ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں چند افراد، جو خود کو گورکشک بتاتے ہیں، گائے لے جانے والے کچھ لوگوں کو روک کر ان پر تشدد کرتے نظر آتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ابتدا میں حملہ آوروں کو شبہ تھا کہ متاثرہ افراد مسلمان ہیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہندو تاجر تھے اور مویشیوں کی قانونی تجارت سے وابستہ تھے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حقیقت سامنے آنے کے بعد حملہ آوروں کا رویہ بدل جاتا ہے اور وہ متاثرہ افراد کو نصیحت کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے کا اختیار صرف ریاستی اداروں کے پاس ہونا چاہیے، نہ کہ کسی غیر سرکاری گروہ کے پاس۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مویشیوں کی تجارت بھارت میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کرتے ہیں، اس لیے محض شبہے کی بنیاد پر تشدد کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں گورکشا کے نام پر تشدد کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی جائے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ واقعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات خود ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان حملوں کا نشانہ بنے، کیونکہ حملہ آوروں نے بغیر تصدیق کے انہیں مشتبہ سمجھ لیا۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جرم کی صورت میں کارروائی کا اختیار صرف پولیس اور عدالتی نظام کے پاس ہونا چاہیے، کسی فرد یا تنظیم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
Tags
احوال عالم