کلپنا چاولہ امریکہ پہنچ چکی تھیں۔ نئی سرزمین... نئی زبان... نیا تعلیمی نظام... اور ہر طرف ایسے طلبہ جو دنیا کی بہترین جامعات سے آئے تھے۔ کئی لوگوں کے لیے یہ ماحول خوف کا سبب بن سکتا تھا، مگر کلپنا کے لیے یہ ایک نئی منزل کی شروعات تھی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ٹیکساس سے ایرو اسپیس انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ مگر ان کا سفر یہیں ختم ہونے والا نہیں تھا۔علم کی پیاس انہیں آگے بڑھاتی رہی۔ چند برس بعد انہوں نے یونیورسٹی آف کولوراڈو سے ایرو اسپیس انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی مکمل کر لی۔ اب ان کے ہاتھ میں صرف ایک ڈگری نہیں تھی...بلکہ برسوں کی محنت، قربانی اور ثابت قدمی کا ثمر تھا۔پی ایچ ڈی کے بعد کلپنا کو ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر میں کام کرنے کا موقع ملا۔یہ وہ ادارہ تھا جہاں دنیا کے ذہین ترین سائنس دان مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہے تھے۔ کلپنا کا شعبہ تھا... ایروڈائنامکس اور فلوئیڈ ڈائنامکس۔ وہ یہ تحقیق کرتی تھیں کہ تیز رفتار ہوائیں ہوائی جہاز کے پروں کے گرد کس طرح حرکت کرتی ہیں، اور ان کی رفتار و سمت پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔ یہ انتہائی پیچیدہ سائنس تھی... مگر کلپنا کے لیے یہی ان کی دنیا تھی۔ صرف سائنس ہی نہیں... انہیں پرواز سے بھی بے حد عشق تھا۔انہوں نے ایک کے بعد ایک مختلف طیارے اڑانے کے لائسنس حاصل کیے۔
سنگل انجن...ملٹی انجن...گلائیڈر...اور سی پلین...گویا آسمان کی ہر راہ ان کے لیے مانوس ہوتی جا رہی تھی۔
سن 1991 میں وہ امریکہ کی شہری بن گئیں۔ اب ان کی نگاہ ایک ایسی منزل پر تھی جسے دنیا کا ہر سائنس دان حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ سن 1994 میں ناسا نے ہزاروں درخواستیں وصول کیں۔ دنیا بھر سے تقریباً چار ہزار امیدواروں نے درخواست دی۔ ہر امیدوار غیر معمولی ذہانت، تجربے اور قابلیت کا حامل تھا۔ مہینوں تک امتحانات ہوئے۔
طبی معائنے ہوئے۔ نفسیاتی جانچ ہوئی۔ سخت انٹرویوز لیے گئے۔ اور آخرکار... ناسا نے صرف بیس خوش نصیب افراد کو منتخب کیا۔ ان بیس ناموں میں ایک نام تھا... ڈاکٹر کلپنا چاولہ۔ یہ صرف ان کی کامیابی نہیں تھی۔ یہ اُن تمام خواب دیکھنے والوں کی فتح تھی جنہیں کبھی کہا گیا تھا کہ..."یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔" اب اگلا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل تھا۔ تین برس تک جاری رہنے والی سخت ترین تربیت... جہاں معمولی سی غلطی بھی کسی امیدوار کا خواب ختم کر سکتی تھی۔ مگر کلپنا نے ایک بار پھر ثابت کر دیا... کہ جو لوگ منزل سے محبت کرتے ہیں، وہ راستوں کی دشواریوں سے نہیں ڈرتے۔ اور پھر... آخرکار وہ دن آ ہی گیا... جب انہیں پہلی بار خلا میں جانے کا حکم ملا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا انتظار صرف کلپنا نہیں... بلکہ قسمت بھی برسوں سے کر رہی تھی۔
اور آخرکار وہ صبح طلوع ہوئی جس کا انتظار کلپنا چاولہ نے بچپن سے کیا تھا۔ 19 نومبر 1997 امریکہ کے فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر میں غیر معمولی گہماگہمی تھی۔ ہزاروں نگاہیں لانچ پیڈ کی طرف جمی ہوئی تھیں، جہاں عظیم الشان کولمبیا اسپیس شٹل اپنے اگلے سفر کے لیے تیار کھڑا تھا۔ یہ مشن تھا... STS-87 اور اس کے عملے میں ایک نام ایسا بھی تھا جو صرف ہندوستان ہی نہیں، پورے جنوبی ایشیا کے لیے باعثِ فخر بننے والا تھا۔ ڈاکٹر کلپنا چاولہ۔ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوا... دس... نو... آٹھ...
ہر گزرتا سیکنڈ دلوں کی دھڑکنیں تیز کر رہا تھا۔ تین... دو... ایک... اچانک زمین لرز اٹھی۔ آگ کے شعلے بھڑکے۔ دھواں آسمان کی طرف بلند ہوا۔ اور پھر... کولمبیا اسپیس شٹل آہستہ آہستہ زمین سے بلند ہونے لگا۔ چند ہی لمحوں میں اس کی رفتار ہزاروں کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔
زمین چھوٹتی گئی... بادل پیچھے رہ گئے... اور پھر...
وہ لمحہ آ پہنچا جب کششِ ثقل تقریباً ختم ہو گئی۔ کلپنا چاولہ پہلی مرتبہ خلا میں داخل ہو چکی تھیں۔ زمین اب نیچے ایک خوبصورت نیلے گولے کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ کوئی سرحد نظر نہیں آ رہی تھی۔ نہ کوئی ملک... نہ کوئی ریاست... نہ کوئی مذہب... صرف ایک ہی گھر...زمین۔
بعد میں کلپنا نے اپنے اس احساس کو یوں بیان کیا: "جب آپ خلا سے زمین کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک ہی دنیا کے باشندے ہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی سرحدیں وہاں سے کہیں نظر نہیں آتیں۔" یہ سفر صرف جذباتی نہیں تھا... بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی بے حد اہم تھا۔کلپنا اس مشن میں روبوٹک آرم کی آپریٹر تھیں۔
ان کی ذمہ داری تھی کہ ایک سائنسی سیٹلائٹ کو کامیابی سے خلا میں چھوڑیں تاکہ سورج کی بیرونی پرت کا مطالعہ کیا جا سکے۔ مگر ہر مشن ہمیشہ منصوبے کے مطابق نہیں چلتا۔ سیٹلائٹ کو چھوڑنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کا کنٹرول متاثر ہو گیا۔ وہ بے قابو ہو کر خلا میں گھومنے لگا۔
اسے واپس حاصل کرنا فوری طور پر ممکن نہ رہا۔ آخرکار ناسا کے دو خلا بازوں کو خطرناک اسپیس واک کرنا پڑی اور کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد وہ سیٹلائٹ دوبارہ قابو میں لایا گیا۔ ابتدا میں بعض لوگوں نے اس واقعے کی ذمہ داری کلپنا پر ڈالنے کی کوشش کی۔ مگر جب مکمل تحقیقات ہوئیں تو حقیقت سامنے آئی۔ خرابی روبوٹک آرم چلانے میں نہیں، بلکہ دوسرے تکنیکی عوامل میں تھی۔
ناسا کے سینئر انجینئروں نے نہ صرف کلپنا کو ہر الزام سے بری قرار دیا بلکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی بھرپور تعریف کی۔ یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ سولہ روزہ مشن کے دوران کولمبیا نے زمین کے 250 سے زیادہ چکر لگائے۔ بے شمار سائنسی تجربات کیے گئے۔ اور جب یہ مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا تو پوری دنیا نے کلپنا چاولہ کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا۔ وہ اب صرف ایک سائنس دان نہیں رہیں... بلکہ لاکھوں نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن بن چکی تھیں۔لیکن... انہیں کیا معلوم تھا کہ چند برس بعد وہ دوبارہ اسی کولمبیا اسپیس شٹل میں سوار ہوں گی۔ اور وہی سفر...
ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر کلپنا چاولہ ایک بار پھر ناسا کی اہم ترین ٹیم کا حصہ بن چکی تھیں۔ ان کی صلاحیت، تجربہ اور غیر معمولی محنت نے انہیں ان خلانوردوں کی صف میں لا کھڑا کیا تھا جن پر ناسا کو مکمل اعتماد تھا۔ چند ہی برس بعد... ایک نئے مشن کا اعلان ہوا۔ STS-107 یہ صرف ایک خلائی سفر نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی تیرتی ہوئی تجربہ گاہ تھی جس میں دنیا بھر کے سائنس دانوں کی امیدیں سوار تھیں۔ اصل منصوبہ یہ تھا کہ یہ مشن 2001 میں روانہ ہوگا۔ لیکن تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس کی روانگی بار بار مؤخر ہوتی رہی۔ ایک بار... دو بار... پھر کئی بار... یہاں تک کہ مجموعی طور پر تیرہ مرتبہ اس کی تاریخ تبدیل ہوئی۔
بالآخر... 16 جنوری 2003 وہ دن آ ہی گیا جب کولمبیا اسپیس شٹل ایک بار پھر لانچ پیڈ پر کھڑا تھا۔ اس مرتبہ اس کے اندر صرف مشینیں نہیں تھیں... بلکہ سات خواب، سات خاندانوں کی امیدیں اور پوری انسانیت کے سائنسی مستقبل کی خواہشیں بھی موجود تھیں۔
عملے کی قیادت کر رہے تھے...کمانڈر رِک ہسبینڈ۔ ان کے ساتھ تھے...پائلٹ ولیم میک کول،پے لوڈ کمانڈر مائیکل اینڈرسن، مشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر کلپنا چاولہ، ڈیوڈ براؤن، لاریل کلارک، اور اسرائیل کے پہلے خلا باز ایلان رامون۔ یہ ساتوں افراد مختلف ملکوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے تھے... مگر خلا میں ان کی شناخت صرف ایک تھی... انسان۔ اس مشن کا مقصد کوئی سیارہ فتح کرنا نہیں تھا۔ کوئی نیا چاند دریافت کرنا بھی نہیں تھا۔ بلکہ زمین پر موجود انسانوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ایسے سائنسی تجربات کرنا تھا جنہیں زمین کی کششِ ثقل میں انجام دینا ممکن نہیں۔ کولمبیا کے اندر چوبیس گھنٹے تجربات جاری رہنے تھے۔ اسی لیے عملے کو دو ٹیموں میں تقسیم کیا گیا۔ جب ایک ٹیم آرام کرتی. .. دوسری لیبارٹری میں مصروف ہو جاتی۔ یوں پورے سولہ دن خلائی جہاز میں تحقیق کا سلسلہ ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔ ان تجربات کی تعداد اسی (80) سے بھی زیادہ تھی۔ کہیں سرطان کے خلیوں کی افزائش کا مطالعہ ہو رہا تھا... کہیں آگ کے شعلوں کا رویہ دیکھا جا رہا تھا... کہیں مائع مادوں کی حرکت کا جائزہ لیا جا رہا تھا... اور کہیں ایسے ننھے جانداروں پر تحقیق جاری تھی جن سے مستقبل کی طب میں نئی راہیں کھل سکتی تھیں۔ ڈاکٹر کلپنا چاولہ خاص طور پر ان تجربات کی نگرانی کر رہی تھیں جن کا تعلق مائیکرو گریویٹی سے تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ خلا میں آگ کیسے جلتی ہے... خلیات کس طرح بڑھتے ہیں...
اور وہ کون سے راز ہیں جو زمین پر پوشیدہ رہ جاتے ہیں مگر خلا میں آشکار ہو جاتے ہیں۔ اس مشن میں صرف سائنس دان ہی شریک نہیں تھے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے اسکولوں کے بچوں نے بھی اپنے ننھے ننھے تجربات کولمبیا کے ذریعے خلا میں بھیجے تھے۔ کسی نے مکڑیوں کے جالوں کا مشاہدہ کروایا...کسی نے چیونٹیوں کی حرکت... کسی نے شہد کی مکھیوں کا رویہ... اور کسی نے پھولوں کی خوشبو پر تحقیق کرائی۔ یہ گویا پوری انسانیت کا مشترکہ سائنسی سفر تھا۔ سولہ دن تک ہر چیز حیرت انگیز حد تک کامیابی سے چلتی رہی۔ ایک ایک تجربہ مکمل ہوتا گیا۔ ڈیٹا مسلسل زمین پر بھیجا جاتا رہا۔ ناسا کے سائنس دان خوش تھے۔ عملہ مطمئن تھا۔ اور سب کو یقین تھا کہ چند ہی دن بعد کولمبیا بحفاظت واپس اترے گا۔ لیکن...کسی کو معلوم نہیں تھا...کہ اس عظیم مشن کی تقدیر کا فیصلہ تو اس کے آغاز کے صرف اکیاسی سیکنڈ بعد ہی ہو چکا تھا۔ وہ لمحہ ... جسے اس وقت کسی نے اہمیت نہیں دی...چند دن بعد سات جانوں کی قیمت بننے والا تھا۔
قسط نمبر تین انتظار کریں ...
Tags
واقعات و حوادث