ملک شام کی خوفناک کہانی سریا کی طالبہ ہبہ الدباغ کی زبانی ، صرف پانچ منٹ ، قسط نمبر دس

سامنے لکڑی کے تختے دھرے تھے۔ نہ اس میں سے ہوا کا گزر ہو سکتا تھا اور نہ روشنی کی شعاع کا۔ ہمیں سردیوں کی ٹھنڈک میں بھی حسرت ہوتی تھی کہ دروازہ کھلے اور صاف ہوا کا کوئی جھونکا یا روشنی کی کوئی کرن اندر داخل ہو جائے ۔ ہم داروغہ یاسین سے التجا کرتے کہ وہ اس طاق نما سوراخ کو کھول دے یا اس میں ایگزاسٹ فین ہی لگا دے یا دروازہ کھلا رکھے لیکن وہ صاف انکار کر دیتا۔
اس تاریک سیل میں آٹھ ماہ گزارنے کے بعد ہمیں ہفتے میں ایک دوبار با ہر صحن میں نکلنے کی اجازت ملنے لگی۔۔۔ اور پنکھا لگانے کا مطالبہ ہماری گرفتاری کے دو سال بعد اس وقت پورا ہوا، جب بلاک میں نئی قیدیوں کے آنے کے بعد تل دھرنے کی جگہ بھی نہ رہی، بلکہ گھٹن کی شدت سے بعض کی اموات واقع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ دن بڑی آہستگی اور بوریت سے گزرنے لگے۔ ہمیں لیل و نہار کی گردش کا کچھ احساس نہ رہا، ہم محض اندازے سے رات اور دن کے اوقات کا تعین کر کے نماز ادا کر لیتیں۔ دن گزرنے کا اندازہ داروغے کی تبدیلی سے ہوتا یا بلاک کے باہر روشنی کے گل ہونے اور جلنے سے ۔

ہمارے قلق و اضطراب میں اضافے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہمیں بات کرنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ اہل کاروں تک ہماری آواز پہنچتے ہی وہ دروازے کو زوردار زنجیر سے بجانا شروع کر دیتا کہ ہم اپنی آواز بند کر لیں اور سرگوشی میں بات کریں۔ دو ہفتے بعد میری امی نے طے کیا کہ ہم بلاک کی اس پر رعب اور خوف ناک فضا کو اپنے انداز میں بدلنے کی کوشش کریں گے۔ سوانھوں نے آہستگی سے دروازہ بجایا اور حسین سے درخواست کی کہ وہ ہمیں ایک مصحف قرآنی لا دے۔ وہ حیرت سے بولا: کیا تم سمجھ رہی ہو کہ تم اپنے گھر میں بیٹھی ہو یا محفل میں اور جو چاہو حاضر کرنے کا حکم دے رہی ہو! کیا تمھیں نہیں معلوم کہ یہاں مصحف فراہم کرنا ممنوع ہے؟ انھوں نے اسی نرمی سے پوچھا کیوں ؟ وہ چالاکی سے بولا کیونکہ یہاں قرآن پاک نہیں ہوتے ۔
وہ بولیں میں نے اپنی آنکھوں سے کل تفتیش میں کچھ نسخے دیکھی تھیں ۔ غالبا وہ ان لڑکوں کے تھے جنھیں وہ سال نو کی تقریب سے پہلے مسجد سے پکڑ کر لائے تھے اور اُن کے ہمراہ جیبی سائز کے مصحف قرآنی بھی تھے جو اُن سے چھین لیے گئے تھے۔ وہ بڑے تکبر سے بولا: لیکن وہ مصحف جلانے کے لیے ہیں، نہ کے پڑھنے کے لیے۔ (نعوذ باللہ ) وہ منت کر کے کہنے لگیں: ہمیں ان میں سے صرف ایک دے دو، کسی کو پتا بھی نہ چلے گا اور نہ ہی کوئی تم سے اس بارے میں احتساب کرے گا۔ اگر کوئی جیبی نسخہ ہی ہو جائے تو ٹھیک ہے۔

اس نے ممنوع کہہ کر دروازہ دھڑ سے بند دیا۔ انھوں نے دوبارہ دروازہ کھٹکٹایا تو ایک اہل کار جس کا نام ابراہیم تھا آگیا۔ اُنھوں نے اس سے بھی وہی سوال کیا۔ اس کا جواب پہلے سے مختلف نہ تھا، یعنی: ممنوع مصحف قرآنی کی یہاں اجازت نہیں۔ اُنھوں نے قلم اور ورق مانگا تا کہ وہ اپنا مطالبہ تحریری طور پر پیش کریں۔ وہ بولا ہمارے پاس ورق بھی نہیں ۔ بڑی منتوں کے بعد اس نے کاغذ فراہم کیا۔
پھر جب وہ درخواست لے کر جا رہا تھا تو بولا : آپ کو قرآن کیوں چاہیے؟ تاکہ آپ اسے پڑھ پڑھ کر ہمیں بدعا میں دیتی رہیں! امی نے ہار نہ مانی اور کھانے کی ہڑتال کر دی۔ ہم سب بھی ان کے ساتھ ہڑتال میں شریک ہو گئے ، غصے میں آکر انھوں نے ہمارا پانی بھی کاٹ دیا۔ اگلے روز پھر امی نے ایک کاغذ لے کر قرآن کا مطالبہ دہرایا۔ اس درخواست کے بعد جیلر ابو عصام آیا اور مطالبہ کرنے کی وجہ پوچھی ۔ امی نے بتایا کہ ہمارا دل بہت خفا ہے اور ہم قرآن سے سکون حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ وہ کہنے لگا: آپ دوسری چیزوں میں کیوں دل نہیں لگا لیتیں۔ وہ بولیں : مثلاً کیسے؟ بولا : جیسے نوجوان کا مشغلہ ہے۔۔ وہ آٹے سے دل بہلا لیتے ہیں۔
وہ بولیں: ٹھیک ہے۔ ہمیں بھی سکھا دیجیے۔ وہ بولا : اچھا۔ میں ان سے تکنیک پوچھ کر آپ کو بتاؤں گا۔

ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا جب وہ ایک پرانا مگر بہت بڑا اور اچھی کتابت و طباعت والا قرآن کا نسخہ لے آیا۔ ہم نے اسے پاروں میں تقسیم کر کے بانٹ لیا اور ہمارے پاس جو ذاتی سامان کے کنستر تھے ان میں محفوظ کر لیا۔ ہم اس کی تلاوت کرنے لگیں اور حفظ کرنا شروع کر دیا۔ ایک اہل کار نے جیلر کے حکم سے آکر ہمیں آٹے سے کھیلنا بھی سکھا دیا۔ نوجوان قیدی روٹی کا پکا ہوا حصہ جس قد رکھا سکتے کھا لیتے اور باقی کی ادھ کچی روٹیوں کو اکٹھا کر لیتے اور اپنے لعاب سے اسے خمیر دے کر اس سے مختلف اشکال ، مجھے اور تسبیح کے دانے بنا لیتے ، یہی ان کے فارغ وقت کی مشغولیت تھی۔ ایسا ہی ایک مجسمہ رئیس الفرع نے اپنے دفتر میں آویزاں کر رکھا تھا، میں ابتدا میں اسے چاندی کا مجسمہ سمجھی تھی ، کیوں کہ جب وہ خشک ہو جاتے تو اہل کاران نوجوانوں کو مختلف رنگ فراہم کرتے۔ اس سے وہ بے حد خوب صورت اشیا میں ڈھال لیتے ، پھر اہل کاران سے باصرار لے لیتے تھے۔ یہ نئی تکنیک سیکھنے سے ہماری زندگی میں بھی دلچسپی کا عنصر داخل ہو گیا اور ہم نے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو رنگنے کے لیے چائے کی فالتو بچی استعمال کرنے کا تجربہ کیا۔ اسی طرح بچی کچھی دوائیں بھی رنگ سازی کی اس صنعت میں کام آنے لگیں۔ میری امی نے یہاں پر کئی کھیل متعارف کروائے ، انھوں نے ہمیں " لعبہ الکاس سکھائی، (یہ پارسل گیم سے مشابہ تھی ) گلاس باری باری سب کے پاس جاتا اور جہاں اسے روک دیا جاتا ، اس خاتون کو تیزی سے پوچھے گئے سوال کا جواب دینا ہوتا تھا۔ الحاجہ مدیحہ اس کھیل میں شامل نہ ہوتی تھیں بلکہ وہ ہمارا بھی مذاق اڑاتی رہتی تھیں۔ جیل کی اعصاب شکن زندگی میں ہم نے ایک نظام الاوقات ترتیب دے لیا جس کے مطابق تلاوت قرآن کریم، حفظ قرآن، دعاؤں، اذکار و وظائف اور تسبیح کے لیے اوقات مقرر کر دیے گئے۔ خواتین کی باہم مقابلہ بازی ہوتی کہ کون قرآن کا زیادہ حصہ نماز تہجد میں تلاوت کرتی ہے۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد مل کر دعا میں یاد کرتے۔ روشنی گل ہوتی اس کے باوجود ہم چالیس مرتبہ سورہ یسین پڑھتے اور رہائی اور معاملات میں آسانی کے لیے قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کرتے۔ اس معمول کا اعادہ شام کے اوقات میں کیا جاتا۔ میں دن کو بھی ماجدہ کو حفظ سناتی رہتی، جب تک کہ مجھے نیند نہ آجاتی اور کبھی تو سارا دن ہی بغیر سوئے گزر جاتا۔ امی بھی صبح سے ظہر تک بیدار رہتیں اور بعد نماز ظہر کچھ دیر سو جاتیں۔ ہماری کسی قدر دلچپسی اپنے بلاک کی دیواروں کی دوسری جانب تھی، جب نو جوان کو الخط میں لے جایا جاتا تو ہمارے کان کھڑے ہو جاتے، کبھی دروازے کی درز سے ہم ان میں اپنے بھائیوں، کزنز یا قریبی رشتے داروں کو تلاش کرتے۔ نوجوانوں اور ہمارے بیچ یہی واحد تعلق نہ تھا، ہمارے آنے سے قبل ان میں ایک اور ہمدری کا تعلق پیدا ہو چکا تھا۔ جب خواتین نے اہل کاروں سے بیت الخلا کی ضرورت کے لیے پائپ کا ایک ٹکڑا منگوایا اور اسے بیت الخلا کے سوراخ سے ان کی جانب گزار دیا۔ اس سے بیت الخلا میں ان کو پانی ملنے لگا۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد ہمارے بلاک میں قید ایک عراقی جاسوسہ نے کسی تلخی کی بنا پر ہمارا پول کھول دیا۔

قسط نمبر گیارہ کے لیے انتظار کریں 

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی