قسط نمبر اٹھارہ ، ملک شام کی جیل کی سلاخوں میں ، صرف پانچ منٹ ، ہبہ الدباغ
نجانے کیوں، ماجدہ نے گلاب کے پھول جیسے ٹاپس پہن رکھے تھے، ان میں ایک سرخ نگینہ جڑا تھا۔ ہالہ اسے…
مزید پڑھیںنجانے کیوں، ماجدہ نے گلاب کے پھول جیسے ٹاپس پہن رکھے تھے، ان میں ایک سرخ نگینہ جڑا تھا۔ ہالہ اسے…
مزید پڑھیںاہلِ کاروں کے علاج پر مامور تھا، وہ اس کے معائنے کے بعد کہنے لگا: "اسے کچھ نہی…
مزید پڑھیںہم سب کے منہ حیرت سے کھل گئے: استغفر اللہ۔ لیکن ام شیما نے اٹھ کر ریڈیو بند کر دیا ،…
مزید پڑھیںان دونوں نے آپس میں یہی طے کیا تھا کہ اگر کوئی پوچھے تو اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ می…
مزید پڑھیںاور التماس کے باوجود اس کا رویہ تبدیل نہ ہوا اور جس دن میرے گھر والوں کو شہید کیا گی…
مزید پڑھیںجو رقم عمان سے لائی تھیں اس کا کچھ حصہ منتہی کو بھی دیا گیا تھا۔ جب تعذیب نا قابل بر…
مزید پڑھیںامی نے سکون سے جواب دیا یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ کم از کم ہر ایک کو سانس لینے کی جگہ تو م…
مزید پڑھیںاس پر انتظامیہ نے اس سوراخ کو سیمنٹ لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا لیکن جب سب سو جاتے…
مزید پڑھیںسامنے لکڑی کے تختے دھرے تھے۔ نہ اس میں سے ہوا کا گزر ہو سکتا تھا اور نہ روشنی کی شعا…
مزید پڑھیںلیکن انھوں نے غصے سے نظر اٹھائے بغیر کہا نہیں ، بولا : مجھے حیرت ہے۔ اب کیا چاہتی ہ…
مزید پڑھیںتھے جن کا بیٹا بھی حکومت سے چھپتا چھپا تا صفوان بھائی کی طرح عمان چلا گیا تھا۔ امی ن…
مزید پڑھیںآنے لگیں ۔ ساتھ ہی قیدیوں کی چیچنیں ۔ زمینوں اور راستوں پر ہانکنے اور بھاگنے کی آواز…
مزید پڑھیںہم سیل کے پاس پہنچے تو حسین وہیں کھڑا تھا۔ یہ وہی اہل کار تھا جو اس نوجوان کو تعذیب …
مزید پڑھیںپہلے سے بھی بڑھ کر تھا حتی کہ مجھے یہ بھی خبر نہ رہی کہ کتنے لوگ مجھ پر تشدد کر رہے …
مزید پڑھیںایک ہی جملہ بازگشت کی طرح وہراتا رہا:تم اخوان سے ہو اور سب تمھارے بارے میں اعتراف کر…
مزید پڑھیں