اندراکرشنامورتی مورتی کا بھارت چین امریکہ سے متعلق بیان ، کیا کہیں گے اندھ بھکت

امریکہ میں مقیم معروف کاروباری شخصیت اندرا کرشنا مورتی نے ایک انٹرویو میں بھارت، امریکہ اور چین کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔

اندرا کرشنا مورتی، جن کا تعلق بھارتی ریاست تمل ناڈو سے ہے، دنیا کی بڑی کاروباری شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسا ملک ہے جہاں ایک عام مہاجر بھی اپنی صلاحیت کے بل پر کسی بڑی کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ بھارت میں رہتیں تو شاید کبھی کسی بڑی کمپنی کی سی ای او نہ بن پاتیں، جبکہ امریکہ نے انہیں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے مواقع فراہم کیے۔

چین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں نظم و ضبط اور منصوبہ بندی نمایاں نظر آتی ہے، جبکہ بھارت میں کئی بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہروں میں ٹریفک، سڑکوں پر مویشیوں کی موجودگی اور بے ترتیبی پریشان کن ہو تی ہے، جبکہ چین میں شہری انتظام نسبتاً زیادہ منظم دکھائی دیتا ہے۔

اندرا کرشنا مورتی کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید بحث جاری ہے۔ بعض اندھ بھکت افراد نے اسے حقیقت پسندانہ تجزیہ قرار دیا ہے اس لیے کہ محترمہ کا مذہب اسلام نہیں ہے اگر محترمہ کا مذہب اسلام ہوتا تو نہ جانے اندھ بھکت اسے کن کن گالیوں سے نوازتے ، پھر بھی بعض منصف پسند افراد نے اسے بھارت کی شبیہ کو نقصان پہنچانے والا بیان قرار دیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی