قسط وار انہدامی کارروائی ، اور مسلمان امن و امان کے ٹھیکیدار


اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (کلکٹریٹ) دفتر کے احاطے میں واقع قدیم مسجد کو 5 ستمبر 2026 کی صبح انتظامیہ نے بلڈوزر چلا کر منہدم کر دیا۔ یہ کارروائی سٹی مجسٹریٹ اور ضلع عدالت کی جانب سے مسجد کو سرکاری زمین پر "غیر قانونی تعمیر" قرار دیے جانے کے بعد کی گئی، جس پر ایک بڑا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس پورے قضیے کی یہ معاملہ مارچ 2025 میں اس وقت سرخیوں میں آیا جب بجرنگ دل کے ایک مقامی لیڈر وکاس تیاگی نے انتظامیہ کو شکایت درج کروائی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انتہائی حساس اور سرکاری نوعیت کے کاموں والے مقام (کلکٹریٹ احاطہ) میں یہ مسجد غیر قانونی طور پر بنائی گئی ہے۔ مزید یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اس 315 مربع میٹر کی زمین پر بنی مسجد کا تجارتی استعمال ہو رہا ہے اور اس کے کچھ حصے کرائے پر دیے گئے ہیں۔ اس شکایت کے بعد محکمہ مال (ریونیو) نے جانچ شروع کی۔ سماعت کے بعد 16-17 جولائی 2026 کو سٹی مجسٹریٹ کلدیپ سنگھ کی عدالت نے مسجد کو سرکاری عدالت نے مسجد انتظامیہ کو 30 دن کے اندر جگہ خالی کرنے کا حکم دیا۔اس کے ساتھ ہی، سرکاری زمین کے مبینہ غلط استعمال پر مسجد کے ذمہ داران پر 6.41 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ (معاوضہ) بھی عائد کیا گیا۔ مسجد کمیٹی نے اس فیصلے کو ضلعی عدالت (ڈسٹرکٹ کورٹ) میں چیلنج کیا۔ دونوں فریقین کی جانب سے عدالت میں درج ذیل متضاد دعوے پیش کیے گئے-
مسجد کمیٹی کا مؤقف : کمیٹی کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد کلکٹریٹ کی موجودہ عمارت بننے سے بھی پہلے کی ہے اور تقریباً 100 سے 150 سال قدیم ہے۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے 1 جنوری 1911 کا بجلی کا بل، بلدیاتی ریکارڈ اور پرانے ریونیو دستاویزات پیش کیے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ یہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے بلا تعطل نماز ہو رہی ہے۔  سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ زمین کلکٹریٹ کا حصہ اور سرکاری املاک ہے۔ بجلی کے بل کے جواب میں انتظامیہ نے دلیل دی کہ سہارنپور شہر میں پہلی بار بجلی 1912 میں آئی تھی، لہذا 1911 کا بل درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ 4 ستمبر 2026 کو ڈسٹرکٹ جج ستیندر کمار نے مسجد کمیٹی کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے انہدامی حکم کو برقرار رکھا۔ عدالت سے اپیل خارج ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد، 5 ستمبر 2026 کی علی الصبح تقریباً 4 سے 5 بجے کے درمیان انتظامیہ نے بھاری پولیس فورس، پروونشل آرمڈ کونسٹبلری (PAC) اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کی موجودگی میں بلڈوزر چلا کر مسجد کو مکمل طور پر منہدم کر دیا۔ امن و امان قائم رکھنے کے لیے کلکٹریٹ کے تمام 5 دروازے بند کر دیے گئے تھے اور کسی بھی بیرونی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسجد کے انہدام کی خبر پھیلتے ہی مسلم تنظیموں اور اپوزیشن رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار - کیرانہ کی سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ (MP) اقراء حسن نے سہارنپور جانے کا اعلان کیا، لیکن انتظامیہ نے انہیں رات میں ہی ان کی رہائش گاہ پر ہاؤس اریسٹ (نظر بند) کر دیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 1911 کے تاریخی ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود سیاسی فائدے کے لیے مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو مسجد کا دورہ کرنے سے روک دیا گیا۔ کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقراء حسن اور سہارنپور کے مقامی بااثر مسلم رہنماؤں کو رات ہی میں ان کے گھروں پر نظر بند (ہاؤس اریسٹ) کر دیا گیا۔ اقراء حسن، عمران مسعود اور اسد الدین اویسی نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اور آئینی حقوق کی پامالی قرار دیا۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی اسے انتہائی افسوسناک اور انتقامی سیاست کا حصہ قرار دیا۔ اس وقت مسجد کا ملبہ ہٹائے جانے کے بعد وہاں مبینہ طور پر ایک قدیم کنواں بھی برآمد ہوا ہے جس کے لیے انتظامیہ نے آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کو جانچ کے لیے لکھا ہے، اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی تاحال سخت ہے۔

1 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی