قسط نمبر اکیس ، ملک شام ، صرف پانچ منٹ
لیکن بے نتیجہ۔ جب ہم نے دوبارہ وہی سوال دہرایا تو ایک اہل کار آکر کہنے لگا: خلاص..... کوئی رہائی…
مزید پڑھیںلیکن بے نتیجہ۔ جب ہم نے دوبارہ وہی سوال دہرایا تو ایک اہل کار آکر کہنے لگا: خلاص..... کوئی رہائی…
مزید پڑھیںاور تشدد کے بھی کچھ ایسے تکلیف دہ مناظر تھے جن کو بھلانا ناممکن نہ تھا، خاص طور پر ان نوجوانوں …
مزید پڑھیںنگہداشت کے لیے اٹھ کھڑی ہوتیں۔ وہ اس کے نیلے پیروں کو نیم گرم پانی سے دھوتیں، اس کے …
مزید پڑھیںنجانے کیوں، ماجدہ نے گلاب کے پھول جیسے ٹاپس پہن رکھے تھے، ان میں ایک سرخ نگینہ جڑا تھا۔ ہالہ اسے…
مزید پڑھیںاہلِ کاروں کے علاج پر مامور تھا، وہ اس کے معائنے کے بعد کہنے لگا: "اسے کچھ نہی…
مزید پڑھیںہم سب کے منہ حیرت سے کھل گئے: استغفر اللہ۔ لیکن ام شیما نے اٹھ کر ریڈیو بند کر دیا ،…
مزید پڑھیںان دونوں نے آپس میں یہی طے کیا تھا کہ اگر کوئی پوچھے تو اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ می…
مزید پڑھیںاور التماس کے باوجود اس کا رویہ تبدیل نہ ہوا اور جس دن میرے گھر والوں کو شہید کیا گی…
مزید پڑھیںجو رقم عمان سے لائی تھیں اس کا کچھ حصہ منتہی کو بھی دیا گیا تھا۔ جب تعذیب نا قابل بر…
مزید پڑھیںامی نے سکون سے جواب دیا یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ کم از کم ہر ایک کو سانس لینے کی جگہ تو م…
مزید پڑھیںاس پر انتظامیہ نے اس سوراخ کو سیمنٹ لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا لیکن جب سب سو جاتے…
مزید پڑھیںسامنے لکڑی کے تختے دھرے تھے۔ نہ اس میں سے ہوا کا گزر ہو سکتا تھا اور نہ روشنی کی شعا…
مزید پڑھیںلیکن انھوں نے غصے سے نظر اٹھائے بغیر کہا نہیں ، بولا : مجھے حیرت ہے۔ اب کیا چاہتی ہ…
مزید پڑھیںلانچ کے چند لمحوں بعد کولمبیا اسپیس شٹل آسمان کی بلندیوں کو چیرتا ہوا خلا کی طرف بڑھ…
مزید پڑھیں