جولائی 2026 کی ڈیٹ کو عدلیہ کی تاریخ میں لکھا جائے گا کیونکہ عمر خالد اور شرجیل امام کے کیس میں عدالت نے صبح میں کچھ اور کہا اور پھر شام کو ہی عدالت کا اسٹینڈ بدل گیا دوسری خبریہ ہے کہ میانمار کے حالات دوبارہ خراب ہو گئے ہیں اور روہنگیا علاقوں میں آرمی نے بمباری شروع کر دی ہے اس کے علاوہ دلی میں کرائم کا سلسلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔ پاسپورٹ کو لے کر سابق ریٹائر جج نے جو بیان دیا ہے اس کی وجہ سے وزارت خارجہ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی بھی کرنی پڑ سکتی ہے ۔
خبریں تفصیل سے : دہلی میں ایک مسلمان لڑکی نے اپنے شوہر کا قتل کر دیا دہلی کے راشد مارکیٹ کے رہنے والے اس جوڑے کی کچھ ہی دنوں پہلے شادی ہوئی تھی مستقیم اور علیشہ ، مستقیم صرف انیس سال کا نوجوان لڑکا اور علیشہ 20 سال کے ہے ، مستقیم کو شک تھا اپنی بیوی پر کہ اس کی بیوی ناجائز چکرچلا رہی ہے ، مستقیم علی شاہ کو ڈانٹتا تھا علیشہ بے پرواہ ہو کر مستقیم کو سیریس نہیں لے رہی تھی پھر ایک رات ایسا ہوا کہ مستقیم کو علیشہ پر شک زیادہ ہو گیا تو اس نے علیشہ کا موبائل فون چھین لیا اور کہا کہ اپنا موبائل فون چیک کراؤ تم لگاتار دوسرے لڑکوں سے بات چیت کر رہی ہو تمہاری شادی ہو چکی ہے تم ہماری وائف ہو علیشہ کہتی رہی کہ تم ہمارا موبائل چیک نہیں کر سکتے مستقیم نے علیشہ کا موبائل فون چھین لیا علیشہ کو غصہ آگیا دونوں میں لڑائی ہونے لگی اور علیشہ مستقیم کے سینے پر چڑھ کر حاوی ہو جاتی ہے اور اس کے بعد علیشہ نے اپنے دوپٹہ کا استعمال کرتے ہوئے مستقیم کا گلا دبا کر اس کی جان لے لی
اس وقت مستقیم کی ماں بھی وہیں پر موجود تھی اور اس نے پوری کوشش کی اپنے بیٹا کو بچانے کی لیکن وہ اپنے بیٹے کو بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ، وہ اکیلی ایک طرف مستقیم کو بھی مار رہی تھی دوسری طرف وہ اس کی ماں کو بھی قریب آنے نہیں دے رہی تھی اس کو دھمکی دے رہی تھی پھر پورے معاملے کی خبر پولیس کو ملی اور پولیس نے علیشہ کو گرفتار کر لیا ہے اس پورے معاملے کی تفتیش اور انکوائری بھی جاری ہے ۔
دہلی سے ہی قتل کا ایک اور معاملہ ہے دہلی میں عثمان پوری کا علاقہ ہے جو نیو سلیم پور کے علاقے میں پڑتا ہے وہاں ڈی ڈی اے کے پارک میں ایک نوجوان لڑکے کا قتل ہو گیا 19 سال کا محمد توحید ڈی ڈی اے کے پارک میں گیا تھا اور ڈیڑھ گھنٹے کے بعد اس کی وہاں لاش ملتی ہے پولیس نے پورے معاملے کی انکوائری شروع کر دی ہے ابھی تک قاتل پکڑا نہیں گیا ہے پچھلے دو تین مہینے میں ڈی ٹی اے پارک میں قتل کا یہ تیسرا معاملہ ہے ۔
عمر خالد اور شرجیل امام : دلی کے ٹرائل کورٹ میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کے لیے پٹیشن دائر کی گئی تھی چار جولائی کو صبح صبح خبر سامنے آئی کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کے لیے جو پٹیشن دائر کی گئی ہے ٹرائل کورٹ نے اس پر شنوائی کر لی ہے ، امید یہ تھی کہ دونوں کو ضمانت مل جائے گی یہ بھی ممکن ہے کہ ضمانت نہ ملے لیکن جس طرح بحث ہوئی تھی تو وکیلوں کا اندازہ تھا کہ چھ جولائی کو عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت مل جائے گی ، لیکن اچانک چار جولائی کو ہی شام میں خبر سامنے آجاتی ہے کہ ان دونوں کو جو ضمانت ملنے والی تھی چھ جولائی کو جو فیصلہ سنایا جانا تھا وہ فیصلہ جج صاحب نے چار جولائی کو ہی شام میں سنا دیا اور کہا کہ ان دونوں کی ضمانت کی پٹیشن رد کی جاتی ہے ، ٹرائل کورٹ میں ان کی ضمانت کی پٹیشن پر شنوائی ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کو پٹیشن دینا سپریم کورٹ کے اختیار میں ہے ٹرائل کورٹ کے اختیار میں نہیں ہے یعنی ٹرائل کورٹ کا انداز لب و لہجہ سب کچھ شام کو بدل گیا اور ان کو ضمانت دینے سے انکار ہی نہیں بلکہ ضمانت کی پٹیشن کو ہی ناقابل سماعت بنا دیا ٹرائل کورٹ نے پولیس اور سرکاری وکیل کی طرف سے دلیل یہ دی گئی کہ پانچ جنوری 2026 کو شرجیل امام کی ضمانت کی پٹیشن سپریم کورٹ سے رد ہو چکی ہے اور اپریل 2026 میں عمر خالد کی ضمانت کی پٹیشن رد ہوئی ہے اور سپریم کورٹ نے کہہ رکھا ہے کہ اگلے ایک سال تک ضمانت کے لیے یہ پٹیشن نہیں دے سکتے اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے دوسری شرط یہ لگائی تھی کہ جب تک گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہو جاتے اس وقت تک ان کی ضمانت کے عرضی پر شنوائی نہیں ہو سکتی عمر خالد اور شرجیل امام کے جو گواہ ہیں اب تک ان کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے ہیں اور ایک سال بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں ۔ اس لیے ٹرائل کورٹ ان کی پٹیشن پر شنوائی ہی نہیں کر سکتا۔ اور سمیر باجپائی صاحب ٹرائل کورٹ کے جو جج تھے انہوں نے اس کو مان لیا اور ان کی پٹیشن کو ہی خارج کر دیا ۔
میانمار : میانمار کا جو روہنگیا کا علاقہ ہے لگاتار وہاں مسلمانوں پر حملہ کیا گیا لاکھوں میانمار کے روہنگیا مسلمان دنیا بھر میں ریفیوجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اب تازہ حملہ میانمار کے ایئر فورس نے رکھائن اسٹیٹ کے مونگ گاؤں میں شروع کر دیا ہے اسی طرح بوسی ٹاؤن کا جو علاقہ ہے میانمار کا وہاں بھی آرمی حملہ کر رہی ہے بچے کچے روہنگیا مسلمان ہیں ان کے گھر جل رہے ہیں ۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی فوج نے سرحد پر اپنی سیکورٹیوں کو بڑھا دیا ہے کہ میانمار سے کوئی یہاں بنگلہ دیش بھاگ کر واپس نہ آجائے کیونکہ جب بھی میانمار میں جینوسائیڈ ہوتا ہے سب بھاگ کر بنگلہ دیش آجاتے ہیں ۔ ایشیاء نیوز نیٹورک کے مطابق روہنگیا میں ایک گروپ جس کو شدت پسندوں کا گروپ کہا جاتا ہے اس کا نام اے ار ایس اے ہے اس نے آرمی پر حملہ کیا ARSA اور آرمی کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں ارمی کے بھی کچھ نوجوان مارے گئے اس کے بعد آرمی نے روہنگیا مسلمانوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا کہ یہ اس باغی گروپ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
پاسپورٹ ایشوز : پچھلے دنوں منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز نے ایک فیصلہ سنایا تھا کہ پاسپورٹ صرف ٹراویل ڈاکیومنٹ ہے سٹیزن شپ کا ویلڈ پروف نہیں ہے اس بیان کے بعد دیش بھر میں ہنگامہ ہوا لوگوں نے اپنا ری ایکشن دیا اب ایک ریٹائرڈ جج نے وزارت خارجہ کے اس فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ وزارت خارجہ نے اس طرح کا بیان دے کر شدید غلطی کی ہے پاسپورٹ پوری دنیا میں ایک بھارتی شہری کے لیے اس کے شہری ہونے کا ثبوت مانا جاتا ہے ، وزارت خارجہ کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے ۔