جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا اسٹوڈنس ، ایجوکیشنل منسٹر کا موقف ، کیا ہیں حقائق

اس دیش کو سنبھال لینا ورنہ پچھتر سال بعد کوئی گںوار اس کو دھرم کے نام پر بانٹ دے گا ..... (یہ جملہ آپ نے سنا ہوگا ) بیس جولائی صبح کے چار بج کرچالیس منٹ پر جنتر منتر پر پروٹیسٹ کر رہے کچھ لوگ آس پاس کا ماحول دیکھنے کے لیے نکلتے ہیں کہ تبھی پاس کے ایک راستے پر انہیں اچانک سے ایک ٹوٹی پھوٹی وین کھڑی ہوئی دکھتی ہے یہ وین پہلے وہاں نہیں تھی مانو ایسا لگا کہ اسے جان بوجھ کر اس حالت میں یہاں کھڑا کیا گیا دوسری طرف جنتر منتر کے ایک دم باہر اچانک سے کچھ لوگوں کو پتھروں سے بھرے ہوئے ٹرک کھڑے ہوئے ملتے ہیں ... یہ سب رات کے اندھیرے میں اچانک سے ہو رہا تھا اس پوائنٹ تک اس پروٹیسٹ کو شروع ہوئے بیس دن سے زیادہ ہو چکے تھے اور سب کچھ سوفیصد امن و شانتی سے چل رہا تھا لیکن پاس کے ہی سنسد مار گ کے پاس ایک ٹوٹے شیشوں والی پچکی ہوئی گاڑی بھی کھڑی ہوئی دکھتی ہے عجیب بات یہ تھی کہ اس علاقے میں کوئی گاڑی بغیر اجازت کے نہیں آسکتی تھی مزید یہ کہ پولیس نے اس سڑک کو چاروں طرف سے بند بھی کیا ہوا تھا یعنی پولیس کی اجازت کے بنا یہاں پر اچانک سے ایسی گاڑیاں آجانا ممکن ہی نہیں تھا آپ ان چیزوں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا تھا اس گاڑی پر کچھ پروٹیسٹرز نے ایک نوٹ لکھ کر چھوڑ دیا اس پر لکھا تھا "یہ پرشاسن دوارہ آندولن کاریوں کو بدنام کرنے کے لیے پلانٹ کیا گیا " اسی رات کو دوستوں :... دلی پولیس جنتر منتر سے سارے میٹل ڈیٹیکٹرز اور سارے سیکیورٹی چیکس ہٹا دیتی ہے ! ایسا کرنا بڑا ہی عجیب تھا کیونکہ اگلی صبح ایک بڑی پروٹیسٹ مارچ نکلنے والی تھی اور بھی زیادہ لوگوں کے آنے کی امید تھی تو اس لحاظ سے سیکیورٹی بڑھائی جانی چاہیے تھی لیکن یہاں پر الٹا ہی ہو رہا تھا اس کے پیچھے ایک بے حد خطرناک پلان رچا جا رہا تھا ، اگلی صبح جو ہوا وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ایک تانا شاہ سرکار اپنی کرسی کو بچانے کے لیے جمہوریت کا گلا دبانے تیار بیٹھے تھے سرکار نے اپنے ہی دیش کے لوگوں کے خلاف جنگ چھیڑدی تھی ، کس طرح سے اس کی پلاننگ کی گئی اس کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا ہوگا۔

بیس جون 2026 کا وہ دن تھا جب کاکروچ جنتا پارٹی جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا منظم کرتی ہے اور مطالبہ صرف ایک تھا کہ ایجوکیشنل منسٹر دھرمیندر پردھان کا استعفی چاہیے تقریباً آٹھ دن بعد 28 جون کو سوشل ایکٹیوسٹ سونم وانگچک بھی جنتر منتر پہنچتے ہیں اور اسی مطالبہ پر بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاتے ہیں یہ ہڑتال انتہائی پرسکون انداز سے چلتا ہے پولیس کو بھی اس سے کوئی اعتراض نہیں ہوتی ہے ۔ حتی کہ کئی سارے ایسے ویڈیوز سامنے آتے ہیں جہاں پر پروٹیسٹرز اور پولیس کے درمیان انتہائی دوستانہ ماحول نظر آرہے ہوتے ہیں لیکن سرکار کی طرف سے اسے پوری طریقے سے نظرانداز کردیاجاتا ہے۔ بھوک ہڑتال کے پہلے سترہ دنوں میں سونم کا وزن تقریباً آٹھ کلو کم ہوجاتا ہے دھیرے دھیرے سوشل میڈیا کے ذریعہ سونم وانگ چک کی تصویریں اور ویڈیوز وائرل ہونے لگتی ہیں کمزور حالت میں دیکھ کر لوگوں کا دل دہل جاتا ہے ان کے سمرتھن میں ملک بھر میں آوازیں اٹھنے لگتی ہیں اور یہیں پر آتا ہے سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ!۔

 17 جولائی 2026 ہوم منسٹر امت شاہ اچانک سے دلی پولیس کمشنر ستیش گولچہ کو ان کی پوسٹ سے ہٹا دیتے ہیں یہ بڑا سرپرائزنگ تھا کیونکہ کچھ ہی مہینوں بعد اپریل 2027 میں وہ ویسے ہی ریٹائر ہونے والے تھے لیکن یہاں پر انہیں فوری ہٹا دیا جاتا ہے، آخر کیوں شاید وہ اس بات سے ناراض تھے کہ یہ پروٹیسٹ کتنا پیس فلی چل رہا تھا اور یہاں پر کوئی وائلنس نہیں ہوا اور جنتا میں سمرتھن بڑھتا جا رہا تھا! ان کی جگہ آئی پی ایس آفیسر انوراگ کمار کو لایا جاتا ہے جو انٹیلیجنس بیورو میں اسپیشل ڈائریکٹر تھے 18 جولائی 2026 صبح کے ساڑھے چھ بجے جب جنتر منتر پر سب سے کم بھیڑ رہتی ہے اور ایک ایسے وقت میں جب  ابھیجیت دیپکے پاس کے گیسٹ ہاؤس میں نہانے گئے ہوئے تھے اسی وقت اچانک سے درجنوں پولیس والے اور آر ایف کے جوان سٹیج پر چڑھ جاتے ہیں اور بہت ہی ڈرامیٹک طریقے سے سفیدچادر سے ڈھک کر سونم وانگچک کو ایک ایمبولنس میں اٹھا کر لے جاتے ہیں انہیں زبردستی اٹھا کر صفدرجنگ ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرایا جاتا ہے ! سوال یہ ہے کہ کیا پچھلے دنوں دلی پولیس کے کمشنر ستیش گولچہ کو اسی لیے ہٹایا گیا ؟! کیونکہ انہوں نے یہ کرنے سے منع کر دیا شاید یہاں پر سرکار کو امید تھی کہ اگر موومنٹ کا چہرہ ہٹ جائے گا تو پروٹیسٹرز کی ہمت ٹوٹ جائے گی اب ہمت ٹوٹی یا نہیں یہ تو 20 جولائی کو پتہ چلنا تھا لیکن اس سے پہلے 19 جولائی کی رات کو دلی میں ڈھیر سارے انتظام کیے جاتے ہیں شام کو سات بجے ڈی سی پی نیو دلی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ آتا ہے دلی پولیس بی این ایس ایس کا سیکشن 163 لگا دیتی ہے جس کے حساب سے پانچ سے زیادہ لوگ ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے تھے اپنے دھمکی بھرے انداز میں لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی مارچ کا حصہ نہ بنے ، اس رات اسٹوڈنٹس کو روکنے کے لیے 10د سیٹ اونچے بیریکیٹ لگائے جاتے ہیں ، پہلے تو تین لیئر کی بیریکیٹنگ تھی جب اس سے بھی کام نہیں چلا تو بعد میں ان بیری کیٹس کو ویلڈ کر کے جوڑ دیا گیا اس کے علاوہ سرکار نے اس پورے ایریا میں جگہ جگہ کمیونیکیشن جامرس لگا دیے تاکہ لوگ آپس میں بات نہ کر پائیں سینٹرل دلی کی ایک سو پچاس مقامات پر انٹرنیٹ بھی بند کروا دیا گیا تاکہ اندر سے کوئی ویڈیو کوئی تصویر باہر نہ جا سکے چاروں طرف سے اس موومنٹ کو پوری طریقے سے کچلنے کی پلاننگ سیٹ تھی بارش بھی ہوئی لیکن بھیڑ  کم نہیں ہوئی ہزاروں کی تعداد میں اسٹوڈنٹس میٹرو سے بھی آنے لگے صبح کے نو بجے کے قریب دلی میٹرو کی اناؤسمنٹ آتی ہے کہ سیکیورٹی وجوہات سے پانچ میٹرو اسٹیشنز بند کر دیے جاتے ہیں : جنپت ، راجیو چوک، پٹیل چوک ، سینٹرل سیکرٹیریٹ ، اور سیوا تیر ، یہ پانچوں سٹیشنز مارچ کے روٹ پر پڑتے تھے یعنی جس وقت لوگوں کو جنتر منتر پہنچنا تھا ٹھیک اسی وقت وہاں پہنچنے کے سارے راستے بند کر دیے گئے تھے بھاری بھیڑ اندر جمع ہو گئی لوگوں نے میٹرو اسٹیشنز کے اندر ہی نعرے لگانے شروع کر دیئے اور جب صبر ٹوٹا تو لوگ میٹرو اسٹیشنز کے بیریر سے کود کر باہر نکلنے لگ گئے لوگوں کا جذبہ اتنا مضبوط تھا کہ 10 بجے تک بیریکیٹس ٹوٹنے شروع ہو گئے تھے سرکار کی یہ ساری تیاری دو گھنٹے میں دھری کی دھری رہ گئی اور یہیں سے پولیس کا رویہ بدل گیا 10 بج کے 51 منٹ منڈی ہاؤس میٹرو اسٹیشن سے جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے سینکڑوں اسٹوڈنٹس پر پولیس اچانک سے ڈنڈے برسانے لگ جاتی ہے یہ لوگ مارچ میں شامل ہونے آئے تھے لیکن پروٹیسٹ کے مقامات پر پہنچنے سے پہلے ہی ان کو بے وجہ پیٹ دیا جاتا ہے 11 بج کے پانچ منٹ پر صفدرجنگ ہاسپٹل میں سونم وانگ چک ہاسپٹل کے ڈائریکٹر کو چٹھی لکھتے ہیں کہتے ہیں : میں بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں بالکل ٹھیک محسوس کررہا ہوں آج مجھے جانے دیا جائے تاکہ میں مارچ میں شامل ہوسکوں ! لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی اس وقت تک لوگوں کی بھیڑ لاکھوں میں پہنچ چکی تھی لوگ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے نکلتے ہیں جواب میں پولیس پارلیمنٹ سٹریٹ پر کم سے کم 25 آنسو گیس کے گولے داغتی ہے اور ہر اس شخص کو نشانہ بناتی ہے جو وہاں کسی بھی حال میں موجود تھے۔

تقریباً ساڑھے بارہ بجے پولیس آئی ٹی او کا وکاس مارگ بلاک کر دیتی ہے یہ ایسٹ دلی کو پارلیمنٹ والے علاقے سے جوڑنے والی اہم سڑک تھی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد سنسد مارگ کی طرف سے پارلیمنٹ  کی طرف جانے والی سڑک پر پروٹیسٹرز کو پولیس سٹیشن کے باہر روکا جاتا ہے ان پر بھی لاٹھی چلائی جاتی ہیں۔ یوٹیوبر شیام میرا سنگھ بھی یہاں اس پوائنٹ پر بھیڑ میں موجود تھے اور انہوں نے ویڈیو پر ریکارڈ کیا کہ کس طریقے سے لوگوں کو بے رحمی سے مارا گیا۔ اس بیچ پارلیمنٹ کے گیٹ بند کر دیے جاتے ہیں قریب ڈیڑھ بجے پروٹیسٹرز کو رفیع مارگ سے ڈیٹین کیا جاتا ہے یہاں سے اسٹوڈنٹس کو بھگایا گیا تو وہ انڈیا گیٹ کے گارڈنز کے پاس پہنچ گئے ، پولیس نے یہاں موٹر سائیکلز کے ذریعہ پروٹیسٹرز کو بھگانے کی کوشش کی ۔ اس کے بعد سٹوڈنٹس پریس کلب اور رائے سینا روڈ پر ہی بیٹھ گئے لیکن کچھ پروٹیسٹرز پارلیمنٹ کے بالکل قریب پہونچ گئے اسی پوائنٹ پر ایک خوفناک ویڈیو سامنے آتی ہے جہاں پرسیکیورٹی فورسز فائر پوزیشنز لے کر بیٹھی نظر آتی ہے ! مانو جلیاں والا باغ کا سین ہے اورجنرل ڈائر آرڈر دے رہے ہوں فائر کرنے کا ، اسی وقت پارلیمنٹ کمپلیکس کے اندر ملٹی ٹیرڈ لاک ڈاؤن کر دیا جاتا ہے اور سیکیورٹی پرزنلز لوہے کے گیٹس کو فزیکلی پکڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اسی بیچ نریندر مودی ایک ڈرے ہوئے تانا شاہ کی طرح پارلیمنٹ بلڈنگ کو چھوڑ کر بھاگ نکلتے ہیں پولیس نے جب لوگوں کو جنتر منتر کی طرف آنے سے روکا تو کناٹ پلیس اور جنتر منتر میں بھی ہزاروں لوگ اکٹھے ہو گئے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک کو اسٹوڈنٹس نے ڈیموکریسی پوائنٹ ڈکلیئر کر دیا اور یہاں سے ہلنے سے انکار کر دیا یہاں موجود تھے یوٹیوبر سارتھک گوسوامی ، جن کو ایک اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ اسی علاقے میں پولیس والوں نے لاٹھی چارج کیا اور پروٹیسٹرز اور اسٹوڈنٹس پر پتھر بازی کی اس بارے میں بھی ایک کلیئر ویڈیو سامنے آیا ہے جہاں پر آپ دیکھ سکتے ہو کہ پولیس والے سٹوڈنٹس پر پتھر پھینک رہے ہیں پولیس کے ذریعے کیے گئے ایسے وائلنس کے ڈھیر سارے ویڈیوز موجود ہیں ایسے ویڈیوز جن میں عورتوں کو بے رحمی سے مارا جا رہا ہے نہتے لوگوں کو بری طریقے سے پیٹا، یہاں تک کہ پولیس نے لوگوں کی مدد کرنے آرہے ڈاکٹرز تک کو بھی نہیں چھوڑا ، جنپد پر تو ایک پولیس والے نے ایک بچے کا کافی دیر تک گلا دبا کر رکھا سب سے ڈسٹربنگ بات یہ تھی کہ جن پولیس والوں کو یہاں تعینات کیا گیا تھا ان کی وردی سے نیم پلیٹس ہٹائی گئی تھی یہاں تک کہ سرکاری دنگا کنٹرول گاڑیوں کے نمبر پلیٹ چھپائی گئی تھی اور جو پولیس والے بے رحمی سے سٹوڈنٹس کو مار رہے تھے انہوں نے رومال سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا بالکل آتنک وادیوں کی طرح برتاؤ کر رہے تھے اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ کیسے کچھ لوگ سادہ کپڑوں میں آئے پولیس والوں کے ساتھ گھوم رہے تھے اور پولیس والوں کی طرف سے مارپٹائی کر رہے تھے ، جب یوٹیوبر سندیپ بھاٹیا نے اس کے بارے میں پولیس سے سوال کیا تو ان کو دھکا دے کر پولیس آگے بڑھ گئی ، دوپہر کے تقریباً ساڑھے تین بجے تک پولیس جنتر منتر کے اند گھس آئی تھی اور وہاں بھی لاٹھی چارج شروع کر دیا شیام میرا سنگھ کے ویڈیوز سے پتہ چلا کہ سٹوڈنٹس کو کس طرح دوڑایا گیا کہ چپلیں تک وہیں چھوٹ گئی دلی پولیس نے اس کیس تک کو ڈس مینٹل کر دیا جہاں سونم وانگ چک تین ہفتوں تک بھوک ہڑتال کیا تھا جو جرنلسٹ گراؤنڈ رپورٹرز اور یوٹیوبرز یہاں موجود تھے ان پر بھی زیادتی کرنے لگی تھی یوٹیوبر سارتھک گوسوامی کو بھی ایک سول ڈریس پہنے شخص نے دھکا دیا اور لاٹھی سے مارا ۔

بینگ ہیومن چینل چلانے والے رامت ورما کو تو پولیس نے اتنی زور سے مارا کہ ان کے سر سے خون نکلنے لگا ،وہ تمام جرنلسٹ جو گراؤنڈ پر موجود تھے قابل مبارک باد ہیں ، جو ان تمام دقتوں کے باوجود گراؤنڈ پر موجود تھے اور سچ باہر لانے کا کام کر رہے تھے انہوں نے وہ کام کیا جو مین اسٹریم میڈیا کو کرنا چاہیے اگر یہ نہیں ہوتے تو ہمیں یہ ساری خبریں بھی نہیں پتہ چل پاتی کیونکہ اس دن پورے ایریا میں انٹرنیٹ بلاک کر دیا گیا اس بیچ مودی سرکار نے سب کا دھیان بھٹکانے کے لیے بات چیت کا ناٹک بھی کیا صبح 10 بج کر 40 منٹ پر خبر آتی ہے کہ سی جے پی کے چیف اسپوک پرسن سوربھ داس کو ڈپٹی کمشنر کے آفس لے جایا گیا ہے سینٹر کی طرف سے بات کر رہے تھے ڈی سی پی سچن شرما، پہلے سرکار کہتی ہے کہ ہم ایک ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کو بھیج دیتے ہیں آپ کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے، پھر کہتی ہے یونین سرکار کے ایک سیکرٹری سے مل لو پھر منسٹر آف اسٹیٹ سے ملنے کا آفر آتا ہے، لیکن سی جے پی نے ہر بار منع کر دیا انہوں نے کہا کہ یا تو ہم پردھان منتری سے ملیں گے یا کسی یونین کیبنٹ منسٹر سے ، آخر میں ان کو ہیلتھ منسٹر جے پی نڈا سے ملوانے کی بات کی جاتی ہے دو گھنٹے تک انتظار کروایا جاتا ہے دو گھنٹے کے انتظار کے بعد جے پی نڈا ان سے صرف دس منٹ کے لیے ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی ڈیمانڈز پر وہ انٹرنلی بات کریں گے ۔ سچ بات یہ ہے کی سرکار نے جتنا دبانے کی کوشش کی اتنی ہی لوگوں کی آواز ابھر کر آئی ہمیں وہ ریولوشن اسپرٹ دیکھنے کو ملیں جو شاید آزادی کے وقت فریڈم فائٹرز میں دیکھنے کو ملتی تھی یہ پروٹیسٹ صرف دلی تک محدود نہیں رہی یہ ملک کے کونے کونے تک پہنچ گئی لکھنؤ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے بھی اسی مدعے پر پروٹیسٹ کیا ان کو یوپی پولیس نے حراست میں لے لیا ، الہ آباد میں بھی پروٹیسٹ ہوئے اور وہاں بھی سٹوڈنٹس کو ڈیٹین کیا احمد آباد میں بھی پروٹیسٹ ہوئے انہیں بھی پولیس نے ڈیٹین کیا، کولکتہ، ممبئی، بنگلور ،گووا ،پٹنہ، اروناچل پردیش میں بھی ہزاروں سٹوڈنٹس نے مارچ کیے اور سب سے بڑی بات یہ رہی کہ جس جنتر منتر کو دوپہر کے ساڑھے تین بجے تک زبردستی خالی کروایا گیا اسی جنتر منتر پر شام ہوتے ہوتے پروٹیسٹرز پھر سے واپس لوٹ آئے جو سٹیج ٹوٹ چکا تھا لوگوں نے اسے واپس لگا دی، لاٹھی سے بھیڑ ہٹائی جا سکتی ہے لیکن جو سوچ لوگوں کے دماغ میں ہے جو انقلاب کی گونج لوگوں کے دل میں ہے اسے کوئی لاٹھی نہیں ہٹا سکتے یہ آنے والی کئی جنریشنز کے لیے سبق بنے گی ، آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیسے ایک لوک تنتر کہے جانے والے دیش کی سرکار اپنے ہی لوگوں کے خلاف سازش رچی اور اپنے ہی لوگوں پر ایک جنگ چھیڑ دی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ بچوں کی طرف سے صرف ایک ڈیمانڈ تھی کہ ایگزامز کی چوری نہ ہو ایک بہتر ایجوکیشن منسٹر کو بٹھایا جائے صرف اسی چیز کے لیے ان پر آنسو گیس چھوڑی گئی۔یقین مانیے جو سرکار بچوں کو لاٹھیاں مار رہی ہیں اس کا جانا طے ہو گیا بس وقت کی بات ہے۔زیادہ تانا شاہی دکھانا اچھا نہیں لوگوں کے لمٹ ٹیسٹ اس طرح نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کس حد تک وائلنس برداشت کر سکتے ہیں تاریخ بتاتی ہے کہ ہر تانا شاہ کا انجام نہایت خوفناک ہوا ہے ۔

3 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی