قسط سوم آخری : ہمالیہ کی آغوش میں بسا نیپال کی تباہی کا خوفناک منظر


ان کے ماما جو اس صبح جانوروں کے لیے گھاس کاٹنے نکلے تھے وہ کبھی واپس نہیں لوٹے اور جب پانی نکلا تو بیتراوتی کے 90 پرسنٹ گھر بہہ چکے تھے ، بیتراوتی کے بعد یہ باڑھ تریشولی بازار پہنچی جو ایک بڑا اربن سینٹر ہے یہاں بھی پانی کی سپیڈ اتنی تھی کہ کچھ سیکنڈز میں ایک پل اور کئی گھروں کو اپنے ساتھ بہا لے گئی یوں وہ ہنستا کھیلتا آباد تریشولی بازار ایک فلم کا سین بن کر رہ گیا کچھ ہی گھر تھے جو صحیح سلامت بچے وائرل ویڈیوز میں ایسا ہی ایک گھر دیکھا جا سکتا ہے جس کے چاروں طرف سے کئی منزل اونچا پانی اور ملبہ بہہ رہا ہے اور گھر کی بالکنی میں کئی لوگ پھنسے ہوئے ہیں ترشولی بازار سے نیچے گلچی میں بھی صرف آدھے گھنٹے کے اندر اندر واٹر لیول نو میٹر اوپر اٹھ گئے یعنی تین منزلہ عمارت جتنا پانی صرف آدھے گھنٹے میں ، اس پانی میں بھی کئی گھر بہ گئے ، اس گلیشیئر سے شروع ہوئی اس باڑ ھ نے 170 کلومیٹر نیچے تک تباہی مچائی اور کسی کسی جگہ پر تو 650 فیٹ اوپر کیچڑ کے نشان ملے ہیں ، یعنی باڑھ اتنی اونچائی تک پہنچی تھی 650  فیٹ ، اس کے راستے میں جو بھی آیا گھر دکان پل سب کو اپنے ساتھ بہا لے گئی ، ایسے ہی بہت سارے ویڈیوز سامنے آئے ہیں جن کی لوکیشن ویریفائی کرنا مشکل ہے یہ وڈیوز نیپال میں تباہی کی ایک بھیانک تصویر دکھاتے ہیں پورے کے پورے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں اور گھر کئی منزل تک کیچڑ میں دبے ہوئے ہیں ، ایک ویڈیو میں ایک ماں اپنے دو بچوں کو لے کر بھاگتے ہوئے دکھ رہی ہے صرف کچھ ہی سیکنڈ کے اندر جیسے ہی وہ تھوڑی سی اوپر آئی ایگزیکٹلی اسی جگہ پر تیزی سے باڑھ آگئی ، کچھ ہی سیکنڈ میں تیزی سے دوڑنے کی وجہ سے ان بچوں کی ماں اور بچے کی جان بچ گئی ، وہیں دوسری طرف ایک دوسری ویڈیو میں کئی لوگ باڑھ سے بچ کر پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں لیکن باڑھ بھی نیچے سے اوپر چڑھتی جا رہی ہے آفیشل فگرز کے مطابق اس ڈزاسٹر میں ابھی تک1287 لوگوں کی موت کنفرم ہوئی ہے لیکن یہ یہ کوئی حتمی تعداد نہیں ہے اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی ہزاروں لوگ لاپتا ہیں لاپتا لوگوں میں سے 178 انڈینز بھی شامل ہیں اور اکیلے کیلاش یاترا کے روٹ پر 133 انڈینز لاپتہ ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ پورے نیپال میں تقریبا ایک لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے کئی ریسکیو ہونے کا انتظار میں ہیلیکاپٹر سے گرائے گئے نوڈلز کھا کر رات کاٹ رہے ہیں کئی لوگوں کی لاشیں تو انڈیا تک بہہ کر آئی ہیں جو کہ تریشولی ندی اگے جا کر نارائنی ندی بنتی ہے جو بہار کے راستے انڈیا میں گھستی ہے اور یہاں اس کا نام گنڈک ندی ہو جاتا ہے 27 اگست کے بعد سے اتر پردیش میں گنڈک ندی پر دو دن میں 10 لاشیں مل چکی ہیں ، چائنہ نے تبت میں انڈیپینڈنٹ جرنلسٹ کی اینٹری بند کر دی ہے اور جو باڑھ کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے انہیں ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے صرف سرکار کے ذریعہ ویوریفائڈ ویڈیوز ہی شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں ڈزاسٹر نہیں بلکہ ڈزاسٹر کے بعد ریسکیو آپریشن دکھایا جا رہا ہے چائنہ نے ابھی تک صرف پانچ موتیں کنفرم کیے ہیں اور 558 لوگ لاپتہ بتائے ہیں اور ہر ا سٹیٹمنٹ میں یہی بات ہوتی ہے کہ ڈزاسٹر کی شروعات نیپال کی طرف سے ہوئی تھی ۔ اس ڈزاسٹر سے نیپال کو فائننشلی بھی بہت نقصان ہوا ہے نیپال پانی سے بجلی بنانے کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو اپنا ایکنامک فیوچر کا سینٹر بنا رہا تھا ایک مہینے پہلے ہی اس کی انڈیا کو 10 سال میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی بیچنے کی ڈیل ہوئی تھی لیکن باڑھ نے 14 ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کو ڈسٹروئے یا ڈیمیج کر دیا ہے یہ کل ملا کر 431 میگا واٹ بجلی بناتے تھے یعنی صرف ایک باڑھ نے کچھ گھنٹوں کے اندر ملک کی تقریبا 12 فیصد پاور پروڈکشن کی کے پیسٹی ختم کر دی ہے ۔ اس میں باڑھ نے کچھ سیکنڈز میں ہی ایک ہائڈروپار پروجیکٹ کو توڑ دیتی ہے اور اس کے کنارے کام کر رہے ورکرز اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں باڑھ  نے زمین کا نقشہ اتنا بدل دیا ہے کہ پاور کمپنیز تک کو نہیں پتہ کہ اب ان کے اپنے پاور ہاؤسز کہاں ہیں ایک پروجیکٹ سے جڑے لگ بھگ 934 لوگ لاپتہ ہیں جن میں سے کئی کیچڑ سے بھری ہوئی ٹنلز میں پھنسے ہوئے ہیں نیپالی آرمی کے سولجرز کیچڑ میں گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ان ورکرز کو ریسکیو کر رہے ہیں ایسی ہی ایک ٹنل میں 63 انڈینز کو ریسکیو کیا گیا لیکن سب سے بڑا سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ صرف ایک نیچرل ڈزاسٹر تھا جس میں ایک گلیشیئر ٹوٹا اور اس کے ساتھ ائی باڑھ نے تباہی مچا دی اوپر اوپر سے دیکھنے میں ایسا ہی لگتا ہے لیکن تھوڑا ڈیٹیل میں جانے پر پتہ چلتا ہے کہ اس ڈزاسٹر میں کچھ بھی نیچرل نہیں تھا ، پہاڑ کا ایک گلیشیئر ٹوٹ کر گرا کیونکہ برف پگھل رہی ہے گلوبل وارمنگ کی وجہ  سے ، اور پچھلے کچھ سالوں سے گلوبل وارمنگ کا یہ ریٹ بڑھتا جا رہا ہے گلیشیئرز کے میلٹ ہونے کا ریٹ ، ہندوکش ہمالیہ جو ان پوری ہمالیہ کی پہاڑیوں کا نام ہے اس پورے ایریا میں نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے بعد سب سے زیادہ برف موجود ہے زمین پر ، اور یہ 10 بڑی ایشین ندیوں کو پانی دیتا ہے ، اس پورے ریجن نے 1990 سے لے کر 2020 کے بیچ میں اپنا 12 پرسنٹ گلیشیئر ایریا اور نو پرسنٹ برف کی ولیوم کھودی ہے اور جیسے جیسے برف پگھلتی ہے ، اونچائی پر ایسی بے سہارا جھیلیں اور لٹکتے ہوئے برف کے بلاکس بن جاتے ہیں جو کبھی بھی ٹوٹ سکتے ہیں ۔ یہ پورا علاقہ باقی دنیا کے مقابلے ہیں دو گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور پورے ہمالیہ میں 200 سے زیادہ گلیشیئر لیکس کو ویری ہائی رسک مانا گیا ہے ، بالکل 14 مہینے پہلے آٹھ جولائی 2025 کو اسی بھوٹے کوشی ندی میں ایک اور ایسی ہی باڑھ آئی تھی جس نے نیپال چائنہ فرینڈ شپ برج کو بہا دیا تھا اور کم سے کم نو لوگوں کی جان گئی تھی اور اس سے بھی پیچھے جائیں تو 2015 میں اسی لانگ ٹنگ لیروں پہاڑ سے ایک ارتھ کویک کے بعد سات فیٹ موٹا گلیشیئر اور پتھر کا حصہ گرا جس نے نیچے جا کر ایک پورے گاؤں کو دفنا دیا اور 300 سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی ابھی بھی نیپال اور تبت کے بارڈر پر ملبے سے ایک اور نئی جھیل بننے کی وارننگ آئی ہے جو کبھی بھی ٹوٹ کر ایک اور تباہی لا سکتی ہے اس کے علاوہ ایسی کسی بھی باڑھ کی حالت میں زیادہ تباہی ہوتی ہے کیونکہ چھوٹے بڑے ہائڈروپاور پروجیکٹس ندیوں کا راستہ بند کر دیا گیا ہے اور سب سے بڑی بات ندیوں کے کنارے انسانی بستیاں بسائی جا رہی ہیں پہلے نیپال کی ان جگہوں پر ندی سے دور اونچے مقامات پر ہی گاؤں بسائے جاتے تھے 50 سال پرانی تصویروں میں یہاں کے گاؤں اونچے علاقوں میں بسے ہوئے دکھتے ہیں اور ندی کے فلڈ پلینز میں صرف کھیتی ہوتی تھی جو پل بھی یہاں پر بنائے جاتے تھے وہ جان بوجھ کر ٹمپرری بنائے جاتے تھے تاکہ باڑھ میں بہہ جائیں تو دوبارہ بن جائے یعنی باڑھ لوگوں کے گھر میں نہیں گھسی ، گھر اور بازار اس جگہ میں گھس گئے جو ندی کے آس پاس کے ایریاز ہوتے تھے۔ سچ بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے نیتاؤں اور لیڈرز نے کلائمٹ چینج کو فیوچر کی پرابلم سمجھ کر اگنور نہیں کیا ہوتا تو اس ڈزاسٹر کا ہیومن رول بہت کم کیا جا سکتا تھا یہ آفت اس بڑے اور خطرناک حادثہ کی ایک جھلک ہے جو پورے ہمالین ریجن پر منڈرا رہا ہے اور جو کسی ایک ملک کی سرحد پر رکنے والا نہیں ہے ، سوال یہ کہ اس باڑھ کی تباہی سے انسان کچھ سوچے گا سنبھل پائے گا یا یہ بھی ہمالیہ کی آفات کی اس لمبی لسٹ میں ایک اور بھولا بسرا نام بن کر رہ جائے گی ۔ انتہاء ۔ قسط اول پڑھناہے تو

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی