لانچ کے چند لمحوں بعد کولمبیا اسپیس شٹل آسمان کی بلندیوں کو چیرتا ہوا خلا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ زمین پر موجود ہزاروں لوگ تالیاں بجا رہے تھے۔ کنٹرول روم میں بیٹھے انجینئرز اپنی اسکرینوں پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔
ہر چیز معمول کے مطابق دکھائی دے رہی تھی۔ کسی کے چہرے پر پریشانی کا کوئی نشان نہ تھا۔ مگر... لانچ کے صرف 81 سیکنڈ بعد... ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اُس وقت شاید ہی کسی نے خاص توجہ دی ہو۔ خلائی شٹل کے بیرونی فیول ٹینک پر لگی حفاظتی فوم انسولیشن کا ایک ٹکڑا اچانک الگ ہوا۔ یہ کوئی لوہے کا ٹکڑا نہیں تھا...
نہ ہی کوئی دھماکہ ہوا تھا۔ بظاہر تو یہ صرف جھاگ جیسا ہلکا پھلکا مادہ تھا۔ لیکن مسئلہ اس کے وزن کا نہیں... اس کی رفتار کا تھا۔ شٹل تقریباً 700 سے 900 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر جا رہا تھا۔ اسی رفتار کے باعث وہ ہلکا سا فوم کا ٹکڑا گولی کی مانند اڑتا ہوا کولمبیا کے بائیں بازو (Left Wing) سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بازو کے اگلے حصے پر نصب تھرمل پروٹیکشن سسٹم کو نقصان پہنچا۔ یہ نقصان باہر سے معمولی دکھائی دیتا تھا۔
کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اسی جگہ ایک ایسا زخم لگ چکا ہے جو واپسی کے وقت جان لیوا ثابت ہوگا۔ لانچ مکمل ہوا۔ کولمبیا کامیابی سے خلا میں پہنچ گیا۔ تمام نظام درست کام کر رہے تھے۔ خلانورد اپنے تجربات میں مصروف ہو گئے۔ مگر زمین پر موجود چند تجربہ کار انجینئروں کے ذہن میں ایک سوال مسلسل گردش کر رہا تھا۔ انہوں نے لانچ کی ویڈیو بار بار دیکھی۔ ہر زاویے سے اس لمحے کا جائزہ لیا۔ اور پھر انہیں شک ہوا... کہ شاید فوم کا وہ ٹکڑا معمولی نہیں تھا۔ انہوں نے فوراً اعلیٰ حکام سے درخواست کی: "ہمیں فوجی سیٹلائٹ یا طاقتور زمینی دوربینوں کی مدد سے کولمبیا کی تصویریں حاصل کرنی چاہئیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ بائیں بازو کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔" یہ ایک اہم تجویز تھی۔ اگر تصویریں مل جاتیں تو شاید نقصان کی صحیح نوعیت معلوم ہو جاتی۔ مگر... اعلیٰ سطح پر یہ درخواست منظور نہ ہو سکی۔ کچھ افسران کا خیال تھا کہ اگر نقصان ہوا بھی ہے تو اب خلا میں اس کی مرمت ممکن نہیں۔ اس لیے مزید تصویروں کی ضرورت نہیں۔ یہ فیصلہ اُس وقت معمول کا انتظامی فیصلہ محسوس ہوا... لیکن بعد میں یہی فیصلہ ناسا کی تاریخ کے سب سے متنازع فیصلوں میں شمار کیا گیا۔ ادھر کولمبیا کے اندر بیٹھے ساتوں خلا باز ان تمام بحثوں سے مکمل طور پر بے خبر تھے۔ وہ ہنس رہے تھے... کام کر رہے تھے... اپنے تجربات مکمل کر رہے تھے... اور زمین پر واپسی کے منصوبے بنا رہے تھے۔ انہیں کیا معلوم... کہ ان کے خلائی جہاز کے بائیں بازو میں ایک خاموش زخم چھپ چکا ہے... جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی منزل کو موت کے قریب لے جا رہا ہے۔ وہ سولہ دن... جو کامیابی کی علامت سمجھے جا رہے تھے .. .درحقیقت ایک ایسے المیے کی الٹی گنتی تھے... جس کا انجام پوری دنیا کو اشک بار کر دے گا۔ یکم فروری 2003 ، سولہ دن کی کامیاب خلائی تحقیق اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ کولمبیا اسپیس شٹل اب اپنے گھر... یعنی زمین کی طرف واپس آ رہا تھا۔ شٹل کے اندر ساتوں خلا باز مطمئن تھے۔ ان کے بیشتر سائنسی تجربات کامیابی سے مکمل ہو چکے تھے۔ ہزاروں صفحات پر مشتمل قیمتی سائنسی معلومات زمین پر بھیجی جا چکی تھیں۔ اب صرف ایک مرحلہ باقی تھا... بحفاظت لینڈنگ۔ زمین پر موجود ناسا کے انجینئر بھی اسی لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر چیز معمول کے مطابق محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن حقیقت... اس سے بالکل مختلف تھی۔ صبح 8 بج کر 44 منٹ... کولمبیا زمین کے ماحول میں داخل ہوا۔ عام حالات میں شٹل کے بیرونی حصے کا درجۂ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا، مگر اس کے مضبوط تھرمل پروٹیکشن سسٹم اسے محفوظ رکھتے تھے۔ مگر اس مرتبہ...
وہ حفاظتی ڈھال پہلے ہی زخمی ہو چکی تھی۔ لانچ کے صرف 81 سیکنڈ بعد لگنے والا معمولی سا زخم اب اپنا اصل روپ دکھانے والا تھا۔ جیسے ہی کولمبیا فضا کی گھنی تہوں میں داخل ہوا... انتہائی گرم پلازما اور آگ جیسی گیسیں شٹل کے بائیں بازو کے اندر داخل ہونے لگیں۔ آہستہ آہستہ...
اندرونی دھاتی ڈھانچہ پگھلنے لگا۔ پہلے ایک سینسر خاموش ہوا...پھر دوسرا.. پھر تیسرا... کنٹرول روم میں انجینئر حیران تھے۔ "لیفٹ وِنگ کے درجۂ حرارت کی ریڈنگ کیوں غائب ہو رہی ہے؟" کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ چند لمحوں بعد... ٹائر پریشر کی ریڈنگ بھی ختم ہو گئی۔ اب صورتحال معمول کی نہیں رہی تھی۔ ہیوسٹن سے فوراً رابطہ کیا گیا۔ "کولمبیا... ہمیں آپ کے بائیں لینڈنگ گیئر کی ریڈنگ نہیں مل رہی..." کمانڈر رِک ہسبینڈ نے جواب دینا شروع کیا۔ "راجر..." بس یہی ایک لفظ... اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموشی۔ یہی کولمبیا سے آنے والا آخری پیغام تھا۔ اُدھر ٹیکساس کے آسمان پر ایک عجیب منظر نمودار ہوا۔ لوگوں نے دیکھا... ایک نہایت روشن لکیر آسمان کو چیرتی ہوئی گزر رہی ہے۔ اچانک... وہ لکیر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر چار... پھر درجنوں... اور پھر سیکڑوں جلتے ہوئے ٹکڑوں میں بکھر گئی۔ پورا آسمان یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے آگ کی بارش ہو رہی ہو۔ کولمبیا اب ایک خلائی جہاز نہیں رہا تھا... وہ آگ کے بے شمار شعلوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کے ٹکڑے زمین کی طرف گر رہے تھے ٹیکساس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ملبہ میلوں تک پھیل گیا۔ ہیوسٹن کے کنٹرول روم میں سناٹا چھا گیا۔ ہر اسکرین خاموش تھی۔ ہر چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ کسی کو الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ سب جان چکے تھے... کہ ناسا نے اپنے سات بہادر سپاہیوں کو کھو دیا ہے۔ ان میں ایک نام... ڈاکٹر کلپنا چاولہ کا بھی تھا۔ وہ لڑکی... جس نے کرنال کی چھت پر لیٹ کر ستاروں کو دیکھا تھا...آج ہمیشہ کے لیے انہی ستاروں کا حصہ بن چکی تھی۔ لیکن...
کیا یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا؟ کیا ناسا کو پہلے ہی خطرے کا اندازہ تھا؟ اور اگر تھا... تو پھر اس پر فوری کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ یہ وہ سوال تھے جنہوں نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سات بہادر خلانوردوں کی موت نے ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا تھا جس کا جواب جاننا پوری انسانیت کا حق تھا۔ آخر یہ حادثہ کیوں پیش آیا؟ کیا یہ محض ایک بدقسمتی تھی؟ یا کہیں نہ کہیں انسانی غفلت بھی اس سانحے کی ذمہ دار تھی؟ حادثے کے فوراً بعد امریکی حکومت نے ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔
اس کا نام تھا: کولمبیا ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بورڈ (CAIB) اس بورڈ میں دنیا کے ماہر انجینئر، سائنس دان، فوجی افسران اور ہوا بازی کے ماہرین شامل تھے۔ ان کا صرف ایک مقصد تھا... حقیقت تک پہنچنا۔ تحقیقات کا آغاز ٹیکساس کے وسیع میدانوں سے ہوا۔ ہزاروں اہلکار، رضاکار اور ماہرین کئی ہفتوں تک ملبہ تلاش کرتے رہے۔ جنگلات...
کھیت... دریا... اور ویران علاقے... جہاں بھی کولمبیا کا کوئی ٹکڑا ملا، اسے انتہائی احتیاط سے جمع کیا گیا۔مہینوں کی محنت کے بعد خلائی جہاز کے ہزاروں ٹکڑوں کو ایک بڑے ہینگر میں جوڑا گیا۔ یہ ایسا تھا جیسے کسی ٹوٹی ہوئی تاریخ کو دوبارہ پڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
اسی دوران لانچ کی تمام ویڈیوز دوبارہ دیکھی گئیں۔ہائی اسپیڈ کیمروں کی مدد سے ہر فریم کا جائزہ لیا گیا۔ اور پھر... وہی منظر ایک بار پھر سامنے آیا۔ لانچ کے صرف 81 سیکنڈ بعد... فوم انسولیشن کا ایک ٹکڑا الگ ہوا... اور سیدھا کولمبیا کے بائیں بازو سے ٹکرا گیا۔ اب سائنس دانوں نے تجربات شروع کیے۔ انہوں نے اسی رفتار سے فوم کے ٹکڑے کو مصنوعی وِنگ پر مار کر دیکھا۔ نتیجہ حیران کن تھا۔ ہلکا دکھائی دینے والا وہ ٹکڑا... اتنی زیادہ رفتار پر میزائل کی طرح تباہ کن ثابت ہوا۔ اس نے بالکل ویسا ہی سوراخ پیدا کر دیا جیسا کولمبیا کے بائیں بازو میں موجود تھا۔ اب حقیقت تقریباً واضح ہو چکی تھی۔ لیکن تحقیقات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ تحقیقاتی بورڈ کو جلد معلوم ہوا کہ ناسا کے چند انجینئر لانچ کے بعد ہی اس نقصان کے بارے میں فکر مند ہو گئے تھے۔ انہوں نے بار بار درخواست کی تھی کہ طاقتور فوجی سیٹلائٹ یا زمینی دوربینوں سے کولمبیا کی تصویریں حاصل کی جائیں۔
اگر نقصان زیادہ ہوا ہو تو شاید کوئی متبادل منصوبہ بنایا جا سکے۔مگر...یہ درخواست منظور نہ ہو سکی۔اعلیٰ حکام کا خیال تھا کہ اس سے مشن کے نتائج تبدیل نہیں ہوں گے۔
یہی فیصلہ بعد میں شدید تنقید کا نشانہ بنا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں واضح الفاظ میں لکھا گیا کہ مسئلہ صرف ایک فوم کا ٹکڑا نہیں تھا... بلکہ فیصلہ سازی، ادارہ جاتی سوچ اور خطرات کو معمولی سمجھنے کی ثقافت بھی اس سانحے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ اگست 2003 میں تحقیقاتی رپورٹ جاری ہوئی۔ اس میں سفارش کی گئی کہ اگر آئندہ اسپیس شٹل پروگرام جاری رکھنا ہے تو اس کے حفاظتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ ہر لانچ کے بعد شٹل کا تفصیلی معائنہ لازمی قرار دیا گیا۔ مدار میں موجود شٹل کی تصویری جانچ کے نئے طریقے متعارف کرائے گئے۔ اور اگر کسی شٹل کو نقصان پہنچنے کا شبہ ہو تو اس کے لیے ہنگامی منصوبہ بھی تیار کیا جائے۔ کولمبیا تو واپس نہ آ سکا... لیکن اس کے بعد ہونے والی اصلاحات نے مستقبل کے کئی ممکنہ خطرات کو کم کر دیا۔ سات جانیں ضائع ہو گئیں... مگر ان کی قربانی نے آنے والے خلانوردوں کی حفاظت کے نئے معیار قائم کر دیے۔ مگر ایک سوال اب بھی باقی تھا... ان سات بہادروں کے آخری لمحوں میں آخر کیا ہوا؟ کیا انہیں اپنی قسمت کا اندازہ ہو گیا تھا؟ یا وہ آخری سانس تک یہ سمجھتے رہے کہ وہ معمول کے مطابق زمین پر اترنے والے ہیں؟ 2008 میں ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی، جس میں ان آخری لمحوں کی ممکنہ تصویر پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جب کولمبیا کا بایاں بازو شدید حرارت کی وجہ سے ٹوٹنے لگا تو خلائی جہاز تیزی سے اپنا توازن کھونے لگا۔ کاک پٹ کے اندر وارننگ الارم بجنے لگے۔ کمپیوٹر مسلسل خرابیوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ خلانورد اپنی تربیت کے مطابق صورتِ حال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر... یہ ایسی جنگ تھی جسے کوئی انسان نہیں جیت سکتا تھا۔ چند ہی لمحوں میں خلائی جہاز کا دباؤ (Cabin Pressure) ختم ہونے لگا۔
اس کے بعد سب کچھ انتہائی تیزی سے ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، حالات اس قدر اچانک بگڑے کہ عملے کو طویل تکلیف سہنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ پھر... کولمبیا ہزاروں ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ اور سات بہادر خلانورد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
اختتام...
Tags
واقعات و حوادث