اہل کار مضطرب ہو کر حیرانی سے بولا: خدا کی قسم میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں نے تو فقط اتنا کہا تھا کہ الماجدہ! حلب آؤ اور یہ سیمنٹ لے جاؤ۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ الماجدہ ریاض کان کی خرابی کی وجہ سے کچھ سن نہ پاتی تھیں، فقط کل کی سزا نافذ ہونے کا خوف تھا جس میں انھیں ”قید با مشقت“ کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس اہل کار کو دیکھ کر انھیں یہی خیال آیا کہ انھیں صبح سویرے جبری مشقت کے لیے لے جانے آ گئے ہیں۔ اسی سبب وہ غم سے بے ہوش ہوگئیں۔ سیاسی قیدیوں کا بلاک ہمارے یہاں آنے سے پہلے ہی بھرا ہوا تھا، ان میں: حمات سے غزوہ، دمشق سے ثناء، ام معقل اور ان کا بیٹا معقل، جس کی پیدائش اسی قید خانے میں ہوئی تھی، جسر شغور سے ام بیشم، جسر ہی سے ام عبدالباسط اور ان کی بیٹی عائشہ، اللاذقیہ سے سنیحہ اور فاطمہ، اللاذقیہ ہی سے ام محمود کامل وغیرہ تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی ایک کہانی تھی اور آپتے درد اور الم کے قصے۔غزوہ ماہردندان تھی، اس نے حمات میں اخوان کے حامی نوجوانوں کے لیے ایک گھر خریدنے میں مدد کی تھی اور عبدالكريم رجب نے اس کا راز فاش کروا تھا، سو وہ اسے صوران میں اس کے کلینک سے اٹھا لے آئے۔ ابتدا میں اسے فرع امن سیاسی حمات میں رکھا گیا، پھر فرع تحقیق عسکری دمشق منتقل کیا گیا اور چھ یا آٹھ ماہ وہاں رکھنے کے بعد قطنا لے آئے، تاکہ باقی قید میں پوری کرے۔۔ سناء کا شناختی کارڈ کسی نے اس کے علم میں لائے بغیر کسی مکان کی خرید میں استعمال کیا تھا۔ جب اس گھر کا انکشاف ہوا تو اس کی ملکیت ہونے کی وجہ سے اسے پکڑ لیا گیا تھا۔ سناء 1960ء کی پیدائش تھی اور ہمارے ساتھ کلیہ الشریعہ کی طالبہ تھی۔ سناء اسی روز گرفتار ہوئی جس روز مجھے گرفتار کیا گیا تھا، لیکن اس سے عسکری ذمہ داروں نے تفتیش کی۔ دوران تفتیش اس سے میرے بارے میں بھی پوچھا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ انھیں دمشق میں میرے گھر لے جائے۔ وہ خود اس کے ہمراہ گئے اور اسے آگے بڑھ کر دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا۔ دروازے پر میری امی آئیں۔۔ میں تو گزشتہ رات ہی گرفتار ہو چکی تھی اور ابھی تک اہل کار ہمارے فلیٹ میں چھپے ہوئے تھے، جب اس نے میری امی کو دیکھا تو ان سے یہی کہا کہ وہ فوراً یہاں سے چلی جائیں اور اپنی بیٹی کو بچانے کی کوشش نہ کریں۔ اندر سے اہل کار نے آگے بڑھ کر اسے گرفتار کرنا چاہا تو اسے معلوم ہو کہ سناء تو پہلے سے ہی گرفتار شدہ ہے۔ وہ اسے واپس لے آئے اور جیل کی دوسری بلاک میں لے گئے۔ قیدیوں میں تیسری مطیعہ ام معقل مدرسے کی معلمہ تھیں۔ ان کے بعض اساتذہ کو ستر کی دہائی کے آخر میں شک کی بنیاد پر ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا اور انھیں ایک ڈسپنسری کے منتظمہ کے طور پر ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔ ان کے شوہر بھی اخوان کے حامیوں میں سے تھے، لیکن وہ فرار ہوگئے۔ پولیس نے ان کے بدلے ان کے والد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے وقت مطیعہ کی عمر چالیس برس سے کچھ کم تھی، وہ چار بچوں کی ماں تھی اور پانچواں دنیا میں آنے ہی والا تھا، لیکن انھیں اس حال میں بھی معاف نہ کیا گیا، وہ اپنے شوہر کے جرم میں قید کی گئیں۔ انھیں کچھ وقت کے لیے جسر کی امن سیاسی کی تابع عسکری ڈسپنسری میں رکھا گیا۔ اس ڈسپنسری کے ایک کمرے میں دھمکیوں اور خوف کے نتیجے میں قبل از وقت ولادت کا عمل شروع ہوگیا۔ ان کی طبیعت بگڑی تو انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا کر کسی کو مدد کے لیے پکارا مگر انھیں کوئی جواب نہ دیا گیا۔ انھوں نے چیخ چیخ کر بتایا کہ ان کی اور بچے کی مدد کی جائے مگر کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ بچے کی ولادت کے بعد جب اس کے رونے کی آواز آئی تو انھوں نے ایک نرس کو مدد کے لیے بھیجا، لیکن اس وقت تک کسی مدد کی ضرورت نہ رہی تھی پھر انھیں اور مولود کو ذیلی شاخ تحقیق عسکری دمشق میں نقل کیا گیا اور ہم سے کچھ مہینے پہلے انھیں قطنا جیل میں لایا گیا۔ اب معقل سات، آٹھ ماہ کا ہو چکا تھا۔صدر اسد کو گالی اس کا نام معقل بھی حلیمہ نے صحابی رسول معقل بن یشار کی مناسبت سے رکھا تھا اور وہ پیدا بھی معتقل (جیل) میں ہوا تھا۔ مطیعہ بڑی صابرہ خاتون تھیں، لیکن جیل کے آلام سے بڑھ کر ان کے لیے دکھ یہ تھا کہ بچہ بلا قصور جیل میں ہے اور اس کے بچپن کا حسین زمانہ ان اونچی فصیلوں کے بیچ گزر جائے گا۔ اس کے مستقبل کے بارے میں بھی روشنی کی کوئی کرن نہ آ رہی تھی، جیسے اس کا مستقبل سیلوں، بلاکوں اور جیلوں کی نذر ہو رہا تھا۔ اس سے بڑھ کر اس کے لیے یہ احساس تکلیف دہ تھا کہ وہ کس طرح دوسری قیدیوں کے ہاتھوں میں ان کے جذبات کی تسکین اور Catharsis کا آلہ بنا ہوا تھا۔ کتنی ہی قیدی خواتین اپنے شوق کی خاطر اسے اپنا دودھ پلا دیتیں اور اپنی بوریت اور تھکاوٹ اس سے اتارنے کی کوشش کرتیں۔ ام معقل اسے کچھ سکھانے کی کوشش کرتیں اور کئی قیدی اسے عجیب و غریب چیزیں سکھا دیتیں۔ وہ ان کی دلاآزاری سے بچنے کے لیے کچھ کہہ بھی نہ پاتیں۔ وہ بے بسی سے اپنے بچے کو سینے سے چمٹا لیتیں، یا زیادہ وقت اسے اپنے قریب رکھتیں تاکہ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے، لیکن یہی باتیں اسے کتنے ہی مسائل اور مصائب سے دوچار کرتیں ۔ اسے خود بھی پتہ نہ چلا کہ بچے نے باتیں سیکھنے کی عمر میں کہاں سے لفظ ”ظض اسد“ (صدر شام حافظ اسد کو گالی) سیکھ لیا۔ وہ جب کبھی اس کا ذکر سنتا یا اس کی تصویر دیکھتا ”ظض اسد“ کہتا۔ انھیں دنوں معقل بیمار ہو گیا، بیماری طویل ہوگئی تو بڑی مشکل اور منتوں کے بعد اسے ڈسپنسری جانے کی اجازت ملی اور اسی حالت میں جب اس نے ڈسپنسری میں حافظ اسد کی دیوار پر آویزاں تصویر دیکھی تو وہ لوگوں کی پروا کیے بنا زور سے چلایا ”ظض اسد“ اور ماں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اسے خاموش کیسے کروائے۔ اسی طرح جب مطیعہ کو محكمة ميدانيه میں پیش کرنے کے لیے لایا گیا، تو بچہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ کونسل کے سامنے میز پر حافظ اسد کا مجسمہ رکھا تھا۔ معقل جب اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھے پر تھوک دیا اور با آواز بلند بولا: ظض اسد۔ ڈیوٹی پر مامور سپاہی غضب ناک ہو گیا اور ماں بیٹا دونوں کو قید تنہائی کی سزا ملی۔ معقل نے رونا شروع کر دیا اور زور زور سے یہی کلمات دہرانے شروع کردیے۔ ماں اسے خاموش کرواتی یا اس کے منہ پر ہاتھ رکھتی تو وہ اور زیادہ زور سے کہتا اور ان کی قید تنہائی میں مزید اضافہ ہو جاتا، نجانے اس کا سبب بچہ تھا یا وہ جنھوں نے اسے یہ سکھایا تھا، لیکن قیمت اتنے چکانا پڑ رہی تھی۔ ہم سے پہلے قطنا میں جسر شغور کی رہائشی ام بیشم بھی تھیں ۔ وہ اپنے چار بچوں اور شوہر کے ہمراہ اخوان کے حامیوں کے ایک گھر میں رہ رہی تھیں۔ خفیہ والوں نے اچانک چھاپا مارا اور ان کے ساتھ انھیں بھی دھر لیا۔ بعض لوگ مارے گئے اور بعض فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ابو ہیشم بھی اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ گرفتار ہوگئے اور ان سب کو بہت بری طرح تعذیب کا نشانہ بنایا گیا۔ شوہر کو اسی قید خانے میں حکومتی احکامات کے تحت قتل کر دیا گیا اور ان لوگوں پر لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کا الزام لگایا گیا۔ یہی الزام محکمہ میدانیہ کی طرف سے ان کی ساتھی قیدیوں ام معقل اور ام عبدالباسط اور ان کی بیٹی عائدہ پر لگایا گیا اور ان سب کی رہائی 1985ء میں عمل میں آئی۔ جہاں تک سنیحہ اور فاطمہ کا تعلق ہے تو وہ محافظہ لاذقیہ کے علاقے مرج خوخہ سے تعلق رکھتی تھیں ۔ وہ اپنے بعض اخوانی رشتے داروں کے ہمراہ بستی کے قریبی پہاڑ پر چلی گئی تھیں۔ فاطمہ کی عمر ۱۵ برس تھی اور سنیحہ کی ۱۶ برس، ان کے ساتھ ان کی ۱۸ سالہ پچازاد عقیته بھی تھی۔ ان پہاڑوں پر وہ حکومت کے ظلم سے بھاگے ہوئے افراد کے لیے کھانا تیار کیا کرتے اور دوسرے چھوٹے موٹے کام کر دیتے، خفیہ والوں نے ان پر کریک ڈاؤن کیا، تو بعض نوجوانوں کے ساتھ فتنہ بھی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئی، جب کہ سنیحہ اور فاطمہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ انھیں دو تین دن تک سجن الشیخ حسن دمشق میں رکھا گیا، وہاں ان پر کوئی تعذیب نہ کی گئی اور پھر انھیں قطنا جیل میں پہنچا دیا گیا ۔ ان ظالموں نے فقیہ کی میت بھی اس کے گھر والوں کو نہ دی اور خود ہی اسے دفنا دیا اور وہ تمام نوجوان جنھیں وہاں سے گرفتار کیا گیا تھا ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ دوسرے بلاک کی قیدیوں میں لاذقیہ سے ام محمود بھی تھیں ۔ وہ پانچ بیٹوں کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ دادی بھی تھیں۔ ام محمود کو ہم سے کچھ دن قبل اخوان کے حامی نوجوانوں کی مدد اور اپنے ایک قرابت دار کے ذریعے سفری دستاویز پہنچانے کا الزام تھا۔ انھیں پہلے كفر السوسہ لایا گیا اور ہماری آمد سے قبل ہی انھیں قطنا جیل منتقل کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے تعذیب دی اور ان کی عمر کا خیال کیے بنا انھیں مارا۔ ہماری رہائی تک وہیں قید ہیں۔ ڈہری جاسوسہ قطنا ہی کی قیدیوں میں معروف ترک کمیونسٹ رہنما ریاض کی بیوی اسماء فیصل بھی تھیں۔ وہ خود پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر تھیں اور عمر کے پچاس برس گزار چکی تھیں۔ وہ بھی ہم سے پہلے دوسرے بلاک کی مکین تھیں، میرا خیال ہے کہ وہ تقریبا تین برس سے یہیں قید تھیں، ہمارے یہاں آنے کے چند ماہ بعد انھیں رہائی مل گئی، لیکن اس مختصر عرصے میں بھی انھوں نے ہم پر اپنے اعلیٰ اخلاق کا گہر اثر چھوڑا۔ ان کا ہمارے ساتھ معاملہ بہت اچھا رہا، وہ بلاک میں اپنی ساتھی امیر ہ زرکلی سے بالکل مختلف خاتون تھیں۔ امیر ہ کی شادی ایک عراقی سے ہوئی تھی اور وہ اس کے ساتھ ہی عراقی سفارت خانے میں کام کرتی تھی۔ اس پر عراق اور شام دونوں کی جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔ اس کا پول کھلنے کے بعد اسے شام میں قید کیا گیا اور اس کی غیر موجودگی میں عراق میں اس پر مقدمہ چلا جہاں اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ان حالات میں اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ ہماری رہائی تک وہ قید میں تھیں۔ یہ خاتون ہمیشہ تکلیف دینے میں پیش پیش رہتی۔ اس کا رویہ برانچیختہ کرنے والا ہوتا۔ وہ اخوان کے بارے میں ہمیشہ بری بری باتیں کرتی، اسے اس بات کی بھی چنداں پرواہ ہوتی کہ اس کی باتوں کی آواز ہم تک پہنچ رہی ہے، وہ بولے چلی جاتی: ”دیکھ لینا۔ ساری قیدی رہا ہو کر گھروں کو پہنچ جائیں گی، لیکن مسکین اخوانی قیدی اس وقت بھی نظریں پھاڑ کر جیل کی سلاخوں کو تک رہی ہوں گی۔“ لیکن ہوا کچھ یوں کہ ہم سب کو اکٹھے رہائی مل گئی اور وہ پتھرائی نگاہوں سے ہمیں دیکھ رہی تھی سبحان اللہ اور اسے اس کے بھی تقریبا دو سال بعد رہائی ملی۔ قربانیاں بلاشبہ قطنا جیل میں زندگی کے شب و روز كفر السوسہ میں گزارے دنوں سے بڑے مختلف تھے۔ یہاں ہمیں حسن معاملة کی بہترین نعمت ملی تھی، لیکن جیل ہر اعتبار سے جیل ہی ہوتا ہے اور قید سونے کی سلاخوں کے پیچھے قید ہی ہوتی ہے اور جس نے بھی آزاد فضا میں سانس لی ہو وہ قید کے احوال سمجھ سکتا ہے، جہاں مشکلات، آلام اور پریشانیوں کی کتنی ہی صورتیں ہوتی ہیں۔ جب کبھی اس حال میں ہمارا دل گھٹنے لگتا تو کہیں سے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا ہمارے لیے آسانی پیدا کر دیتا۔ ابتدا میں ہمارا مجرم قیدیوں سے کوئی رابطہ نہ تھا، کیونکہ ہمارے دروازے باری باری کھولے جاتے تھے۔ کچھ کو صبح میں باہر نکلنے کا موقع ملتا اور کچھ کو شام میں، اور باری باری یہ ترتیب الٹ دی جاتی۔ پھر ہم نے آہنی سلاخوں کے پیچھے سے آپس میں بات چیت شروع کردی۔ ہم ان کی آپ بیٹیاں بھی سن لیتے اور ہمیں ان سے کافی تسلی بھی ملتی۔ ہم انھیں مختلف معاملات میں نصیحت بھی کرتے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے۔ ان میں سے اکثر خواتین گھر والوں کی غلط تربیت کی وجہ سے جرم کی دنیا میں داخل ہوگئی تھیں اور بعض حالات کی چکی میں پستے ہوۓ اس مقام پر آگئی تھیں۔ اسی ربط کے نتیجے میں ہم نے ایک مظلوم خاتون کو تاریک مستقبل سے بچانے کی بھرپور کوشش اور الحمد للہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ اسے گھریلو ناچاقی کی بنا پر اس کے شوہر نے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا، اس کا کوئی آسرا نہ تھا جہاں وہ جا کر پناہ لیتی اور یوں وہ ایک نانگہ کے جنگل میں پھنس گئی، جہاں اس نے اپنے راستے پر لگا دیا، جب ہمیں محسوس ہوا کہ وہ تو خود مظلوم ہے اور دوسروں کے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے، تو ہم نے ایک اجتماعی مسائل کی سوشل ورکر تک رسائی حاصل کی، جو قیدی خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی تھی اور اس کے باوجود کہ ہمارا اس سے رابطہ کسی خطرے سے خالی نہ تھا، بلکہ ہم تو قانون کے ان طالب علموں سے بھی فاصلے پر رہتے جو مجرموں کی سٹڈی کے لیے آتے، لیکن ہم نے بڑے محتاط انداز میں اس سے رابطہ کیا اور اسے اس قیدی کے بارے میں معلومات فراہم کریں، یوں نہ صرف اس کی عدالت تک رسائی ہوگئی، بلکہ اس کا نفسیاتی علاج بھی کیا گیا، بلکہ کچھ لوگوں نے ذاتی دلچسپی لے کر اس کی رہائی کے بعد ایک نوجوان سے اس کی شادی بھی کروا دی۔ جیل کی ضیافت اس مقام پر موضوع بحث جن قطنا ہے، تو مناسب ہوگا کہ اس کھانے کا بھی تذکرہ کر دیا جائے جو اس نئے گھر میں ہمیں ملتا تھا۔ ہمارے لیے بیشتر کھانا جن قلعہ حل صوالی معدنیہ سے آتا، لیکن ”جیل کا کھانا“ ہم تک پہنچنے میں اتنی تاخیر ہو جاتی کہ بھوک کے مارے ہم مرنے کے قریب پہنچ چکے ہوتے۔ جیل کی گاڑی جو قیدیوں کو عدالت میں پیش کرنے کے لے کر جاتی، وہیں واپسی پر کھانا بھی لے کر آتی۔ پولیس اہل کار جیل کے احاطے میں کھانا اترا تا اور قیدی خواتین سے کہتا کہ آکر کھانا وصول کر لیں اور خود ہی تقسیم کرلیں۔ جیل میں اچانک ہڑبونگ مچ جاتی اور چھیننا جھپٹی شروع ہو جاتی۔ ہر خاتون چاہتی کہ وہ آگے بڑھ کر تقسیم کا فریضہ انجام دے، لیکن باقی خواتین کو یہ قبول نہ ہوتا۔ بات اسی پر ختم نہ ہوتی، بلکہ دلوں میں کدورت بڑھ جاتی۔ تلخیاں روز بروز بڑھنے لگیں۔ جب مسائل زیادہ گھمبیر ہو گئے تو جیلر نے غزوہ کی ذمہ داری لگائی اور وہ بے چاری اپنی رہائی تک یہ فرض نبھاتی رہی۔ اگر یہ کھانے کی تقسیم کا مسئلہ تھا، تو اسی نوعیت کے کئی اور مسائل بھی تھے۔ اکثر کھانا پیش ہوتا تو نجانے کہاں سے لال بیگ حملہ آور ہو جاتے۔ کبھی وہ روٹیوں پر رینگ رہے ہوتے تو کبھی سالن کی پلیٹوں میں۔ کبھی وہ شوربے میں ڈوبے ہوتے اور ہمارے دانتوں تلے پس رہے ہوتے اور یہ تو بالکل عام بات تھی کہ کھانے پر چوکی داروں کے پیروں کے نشان ہوتے اور اسے نقل کرتے ہوئے، بیدردی سے زمین پر گھسیٹا ہوا تاور کنکرپاں بھی کھانے میں شامل ہو جاتے۔ گاڑی کا ڈرائیور جلدی میں ہوتا تو وہ کھانا باہر ہی اتار جاتا اور جیلر کے وہاں پہنچنے اور دروازہ کھولنے سے پہلے ہی کتے اور بلیاں اس پر حملہ کر چکے ہوتے اور پھر یہی معمول بن گیا۔۔ ہم قیدیوں سے اصرار کرتے کہ وہ چپکے سے ہمارے کھانے کے لیے کچھ خرید لائیں ۔ بعد میں ہمیں اس کی سرکاری طور پر اجازت بھی مل گئی اور ام دیوا ایک قیدی خاتون نے کینٹین طرز پر کچھ چیزیں بیچنا شروع کردیں، مگر گنتی قیمت پر۔ ایک دوسری مشکل پانی کے معاملے میں تھی، جو بلاک کے غسل خانوں کے ٹوٹیوں میں نہ آتا تھا، بلکہ جیل کے مرکزی نلکے سے سب بلاکوں میں پائپ کے ذریعے باری باری تقسیم ہوتا تھا اور کبھی کبھار ساتھ والے بلاک کو بھی دینا پڑتا تھا۔ اس طرح پانی بھی ہمارے لیے مسائل پیدا کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد جیل میں ٹیلی وژن بھی آگیا، جو خفیہ والوں کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا، تاکہ ”ہم“ انقلاب“ کی خبر اپنے کانوں سے سن لیں اور اس بات کی بھی کہ اس حکومت نے کیا کیا کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں قیدیوں کے درمیان نئے جھگڑے کا سبب بن چکا تھا۔ یہ ٹیلی وژن کا ہی کارنامہ تھا کہ الماجدہ ریاض پورے سکون اور اطمینان سے تمام خبریں سنتیں اور اگر ہم کوئی بھی خبر جاننا چاہتے تو ان ہی کے پاس جاتے ۔ ان ہی دنوں (یعنی 1985ء میں) حافظ اسد کی تاحیات بیعت کی خبر نشر ہوئی، جس کی خوشی میں اس نے تمام عسکری باغیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا، لیکن الماجدہ ریاض جن کے کان نجانے کب سے اسی خبر کے منتظر تھے یہ سمجھیں کہ اس اعلان میں یہ قیدی خواتین بھی شامل ہیں، وہ پوری طاقت سے چلائیں: ”الحمد للہ اب تو میں اپنی ماں کو دیکھوں گی اور بے ہوش ہوگئیں۔“ جب ہم نے اس خبر کی تفصیلات سنیں تو ہمارے دل بھی بجھ گئے اور ہماری ہمت جواب دے گئی، لیکن الماجدہ ریاض کے لیے یہ تشریح کسی بھونچال سے کم نہ تھی۔ وہ کہتے ہی دن غم کی تصویر بنی آنسو بہاتی رہیں۔ جیل میں آگ سجن قطنا کی نہ بھلائی جانے والی یادوں کے مناظر میں وہاں پے در پے لگنے والی آگ بھی ہے، جو زندگی کی قساوت اور الم، کشیدگی اور اضطراب کو آخری درجے پر پہنچا دیتی تھی۔ سب سے پہلے قتل کی مجرمہ فاطمہ کے غسل خانے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جو اپنے شوہر کے قتل کے جرم میں قید تھی۔ یہ آگ تھوڑی ہی دیر میں پورے بلاک میں پھیل گئی اور فاطمہ کو بری طرح جھلسادیا، کئی دوسری قیدی بھی اس کی لپیٹ میں آگئیں۔ اس وقت میں اور ماجدہ بلاک کی اوپر کی منزل میں نماز مغرب کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کر رہی تھیں اور کھڑکی سے اسی جانب رخ کیے بیٹھے تھے۔ انھوں نے چلانا اور مجھے مدد کے لیے پکارنا شروع کیا، لیکن سب دروازے اندر سے مقفل تھے، ہم نے ام دیپو کو آوازیں دیں، لیکن بلاک بند ہو جانے کے بعد وہ نہ تو ہماری بات سنتی تھیں نہ جواب دیتی تھیں۔ آگ کے شعلے جب صحن تک پہنچنے لگے اور ہر طرف دھواں بھر گیا اور آگ بجلی کی تاروں اور ساتھ والے بلاک کے باورچی خانے کے چولہوں تک جا پہنچی، تو آخر کار رام دیپونے الارم بیل بجائی اور اہل کار بغیر کسی تیاری کے آگ کے مقام کو تلاش کرنے لگے۔ ہر جانب شورچ گیا اور اسی ہڑبونگ میں بلاک کے کچھ قیدی خواتین نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی بھرپور کوشش کی، انھوں نے اپنا کمبل فاطمہ پر ڈال کر اس کی آگ بجھائی، جو مکمل طور پر شعلوں کی لپیٹ میں آ چکی تھی، انھوں نے ہی بلاک کی آگ بجھائی۔ فاطمہ کے جسم کا بڑا حصہ جل چکا تھا اور چند ہفتے بعد اس کا انتقال ہو گیا ۔ اس بے چاری کی آہیں اور کراہیں ہمیں سونے نہ دیتیں ۔ وہ بے ہوشی ہی میں روتی رہتی اور ہماری روح سلگتی رہتی اور اس کے جلے بدن سے اٹھنے والی بو سارے بلاک عجیب دکھ اور تکلیف میں رہتا۔ دوسری مرتبہ ہمارے بلاک کے لیمپ سے آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ایک قیدی نہانے کے عسل خانے میں موجود تھی، وہ اس قدر گھبرائی کہ دروازے کا قفل الٹی جانب کھولے لنے کی کوشش میں اسے مقفل کر لیا اور گھبراہٹ میں دوسری جانب سے زور آزمائی کرنے لگی، آگ پھیل کر دروازے کے قریب پہنچ چکی تھی اور وہ اس کی لپیٹ میں آنے ہی والی تھی، لیکن اللہ کی مہربانی کہ اس نے اسے اور ہمیں محفوظ رکھا۔ ہم قفل توڑنے میں کامیاب ہوگئے، ماجدہ کو اللہ جزا دے، وہ اندر داخل ہوئی اور بھڑکتے شعلوں کی پروا کیے بغیر لیمپ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، اگرچہ اس کوشش میں اس کے ہاتھ جل گئے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے قطنا جیل کے حالات کفر السوسہ سے ایجابی انداز میں اس قدر مختلف تھے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں فہرست ملاقاتوں کی اجازت تھی اور کچھ ہی عرصے میں ہمیں خطوط لکھنے کی سہولت بھی میسر آگئی، تو میں نے اپنے بھائی کو حل اوپھوپھی کو خط لکھا، حتیٰ کہ ام شیما نے سعودیہ میں اپنے گھر والوں کو مکتوب بھیجا اور مجھے بھی ان سب کے خطوط ملنے لگے، لیکن یہ سلسلہ دو یا تین ماہ سے زیادہ نہ چل سکا اور پھر خطوط پر سخت پہرے لگا دیے گئے اور اسی طرح کتابوں اور مطبوعہ مواد پر بھی۔ اگرچہ چہ ہفتہ وار ملاقات ہر جمعے کو ہوتی رہی اور اس میں کبھی تعطل نہ آیا۔ گھر والے مختلف علاقوں سے صبح سویرے ہی قطنا آجاتے اور ملاقات کی باری کا انتظار کرنے لگتے اور کتنے کتنے دروازے پر منتظر رہنے کے بعد انھیں اندر بلایا جاتا۔ یہ ملاقات کے
جاری ....

اللھم حفطنا
جواب دیںحذف کریں