جہاز بحفاظت زمین پر اتر چکا تھا...مگر اصل کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ رن وے پر کھڑا وہ خستہ حال طیارہ خود ایک خاموش گواہ بن چکا تھا۔ اس کی اڑی ہوئی چھت، مڑی تڑی دھاتی چادریں اور جگہ جگہ پڑی دراڑیں ایک ہی سوال کر رہی تھیں... "آخر یہ سب ہوا کیسے؟ "امریکی تحقیقاتی ادارہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کے ماہرین فوراً جائے حادثہ پر پہنچے۔ انہوں نے جہاز کے ہر پیچ، ہر پلیٹ اور ہر رِیوٹ کا باریک بینی سے معائنہ شروع کیا۔جوں جوں تحقیق آگے بڑھتی گئی، حقیقت اتنی ہی خوفناک ہوتی چلی گئی۔یہ کوئی اچانک پیش آنے والا حادثہ نہیں تھا...بلکہ برسوں سے پلتی ہوئی ایک خاموش تباہی تھی۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ بوئنگ 737 طیارہ اپنی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گزار چکا تھا۔ اس نے ہزاروں گھنٹے فضاء میں گزارے تھے اور تقریباً نوّے ہزار مرتبہ زمین سے اڑ کر دوبارہ واپس آ چکا تھا۔ ہر پرواز میں ایک ہی عمل دہرایا جاتا تھا۔ زمین پر آتے ہی جہاز کا ڈھانچہ سکڑ جاتا، اور بلندی پر پہنچتے ہی اندرونی دباؤ کی وجہ سے دوبارہ پھیل جاتا ۔پھیلاؤ ...سکڑاؤ ... پھیلاؤ ... سکڑاؤ...برسوں تک جاری رہنے والے اس عمل نے دھات کو اندر ہی اندر تھکا دیا تھا۔بالکل اسی طرح جیسے ایک مضبوط لوہے کی تار کو بار بار موڑا جائے تو ایک دن وہ اچانک ٹوٹ جاتی ہے۔ماہرین نے جب جہاز کی بیرونی جلد کو الگ کیا تو حیرت زدہ رہ گئے۔ ایک دراڑ نہیں...دو دراڑیں نہیں...بلکہ درجنوں باریک باریک شگاف مختلف مقامات پر پہلے سے موجود تھے۔یہ وہ زخم تھے جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ بڑھتے جا رہے تھے، مگر کسی نے ان پر توجہ نہیں دی۔مزید حیرت اس وقت ہوئی جب ریکارڈ کھنگالے گئے۔بوئنگ کمپنی برسوں پہلے خبردار کر چکی تھی کہ اس طرز کے پرانے جہازوں میں وقتاً فوقتاً انتہائی باریک بینی سے معائنہ کیا جانا چاہیے، کیونکہ نمی، سمندری ہوا اور مسلسل دباؤ دھات کو کمزور کر سکتے ہیں۔ یہ وارننگ موجود تھی... مگر اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔
تحقیق کاروں نے جب ایئرلائن کے معائنے کے ریکارڈ دیکھے تو کئی سوالات جنم لینے لگے۔ کیا واقعی ہر معائنہ مکمل ایمانداری سے کیا گیا تھا؟ کیا وہ باریک دراڑیں کسی کی نظر سے اوجھل رہ گئیں؟ یا پھر انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا؟ ان سوالوں کے جوابات اتنے پریشان کن تھے کہ پوری فضائی صنعت چونک اٹھی۔ تحقیقاتی رپورٹ نے واضح کیا کہ اگر ان باریک شگافوں کو بروقت دریافت کرکے مرمت کر دی جاتی تو شاید یہ خوفناک حادثہ کبھی پیش ہی نہ آتا۔ اس رپورٹ نے ایک اور تلخ حقیقت بھی آشکار کی۔ یہ مسئلہ صرف اسی ایک جہاز تک محدود نہیں تھا۔جب اسی طرز کے دوسرے پرانے بوئنگ 737 طیاروں کا دوبارہ معائنہ کیا گیا تو کئی میں اسی قسم کی باریک دراڑیں دریافت ہوئیں۔ گویا حادثہ ایک جہاز کا نہیں...بلکہ ایک پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا۔ اب دنیا کو احساس ہو چکا تھا کہ فضائی حفاظت صرف طاقتور انجنوں یا جدید آلات کا نام نہیں، بلکہ ایک ایک پیچ، ایک ایک دھاتی پلیٹ اور ایک ایک معمولی دراڑ کی بروقت نگرانی بھی انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر یہ حادثہ پیش نہ آتا تو شاید ان میں سے کوئی اور طیارہ بھی کسی دن فضا میں اسی طرح ٹوٹ جاتا۔یہی وجہ تھی کہ اس سانحے کے بعد فضائی صنعت میں ایک خاموش انقلاب برپا ہو گیا۔ اب صرف ظاہری معائنہ کافی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جدید سائنسی طریقوں سے دھات کے اندر چھپے ہوئے معمولی سے معمولی شگاف تلاش کیے جانے لگے۔ الٹراسونک ٹیسٹنگ، ایڈی کرنٹ انسپیکشن اور دیگر جدید تکنیکیں معمول کا حصہ بن گئیں، تاکہ کسی بھی کمزوری کو حادثہ بننے سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔ پرانے طیاروں کے لیے نئے قوانین بنائے گئے۔زیادہ پروازیں کرنے والے جہازوں کی نگرانی پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دی گئی۔ایئرلائنز کو پابند کیا گیا کہ وہ ہر معائنے کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی سیکڑوں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔اس حادثے نے دنیا کو ایک اور سبق بھی دیا۔فضائی سفر صرف طاقتور انجنوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نام نہیں، بلکہ دیانت داری، ذمہ داری اور بروقت معائنے کا بھی نام ہے۔جہاں ان میں سے ایک چیز بھی کمزور پڑ جائے، وہاں فولاد بھی انسان کی جان کا محافظ نہیں رہتا۔اس واقعے کے اصل ہیرو صرف وہ پائلٹ نہیں تھے جنہوں نے ناممکن حالات میں جہاز کو بحفاظت اتارا، بلکہ وہ تمام لوگ بھی تھے جنہوں نے اس سانحے کے بعد اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور آنے والی نسلوں کے لیے فضائی سفر کو پہلے سے زیادہ محفوظ بنا دیا۔آج، کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود، الوہا ایئر لائنز فلائٹ 243 کا نام ہوابازی کی تاریخ میں احترام اور حیرت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا حادثہ تھا جس میں جہاز کی چھت فضا میں اڑ گئی...مسافر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے رہ گئے...برفیلی ہوائیں ان کی سانسیں چھیننے لگیں...اور ہر شخص کو یقین ہو چلا تھا کہ اب واپسی ممکن نہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت، پائلٹوں کی مہارت، عملے کی بہادری اور مسافروں کے حوصلے نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، کتنی ہی مضبوط مشینیں بنا لے، زندگی اور موت کا آخری فیصلہ پھر بھی اللہ رب العالمین ہی کے ہاتھ میں ہے۔اسی لیے عقل یہ ہے کہ انسان اسباب بھی اختیار کرے، اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرے، اور ہر سفر میں اپنے رب پر توکل بھی رکھے۔
اختتام
Tags
واقعات و حوادث
بہت خوب
جواب دیںحذف کریں