بھارت کی معیشت: ترقی کے دعوے اور زمینی حقیقت

گزشتہ چند برسوں سے حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارت دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے، لیکن زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ، حقیقی آمدنی میں کمی، مہنگائی، بڑھتا ہوا قرض، گرتی ہوئی کرنسی، سرمایہ کاروں کا انخلا اور صنعتی بحران جیسے عوامل اس دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال کو گجرات کے شہر سورت کے رہائشی الپیش بھائی کی زندگی سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ ایک غریب کسان خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بہتر روزگار کی تلاش میں سورت آئے اور ہیروں کی صنعت میں ملازمت اختیار کی۔ کچھ ہی عرصے میں ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً پینتیس ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو ایک انگریزی میڈیم نجی اسکول میں داخل کرایا تاکہ انہیں وہ تعلیم مل سکے جو خود انہیں نصیب نہ ہو سکی تھی۔

مگر 2025ء میں سورت کی ہیروں کی صنعت شدید بحران کا شکار ہوگئی۔ فروخت کم ہونے لگی، فیکٹریوں نے مزدوروں کی تنخواہیں گھٹا دیں اور بعد ازاں بڑی تعداد میں کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔ الپیش بھائی بھی ان متاثرین میں شامل تھے۔ بعد میں انہیں صرف بارہ ہزار روپے ماہانہ پر کپڑے دھونے کی ملازمت ملی، جس کے باعث انہیں اپنی بیٹیوں کو نجی اسکول سے نکال کر سرکاری اسکول میں داخل کرانا پڑا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب حکومت مسلسل یہ کہہ رہی تھی کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ اسی دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی کہ ایک سال تک سونا نہ خریدیں، غیر ضروری بیرونِ ملک سفر مؤخر کر دیں، پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم کریں، حتیٰ کہ خوردنی تیل کے استعمال میں بھی دس فیصد کمی کریں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

یہ دونوں باتیں ایک ساتھ دیکھنے پر ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ اگر معیشت واقعی مضبوط ہے تو پھر عوام سے بنیادی ضروریات میں کفایت شعاری کی اپیل کیوں کی جا رہی ہے؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جون 2025ء کے دوران مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 7.8 فیصد اضافہ ہوا، مگر اسی مدت میں غیر رسمی صنعتی شعبے میں روزگار تقریباً 9.3 فیصد کم ہو گیا۔ صرف تین ماہ میں تقریباً ستائیس لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار نظام آنے والے برسوں میں مزید لاکھوں ملازمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، لیکن وہی افراد کامیاب ہوں گے جو خود کو نئی مہارتوں سے آراستہ کریں گے۔

بازار میں بظاہر خرید و فروخت جاری ہے، مگر اس کی ایک بڑی وجہ آسان قرض اور اقساط (EMI) ہیں۔ بھارتی ریزرو بینک کے مطابق گھریلو قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ان میں سب سے بڑا حصہ ذاتی قرض، کریڈٹ کارڈ، گاڑیوں اور گھریلو اشیاء کی اقساط پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی روزمرہ ضروریات بھی قرض کے ذریعے پوری کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی محنت تنظیم (ILO) کے مطابق مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقل ملازمین کی حقیقی آمدنی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے۔ بظاہر تنخواہیں بڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے۔

نتیجتاً بیشتر خاندان صرف بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہو چکے ہیں اور اضافی اخراجات کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ 2025ء اور 2026ء کے دوران بھارتی معیشت کو کئی بڑے بیرونی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں امریکی محصولات (Tariffs)، عالمی تجارتی کشیدگی، روسی تیل کی درآمدات میں رکاوٹ، ایران کے بحران کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، کھاد اور دیگر درآمدی اشیاء مہنگی ہو گئیں۔ 2026ء میں بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر درآمدی اشیاء کی قیمتوں پر پڑا، کیونکہ بھارت اپنی ضرورت کا بیشتر خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اسی دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے معیشت پر مزید دباؤ بڑھ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں نمایاں کمی آئی۔ اسی طرح 2026ء کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کار تقریباً 2.7 لاکھ کروڑ روپے بھارتی مالیاتی منڈیوں سے نکال چکے تھے، جس نے روپے اور اسٹاک مارکیٹ دونوں پر منفی اثر ڈالا۔ سورت کی ہیروں کی صنعت، تمل ناڈو کی گارمنٹس انڈسٹری، جھینگا برآمد کرنے والی صنعت اور دیگر برآمدی شعبے شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ متعدد فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، لاکھوں افراد کی ملازمتیں خطرے میں ہیں اور کئی خاندان روزگار کی تلاش میں دوبارہ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حکومتی اخراجات اور قرض دونوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری آمدنی کا بڑا حصہ سود، تنخواہوں، پنشن اور سبسڈی کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے، جس کے باعث نئے معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔

اقتصادی اداروں کا اندازہ ہے کہ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو معاشی ترقی کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے۔ خام تیل کی بلند قیمتیں، عالمی تجارتی کشیدگی، کمزور روپیہ، سرمایہ کاری میں کمی اور روزگار کا بحران مستقبل میں مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ تمام نکات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے بلند اعداد و شمار ہمیشہ عوامی خوش حالی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ کسی بھی معیشت کی اصل طاقت روزگار، حقیقی آمدنی، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، مضبوط کرنسی اور عوام کی قوتِ خرید سے معلوم ہوتی ہے۔ معاشی مسائل کے حل کے لیے صرف بلند دعوے کافی نہیں، بلکہ مؤثر پالیسیاں، روزگار کے مواقع، صنعتی بحالی، سرمایہ کاری کا فروغ اور عوامی فلاح پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔

11 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی