امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا کا عظیم الشان کولمبیا اسپیس شٹل اپنے سولہ روزہ کامیاب مشن کے بعد زمین کی طرف واپس لوٹ رہا تھا۔ خلا کی بے کراں وسعتوں میں اپنے فرائض انجام دینے والے سات نڈر خلا باز اب اپنے گھروں، اپنے خاندانوں اور اپنی محبتوں کی طرف پلٹ رہے تھے۔ان سات مسافروں میں ایک ایسا نام بھی تھا جس پر پورے ہندوستان کو ناز تھا...ڈاکٹر کلپنا چاولہ۔ہریانہ کے ایک چھوٹے سے شہر کرنال سے نکلنے والی وہ باہمت بیٹی جس نے اپنے خوابوں کو زمین کی حدود میں قید ہونے نہیں دیا، بلکہ انہیں ستاروں کی وسعتوں تک پہنچا دیا تھا۔گھر والوں کی نظریں بار بار گھڑی پر جا ٹھہرتیں۔ دوست خوشی سے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے۔ صحافی اس تاریخی لمحے کو محفوظ کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ اور ناسا...؟ ناسا کے لیے یہ سب کچھ تقریباً معمول کا حصہ تھا۔ آخر یہ کولمبیا اسپیس شٹل کی اٹھائیسویں کامیاب پرواز تھی۔ اس سے پہلے یہ خلائی جہاز درجنوں بار خلا میں جا کر بحفاظت واپس آ چکا تھا۔ کسی کو ذرہ برابر بھی احساس نہ تھا کہ چند ہی لمحوں بعد تاریخ کا ایک ایسا سانحہ جنم لینے والا ہے جو پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دے گا۔صبح 8 بج کر 44 منٹ...کولمبیا زمین کے ماحول میں داخل ہو چکا تھا۔
تمام کمپیوٹر معمول کے مطابق کام کر رہے تھے۔ رفتار، سمت، درجۂ حرارت...ہر چیز معمول کے مطابق دکھائی دے رہی تھی۔ہیوسٹن...امریکہ کا وہ کنٹرول روم جہاں سے ہر خلائی مشن کی ایک ایک سانس پر نظر رکھی جاتی تھی۔ بڑی بڑی اسکرینوں پر کولمبیا اسپیس شٹل کی رفتار، بلندی، درجۂ حرارت اور سمت لمحہ بہ لمحہ ظاہر ہو رہی تھی۔ ہر افسر اپنی نشست پر مطمئن بیٹھا تھا۔آخر یہ ایک معمول کی واپسی تھی... یا کم از کم سب یہی سمجھ رہے تھے۔ اچانک کیپسول کمیونیکیٹر چارلی ہوباؤ کی آواز گونجی۔"کولمبیا... ہمیں بائیں لینڈنگ گیئر کے ٹائر پریشر کی ریڈنگز موصول نہیں ہو رہیں..."چند لمحے بعد شٹل کے کمانڈر رِک ہسبینڈ کی آواز سنائی دی۔ "راجر..." بس یہی ایک لفظ...اور پھر...خاموشی۔ چارلی نے دوبارہ آواز لگائی۔
"کولمبیا... ہیوسٹن کالنگ..." کوئی جواب نہیں۔ چند سیکنڈ گزرے... پھر ایک منٹ... پھر دو...اب کنٹرول روم کی فضا بدلنے لگی۔ کسی نے کہا شاید ریڈیو سگنل عارضی طور پر منقطع ہوا ہے۔ دوسرے انجینئر نے متبادل فریکوئنسی آزمائی۔ تیسرے نے بیک اپ سسٹم فعال کیا۔ مگر خلا کی وسعتوں سے اب کوئی آواز واپس نہیں آ رہی تھی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ ادھر ہزاروں کلومیٹر دور امریکی ریاست ٹیکساس کے لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھے۔ اچانک... آسمان پر ایک نہایت روشن لکیر نمودار ہوئی۔ لوگوں نے پہلے اسے ٹوٹتا ہوا ستارہ سمجھا۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ روشن لکیر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ پھر چار... پھر آٹھ... اور پھر سیکڑوں دہکتے ہوئے ٹکڑوں میں بکھر گئی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا آسمان آگ کے انگاروں کی بارش کر رہا ہو۔ کسی نے موبائل نکالا۔ کسی نے کیمرہ آن کر دیا۔ اور چند ہی لمحوں میں وہ مناظر پوری دنیا کے ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر ہونے لگے۔ ہیوسٹن کے کنٹرول روم میں اچانک ایک فون بجا ۔دوسری طرف سے گھبرائی ہوئی آواز آئی۔ "فوراً ٹیلی ویژن آن کریں..." جیسے ہی اسکرین پر خبریں چلیں، ناسا کے سائنس دانوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔ آسمان میں بکھرتی ہوئی وہ روشن لکیر دراصل... کولمبیا اسپیس شٹل تھی۔
وہی خلائی جہاز جس کے اندر سات انسان موجود تھے۔
وہی سات خواب...وہی سات زندگیاں... جو چند لمحے پہلے تک زمین پر واپس آنے کی امید لیے بیٹھے تھے۔ اب پورا کنٹرول روم سناٹے میں ڈوب چکا تھا۔ کوئی کچھ بول نہیں رہا تھا۔ ہر شخص جان چکا تھا... کہ شاید اب واپسی ممکن نہیں۔ لیکن ایک سوال اب بھی سب کے ذہن میں گونج رہا تھا...آخر چند لمحے پہلے تک بالکل درست کام کرنے والا کولمبیا اچانک تباہ کیسے ہو گیا؟ کیا یہ کسی خلا باز کی غلطی تھی؟ کیا کوئی تکنیکی خرابی اچانک پیدا ہوئی؟
یا اس سانحے کی بنیاد سولہ دن پہلے ہی رکھی جا چکی تھی؟ کولمبیا اسپیس شٹل کے حادثے کی خبر نے پوری دنیا کو سوگ میں ڈبو دیا۔ ہر طرف ایک ہی نام گونج رہا تھا...
ڈاکٹر کلپنا چاولہ۔ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ آخر وہ کون سی بیٹی تھی جس نے ہزاروں میل دور خلا میں جا کر ہندوستان کا پرچم بلند کیا؟ اس سوال کا جواب ہمیں لے جاتا ہے کئی برس پیچھے...ہریانہ کے تاریخی شہر کرنال کی ایک سادہ سی گلی میں۔ 17 مارچ 1962 کو ایک متوسط مگر محنتی خاندان میں ایک ننھی سی بچی نے آنکھ کھولی۔ کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا کہ یہی بچی ایک دن زمین کی سرحدوں سے آگے نکل جائے گی۔ اس کا نام بھی ابتدا میں طے نہیں تھا۔ گھر والے پیار سے مختلف ناموں سے پکارتے تھے۔ جب اسکول میں داخلے کا وقت آیا تو نام پوچھا گیا۔ کہتے ہیں، اسی موقع پر اس بچی نے خود اپنے لیے ایک نام پسند کیا... "کلپنا" یعنی... تخیل، تصور، خواب۔
شاید قدرت نے اسی لمحے اس کی پوری زندگی کا عنوان لکھ دیا تھا۔ کلپنا دوسرے بچوں کی طرح گڑیوں سے کھیلنے والی بچی نہیں تھی۔ اس کی نظریں ہمیشہ آسمان پر رہتی تھیں۔ جب بھی کوئی جہاز کرنال کے اوپر سے گزرتا، وہ دیر تک اسے دیکھتی رہتی۔ وہ سوچتی... "آخر انسان ان بادلوں کے اوپر کی دنیا میں کیسے جاتا ہوگا؟"
اس کے سوال ختم ہی نہیں ہوتے تھے۔ رات کو چھت پر لیٹ کر ستاروں کو گھنٹوں تک تکتا رہنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ وہ اکثر اپنی بہن سے کہتی... "ایک دن میں بھی ان ستاروں کے درمیان جاؤں گی۔" لوگ مسکرا دیتے۔ کچھ کہتے..."یہ صرف بچوں کی باتیں ہیں۔" لیکن کلپنا کے دل میں یہ محض ایک خواہش نہیں... ایک عہد تھا۔ وقت گزرتا گیا۔اس نے پڑھائی میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی۔ریاضی اور سائنس اس کے پسندیدہ مضامین بن گئے۔ لیکن معاشرے کی سوچ اب بھی وہی تھی۔رشتہ دار کہتے...
"لڑکیوں کے لیے ڈاکٹر یا ٹیچر بن جانا ہی کافی ہے۔" کچھ لوگ مشورہ دیتے... "ہوائی جہاز اور خلا کی باتیں چھوڑ دو، یہ لڑکیوں کا میدان نہیں۔" مگر کلپنا نے کسی کی بات دل پر نہ لی۔ وہ جانتی تھی کہ خواب دیکھنے والوں کے راستے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔ اس نے پنجاب انجینئرنگ کالج میں ایروناٹیکل انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ یہ اس زمانے میں ایک غیر معمولی فیصلہ تھا، کیونکہ اس شعبے میں لڑکیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ کلاس روم میں اکثر وہ چند طالبات میں سے ایک ہوتی۔ لیکن اس نے کبھی خود کو کمزور محسوس نہیں کیا۔ ہر امتحان... ہر تجربہ... اور ہر مشکل اس کے عزم کو مزید مضبوط کرتی گئی۔ اس کے دل میں اب صرف ایک ہی منزل تھی... آسمان نہیں... بلکہ آسمان سے بھی آگے۔ مگر اسے ابھی ایک اور بڑی آزمائش کا سامنا کرنا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جائے گی۔ یہ سن کر گھر میں خاموشی چھا گئی۔
والد پریشان تھے۔ رشتہ دار حیران تھے۔ اور بہت سے لوگوں نے صاف کہہ دیا... "اتنی دور ایک لڑکی کو اکیلے بھیجنا مناسب نہیں۔" لیکن بعض اوقات تاریخ انہی لوگوں کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے...جو دوسروں کے خوف کے بجائے اپنے خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔ کلپنا نے اپنا فیصلہ بدلنے سے انکار کر دیا۔ یہ فیصلہ اس کی زندگی کا رخ بدلنے والا تھا...اور شاید پوری دنیا کی تاریخ کا بھی۔
قسط دوم کے لیے انتظار کریں.....
Tags
واقعات و حوادث