کی شدت کی وجہ سے ان کے لیے امریکہ کا سفر ممکن نہ ہوسکا۔ بعد میں یہی تقریب پونے میں منعقد ہوئی، جہاں ان کی پذیرائی کی گئی۔ اس موقع پر ان کی تقریر بھی سننے کا موقع ملا۔ تقریر کا مکمل متن آج میرے پاس محفوظ نہیں، لیکن اس کے الفاظ اور خصوصاً اس کا احساس آج بھی یاد ہے۔ ان کی گفتگو میں امت کے حالات کا درد تھا، مگر اس درد میں شور نہیں تھا۔ ان کے لہجے میں فکر تھی، جذبات تھے، لیکن جذبات فکر کے تابع تھے۔
شاید یہی ان کی شخصیت کا امتیاز تھا۔
وہ امت کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے محض متاثر نہیں ہوتے تھے؛ مسئلے کے اسباب تلاش کرتے اور پھر اس کے لیے عملی راستہ سوچتے تھے۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کی یاد میں آج ہمیں اسی اصول کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عصری دنیا کو سمجھا بھی اور علومِ شریعت کی گہرائی کو بھی محفوظ رکھا۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کی یاد میں آج ہمیں اسی اصول کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عصری دنیا کو سمجھا بھی اور علومِ شریعت کی گہرائی کو بھی محفوظ رکھا۔ آج امارتِ شرعیہ کو بھی اسی توازن، اسی علمی رسوخ اور اسی دینی بصیرت کی ضرورت ہے۔ یہ سوال کسی فرد کی تحقیر کے لیے نہیں، ادارے کی روح اور اس کے مستقبل کی حفاظت کے لیے ہے۔
قاضی صاحبؒ کو یاد رکھنے کا صحیح طریقہ،
حضرت قاضی صاحبؒ کے انتقال کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں ان کی شخصیت پر مضامین لکھے گئے، ان کی خدمات کا ذکر ہوا اور ان کے قائم کردہ بعض ادارے بھی اپنا کام کررہے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی فکر بھی اسی طرح آگے بڑھی؟
میرے خیال میں اس سوال کا جواب ہمیں خود تلاش کرنا ہوگا۔
حضرت قاضی صاحبؒ کا سب سے بڑا سرمایہ ان کے قائم کردہ اداروں سے بھی زیادہ ان کا وہ ذہنی منہج تھا جس میں ماضی کی علمی روایت، حال کے مسائل اور مستقبل کی ضرورتیں ایک ساتھ موجود تھیں۔
وہ جانتے تھے کہ ملت کو صرف علماء نہیں چاہییں، اچھے علماء بھی چاہییں اور متخصص علماء بھی۔
صرف اسکول نہیں چاہییں، ایسے تعلیمی ادارے چاہییں جہاں مسلمان بچہ اپنی دینی شناخت کے ساتھ جدید دنیا میں داخل ہوسکے۔
صرف ڈگریاں نہیں چاہییں، ہنر اور خودکفالت بھی چاہیے۔
صرف فقہی کتابوں کا مطالعہ نہیں چاہیے، جدید مسائل کی حقیقت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
اور صرف عصری ماہرین نہیں چاہییں، ان ماہرین کے ساتھ گفتگو کرنے والے گہرے فقہی شعور کے حامل علماء بھی چاہییں۔
یہ جامع فکر آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے ،
ایک راستہ جسے پھر پہچاننے کی ضرورت ہے
آج جب حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کی وہ گفتگو دوبارہ ذہن میں آتی ہے کہ راستے پر چلنا چھوڑ دیا جائے تو ایک وقت میں راستہ بھی اپنی شناخت کھودیتا ہے، تو اس بات کا مفہوم کچھ زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔
قوموں اور اداروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
کسی ادارے کی عمارت قائم رہ سکتی ہے، اس کا نام باقی رہ سکتا ہے، اس کے کاغذات محفوظ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر اس کی بنیادی فکر پر چلنے والے کم ہوجائیں تو رفتہ رفتہ راستہ اپنی شناخت کھونے لگتا ہے۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کا راستہ کوئی شخصی راستہ نہیں تھا۔ وہ شریعت سے جڑا ہوا راستہ تھا، فقہ سے وابستہ تھا، ادارہ سازی سے عبارت تھا، تعلیم اور تخصص کی فکر لیے ہوئے تھا، جدید دنیا کو سمجھنے اور اس کے سامنے اسلام کی علمی قوت پیش کرنے کا راستہ تھا۔
اس راستے کی ضرورت آج بھی ہے۔
شاید اسی لیے قاضی صاحبؒ کی یاد آج محض ماضی کی یاد نہیں بنتی۔ وہ ہمارے سامنے ایک سوال رکھتی ہے کہ ہم نے ان کے بعد کیا محفوظ کیا، کیا آگے بڑھایا اور کیا کھو دیا؟
یہ سچ ہے کہ ہم کسی گزرے ہوئے عہد کو واپس نہیں لاسکتے، لیکن اس عہد کی اچھی فکر کو آنے والے زمانے تک ضرور پہنچا سکتے ہیں۔
اور شاید کسی صاحبِ فکر عالم کے لیے اس سے بہتر خراجِ عقیدت کوئی نہیں کہ اس کی وفات کے بعد بھی اس کے افکار محض یاد نہ کیے جائیں، بلکہ ان سے نئی زندگی کے لیے رہنمائی لی جائے۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے ایک راستہ بنایا تھا۔
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس راستے کو پہچانیں، اس کی سمت کو سمجھیں اور جہاں کہیں وہ دھندلا گیا ہے، وہاں اسے دوبارہ نمایاں کرنے کی کوشش کریں۔
یہی ان کی یاد بھی ہے اور ان کے علمی ورثے کے ساتھ ہماری ذمہ داری بھی۔
حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ دوراندیش آدمی تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ قاضی مجاہد الاسلامؒ جیسی صلاحیت کو کسی ایک ادارے کے محدود دائرے میں نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے امارتِ شرعیہ کی وسیع تر ملی ذمہ داریوں میں استعمال ہونا چاہیے۔ چنانچہ حضرت قاضی صاحبؒ امارتِ شرعیہ تشریف لائے اور امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ کی سرپرستی میں اپنے عملی سفر کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا۔ یہاں انہیں اچھے رفقاء بھی میسر آئے۔ خصوصاً حضرت مولانا سید نظام الدینؒ کی رفاقت کا ذکر اس دور کے حوالے سے ناگزیر ہے۔ قاضی صاحبؒ کی طبیعت میں علمی غور و فکر، انتظامی صلاحیت اور نئے امکانات کو محسوس کرنے کی جو قوت تھی، اسے امارتِ شرعیہ کے وسیع میدان نے اپنے اظہار کا موقع دیا۔ حضرت مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ کے انتقال کے بعد یکے بعد دیگرے کئی امرائے شریعت آئے۔ قاضی صاحبؒ نے سب کے ساتھ نظم و اطاعت کے ساتھ کام کیا۔ یہ بات بھی ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ اپنی علمی حیثیت اور غیر معمولی ذہنی صلاحیت کے باوجود انہوں نے ادارے کے نظم کو اپنی ذات سے نیچے نہیں سمجھا۔ وہ امیرِ شریعت کے معاون، رفیق اور ادارے کے ذمہ دار کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔
البتہ وقت کے ساتھ یہ بات خود امارتِ شرعیہ کے مختلف ادوار کے لوگوں پر واضح ہوتی گئی کہ ادارے کی ترقی، اس کے نئے شعبوں کی تشکیل اور اس کی وسعت کے پیچھے حضرت قاضی صاحبؒ کی فکری قوت کا ایک نمایاں حصہ تھا۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ کسی کام کو صرف اس کی موجودہ صورت میں نہیں دیکھتے تھے؛ اس کے آئندہ امکانات بھی ان کے ذہن میں رہتے تھے۔ اسی وجہ سے امارتِ شرعیہ میں ان کی موجودگی محض ایک ذمہ دار افسر یا عالم کی موجودگی نہیں تھی۔ وہ ادارے کے اندر ایک فکری محرک کی حیثیت رکھتے تھے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کے تعلیمی نظریات کو سمجھنے کے لیے ان کے مختلف کاموں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ وہ نہ اس تصور کے قائل تھے کہ مسلمان بچے کو صرف عصری تعلیم دے دی جائے اور دینی شناخت کی فکر بعد میں کی جائے، اور نہ یہ سمجھتے تھے کہ ہر قسم کے عصری علوم کو مدارس کے نصاب میں بھر دینا ہی زمانے کا تقاضا ہے۔
ان کے نزدیک مسلمان بچے کے لیے بنیادی دینی تعلیم ناگزیر تھی۔ کلمہ، قرآن، نماز اور ضروریاتِ دین سے واقفیت اس کی بنیادی شناخت کا حصہ ہے۔ بچہ کسی بھی اسکول میں پڑھے، اس بنیاد سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ابتدائی عمر کی تعلیم کے سلسلے میں ماحول کی اہمیت کو بھی بہت محسوس کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کم سن بچہ صرف کتاب سے تعلیم حاصل نہیں کرتا، بلکہ ماحول، زبان، تہذیب، معاشرت اور روزمرہ کے رویوں سے بھی بہت کچھ قبول کرتا ہے۔ اس لیے ابتدائی تعلیم کے اداروں میں اسلامی ماحول اور بنیادی دینی تربیت کی موجودگی ان کے نزدیک غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔ اسی فکر کے تحت مکاتب کے قیام اور انہیں مضبوط اور خودکفیل بنانے کی کوشش کی گئی۔ امارتِ شرعیہ کے شعبۂ تعلیم کے ذریعے بڑی تعداد میں مکاتب کا قیام اسی فکری ضرورت کا نتیجہ تھا۔
لیکن یہاں بھی ان کی نظر صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ ان کے نزدیک جب بچے کی دینی بنیاد مضبوط ہوجائے تو اس کی صلاحیت اور رجحان کے مطابق اسے عصری علوم کی طرف بھی لے جانا چاہیے۔ وہ اس بات کو اہم سمجھتے تھے کہ مسلمان نوجوان ڈاکٹر، انجینئر، ٹیکنیشن، ماہرِ معاشیات، وکیل اور دوسرے مفید شعبوں کے ماہر بنیں، لیکن دینی شناخت اور اخلاقی تربیت سے محروم ہوکر نہیں۔ اسی لیے فنی تعلیم کے مراکز کے قیام پر انہوں نے خاص توجہ دی۔ ان کے نزدیک محض ڈگری حاصل کرنا ہمیشہ روزگار یا خودکفالت کی ضمانت نہیں بنتا۔ ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرتی ہے۔ امارتِ شرعیہ کے زیر اہتمام مختلف علاقوں میں ٹیکنیکل اداروں کے قیام کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی۔
یہاں ان کی فکر کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: تعلیم ان کے لیے محض ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی؛ وہ اسے فرد کی دینی، ذہنی، معاشی اور سماجی تشکیل کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
مدارس کے بارے میں ان کا موقف : عصری تعلیم کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے باوجود حضرت قاضی صاحبؒ مدارس اسلامیہ میں ہر قسم کے عصری علوم کو پوری طرح داخل کردینے کے قائل نہیں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر ادارے کی ایک بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مدرسے کا بنیادی کام علومِ قرآن، حدیث، فقہ، اصول، عربی اور دوسرے علومِ دینیہ کی حفاظت، تدریس اور تحقیق ہے۔ اگر مدرسے کو ہر علم کا مرکز بنانے کی کوشش کی جائے گی تو خطرہ ہے کہ اس کی اصل شناخت کمزور ہوجائے۔ یہاں بھی ان کی فکر میں توازن تھا۔ وہ ابتدائی ضرورت کے درجے میں انگریزی، ہندی اور حساب وغیرہ کی تعلیم کو مفید سمجھتے تھے، لیکن یہ نہیں چاہتے تھے کہ مدارس کی اصل علمی ترجیح تبدیل ہوجائے۔ ان کا ایک اہم فکری سوال یہ تھا کہ اگر میڈیکل کالج سے ہم انجینئر پیدا کرنے کی توقع نہیں رکھتے تو مدرسے سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ بیک وقت فقیہ، محدث، ڈاکٹر، انجینئر اور ہر عصری شعبے کا ماہر تیار کرے؟ ان کے نزدیک علوم کی تقسیم، تخصص اور ادارہ جاتی تخصیص علمی زندگی کی ضرورت ہے، کمزوری نہیں۔
یہی سوچ آگے چل کر تخصصات کے قیام کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
المعہد العالی اور تخصص کا تصور : حضرت قاضی صاحبؒ اس بات کو بہت اہم سمجھتے تھے کہ مدرسے سے فراغت کے بعد طالب علم کی علمی زندگی ختم نہ ہوجائے۔ کسی طالب علم میں افتاء کی صلاحیت ہے تو اسے افتاء کی باقاعدہ تربیت ملنی چاہیے، کسی میں قضاء کا ذوق اور استعداد ہے تو اسے قضاء کے عملی تقاضوں سے واقف کرایا جائے، کسی میں تحقیق کی صلاحیت ہے تو اسے تحقیق کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اسی فکر کا عملی اظہار المعہد العالی کے قیام میں ہوا، جہاں تدریبِ افتاء و قضاء کو منظم انداز میں آگے بڑھایا گیا۔ آج ہندوستان میں تخصص کے مختلف ادارے موجود ہیں اور اس میدان میں بہت کام ہورہا ہے، لیکن حضرت قاضی صاحبؒ کی یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ انہوں نے اس ضرورت کو اس وقت محسوس کیا جب اس کی طرف عمومی توجہ ابھی اتنی نہیں تھی۔
ان کا ذہن ہمیشہ اگلے مرحلے کی طرف دیکھتا تھا۔
فقہ اور جدید دنیا : حضرت قاضی صاحبؒ کی علمی شخصیت کا شاید سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ وہ فقہ کو کتابوں کی الماری میں محفوظ رکھنے کے بجائے اسے زندگی کے نئے مسائل سے متعلق دیکھتے تھے۔ ان کا منہج یہ تھا کہ جدید مسئلہ سامنے آئے تو پہلے اس کی حقیقت معلوم کی جائے۔ متعلقہ شعبے کے ماہرین سے پوچھا جائے کہ مسئلہ فی الواقع ہے کیا، اس کے عملی پہلو کیا ہیں، اس کے اثرات کیا ہیں؛ پھر علماء اس کی شرعی حیثیت قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں متعین کریں۔ یہی فکر اسلامک فقہ اکیڈمی کے علمی منہج میں نظر آتی ہے۔
یہاں حضرت قاضی صاحبؒ کی شخصیت کا ایک بڑا وصف سامنے آتا ہے: وہ عصری ماہرین کو شریعت کا متبادل نہیں سمجھتے تھے، اور علماء کو جدید دنیا سے بے نیاز بھی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ دونوں کے درمیان علمی تعاون چاہتے تھے۔
یہ تصور آج کے زمانے میں شاید پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔
آخری ملاقات: پونے کی وہ شام : حضرت قاضی صاحبؒ کے انتقال سے تقریباً چند ماہ پہلے ان سے میری آخری تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ایک دن عبدالستار یوسف شیخ صاحب سیکرٹری مسلم پرسنل بورڈ نے مجھے فون پر بتایا کہ حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کا فون آیا ہے، آپ ان سے بات کیجیے۔ میں نے فون پر سلام کیا تو حضرت قاضی صاحبؒ نے فرمایا: "بیٹا! میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، لیکن دوستوں کے بہت اصرار پر میں پونے آرہا ہوں۔ لی میریڈیئن ہوٹل میں قیام رہے گا۔ تم ایک جوڑے کپڑے کے ساتھ وہاں آجاؤ تاکہ مجھے تسلی رہے۔ تم پونے سے قریب بمبئی میں ہو اور تمہارے علاوہ وہاں ہمارا کوئی دوسرا نہیں ہے۔"
ان کی آواز میں بیماری کی تھکن محسوس ہوتی تھی، مگر بات کرنے کا انداز وہی تھا۔ مجھے ان کے ساتھ جانے میں کسی تکلف کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ میں پونے پہنچا۔ حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری صاحب دامت برکاتہم بھی میرے ساتھ تشریف لے گئے۔
جب ہم حضرت قاضی صاحبؒ کے پاس پہنچے تو میں نے مولانا ازہری صاحب کا تعارف کرایا۔ حضرت قاضی صاحبؒ نے انہیں دیکھا اور فرمایا: "ابو ظفر! تم نے بہت دیر کردی۔"
بس یہ جملہ سننا تھا کہ حضرت مولانا ابو ظفر حسان ندوی ازہری صاحب پر رقت طاری ہوگئی۔ انہوں نے سلام و مصافحہ کیا اور پھر زیادہ دیر حضرت قاضی صاحبؒ کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ واپس تشریف لے آئے۔
اس مختصر ملاقات میں جو کچھ تھا، اسے بیان کرنا آسان نہیں۔ بیماری اپنی شدت پر تھی، لیکن شخصیت کی وہ وقار بھری کیفیت اب بھی قائم تھی جس سے ہم انہیں برسوں سے دیکھتے آئے تھے۔
اسی دوران جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب، رکنِ پارلیمنٹ، حضرت قاضی صاحبؒ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے۔قاضی صاحبؒ کی بیماری اس وقت بہت بڑھ چکی تھی۔ جسمانی تکلیف اور بے چینی صاف محسوس ہورہی تھی۔ جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب کچھ دیر ان کے پاس بیٹھے رہے۔ پھر ان کی حالت دیکھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا:"اے اللہ! آپ کے علم میں ہے کہ ابراہیم کی عمر کتنی باقی ہے۔ ابراہیم کی جتنی عمر بھی باقی ہے، اس امت کے لیے اس کو قاضی مجاہد الاسلام صاحب کو دے دیجیے۔"یہ دعا میرے لیے زندگی کے ان مناظر میں سے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ذہن سے محو نہیں ہوتے۔
ایک طرف ایک ملک کا منتخب نمائندہ تھا اور دوسری طرف شدید بیمار ایک عالمِ دین۔ ان دونوں کے درمیان کوئی رسمی تعلق نہیں تھا جو اس دعا کی شدت کو سمجھا سکے۔ یہ دراصل اس اعتماد اور محبت کا اظہار تھا جو حضرت قاضی صاحبؒ نے اپنی زندگی میں مختلف طبقات کے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا تھا۔اس منظر کو دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ آدمی کے منصب ختم ہوجاتے ہیں، عہدے بدل جاتے ہیں، اداروں کے سربراہ آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن کسی عالم کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب لوگ اس کے لیے اپنے دل سے دعا کرتے ہیں۔
آل انڈیا ملی کونسل کی ایک یاد : آل انڈیا ملی کونسل کی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں بھی حضرت قاضی صاحبؒ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد اور اہداف مرتب کیے جارہے تھے۔ تمل ناڈو بیت الحجاج، بھنڈی بازار، ممبئی میں حضرت قاضی صاحبؒ نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ املا بھی کرایا تھا۔ یہ میرے لیے ایک معمولی واقعہ نہیں تھا۔ ایک طرف ان کی بے پناہ مصروفیات تھیں اور دوسری طرف وہ ایک ایسی تنظیم کی فکری بنیادیں مرتب کررہے تھے جس سے انہیں ملک کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ایک مؤثر کردار کی توقع تھی۔ ان کے انتقال سے غالباً چند ماہ قبل پونے کی ملاقات میں اس پورے سفر کی کئی یادیں ایک ساتھ ذہن میں آئیں۔ شاید اس لیے بھی کہ وہ ہماری آخری تفصیلی ملاقات تھی۔
ایک اور یاد: پونے کا اعزاز : ایک امریکی مسلم تنظیم نے حضرت قاضی صاحبؒ کو اعزاز سے سرفراز کرنے کے لیے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔ بیماری کی شدت کی وجہ سے ان کے لیے امریکہ کا سفر ممکن نہ ہوسکا۔ بعد میں یہی تقریب پونے میں منعقد ہوئی، جہاں ان کی پذیرائی کی گئی۔ اس موقع پر ان کی تقریر بھی سننے کا موقع ملا۔ تقریر کا مکمل متن آج میرے پاس محفوظ نہیں، لیکن اس کے الفاظ اور خصوصاً اس کا احساس آج بھی یاد ہے۔ ان کی گفتگو میں امت کے حالات کا درد تھا، مگر اس درد میں شور نہیں تھا۔ ان کے لہجے میں فکر تھی، جذبات تھے، لیکن جذبات فکر کے تابع تھے۔
شاید یہی ان کی شخصیت کا امتیاز تھا۔
وہ امت کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے محض متاثر نہیں ہوتے تھے؛ مسئلے کے اسباب تلاش کرتے اور پھر اس کے لیے عملی راستہ سوچتے تھے۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کی یاد میں آج ہمیں اسی اصول کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عصری دنیا کو سمجھا بھی اور علومِ شریعت کی گہرائی کو بھی محفوظ رکھا۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کی یاد میں آج ہمیں اسی اصول کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عصری دنیا کو سمجھا بھی اور علومِ شریعت کی گہرائی کو بھی محفوظ رکھا۔ آج امارتِ شرعیہ کو بھی اسی توازن، اسی علمی رسوخ اور اسی دینی بصیرت کی ضرورت ہے۔ یہ سوال کسی فرد کی تحقیر کے لیے نہیں، ادارے کی روح اور اس کے مستقبل کی حفاظت کے لیے ہے۔
قاضی صاحبؒ کو یاد رکھنے کا صحیح طریقہ،
حضرت قاضی صاحبؒ کے انتقال کو کئی سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں ان کی شخصیت پر مضامین لکھے گئے، ان کی خدمات کا ذکر ہوا اور ان کے قائم کردہ بعض ادارے بھی اپنا کام کررہے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کی فکر بھی اسی طرح آگے بڑھی؟
میرے خیال میں اس سوال کا جواب ہمیں خود تلاش کرنا ہوگا۔
حضرت قاضی صاحبؒ کا سب سے بڑا سرمایہ ان کے قائم کردہ اداروں سے بھی زیادہ ان کا وہ ذہنی منہج تھا جس میں ماضی کی علمی روایت، حال کے مسائل اور مستقبل کی ضرورتیں ایک ساتھ موجود تھیں۔
وہ جانتے تھے کہ ملت کو صرف علماء نہیں چاہییں، اچھے علماء بھی چاہییں اور متخصص علماء بھی۔
صرف اسکول نہیں چاہییں، ایسے تعلیمی ادارے چاہییں جہاں مسلمان بچہ اپنی دینی شناخت کے ساتھ جدید دنیا میں داخل ہوسکے۔
صرف ڈگریاں نہیں چاہییں، ہنر اور خودکفالت بھی چاہیے۔
صرف فقہی کتابوں کا مطالعہ نہیں چاہیے، جدید مسائل کی حقیقت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
اور صرف عصری ماہرین نہیں چاہییں، ان ماہرین کے ساتھ گفتگو کرنے والے گہرے فقہی شعور کے حامل علماء بھی چاہییں۔
یہ جامع فکر آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے ،
ایک راستہ جسے پھر پہچاننے کی ضرورت ہے
آج جب حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کی وہ گفتگو دوبارہ ذہن میں آتی ہے کہ راستے پر چلنا چھوڑ دیا جائے تو ایک وقت میں راستہ بھی اپنی شناخت کھودیتا ہے، تو اس بات کا مفہوم کچھ زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔
قوموں اور اداروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
کسی ادارے کی عمارت قائم رہ سکتی ہے، اس کا نام باقی رہ سکتا ہے، اس کے کاغذات محفوظ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر اس کی بنیادی فکر پر چلنے والے کم ہوجائیں تو رفتہ رفتہ راستہ اپنی شناخت کھونے لگتا ہے۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلامؒ کا راستہ کوئی شخصی راستہ نہیں تھا۔ وہ شریعت سے جڑا ہوا راستہ تھا، فقہ سے وابستہ تھا، ادارہ سازی سے عبارت تھا، تعلیم اور تخصص کی فکر لیے ہوئے تھا، جدید دنیا کو سمجھنے اور اس کے سامنے اسلام کی علمی قوت پیش کرنے کا راستہ تھا۔
اس راستے کی ضرورت آج بھی ہے۔
شاید اسی لیے قاضی صاحبؒ کی یاد آج محض ماضی کی یاد نہیں بنتی۔ وہ ہمارے سامنے ایک سوال رکھتی ہے کہ ہم نے ان کے بعد کیا محفوظ کیا، کیا آگے بڑھایا اور کیا کھو دیا؟
یہ سچ ہے کہ ہم کسی گزرے ہوئے عہد کو واپس نہیں لاسکتے، لیکن اس عہد کی اچھی فکر کو آنے والے زمانے تک ضرور پہنچا سکتے ہیں۔
اور شاید کسی صاحبِ فکر عالم کے لیے اس سے بہتر خراجِ عقیدت کوئی نہیں کہ اس کی وفات کے بعد بھی اس کے افکار محض یاد نہ کیے جائیں، بلکہ ان سے نئی زندگی کے لیے رہنمائی لی جائے۔
حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ نے ایک راستہ بنایا تھا۔
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس راستے کو پہچانیں، اس کی سمت کو سمجھیں اور جہاں کہیں وہ دھندلا گیا ہے، وہاں اسے دوبارہ نمایاں کرنے کی کوشش کریں۔
یہی ان کی یاد بھی ہے اور ان کے علمی ورثے کے ساتھ ہماری ذمہ داری بھی۔
از ،محمد شاہد ناصری حنفی،
ایڈیٹر ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی