آدھار کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ ووٹر شناختی کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ پین کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ راشن کارڈ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ اور اب پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں مانا جا رہا۔
پھر شہریت کا ثبوت کیا ہے؟
"ہندو ہونا!"
اگر آپ ہندو ہیں، خواہ آپ پاکستان، بنگلہ دیش یا افغانستان سے تعلق رکھتے ہوں، تو کہا جاتا ہے کہ آپ کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
لیکن اگر آپ مسلمان ہیں تو آدھار کارڈ، پین کارڈ، راشن کارڈ، ووٹر کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، آیوشمان کارڈ، خسرہ، کھتونی، رجسٹری، حتیٰ کہ پاسپورٹ بھی آپ کی شہریت ثابت نہیں کر سکتا۔
پھر شہریت کا فیصلہ کون کرے گا؟
فارنرز ٹریبونل۔
جس طرح کسی جائیداد کی ملکیت کا حتمی فیصلہ دیوانی عدالت کرتی ہے، اسی طرح یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی شہریت کا آخری فیصلہ فارنرز ٹریبونل کے پاس ہے۔ اس لیے صرف اس امید پر پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی دوڑ نہ لگائیں کہ وہ آپ کی شہریت ثابت کر دے گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گزشتہ ایک دو برسوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں پیدائشی سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر مسلمانوں کے تھے۔
سنگھ اور مرکزی حکومت کا اصل ہدف مسلمان ہیں۔
اس لیے اس مخالف فضا کے سامنے گھبراہٹ کا شکار ہونے کے بجائے صبر اختیار کیجیے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے، اور اپنے ایمان کے مطابق اپنے معاملات اسی کے سپرد کر دیجیے۔
نہ خود ڈریں اور نہ دوسروں کو ڈرائیں۔
جو دستاویزات آپ کے پاس موجود ہیں، وہ پیش کر دیں۔ قبول کرنا ہے تو کریں، نہ کرنا ہو تو نہ کریں۔ اگر ووٹر لسٹ سے نام خارج ہو جائے تو بھی حوصلہ نہ ہاریے۔ آپ کی حکومت تو نام کٹ جانے سے گرنے والی نہیں۔ اگر حراستی مراکز (Detention Centres) کا خوف ہے تو یاد رکھیے کہ اگر متاثر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں یا کروڑوں میں ہو تو ان سب کے لیے صرف حراستی مراکز ہی نہیں بلکہ پورے اضلاع اور ریاستیں بنانی پڑیں گی۔
نہ پاکستان آپ کو قبول کرے گا اور نہ بنگلہ دیش۔
لہٰذا اس خوف کو اپنے دل سے نکال دیجیے۔ سب سے بڑا خوف موت کا ہوتا ہے، اور موت تو ایک اٹل حقیقت ہے، جو ہر حال میں آنی ہے۔ پھر ڈر کیسا؟
"اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔" (سورۂ آل عمران: 139)
یاد رکھیے، اس وعدے کے ساتھ ایک شرط بھی وابستہ ہے:
"اگر تم مومن ہو۔"
لہٰذا اپنی ساری کوشش اسی شرط کو پورا کرنے میں صرف کیجیے۔ دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کو مغلوب نہیں کر سکتی جس کا ایمان زندہ ہو۔
Tags
احوال عالم