اس طالبِ علم کے والد راجستھان کے شہر سیکر میں ایک PG ہاسٹل چلاتے تھے۔ جس رات انہیں یہ واٹس ایپ پیغام ملا، اس رات انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ لیکن اگلی صبح انہوں نے یہ سوالات ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ میں تقسیم کر دیے۔ امتحان ختم ہونے کے بعد وہ یہی سوالات لے کر قریبی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ایک استاد کے پاس گئے اور پوچھا کہ ان میں سے کتنے سوالات واقعی امتحان میں آئے تھے۔ جو جواب انہیں ملا، اس پر یقین کرنا آسان نہیں تھا۔
بایولوجی کے 90 فیصد میں سے پورے 90 فیصد سوالات امتحان سے مکمل طور پر مل رہے تھے۔ کیمسٹری کے بھی 45 فیصد میں سے تمام 45 فیصد سوالات حرف بہ حرف ایک جیسے تھے۔ نہ صرف سوالات بلکہ ان کی ترتیب بھی بالکل وہی تھی، ایک مسلسل سلسلے میں۔ یہاں تک کہ ایک کاما یا فل اسٹاپ تک اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔ یعنی مجموعی طور پر 180 میں سے 135 سوالات ایسے تھے جو NEET کے اصل امتحانی پرچے میں آئے، اور وہ سب اس مبینہ طور پر لیک ہونے والی فائل میں پہلے سے موجود تھے۔ جو لوگ اس امتحان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، انہیں بتا دوں کہ NEET کوئی معمولی امتحان نہیں، بلکہ بھارت کے اہم ترین طبی داخلہ امتحانات میں سے ایک ہے تھا ۔ جو 22 لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ پورے بھارت کا میڈیکل داخلہ امتحان ہے، جس میں کامیاب ہو نے کے بعد طلبہ ڈاکٹر بنتے ہیں۔ وہی ڈاکٹر، جن کے ہاتھوں میں لوگ اپنی زندگیاں سونپتے ہیں۔ لیکن افسوس، اس امتحان کا پرچہ پہلے ہی مبینہ طور پر لیک ہو چکا تھا۔ اسی وجہ سے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کو NEET کا امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ اس مبینہ پیپر لیک کے پیچھے ایک ایسا شخص بتایا جاتا ہے، جس کی تصاویر بی جے پی کے رہنماؤں اور راجستھان کے وزیرِ تعلیم کے ساتھ سامنے آئیں۔ ایک ایسا شخص، جس کے خاندان کے چار بچوں نے گزشتہ سال NEET کا امتحان کامیاب کیا تھا۔ اور ایک ایسا فرد، جسے امتحان سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہی معلوم تھا کہ یہ پرچہ لیک ہونے والا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک طالبِ علم پر کیا گزرتی ہوگی۔ کسی نے دن رات محنت کرکے پورا سال صرف اسی ایک امتحان کی تیاری میں گزار دیا۔ امتحان دینے کے بعد اس نے سوچا ہوگا کہ آخرکار یہ مرحلہ ختم ہوا، اب کچھ سکون ملے گا، تھوڑی چھٹیاں مناؤں گا۔
لیکن عین چھٹیوں کے دوران خبر ملے کہ اب دوبارہ امتحان ہوگا، اور مزید دو ماہ کی تیاری کرنی پڑے گی۔ ذرا سوچیں، اس وقت آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟ بہت سے طلبہ کے ساتھ بالکل یہی ہوا۔ بعض طلبہ نے تو اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے قرض تک لے رکھا تھا، اور کئی کے پاس دوبارہ تیاری کے لیے مناسب تعلیمی وسائل بھی موجود نہیں تھے۔ ایسی خبریں سن کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ اسی لیے یہ ایک بہت اہم، مگر نہایت سادہ سوال ہے کہ آخر ایسے واقعات کو روکا کیسے جائے؟