شام کی جیلوں میں درندگی کی انتہاء ، از ہبہ الدباغ ، قسط نمبر سولہ

ہم سب کے منہ حیرت سے کھل گئے: استغفر اللہ۔ لیکن ام شیما نے اٹھ کر ریڈیو بند کر دیا ، اور بولیں: لڑکیو اس میں کچھ ہے۔ہالہ یوں ہی بت بنی کھڑی رہی، نہ اس نے حرکت کی نہ اپنی جگہ سے ہلی ، رات ہو گئی ۔ آدھی رات تک وہ لکڑی کے تختے کی مانند ہو چکی تھی۔ ہم نے جب اسے ہلانے کی کوشش کی وہ کسی بندوق کی گولی کی مانند زمین پر آرہی ! الحاجہ خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور ابراہیم سے کہنے لگیں: بیٹا اس کو کچھ اثر ہے؟ یہ اسی جگہ جمی کھڑی ہے؟ ہم سونا چاہتے ہیں، آرام سے بیٹھنا چاہتے ہیں، کچھ کھانا پینا، مگر یہ اسی طرح کھڑی ہے۔ ابراہیم بولا: اسے کچھ دھیان نہ دو۔ یہ تو مجسمہ ہے۔ الحاجہ نے حیرت سے پوچھا: کیا یہ جب سے آئی ہے اس حالت میں ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا: ہاں بالکل اسی طرح میٹی کا مادھو ۔ یہ ڈرامہ کر رہی ہے۔ سمجھتی ہے اس طرح تفتیش اور فرد جرم سے بچ جائے گی ، حانکہ جرم ثابت ہو چکا ہے۔ یہ محض اس کا خواب ہے۔ الحاجہ دوبارہ اس کے پاس آگئیں اور پیار سے اسے تھپتھپایا اور وہیں بیٹھ کر اسے بھی پاس بٹھا لیا۔ ہم نے ان سے کہا کہ روشنی گل کر دیں اور ہم سونے کے لیے لیٹ گئے ، ابھی چند لمحے بھی نہ گزرے تھے کہ میں نے اسے اپنے پاؤں کے قریب اکڑوں بیٹھے دیکھا، خوف کی ایک لہر میرے اندر سرایت کر گئی اور میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور چیخ کر بولی: حجہ ؛ اللہ کے واسطے اسے مجھ سے پرے کرو۔ سب لڑکیاں فورا اٹھ گئیں اور مجھ سے پوچھنے لگیں کہ کیا ہوا ہے۔ ان کی نظر اس پر پڑی تو وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، الحاجہ اس کے پاس آئیں اور اسے نرم لہجے میں کہا: بیٹی آپ میرے پاس آجاؤ۔
اور اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئیں ۔ بلاک میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ صبح نماز کی ادائیگی کے بعد جب میں دوبارہ سونے کے ارادے سے لیٹی تو اچانک مجھے اپنے قریب سانسوں کی گرماہٹ محسوس ہوئی، میں نے آنکھیں کھولیں تو میرا کمبل ایک جانب سے سر کا ہوا تھا اور وہ مجھے گھور رہی تھی اور اس کے ہاتھ میری گردن کی جانب بڑھ رہے تھے، گویا وہ میرا گلا گھونٹنا چاہتی ہو۔ میری چیخ نکل گئی۔ وہ اس طرح دوسری جانب متوجہ ہوگئی جیسے کچھ ہواہی نہ ہو۔ میری آواز سے ماجدہ بیدار ہو گئی اور اس سے پوچھنے لگی: تم کیا چاہتی ہو؟ کیا تمھیں کچھ چاہیے؟ اس نے بے پروائی سے جامد لہجے میں پوچھا: یہ کیا ہے۔ کیا یہ کلیسا ہے۔
ماجدہ بولی نہیں۔ یہ کلیسا نہیں ، یہ جیل ہے! پھر وہ دوبارہ خاموش ہو گئی اور بے حس و حرکت بیٹھ گئی۔
ہالہ جب آئی تو اس کے کپڑے اور حجاب سخت میلے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ ان پر میل کی تہوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ہم میں سے جب بھی کوئی اس کے قریب ہونا چاہتا یا اس کے کپڑوں کو چھونا بھی چاہتا تو وہ بلک کر اور پرے ہو جاتی ۔ اسی حال میں آٹھ ماہ گزر گئے۔ نہ وہ کسی سے بات کرتی نہ کھاتی پیتی اور نہ غسل کرتی ۔ ہم جبرا اس پر کچھ پانی انڈیلتے اور زبردستی اس کے منہ میں نوالے ڈالتے جنھیں وہ نگلنے میں بھی گھنٹہ لگا دیتی تھی۔ وہ رات کے وقت غسل خانے کی جانب بڑھتی لیکن اگر اس پر کسی کی نظر پڑ جاتی تو وہ وہیں سے واپس لوٹ آتی تھی۔ ایک روز عائشہ نے اسے ایک ابلا ہوا آلو پیش کیا، اس نے اس کے ہاتھ سے جھپٹ کر اسے زور دار طریقے سے نشانہ لے کر پھینکا۔ میں اس وقت غسل خانے میں کپڑے دھو رہی تھی جب میرے سر میں ایک زور دار دھما کا ہوا۔ شاید وہ میرے معاملے میں کافی جرات مند ہوگئی تھی۔
اس کے آنے کے ایک ماہ بعد ہم نے طے کیا کہ کسی صورت اس کے کپڑے تبدیل کروائیں، اس سارے عرصے میں اس نے غسل نہ کیا تھا لیکن ہم جب بھی اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتے وہ بھاگ کھڑی ہوتی۔ الحاجہ اور ام شیما نے اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور اسے قائل کرنے لگیں دیکھو۔ یہ کپڑے بہت خوب صورت ہیں مگر اب یہ میلے ہو گئے ہیں۔ اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ ام شیما اصرار کرنے لگیں، وہ چیخ کر بولی : ” یا لطیف ۔ یا ساتر اور انھیں جھٹک دیا، ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ اس کے کپڑے پھاڑ کر تبدیل کروادیں لیکن اس کا جسم ہنوز میلا تھا اور وہ اپنے لمبے ناخنوں سے اسے کھجاتی اور زخمی کرتی رہتی تھی، حالت یہاں تک پہنچی کہ اس کا جسم جوؤں سے بھر گیا۔ ہم نے ایک اور کوشش کی اور سب نے مل کر اسے حمام میں داخل کر دیا اور اتنی چھینا جھپٹی اور چیخم دھاڑ ہوئی کہ اہل کار بھاگے چلے آئے کہ کیا ہو رہا ہے۔ الحاجہ نے کہا: کچھ نہیں ۔ ہم اسے غسل کروا رہے ہیں کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں اسے جلدی بیماری نہ ہو جائے۔

وہ بولے تمھیں نہیں پتا وہ تم سے ڈرامے کر رہی ہے۔ یہ پاگل ہے۔ فاجرہ۔ اہل کار اس کے بارے میں ہمیشہ اس کٹھورپن سے بات کرتے لیکن غسل کے دوران ہم نے اس کے پاؤں ، پنڈلیوں اور جسم کے نچلے حصوں پر گرم استری کے نشانات دیکھے، ہم اس کا سوختہ بدن دیکھ کر حیران رہ گئے لیکن اس اسرار سے پردہ کون اٹھاتا۔ یوں اس خاتون پر الم ناک مظالم کی تفصیل ایک سربستہ راز ہی رہی۔ پانچ چھ ماہ کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ اس کا پیٹ بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور وہ کافی تکلیف میں رہتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا تناؤ بڑھ رہا تھا۔ وہ تکلیف سے چلانا اور ہائے وائے کرنا شروع کر دیتی۔ ہمیں شک ہوا کہ شاید وہ امید سے ہے لیکن اب بھی ہمیں اس کے حال کی کچھ خبر نہ تھی۔ الحاجہ نے از خود کڑیاں ملانا شروع کیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی القاعدہ ممبر کی بیوی ہو اور وہ اکٹھے ہی چھاپے کی لپیٹ میں آگئے ہوں اور اس کی نظروں کے سامنے اس کے شوہر کو شہید کر دیا گیا ہو اور اس صدمے سے اس کی یہ حالت ہو گئی ہو اور یہ امید سے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود اہل کار نے بھی کچھ محسوس کیا ہو کہ جب رئیس تک خبر پہنچی تو تفتیشی اہل کار تفتیش کے لیے آگئے۔ تفتیشی شعبے کا نگران کہنے لگا: ہم خود چیک کریں گے، کہیں وہ حاملہ ہی نہ ہو۔ ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ وہ خود ذمہ داری سے تحقیق کر کے انھیں بتا دیں گی۔ ڈاکٹر عائشہ کے لیے اس ذمہ داری کو نبھانا بھی ایک آزمائش بن گیا، ہالہ کی چیخ و پکار نے جیل کے درودیوار کو لرزا کر رکھ دیا۔ اس کے جسم پر زیادتی کے واضح نشانات تھے لیکن اہم خبر یہ تھی کہ وہ حاملہ نہیں تھی۔ اگلے دو روز ہالہ نے شدید تکلیف میں گزارے حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ درد کی شدت سے کہیں اس کی موت ہی واقع نہ ہو جائے ۔ ہم سب نے مل کر فریاد کی: خدا کے لیے کسی ڈاکٹر کو بلوالا ؤ، ہالہ مر جائے گی۔ ایک اہل کار پھر تفتیش کے لیے آحاضر ہوا۔ ہم نے بتایا کہ شدت الم سے اس کی جان جاسکتی ہے۔ اس نے نہایت کٹھور پین اور سردمہری سے جواب دیا: تو کیا ہوا؟ حسب قانون سات فی صد قیدیوں کی جیل میں موت کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن ہماری منت سماجت اور فریاد کے بعد وہ سپیشلسٹ ڈاکٹر کو بلا لایا، جو قیدیوں کے نہیں بلکہ....

قسط نمبر سترہ کے لیے انتظار کریں 

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی