کہ بڑے بڑے پتھر بھی کسی کاغذ کی طرح اس کے ساتھ بہتے چلے گئے اور اس کا پہلا شکار بنی نیپال اور تبت کی رسو باگڑی بارڈر کراسنگ ، یہ ایگزیکٹلی اسی جگہ پر ہے جہاں پر لیہندی کھولا ندی ایک دوسری ندی بھوٹے کوشی ندی میں آکر ملتی ہے یہاں کسٹمز کی ایک چھ منزلہ عمارت تھی لیکن پانی اور ملبہ اتنے فورس سے آیا کہ پوری عمارت اس میں سما گئی اس کے علاوہ یہاں پر کچھ امیگریشن بلڈنگز اور بہت ساری بسیں بھی کھڑی ہوئی تھی ، یہ ساری بسیں بالکل کھلونوں کی طرح بہہ گئی لوگوں نے بھاگ کر خود کو بچانے کی کوشش کی لیکن پانی کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ کسی کو بھاگنے کا موقع تک نہیں ملا ، اس باڑھ کے آنے سے پہلے بارڈر کا یہ علاقہ آباد تھا لیکن باڑھ کے بعد یہاں کچھ نہیں بچا حالیہ تصاویر کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہاں کبھی کوئی انسانی آبادی رہتی ہوگی ، انڈیا سے کیلاش مانسروور کی یاترا پر جانے والے یاتری اسی بارڈر کراسنگ سے جاتے ہیں ڈزاسٹر آنے والے دن ایشا فاؤنڈیشن کے 77 لوگ بھی یہاں کے امیگریشن سینٹر پر موجود تھے جو تبھی سے لاپتا ہیں ، اب رسو واگڑی بارڈر کراسنگ کے بعد یہ باڑھ نیپال میں گھستی ہے اور یہاں سب سے پہلے اس کا شکار بنا بھوٹے کوشی ندی کے کنارے بنا تیمورے گاؤں ، یہاں پہنچتے وقت بھی پانی اور ملبے کی باڑھ تقریبا اسی میٹر اونچی تھی جو تقریبا 25 منزلہ عمارت کے برابر ہے اندازہ کر سکتے ہو اتنی بڑی سونا نامی جیسی ویو آرہی ہو کچھ ہی منٹ بعد صبح کے لگ بھگ نو بج کے 10 منٹ پر تباہی کا یہ منظر سیاہی روپےسی پہنچا جہاں پر بھوٹے کوشی ندی کرشولی ندی میں بدل جاتی ہے 41 سال کے پولیس افیسر راجن کھتری کو اسی وقت ان کے دوست کا کال آیا کہ اس کی طرف باڑھ آرہی ہے لیکن وہ ری ایکٹ کرپاتے کہ اس سے پہلے اونچی ویوز پولیس سٹیشن سے ٹکراگئی راجن کھتری کے مطابق یہ صرف پانی نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ بڑے بڑے پتھر ریت اور کیچڑ بھی تھا اور کئی میٹر اونچی بلڈنگز بھی کچھ ہی سیکنڈ میں اس کے اندر سما گئی راجن بھی خود اس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو ان کے آس پاس صرف ملبہ تھا اور کم سے کم 100 گھر اسکولز اور دوسری بلڈنگز باڑھ میں بہہ چکی تھی، سی ائی روبیسی کے بعد اب اس باڑھ کا اگلا شکار تھا بیترا وتی ، بیتراوتی میں ایک کلاک ٹاور تھا جہاں گھڑی میں نو بج کر 29 منٹ ہو رہے تھے جب یہ ویو اس ٹاور سے آکر ٹکڑایا ، اور اسی ایک منٹ میں سب کچھ تباہ ہو گیا یہ گھڑی ابھی تک نو بج کر 29 منٹ پر ہی اٹکی کھڑی ہے ، بیتر وتی ٹاؤن ندی سے تقریبا 100 میٹر اوپر بسا ہوا تھا اور یہاں صدیوں سے کسی باڑھ کا پانی نہیں پہنچا تھا لیکن اس دن سینکڑوں فیٹ اونچی باڑھ نے اسے بھی پوری طرح سے تباہ کر دیا ، بیتراوتی میں ایک بازار تھا جو ہمیشہ لوگوں سے بھرا رہتا تھا لیکن باڑھ اس پورے بازار کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی ، پانی اور ملبہ کچھ ہی سیکنڈز کے اندر ہی کئی منزل اونچے گھروں کے اوپر سے فلو کرنے لگا اور جہاں پہلے گھر تھے وہاں صرف پانی نظر آرہا ہے ، کاٹھ مانڈو پوسٹ کے جرنلسٹ ارجن پوڈے جو بیتراوتی کے پاس یہ گاؤں میں پلے بڑھے تھے انہیں اس صبح ایک ایک کر کے خبر آتی رہی پہلے ان کی سب سے بڑی موسی کے پریوار کے بہنے کی خبر آئی اس کے بعد پتہ چلا کہ ایک دوسری موسی کے پریوار کے لوگوں کو بھی ندی اپنے ساتھ بہا کر لے جا چکی ہے ۔ قسط سوم کے لیے
کہ بڑے بڑے پتھر بھی کسی کاغذ کی طرح اس کے ساتھ بہتے چلے گئے اور اس کا پہلا شکار بنی نیپال اور تبت کی رسو باگڑی بارڈر کراسنگ ، یہ ایگزیکٹلی اسی جگہ پر ہے جہاں پر لیہندی کھولا ندی ایک دوسری ندی بھوٹے کوشی ندی میں آکر ملتی ہے یہاں کسٹمز کی ایک چھ منزلہ عمارت تھی لیکن پانی اور ملبہ اتنے فورس سے آیا کہ پوری عمارت اس میں سما گئی اس کے علاوہ یہاں پر کچھ امیگریشن بلڈنگز اور بہت ساری بسیں بھی کھڑی ہوئی تھی ، یہ ساری بسیں بالکل کھلونوں کی طرح بہہ گئی لوگوں نے بھاگ کر خود کو بچانے کی کوشش کی لیکن پانی کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ کسی کو بھاگنے کا موقع تک نہیں ملا ، اس باڑھ کے آنے سے پہلے بارڈر کا یہ علاقہ آباد تھا لیکن باڑھ کے بعد یہاں کچھ نہیں بچا حالیہ تصاویر کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہاں کبھی کوئی انسانی آبادی رہتی ہوگی ، انڈیا سے کیلاش مانسروور کی یاترا پر جانے والے یاتری اسی بارڈر کراسنگ سے جاتے ہیں ڈزاسٹر آنے والے دن ایشا فاؤنڈیشن کے 77 لوگ بھی یہاں کے امیگریشن سینٹر پر موجود تھے جو تبھی سے لاپتا ہیں ، اب رسو واگڑی بارڈر کراسنگ کے بعد یہ باڑھ نیپال میں گھستی ہے اور یہاں سب سے پہلے اس کا شکار بنا بھوٹے کوشی ندی کے کنارے بنا تیمورے گاؤں ، یہاں پہنچتے وقت بھی پانی اور ملبے کی باڑھ تقریبا اسی میٹر اونچی تھی جو تقریبا 25 منزلہ عمارت کے برابر ہے اندازہ کر سکتے ہو اتنی بڑی سونا نامی جیسی ویو آرہی ہو کچھ ہی منٹ بعد صبح کے لگ بھگ نو بج کے 10 منٹ پر تباہی کا یہ منظر سیاہی روپےسی پہنچا جہاں پر بھوٹے کوشی ندی کرشولی ندی میں بدل جاتی ہے 41 سال کے پولیس افیسر راجن کھتری کو اسی وقت ان کے دوست کا کال آیا کہ اس کی طرف باڑھ آرہی ہے لیکن وہ ری ایکٹ کرپاتے کہ اس سے پہلے اونچی ویوز پولیس سٹیشن سے ٹکراگئی راجن کھتری کے مطابق یہ صرف پانی نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ بڑے بڑے پتھر ریت اور کیچڑ بھی تھا اور کئی میٹر اونچی بلڈنگز بھی کچھ ہی سیکنڈ میں اس کے اندر سما گئی راجن بھی خود اس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو ان کے آس پاس صرف ملبہ تھا اور کم سے کم 100 گھر اسکولز اور دوسری بلڈنگز باڑھ میں بہہ چکی تھی، سی ائی روبیسی کے بعد اب اس باڑھ کا اگلا شکار تھا بیترا وتی ، بیتراوتی میں ایک کلاک ٹاور تھا جہاں گھڑی میں نو بج کر 29 منٹ ہو رہے تھے جب یہ ویو اس ٹاور سے آکر ٹکڑایا ، اور اسی ایک منٹ میں سب کچھ تباہ ہو گیا یہ گھڑی ابھی تک نو بج کر 29 منٹ پر ہی اٹکی کھڑی ہے ، بیتر وتی ٹاؤن ندی سے تقریبا 100 میٹر اوپر بسا ہوا تھا اور یہاں صدیوں سے کسی باڑھ کا پانی نہیں پہنچا تھا لیکن اس دن سینکڑوں فیٹ اونچی باڑھ نے اسے بھی پوری طرح سے تباہ کر دیا ، بیتراوتی میں ایک بازار تھا جو ہمیشہ لوگوں سے بھرا رہتا تھا لیکن باڑھ اس پورے بازار کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی ، پانی اور ملبہ کچھ ہی سیکنڈز کے اندر ہی کئی منزل اونچے گھروں کے اوپر سے فلو کرنے لگا اور جہاں پہلے گھر تھے وہاں صرف پانی نظر آرہا ہے ، کاٹھ مانڈو پوسٹ کے جرنلسٹ ارجن پوڈے جو بیتراوتی کے پاس یہ گاؤں میں پلے بڑھے تھے انہیں اس صبح ایک ایک کر کے خبر آتی رہی پہلے ان کی سب سے بڑی موسی کے پریوار کے بہنے کی خبر آئی اس کے بعد پتہ چلا کہ ایک دوسری موسی کے پریوار کے لوگوں کو بھی ندی اپنے ساتھ بہا کر لے جا چکی ہے ۔ قسط سوم کے لیے
