بولا: یہ سب تمھارا تماشادہ دیکھنے آئے ہیں، کیونکہ اب تمھارا ڈرامہ ہوگا۔ پھر وہ طالبات کو دھمکارتے ہوئے کہنے لگا: ہم نے تم سب کا تماشادہ دیکھنے کے لیے تمھیں باہر نکالا ہے اور اگر اب بھی تم سب نے ہڑتال ختم نہ کی تو ہم تمھارا حجاب اتار کر تم سب کو بے آبرو کر دیں گے اور تم سب خوب جانتی ہو کہ اہانت کیسے کی جاتی ہے۔ اور وہ فضول ہریان بکنے لگا، اس کے منہ سے جھاگ بہنے لگا، گویا اسے پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہو: لڑکیوں۔ او۔ اوفلاں۔ اللہ کی قسم ہم تم سے..... سب کو باہر نکال کرو دو کو ایک زنجیر میں کس دیا گیا اور انھیں ہائیک کر گاڑی کی جانب لے جایا گیا۔ میں اور ماجدہ سب سے آگے تھے، ہم سے اوپر چڑھنا محال تھا اور مجھ میں تو اتنی سکت بھی نہ تھی کہ پاؤں ہی اوپر اٹھاؤں۔ ایک سخت آہنی ہاتھ نے مجھے اور ماجدہ کو آگے دھکیلا، اب ہم ایک حقیقی پنجیرے میں تھے، جس میں سلاخیں بھی تھیں اور دروازہ بھی اور تالہ بھی۔ ہمارے بعد باقی طالبات بھی وہیں داخل کر دی گئیں، سب کے سانس پھول رہے تھے۔ ہمارے اندر مسائل کے حل یا رہائی کی امید مچی تھی ۔ ہمیں یقین تھا کہ وہ ہمیں ہلاکت کی جانب دھکیل رہے ہیں، گولی سے مارنے یا پھانسی کے پھندے پر، لیکن انجام یہی ہے۔ کچھ پر غشی چھا گئی اور بعض صدمے سے بے ہوش ہوگئیں ۔ ہم نے دیکھا کہ الحاجہ نے لیموں نکالا، وہ نہ جانے کہاں سے انھیں ملا تھا اور وہ اسے چھیل کر ان کے چہروں پر لگانے لگیں۔ کسی نے باہر سے دروازہ مقفل کر دیا اور گاڑی نامعلوم مقام کی جانب فرائے بھرنے لگی۔ گاڑی زمین کی مسافتیں نگلنے لگی، ہر موڑ پر ایسا لگتا کہ ہم اچھل کر باہر جا پڑیں گے، کبھی ہم آہنی زنجیروں سے ٹکراتے اور کبھی ایک دوسرے کے بے دم جسموں سے۔ ہمارے اور ڈرائیونگ سیٹ کے درمیان دو محافظ تھے اور دو گاڑی کے پچھلی جانب بیٹھے تھے، جہاں حکام نے تالا لگارکھا تھا، یہ سب اسلحے سے لیس تھے، ابوطلال ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر براجمان تھا۔ ہمارے ہمراہ میرے اور ماجدہ کے علاوہ ام شیماء، دونوں حاجنیں، محتی، ایمنان، رغداء، منی، حلیمہ، ام محمود اور امل تھیں۔ سفر شروع ہوتے ہی میرے سر میں ایک گھٹنے تک شدید درد ہوتا رہا۔ میں نے کسی ساتھی کو مدد کے لیے پکارنا چاہا تو ان کی اکثریت بے ہوش پڑی تھی۔ ہم پر بھوک، خوف، رعب اور غم کا ایک باریکی حملہ ہوا تھا۔ کتنے مہینے سے ہم کسی سواری میں نہ بیٹھے تھے اور اس سارے عرصے میں سورج کی کوئی کرن تک ہمیں دکھائی نہ دی تھی۔ میں نے اپنا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا۔ اپنے ہاتھ کو ہلکے ہلکے حرکت دینا چاہا، تو اس پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔ میری انگلیاں نیلی ہونے لگیں اور مجھے خوف محسوس ہوا کہ وہ کہیں کٹ کر گر ہی نہ جائیں۔ میرا دردنا قابل برداشت ہونے لگا، جب گاڑی ایک پولیس پوسٹ کے پاس ایک جھٹکے سے رک گئی۔ ایک شخص نے آگے بڑھ کر دھکا دے کر دروازہ کھولا۔ ایسا لگا کہ وہ ہمیں یہاں اتارنے لگے ہیں۔ میں نے جھیک کر دیکھا تو آہنی دروازے پر جلی حروف میں لکھا تھا: ’’ سجن قطنامدنی‘‘۔ دروازہ دوبارہ بند کر دیا گیا، وہ ہمیں عمارت کے اندر لے گئے، گاڑی ایک دوسرے دروازے پر جا رکی، جہاں کاغذی کارروائی کی گئی اور نصف گھنٹے کے انتظار کے بعد شاید انھوں نے سارے کاغذات مکمل کر کے دے دیے، جب ایک پولیس والے نے آکر ہمیں نیچے اترنے کو کہا۔ اس وقت ہماری حالت قبر کے مردوں کی مانند تھی۔ اٹھنا اور گاڑی سے اترنا ہمارے بس میں نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے میں اپنے وجود کو گھسیٹنے لگی۔ اسی اثنا میں ایک لیڈی پولیس آگئی اور اس نے ہاتھ پکڑ کر مجھے نیچے اتارا۔ کھڑا رہنا ہمارے بس میں نہ تھا، ہم سب فورا زمین پر لیٹ گئے، ہم بالکل بھکاریوں کی طرح زمین سے چپکے ہوئے تھے، ہمارے ارد گرد کچھ سپاہی کھڑے تھے۔ وہ ہمیں دیکھ کر آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے اور لاحول پڑھ رہے تھے۔ کچھ دوسرے اپنے کمروں کی کھڑکیوں سے جھانک کر ہمیں دیکھنے لگے، گویا ہم کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں۔ یہ منظر بڑا المناک، پرہیب اور عجیب بھی۔ ظلم و ستم اور استہزاء کے ستائے ہوئے زرد چہرے، جنھیں سورج کی روشنی سے بھی محروم رکھا گیا تھا، جن کے بدحال جسموں پر بوسیدہ چیتڑے تھے، ستم کی چکی میں پینے کے بعد جوانی اصلی رنگت چھوڑ چکے تھے، جن پر اتنے پیوند لگ چکے تھے کہ اصل کپڑا خال خال ہی نظر آتا تھا۔ اس حالت میں بھی ہم قید تھے، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور دو قیدی ایک زنجیر میں جکڑے ہوئے ۔ ہم ذرا بھی ہلنا چاہتے، تو زنجیروں کے ساز بج اٹھتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہماری ہتھکڑیوں کی چابیاں ابوطلال کفر السوسہ ہی چھوڑ آیا تھا۔ جان بوجھ کر یا انجانے میں، وہ ہمیں یوں ہی فٹ ہاتھ پر گرا چھوڑ کر کفر السوسہ چابیاں لینے چلا گیا، لیکن جوں ہی خفیہ والوں کی گاڑی باہر نکلی، ایک سپاہی ہمیں عزت واحترام سے اندر لے جانے کے لیے آگیا۔ جب ہم سے اٹھانہ جار تھا تو وہ ہمیں سہارا دے کر اندر لے گئے اور ابوطلال کے انتظار میں نشستوں پر بٹھادیا۔ جیل انتظامیہ کا یہ دفتر ایک میز، اسلحہ خانے اور کچھ کرسیوں سے آراستہ تھا۔ اہلکار کبھی ایک دروازے سے داخل ہوتے اور کبھی دوسرے۔ ان کی آنکھوں میں حیرت نما خوف کے سائے صاف نظر آتے تھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور کچھ تو عورتوں کی مانند رونے لگتے۔ ایک سپاہی جو پچاس کے پینے میں تھا آگے بڑھ کر ہماری زنجیریں کھولنے کی کوشش کرنے لگا، مگر کئی بار کوشش کے باوجود کامیاب نہ ہو سکا۔ وہ ایک جانب ہو کر ہمیں تسلی دینے لگا۔ اس کے آنسو کسی جھرنے کی مانند بہہ رہے تھے، وہ گگل پوچھتے ہوئے کہنے لگا: اطمینان رکھو میری بہنو! اطمینان رکھو!! ہم ابھی آپ کو اندر لیے جاتے ہیں، آپ یہاں نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ اس نے ہاتھ سے کھڑکی کے اندر کی جانب اشارہ کیا اور پھر وہ اپنی چیخوں پر قابو نہ رکھ سکا۔ دیکھو۔ اس جانب لڑکے ہیں۔ یہاں درخت ہیں اور اس جانب عورتیں ۔ ان میں ایک حمات سے ہے، اس کا نام غزوہ ہے اور اس کے علاوہ فلاں اور فلاں ہیں۔ لگ اب آپ تروتازہ ہو جائیں اور طبعی انداز میں نئے سرے سے زندگی شروع کریں۔ اس لمحے ام محمود کو اپنے بچے یاد آگئے، وہ برجستہ بولیں: اور اگر ہم بال بچے دار ہیں تو کیا آپ ہمیں اس کے بدلے بچے بھی دیں گے؟ وہ بولا: اللہ کی جو مرضی ہوگی میری بہن۔ اللہ کی قسم اگر آپ کے بچے یہاں آئیں گے تو ہم انھیں بھی یہاں آنے اور آپ سے ملنے دیں گے، آپ انھیں دیکھ کر یقیناً خوش ہوں گے۔ وہ بھلا آدمی فورا گیا اور ہمارے لیے چائے لے آیا۔ ہمیں یقین نہ آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ تقریباً دو گھنٹے بعد اسسٹنٹ جیلر ابومطیح، ابوطلال کو لے کر اندر آ گیا ۔ اس نے ایک ایک کر کے ہم سب کی ہتھکڑیاں کھول دیں اور ہم سے کہے کہ بنا اہل کاروں کے ساتھ باہر نکل گیا ۔ اس کے ساتھ ہی گاڑی کے سٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ ابومطیح ہمارا خوف دور کرنے کے لیے ہمیں یقین دلانے لگا کہ یہ جگہ بالکل مختلف ہوگی۔ آج کے بعد نہ ہی ہمیں تعذیب دی جائے گی، نہ ہمیں خوف کا شکار کیا جائے گا۔ وہ ہمیں لے کر بلاکوں کی جانب چلنے لگا، ہم سب سر جھکائے اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ جوں ہی ہم میں سے سب سے پہلی قیدی اندر داخل ہوئی اور وہاں ام شیما نظر آئیں ۔ ہم نے دیکھا کہ ساری قیدی خواتین ان کی جانب پلکیں اور انھیں گلے لگانے لگیں اور بالفعل انھیں اٹھا کر اندر لے گئیں۔ وہ پکارتی ہی رہ گئیں مگر انھوں نے ایک قدم بھی چلنے نہ دیا۔ ظاہر ہے ابومطیح انھیں پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا کہ یہ حمات کے حادثے کی قیدی خواتین ہیں اور اب یہ ہماری مہمان ہیں۔ یہ ٹوٹی پھوٹی، زخمی اور مصیبت زدہ بہنیں ہیں اور بڑے برے حال میں یہاں پہنچی ہیں۔ اس شخص کے رویے میں نہ تو تصنع تھا نہ ہی وہ اس وقت تک جھوٹا دکھائی دیتا تھا۔ ہمارے لیے تو وہ کسی فرشتے سے کم نہ تھا، کیوں کہ ہم جس کوٹھری میں تین برس گزار کر آئے تھے وہاں ہمیں اس قدر حقارت اور رنگی کے ساتھ رکھا گیا تھا کہ وہ جگہ ہمارے لیے کسی قبر کے گڑھے سے مختلف نہ تھی۔ سجن قطناکی عربی عمارتوں کی مانند پتھروں سے بنا ہوا تھا، جس کے کمرے پورے احاطے میں پھیلے ہوئے تھے۔ صحن اور کمروں کے بیچ میں لوہے کی سلاخیں تھیں اور ہر ایک کمرہ ایک الگ بلاک تھا۔ کچھ بلاک سیاسی قیدیوں کے لیے مخصوص تھے، جبکہ کچھ دوسرے مجرموں کے لیے، جن میں دو بلاک قاتلوں کے لیے، تیسرا منشیات اور چوتھا جسم فروشی کی ملزموں کے لیے۔ پانچواں کمرہ جو قید تنہائی کے کسی سیل کی مانند تھا اس میں ہم سے پہلے مہدی طلوانی کی والدہ قید تنہائی کاٹ رہی تھیں، جنہیں بعدازاں ۱۹۷۹ء کے اواخر میں کئی نوجوانوں کے ساتھ پھانسی دے دی گئی تھی، لیکن یہ ہمارے یہاں آنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ کمرے کے ساتھ جڑے ہونے کے باوجود سیاسی قیدیوں اور عدالتی قیدیوں کے درمیان رابطہ ممنوع تھا۔ ہم وہاں پہنچے تو سب سیاسی قیدیوں کو ہم سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ۔ ان میں کچھ خواتین تو ایسی بھی تھیں جن سے ہمارا پرانا تعارف موجود تھا۔ ثناء (جو یونیورسٹی میں میرے ساتھ تھی) نے آگے بڑھ کر اپنی باہیں میرے گلے میں ڈال دیں اور دھرسان سے بولی: نا معقول۔ کیا یہ تم ہی ہو؟ کیا ہوا تمھیں ۔ کیا انھوں نے کسی ڈبے میں ڈال کر سر بہتر رکھا ہوا تھا؟ غزوہ بھی اپنی اس زندہ دلی اور ہنسوڑ پن کے انداز میں آگے بڑھی۔ ہمارے دل خوشی سے بھر گئے، گویا ہم جیل میں نہیں، بلکہ اپنے گھر کے مہمان خانے میں عزت و احترام کے ساتھ مل بیٹھنے کو اکٹھے ہوئے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو چوم لیا۔ آنسو نہ جانے کہاں سے امڈتے چلے گئے اور کرا ہوں کو ایک دوسرے کا سینے مل گیا۔ سب نے اپنے اپنے درد کے قصے سنائے ۔ کچھ ہی دیر میں قائد منسٹر سن لے آئے۔ سلام کر کے انھوں نے اس قید خانے میں ہمیں خوش آمدید کہا اور ہمیں یقین دلایا کہ ہم یہاں پران کے لیے امانت ہیں اور ہمیں ان کی جانب سے خیریت ملے گی۔ اس نے ہمیں تاکیداً کہا کہ وہ کسی خفیہ والے ہم تک رسائی نہ دے گا اور اب ہڑتال باقی رکھنے کی کوئی قابل ذکر وجہ باقی نہیں رہی۔ لہذا اب ہم صبر سے یہ دن کاٹیں گے کہ اللہ کرم کرے اور ہماری رہائی فلما کا پروانہ مل جائے۔ ایک سپاہی قائد کے لیے کرسی لے آیا، وہ ہمارے سامنے بیٹھ گیا، اس نے کچھ اوراق نکالے اور انھیں پڑھنے لگا، اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور دوسرا اجارہا تھا۔ پھر وہ بلند اور صاف آواز میں گویا ہوا: اب ذرا غور سے سنو۔ میں کسی کے رونے اور چلانے کی آواز نہ سنوں۔ فقط توجہ سے سنو۔ الحاجہ نے پوچھا: کس معاملے میں؟ بولا: یہ آپ کے بارے میں عدالت کا فیصلہ آگیا ہے، میں اسے آپ کے سامنے پڑھ دیتا ہوں، تاکہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ اس کے بارے میں کیا حکم سنایا گیا ہے۔ اور ہمیں سانس لینے کا موقع دیے بغیر وہ پڑھنے لگا: محکمہ امن دولہ نے ملزمہ ہبہ دباغ کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ الحاجہ ریاض چیخ کر بولیں: آہ۔ ان شاء اللہ میں بھی تمھارے ساتھ ہی ہوں گی ہبہ!! انھوں نے آگے بڑھ کر مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور رونے اور آہیں بھرنے لگیں۔ الحاجہ مدیحہ بھی میرے قریب آکر بولیں: میں بھی تمھارے ساتھ ہی ہوں گی ان شاء اللہ ۔ دس برس...... لیکن یہ فوری تأثیر اور احساس جلد ہی ختم ہو گیا اور ہر ایک اپنے متعلق ہونے والے فیصلے کو سننے کے لیے بے چین ہو گیا۔۔ سب کی نگاہیں بلا ارادہ ہی افسر کی جانب اٹھیں اور وہ بھی مشینی انداز میں بقیہ احکامات پڑھ کرسنانے لگا: محکمہ امن دولہ نے ملزمہ ریاض کو تھیں برس قید بامشقت کی سزا دی ہے۔ وہ بے اختیار بول اٹھیں: رکو۔ باپ رے۔ میں نے یہاں کوئی غلط کام تو نہیں کیا...... کیا کہا؟ کیا تم نے نہیں برس کہا ہے؟ غیر معقول سب مجھے چھوڑ کران کی جانب بڑھے، وہ اس ڈہری سزا پر انھیں تسلی دینے اور ان کا غم ہلکا کرنے لگیں اور اس نے پھر احکامات سنانے شروع کیے: فتمی۔ ہیں سال۔ الحاجہ مدیحہ دس برس۔ رغداء، خاور اور منی چار سال لیکن ان کی سزا بھی عملاً دس برس سے پہلے ختم نہ ہوئی۔ ام شیما چار سال۔ عائشہ چار سال۔ حوریہ ام محمود دس سال۔ منی اور اس کی بہن دس برس۔ ماجدہ ہیں برس۔ ہالہ دس برس۔ ترفہ دس برس۔ اور جب سب کے نام پڑھ چکا، اس نے خوف سے پتھرائے ہوئے ہمارے چہروں کو دیکھا، چہروں کے تناؤ میں اضافہ ہو چکا تھا، کچھ خواتین پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھیں۔ ہم ابھی تک ہڑتال کی کیفیت میں تھے، وہ ہمیں تسلی دینے لگا: یہ محض عدالتی احکامات ہیں، ان شاء اللہ آپ اس مدت کے پورا ہونے سے پہلے ہی رہا ہو جائیں گی، ہمارے یہاں سے سب کی رہائی ہی عمل میں آتی ہے۔ پھر وہ یہاں پر ہمارے حقوق کی تفصیلات سے ہمیں آگاہ کرنے لگا۔ اس نے اصرار سے ہمیں کھانا کھانے اور اپنی طبعی زندگی کی جانب لوٹ جانے پر آمادہ کیا۔ اتنی دیر میں بلاک کی قیدیوں نے ایک طویل دستر خوان بچھا کر ہم نئے آنے والوں کے لیے کھانا چین دیا، میں ماجدہ کی جانب متوجہ ہو کر کہنے لگنے لگی: ٹماٹر۔ کھییرے ۔۔ سبزی اور انڈے۔ اس کے باوجود کہ ہمیں شدید بھوک تھی اور مرغوب کھانا سامنے دھراتھا اور سات روزے ہڑتال کے بعد ہم پہلی مرتبہ کھانا کھا رہے تھے، مگر پہلے نوالے سے ہی پیٹ میں اس قدر شدید مروڑ اٹھا کہ کھانا جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ۔ لیکن ہمیں ہڑتال بھی توڑنا تھی اور جسم کی توانائی بحال کرنے کا بھی کچھ انتظام کرنا تھا۔ ہمیں ان حقوق کو حاصل کر کے ایک گونه کامیابی کا احساس بھی ہو رہا تھا، ہمارے گھر والوں کو ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی مل گئی ۔ ہم سب نے آئندہ جمعہ کے ملاقاتی دن کو ایک ایک کر کے گھٹا شروع کر دیا اور بدھ کے روز جب ہمیں ملاقات کی تفصیلات ملیں تو جیبی سے ہم نے خواب بننا شروع کر دیے اور یہ وقت اتنا طویل ہو گیا کہ گزارنا مشکل ہو گیا۔ ہمارا بلاک ایک مستطیل شکل کا کمرہ تھا جس کا طول پانچ میٹر سے زائد نہ تھا اور یہ جیل میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب واقع تھا۔ اندر آتے ہی زمین کی سطح سے کچھ نیچے ایک بلاک تھا جسے "عتبہ" کہا جاتا تھا، اس سے آگے زمین پھر پرانی سطح تک بلند تھی۔ بائیں جانب حمامات تھے، جس کی دو کھڑکیاں جیل کے داہنے دروازے کی جانب کھلتی تھیں۔ ہمارے بلاک میں پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد جیلر ہم میں سے ہر ایک کے لیے اسفنج کے گدے، تکیے اور کمبل لے کر آیا، اگرچہ وہ کافی پرانے اور بوسیدہ ہو چکے تھے، بلکہ ان پر میل کی تہین بھی ہوئی تھی، جلدی ہی سب میں بہتر بستر اور سونے کی جگہ حاصل کرنے کے لیے مسابقت شروع ہو گئی۔ آخر کار مجھے کمرے کے سب سے آخر میں جگہ ملی۔ میرا گدا آدھا فرش پر تھا اور آدھا خلا میں جب خیر سے یہ مصیبت ختم ہوئی تو ہم نے مل کر کمرے کو کونے سرے سے صاف کرنے کا پروگرام بنایا۔ کمرے کا فرش جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا، ایک جانب سے دروازہ بھی دیمک کی نذر ہو چکا تھا اور اس قدر بوسیدہ ہو چکا تھا کہ کوئی بھی اسے دھکا دے کر اندر آ سکتا تھا۔ ہم نے جیلر سے درخواست کی کہ وہ ہمیں کچھ سیمنٹ فراہم کر دے تو ہم خود ہی اسے مرمت کر دیں گے۔ وہ مان گیا، اگلے روز صبح سویرے دروازے بجا اور الحاجہ ریاض باہر دیکھنے گئیں، لیکن وہ واپس نہ پلٹیں، کچھ دیر انتظار کے بعد ہم انھیں دیکھنے باہر گئے تو وہ بے ہوش پڑی تھیں۔ الحاجہ مدیحہ نے جلدی سے ان پر پانی کے چھینٹے ڈالے اور انھیں ہوش دلایا، وہ آنکھیں کھولتے ہی رندھی آواز میں بولی: میرے والدین قربان الحاجہ، اہل کار مجھے جبری مشقت کے لیے لے جانا چاہتا ہے اللہ کا واسطہ ہے اس سے بات کرو۔ اسے بتاؤ کہ میں مشقت کے قابل نہیں ہوں۔ میرا بلڈ پریشر بڑھ جائے گا، بخار میرا دم گھٹتا ہے۔ میں یہ نہیں کر سکتی۔ اتنا کہہ کر وہ غریب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ الحاجہ مدیحہ نے باہر جھانک کر دیکھا، وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے امل کار سے پوچھنے لگیں: کیا ہوا ہے؟ آپ انھیں کہاں لے جا رہے ہیں؟
جاری ....

بہت خوب
جواب دیںحذف کریںبہت خوب مضمون پڑھ کر خوشی ہوئی
جواب دیںحذف کریںماشاء اللہ بہت خوب مضمون اللہ تعالیٰ قبول فرمائے آمین
جواب دیںحذف کریںبہت عمدہ
جواب دیںحذف کریں