بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھا


یہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھا اور زندہ سلامت واپس اپنے محل میں آگیا تھا پھر اس کے بعد وہ طبعی موت مرا تھا عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں کسی ایک جگہ بھی فرعون کے غرق ہونے کی خبر نہیں ہے جبکہ قران اس کے الٹ بات کرتا ہے سورہ یونس 90 تا 92 میں فرعون کے پانی میں غرق ہونے اس کے معافی مانگنے اور اس کی لاش کو محفوظ کرنے کی تفصیل آئی ہے اب یہ بہت بڑا تضاد ہے بائبل اور قران کا جس پر یہودی علما اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر تمہارا قران یہ کہہ رہا ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو پھر دکھاو وہ کہاں ہے؟
1898 میں مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کھدائی شروع کرتا ہے تو وہاں سے فرعون کی ممی دریافت ہوجاتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ آخری فرعون ہے یا کوئی پہلے والا فرعون ہے1935 تک تحقیقات سے یہ فائنل ہو جاتا ہے کہ یہ آخری فرعون کی لاش ہے مگر یہ مرا کیسے تھا یہ فائنل نہیں ہوا 1952 میں حضرت موسی پر بننے والی مشہور زمانہ فلمThe Ten Comandmint میں بھی اینڈ پہ فرعون کو واپس اپنے محل میں جاتے دکھایا گیا ہے 1984 میں فرعون کے پاوں میں پھپھوندی لگ جاتی ہےحکومت مصر اسے فرانس لے جانے کا پروگرام بناتی ہےفرعون کا باقائدہ پاسپورٹ بنتا ہے اور فرانس کی حکومت فرعون کو دنیا کا سب سے بڑا گارڈ آف آنر دیتی ہےفرانس کے ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر مورس بکائلے کی سربراہی میں فرعون کی باڈی کا معائنہ شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر مورس بکائلے کو یہ دیکھ کر شاک لگتا ہے کہ باڈی کے اندر سمندری نمکیات موجود ہیں ڈاکٹر مورس بکائلے مصر کا رخ کرتا ہے پھر وہ قران کے الفاظ سمجھنے کے لئیے اردن کے دیہاتی ایریاز میں جاتا ہےوہ اپنی پوری تحقیق کے بعد 1990 میں مشہور زمانہ کتاب بائبل قران اور سائنس لکھتا ہے جس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ قران تاریخ کیمسٹری طب اور سائنس پہ زیادہ بات کرتا ہے جبکہ بائبل زیادہ تر صرف اخلاقیات پہ بات کرتی ہےہم دکھائیں گے عنقریب تم کو اپنی نشانیاں افق میں اور تمہارے اپنے نفسوں میں تاکہ یہ بات کھل جائے کہ یہی حق ہے ( فصلت53)ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ قران کی مکمل تفسیر لکھنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں ایسئ ہزاروں آیات ہیں قران میں جن میں سے کچھ عیاں ہوچکی ہیں اور باقی وقت کی ترقی کے ساتھ ہوتی جائیں گی

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی