جب اندھ بھکتوں کو ان کے پاپا کا بلاواآیا ، کیا اندھ بھکت اپنے فادرلینڈ کو بچاسکیں گے

اسرائیل کے پرائم منسٹر بن جامن نیتنیاہو نے کہا کہ امریکہ کے بعد اگر کوئی ہمارا سب سے اچھا دوست ہے یا اگر امریکہ ہمارا ساتھ نہیں دیتا ہے امریکہ کو یہ لگتا ہے کہ میں ہی اسرائیل کو سپورٹ کرتا ہوں اور کوئی سپورٹ کرنے والا نہیں ہے تو یہ امریکہ کی غلط فہمی ہے ، بھارت سے اسرائیل کے اچھے رشتے ہیں اور بھارت نے ہمیشہ اسرائیل کا سپورٹ کیا ہے اس طرح کی باتیں سامنے آئی ہیں ، دراصل جب امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر ہو گئی اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گیا تو ایران نے بار بار کہا کہ اسرائیل کو لبنان پر حملہ بند کرنا ہوگا اس کے بعد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت ہو سکتی ہے چنانچہ امریکہ نے اسرائیل سے بارہا کہا کہ وہ لبنان پر حملہ بند کرے اور امریکہ کی بات چیت کو سپورٹ کرے لیکن اسرائیل کا لبنان پر حملہ جاری رہا اس کے بعد ٹرمپ نے کئی مرتبہ اسرائیل کے لیے سخت جملوں کا استعمال کیا امریکہ کے نائب صدر جے ڈیوینس نے بھی ایک مرتبہ اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا اسرائیل کے خلاف ہو چکی ہے دنیا بھر کے لیڈرز اسرائیل کے خلاف ہو چکے ہیں اور بنجامن نیتنیاہو کو پسند نہیں کرتے ہیں صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واحد ایسے شخص ہیں جو اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر اسرائیل کا یہی رویہ رہا تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی کھو دیں گے جے ڈیونس نے اسرائیل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے خلاف نہ جائے امریکہ کے ساتھ اپنا رشتہ اچھا رکھے ورنہ بنجامن نیتنیاہو کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کئی مرتبہ اسرائیل اور نیتنیاہو کے بارے میں کہا کہ میری وجہ سے بنجامن نیتنیاہو بچا ہوا ہے ورنہ وہ جیل جا چکا ہوتا ، کئی مرتبہ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ میری وجہ سے وہ پاور میں ہے اسرائیل کے خلاف بھی انہوں نے بیان دیا ، ایک انٹرویو کے دوران اسرائیل کے پرائم منسٹر بن جامن نیتنیاہو سے جے ڈیونس اور امریک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانوں کا حوالہ دے کر سوال پوچھا گیا کہ امریکہ نے اب اپ کو دھمکی دے دی ہے کہ اگر اب آپ امریکہ کی بات نہیں مانیں گے تو امریکہ آپ کا ساتھ نہیں دے گا اس کے جواب میں اسرائیل کے پرائم منسٹر بنجامن نیتنیاہو نے کہا کہ جے ڈی کی میں عزت کرتا ہوں ان کی بہت ساری بات مانتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان کی ہر ایک بات کو مان لوں بن جامن نیتنیاہو نے یہ بھی کہا کہ صرف امریکہ ہی ہمارا دوست نہیں ہے بلکہ امریکہ کے علاوہ بھی بہت سارے ممالک ہمارے دوست ہیں جیسے بھارت ہمارا دوست ہے انہوں نے آگے ایکسپلین کیا اور کہا 140 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں ہمیں بہت زیادہ حمایت حاصل ہے ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر ہمیں بھارت سے مسلسل حمایت کے میسجز آتے رہتے ہیں اس کے علاوہ بھی بہت سارے ممالک ہیں جن کے سربراہوں کا ہمارے پاس فون آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اوپینین آپ کے خلاف ہیں ہمارے یہاں کی عوام آپ کے ساتھ نہیں ہے لیکن ہم آپ سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ہمیں فوجی مدد آپ سے چاہیے ہمیں سائبر سیکورٹی میں آپ کا سپورٹ چاہیے ہمیں اے آئی میں آپ کی مدد چاہیے ، تو جو دکھتا ہے وہی رشتہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے ، بنجامن نیتنیاہو  کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ نے اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا تو اسرائیل کے پاس ایک کے بعد ایک الٹرنیٹو آپشن موجود ہے ، اور وہ بھارت ہے بھارت ایک بڑا ملک ہے 140 کروڑ کی وہاں آبادی ہے اور اسرائیل کے بارے میں یہ سچائی اور حقیقت ہے کہ اسرائیل تنہا کچھ بھی نہیں ہے اگر امریکہ اسرائیل کو سپورٹ کرنا بند کر دے تو سچائی یہ ہے کہ 24 گھنٹے میں نقشے سے اس کا وجود مٹ سکتا ہے فلسطینیوں کو ان کا وطن مل سکتا ہے  یہ بات اسرائیل کو بھی پتہ ہے دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی پتہ ہے اسی لیے اسرائیل ہمیشہ امریکہ کے ساتھ رشتہ بہتر بنا کر رکھتا ہے یورپی ممالک کی وہ حمایت حاصل کر کے رکھتا ہے یہ الگ بات ہے کہ سات اکتوبر کے بعد جس طرح اسرائیل نے غزہ پٹی میں  قتل عام کیا بے گناہوں کو مارا پورے شہر کو اس نے تباہ کر دیا پھر اس نے ایران پر حملہ شروع کر دیا تو دنیا کا جو نریٹیو ہے وہ اسرائیل کے خلاف ہو گیا اوپینین اسرائیل کے خلاف ہو گیا یورپی ممالک نے فلسطین کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تو اس وقت بن جامن نیتنیاہو نے ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ریکویسٹ کی ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون بوس ہے ، چوںکہ امریکہ کی ذلت و رسوائی ہو رہی ہے ایسے میں اسرائیل ایک الٹرنیٹو آپشن تلاش کر رہا ہے اور وہ الٹرنیٹو آپشن بھارت ہے ، بھارت پر پہلے سے الزام لگ رہا ہے کہ جب پوری دنیا نے اسرائیل کو نظر انداز کر دیا تھا بھارت کے پرائم منسٹر نے اسرائیل کا دورہ کیا جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن پہلے .... اور کہا جا رہا ہے کہ دورہ کرنے پر بھارت کے پرائم منسٹر کو مجبور کر دیا گیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ آج بھی بھارت پر سوال اٹھ رہا ہے کہ اسٹیٹ اف پرمز کا مسئلہ ہے بھارت کو سستا تیل ملنے کا معاملہ ہے ان سب کے باوجود بھارت کو ایران میں ایران کے سپریم لیڈر مرحوم آیت اللہ علی خامنئی کی نماز جنازہ کی تقریب میں شرکت کے لیے جس طرح کا ڈیلیگیشن بھیجنا چاہیے تھا اس طرح کا اعلی سطحی ڈیلیگیشن بھارت نے نہیں بھیجا بھارت نے اپنا ڈیلیگیشن ضرور بھیجا لیکن گمنام لوگوں کا ڈیلیگیشن ! جبکہ  بھارت کے وزیراعظم کو دعوت دی گئی تھی پھر بھی وہ نہیں گئے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان کا وزیراعظم وہاں پر چلا جاتا ہے بھارت کا وزیراعظم کیوں نہیں گیا پاکستان کا امریکہ سے اچھا رشتہ ہے پاکستان کی امریکہ تعریف کرتا ہے اور پاکستان نے اپنا معاملہ ایسا بنا رکھا ہے کہ وہ ایران بھی جا رہا ہے اس کے باوجود امر یکہ غصہ نہیں ہو رہا ہے لیکن بھارت کے وزیراعظم کیوں ایران نہیں گئے اخر کیوں کس وجہ سے تبصرہ کیا جا رہا ہے کہ کیا اسرائیل کے دباؤ میں نہیں گئے اور اب اسرائیل کے پرائم منسٹر کا بیان بہت کچھ کہ رہا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی