نیپال کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن بیتراوتی میں 26 اگست کی صبح آسمان بالکل صاف تھا بارش کی ایک بوند تک نہیں گری تھی اور پھر اچانک سے پانی اور ملبے کی ایک ایسی لہر آئی مانو جیسے سونامی آیا ہو دیکھنے میں یہ منظر کسی فلم کا سین لگ رہا تھا لیکن یہ کوئی سینما نہیں تھا یہ اصل زندگی تھی اس لہر نے کئی کلومیٹر تک اپنے راستے میں آنے والی ہر ایک چیز کو تباہ کر دیا ہزاروں لوگوں کو بھاگ کر بچنے تک کا بھی موقعہ نہیں ملا کیونکہ پانی ہر طرف سے آرہا تھا اس ڈزاسٹر میں اب تک پانچ ہزار سے زیادہ لوگ لاپتا ہیں اور 2015 کے زلزلے کے بعد نیپال کا یہ سب سے بڑا ڈزاسٹر ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب آسمان صاف تھا اور بارش نہیں ہو رہی تھی تو اتنی بڑی باڑھ آخر آئی کیسے ، صبح کے آٹھ بج کے 37 منٹ پر دنیا بھر کے سینسرز میں نیپال تبت بارڈر کے پاس ایک زلزلہ کی آمد کا سگنل ملتا ہے 5.2 میگنیٹیوڈ کا ، لیکن واقعی میں یہ کوئی زلزلہ نہیں تھا ٹھیک اسی وقت تبت کی ایک پہاڑی پر ایک گائیڈ اور کچھ ہائیکرز کھڑے تھے جو پہاڑوں کی ویڈیوز بنا رہے تھے تبھی ایک بہت تیز گرجنے کی اواز آتی ہے سب کو لگتا ہے شاید بادل گرجے ہوں گے لیکن تبھی پوری وادی ایک زوردار کریک ( دھماکہ ) کی آواز سے گونج اٹھتی ہے یہ آواز ایسی تھی جیسے پہاڑوں کے اندر کسی نے بم پھوڑ دیا ہو اور یہ آواز آئی تھی نیپال کےسات ہزاردوسو پینتالیس میٹر اونچے پہاڑ لانگ ٹانگ لیرونگ سے ، لانگ ٹانگ لیرونگ کے نارتھ فیس پر تقریباً پانچ ہزار میٹر کی اونچائی پر پہاڑ اور اس کے اوپر جمی برف کا ایک حصہ کولیپس کر ( ڈھہہ ) چکا تھا اور یہ کوئی چھوٹا موٹا ٹکڑا نہیں تھا ڈیڑھ کلومیٹر چوڑا ایک کافی بڑا حصہ تھا جو ہزار میٹر نیچے آکراتنی تیزی سے زمین سے ٹکرایا کہ 5.2 اعشاریہ کے برابر زلزلہ کا جھٹکا محسوس ہوا اور اسی کے ساتھ ایک دھول کا بڑا سا غبار پیدا ہوا سوچنے والی بات یہ ہے کہ زلزلہ کی وجہ سے یہ پہاڑ نہی گرا بلکہ پہاڑ کا ایک حصہ اتنی تیزی سے زمین سے ٹکرایا کہ اس سے زلزلہ آ گیا اسی کے ساتھ ہی جو گلیشیئر کی برف ٹوٹ کر گری تھی وہ فرکشن کی وجہ سے پگھل گئی اور ایک دم سے پانی میں بدل گئی اور پھر یہ سارا پانی اور ملبہ 7 ہزار فیٹ نیچے جا کر لیہندے کھولا ندی میں مل گیا جب اتنی بھاری مقدار میں پانی ندی میں گرے گا تو کیا لگتا ہے آپ کو کیا ہوگا پانی کا لیول اوپر گیا اتنا اوپر گیا یہ 300 فیٹ کی اونچائی تک پہنچ گیا اس کے علاوہ پہاڑ سے ندی تک کی ڈھلان اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سپیڈ 120 میل پر گھنٹے تک پہنچ گئی اب یہ 300 فیٹ اونچی پانی اور ملبے کی دیوار 120 میل پر گھنٹے کی رفتار سے اتنی طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی ۔ قسط دوم کے لیے
نیپال کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن بیتراوتی میں 26 اگست کی صبح آسمان بالکل صاف تھا بارش کی ایک بوند تک نہیں گری تھی اور پھر اچانک سے پانی اور ملبے کی ایک ایسی لہر آئی مانو جیسے سونامی آیا ہو دیکھنے میں یہ منظر کسی فلم کا سین لگ رہا تھا لیکن یہ کوئی سینما نہیں تھا یہ اصل زندگی تھی اس لہر نے کئی کلومیٹر تک اپنے راستے میں آنے والی ہر ایک چیز کو تباہ کر دیا ہزاروں لوگوں کو بھاگ کر بچنے تک کا بھی موقعہ نہیں ملا کیونکہ پانی ہر طرف سے آرہا تھا اس ڈزاسٹر میں اب تک پانچ ہزار سے زیادہ لوگ لاپتا ہیں اور 2015 کے زلزلے کے بعد نیپال کا یہ سب سے بڑا ڈزاسٹر ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب آسمان صاف تھا اور بارش نہیں ہو رہی تھی تو اتنی بڑی باڑھ آخر آئی کیسے ، صبح کے آٹھ بج کے 37 منٹ پر دنیا بھر کے سینسرز میں نیپال تبت بارڈر کے پاس ایک زلزلہ کی آمد کا سگنل ملتا ہے 5.2 میگنیٹیوڈ کا ، لیکن واقعی میں یہ کوئی زلزلہ نہیں تھا ٹھیک اسی وقت تبت کی ایک پہاڑی پر ایک گائیڈ اور کچھ ہائیکرز کھڑے تھے جو پہاڑوں کی ویڈیوز بنا رہے تھے تبھی ایک بہت تیز گرجنے کی اواز آتی ہے سب کو لگتا ہے شاید بادل گرجے ہوں گے لیکن تبھی پوری وادی ایک زوردار کریک ( دھماکہ ) کی آواز سے گونج اٹھتی ہے یہ آواز ایسی تھی جیسے پہاڑوں کے اندر کسی نے بم پھوڑ دیا ہو اور یہ آواز آئی تھی نیپال کےسات ہزاردوسو پینتالیس میٹر اونچے پہاڑ لانگ ٹانگ لیرونگ سے ، لانگ ٹانگ لیرونگ کے نارتھ فیس پر تقریباً پانچ ہزار میٹر کی اونچائی پر پہاڑ اور اس کے اوپر جمی برف کا ایک حصہ کولیپس کر ( ڈھہہ ) چکا تھا اور یہ کوئی چھوٹا موٹا ٹکڑا نہیں تھا ڈیڑھ کلومیٹر چوڑا ایک کافی بڑا حصہ تھا جو ہزار میٹر نیچے آکراتنی تیزی سے زمین سے ٹکرایا کہ 5.2 اعشاریہ کے برابر زلزلہ کا جھٹکا محسوس ہوا اور اسی کے ساتھ ایک دھول کا بڑا سا غبار پیدا ہوا سوچنے والی بات یہ ہے کہ زلزلہ کی وجہ سے یہ پہاڑ نہی گرا بلکہ پہاڑ کا ایک حصہ اتنی تیزی سے زمین سے ٹکرایا کہ اس سے زلزلہ آ گیا اسی کے ساتھ ہی جو گلیشیئر کی برف ٹوٹ کر گری تھی وہ فرکشن کی وجہ سے پگھل گئی اور ایک دم سے پانی میں بدل گئی اور پھر یہ سارا پانی اور ملبہ 7 ہزار فیٹ نیچے جا کر لیہندے کھولا ندی میں مل گیا جب اتنی بھاری مقدار میں پانی ندی میں گرے گا تو کیا لگتا ہے آپ کو کیا ہوگا پانی کا لیول اوپر گیا اتنا اوپر گیا یہ 300 فیٹ کی اونچائی تک پہنچ گیا اس کے علاوہ پہاڑ سے ندی تک کی ڈھلان اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سپیڈ 120 میل پر گھنٹے تک پہنچ گئی اب یہ 300 فیٹ اونچی پانی اور ملبے کی دیوار 120 میل پر گھنٹے کی رفتار سے اتنی طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی ۔ قسط دوم کے لیے
