قسط نمبر تیئیس : ملک شام ، صرف پانچ منٹ


ہمارا پردہ رکھا کہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑی۔ ہالہ بھی بیمار تھی، اس نے بھی احتیاط سے کچھ نیند خشک دودھ اور چینی چھپا کر رکھی تھی اور آدھی رات کو ہم اسے گھول کر ایک ایک چمچ پی لیتے تھے تاکہ کچھ طاقت حاصل ہو جائے۔ ماجدہ اور ہالہ باہمی اتفاق سے میرے لیے دودھ اور انڈا فراہم کر دیتیں۔ یہ کام انتہائی رازداری سے کیا جاتا تا کہ ہڑتال توڑنے کی بھنک کسی کے کانوں میں نہ پڑ جائے اور ہمارے مشترکہ عزم میں کوئی وِقع نہ ہو جائے، کیونکہ اگر علانیہ طور پر کوئی ایک بھی ہڑتال توڑ دیتا تو سب کا عزم ٹوٹ جاتا اور ہم وہ مشترک مقصد بھی حاصل نہ کر پاتے، لیکن جب میری حالت بگڑ گئی تو ہالہ اور ماجدہ کو خفیہ طریقے سے کچھ اقدامات کرنا پڑے۔ وہ مجھے خشک دودھ کا چمچ چاٹنے کے لیے دے دیتیں اور ماجدہ گیزر کے اُبلتے پانی میں انڈا رکھ دیتیں اور کچھ دیر بعد میں غسل خانے میں جا کر اسے کھالیتی اور چھلکے حمام میں ڈال دیتیں۔ ایک روز بلاک میں اچانک لہسن کی بُو پھیل گئی، سب ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے۔ حتّٰی کہ جلد ہی ہمیں معلوم ہو گیا کہ کس کے منہ سے بُو آ رہی ہے۔ اس سے پوچھ گچھ ہوئی تو اس نے صاف گوئی سے بتا دیا کہ اسے لہسن کا ایک جوا بستر پر گرا ہوا ملا تو اس نے اٹھا کر کھا لیا اور پھر تو اس ایک جُوے پر ہی طوفان کھڑا ہو گیا لیکن ہڑتال برقرار رہی اور اس میں کوئی نرمی نہ آئی اور اس کو توڑنے میں اہل کاروں کی ترغیب کام آئی نہ دھونس اور دھمکی، اس کے باوجود لڑکیوں کی حالت روز بروز بدتر ہونے لگی اور کمزوری سے ان کی کمریں دوہری ہو رہی تھیں۔ہڑتال چوتھے روز میں داخل ہو گئی۔ اچانک ابو عادل دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور کمینگی سے کہنے لگا: ادھر آؤ۔ تم میں ہڑتالی لیڈر کون ہے؟ ہم نے کہا: کوئی نہیں۔ وہ چلایا: کسی نے تو تم میں سے کہا ہوگا کہ آؤ ہم ہڑتال کریں۔ وہ کون ہے؟ جواب میں جب کوئی نہ بولا تو وہ ہم سب کے چہروں پر اپنا جواب تلاش کرنے لگا، اس کی نظر اُم شیما پر پڑی جو سب سے طویل قامت اور جسم تھیں، وہ ان سے کہنے لگا: آجاؤ۔ تم ہی ہڑتالی لیڈر ہو۔الخاجہ گھبرا کر بولیں: تم انہیں کہاں لے جا رہے ہو؟ بولا: اپنے کیے کی سزا پانے۔ ماجدہ فوراً آگے بڑھی اور منت کے انداز میں بولی: نہیں۔ میں ہڑتالی لیڈر ہوں۔ تم اُم شیما کو کیوں لے جا رہے ہو؟ وہ بولا: کیونکہ اس کی شکل سے یہی لگتا تھا، لیکن اب تم نے خود ہی اعتراف کر لیا ہے تو تم آجاؤ۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ کس طرح اس غریب نے اپنے مہتری جوتے پہنے، اس نے سبز کپڑے پہنے تھے جو آزمائش میں آ کر زرد ہو گئے تھے اور اس کا پتلون نما جامہ ایک جانب سے لٹک رہا تھا اور اس کے سر کا سکارف زمانے نے بوسیدہ کر دیا تھا۔ وہ جب کمرہ تفتیش کے باہر اِسی کوٹھڑی کے سامنے پہنچی اس نے اس سے دوبارہ پوچھا: تو پھر تم ہی ہڑتالی لیڈر ہو؟ وہ بولی: نہیں۔ وہ غصے سے بولا: پھر تم نے جھوٹ کیوں بولا؟ اس نے کہا: کیونکہ نہ تو ہم میں کوئی ہڑتالی لیڈر ہے نہ بلاک لیڈر۔ اس کے باوجود تم محض الزام تراشی کر کے اُم شیما کو لے جا رہے تھے۔ وہ غصے سے دانت پیتے ہوئے کہنے لگا: لیکن تم نے خود کو اُم شیما کی جگہ پیش کیا ہے اور اب ان کی جگہ تعذیب بھی تمہیں ہی سہنی پڑے گی۔ وہ اسے زبردستی سٹول پر بٹھانے لگا اور اس کی چیخنے کی آوازیں آنے لگیں: زبردستی کیوں ڈال رہے ہو؟ میں اپنی خود جواب دہ ہوں جب انھوں نے ماجدہ کا نہ کھانے کا اس قدر اصرار دیکھا تو وہ اسے واپس لے آئے اور اللہ کی رحمت سے اسے کوئی تماچہ نہ کیا۔ماجدہ تو تشدد سے بچ گئی مگر وہ نوجوان جنھوں نے ہمارے ساتھ خیر سگالی کے طور پر ہڑتال میں حصہ لیا تھا ان کی بری طرح شامت آگئی۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ جب دوسرے بلاکوں میں ہماری ہڑتال کی خبر پہنچی تو انھوں نے بھی ہڑتال کا اعلان کر دیا اور یوں پوری جیل حتّی کہ جن جنوبی بھی ہمارے ساتھ اس میں شریک ہو گیا۔ حکام اس معاملے پر سرعت سے حرکت میں آگئے اور ان کے ساتھ ہی جلادوں اور اہل کاروں کے ہاتھ بھی بڑی تیزی سے چلنے لگے، تلخیاں لگائی گئیں اور کوئی بھی ہڑتالی اس سے بچ نہ سکا۔ یوں نوجوانوں نے مزید تعذیب سے بچنے کے لیے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ چوتھے روز صبح افسر ناصیف خود آ گیا اور ڈاکٹر عائشہ کو کمرہ تفتیش میں لے گیا اور ایک روٹی اور پنیر اس کے سامنے رکھ کر بولا: فوراً اسے میرے سامنے کھالو۔ عائشہ نے انکار کر دیا ۔ تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ اسے گالیاں دیتے ہوئے کہنے لگا: مجھے یقین ہے کہ تمھیں یہ ہدایات باہر سے مل رہی ہیں۔ تم لبنان کے معاملے میں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس معاملے کو استعمال کرنا چاہتی ہو۔ اس وقت ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ لبنان میں کیا ہورہا ہے یا خود شام میں کیا ہورہا ہے۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ہمارے ساتھ والے سیل میں کیا ہو رہا ہے۔ اس کا اصرار طول پکڑ گیا اور دھمکیوں میں اضافہ ہو گیا تو ڈاکٹر عائشہ نے اس خوف سے کہ کہیں وہ دوبارہ تعذیب ہی شروع نہ کر دے پنیر کا ایک ٹکڑا اٹھا کر کھا لیا، جب وہ بلاک میں واپس لوٹی اور باقی طالبات کو اپنی پتا سنائی تو پنیر کے اس ایک ٹکڑے کے سبب دوسری قیدیوں نے قیامت بپا کر دی۔ انھوں نے اس ایک لقمے کے سبب اس پر دُنیا تنگ کر دی۔ اگلی صبح افسر پھر آن موجود ہوا اور ایک ایک کر کے قیدیوں کو باہر نکالنا شروع کر کے غصے سے ان کے منہ میں کھانا ٹھونسنا شروع کر دیا۔ وہ انکار ہی کرتی رہیں۔ اگر وہ کسی کے منہ میں لقمہ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتا تو وہ اسے چبانے اور نگلنے سے انکار کر دیتی ۔ جب ہالہ کی باری آئی اور اس نے اس کے ساتھ بھی ایسا کیا اور اس وقت تک وہ صحت مند ہو چکی تھی۔ اس نے اسے زمین پر پھینک دیا اور اسے اپنے پاؤں سے مسل ڈالا، اس نے اسے پاگلوں کی مانند تھپڑ رسید کیا اور کہنے لگا: تمھیں تو اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی اور جو کچھ تم کر رہی ہو اس پر تمھیں محکمہ میدانید میں حاضر کیا جائے گا۔ اس کا اشارہ اس خط کی جانب تھا جو ہالہ نے اپنی ماں کے نام لکھا تھا اور ایک فلسطینی قیدی کے ذریعے بھیجوانے کی کوشش کی تھی۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ سب افسر کو راز پہنچانے کی خاطر چال چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود کسی نے کچھ نہ کھایا اور جب میری باری آئی تو اس نے مجھے باہر نہ نکالا، بلکہ میں اکیلی ہی بلاک میں رہ گئی۔ وہ سب واپس لوٹیں تو ہم نے ایک مرتبہ پھر ہڑتال جاری رکھنے کا عزم کیا۔ اس ہڑتال کو کامیاب بنانا ہمارے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا، اہل کار بار بار آکر ہمیں نرمی سے سمجھانے لگے۔ کبھی وہ دھوکے سے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے۔ سب سے پہلے وہ ہمارے لیے پانی لائے، پھر سارا بلاک اتنے لذیذ اور خوشبودار کھانوں سے بھر گیا جن کا کبھی ہم نے خواب میں بھی تصور نہ کیا تھا کہ ہمیں اس جگہ مل سکتے ہیں۔ چشم طبق میں کھویا نما گاڑھا دودھ لے کر آ حاضر ہوا جو ہم نے کبھی نہ پیا تھا اور دوسرا اعلیٰ قسم کی اتنی خوشبودار خوبانی اور تیسرا کوئی اور چیز۔ لیکن پیٹ میں چوہوں کے کھلبلانے کے باوجود ہم میں سے کسی نے کھانے کی جانب ہاتھ نہ ہلایا۔ افسر اعلیٰ آیا تو سب مرغوب کھانے اسی طرح دھرے تھے۔ اپنی آخری تدبیر کو اس طرح ناکام ہوتے دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اس کے منہ سے لعنت ملامت کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ اس نے ایک اہل کار کو تمام خوان واپس لے جانے کا اشارہ کیا، اس کی مغلظات کا نشانہ رب اور دین بھی بننے لگے۔ وہ زمین پر بیٹھنے لگا اور جو چیز سامنے نظر آئی اسے زمین اور دیواروں پر پھینکنے لگا۔ اس کا غصہ دیکھ کر لڑکیاں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں، ان کی پریشانی دوچند ہو گئی، کتنی ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں اور کچھ قے آنا شروع ہو گئی۔ ہم میں سے اکثر قیدی خون کی کمی کا شکار تھیں۔ ہم زمین پر گرے ہوئے تھے اور ہم میں اٹھنے کی سکت بھی تھی۔ ہم نے کمبل اپنے پیٹ کے ساتھ چپکا رکھے تھے تاکہ بھوک کی شدت پر کچھ قابو پاسکیں اور ہمارا حال یہ ہو گیا کہ ہم نماز بھی اشارے سے ادا کرنے لگیں۔ اس پورے ڈرامے کے بعد جب ہم خود اپنے کنٹرول میں بھی نہ رہے، ابوشادی آیا اور اجد دیہاتی لہجے میں کہنے لگا: اٹھو اور بتاؤ کہ تمھارے مطالبات کیا ہیں۔ ہم سب بلا کرت زمین پر لیٹے رہے اور غداء و ہیں لیٹے لیٹے بولی: میں چاہتی ہوں کہ جب ہم مر جائیں تو ہم سب کو ایک قبر میں دفنا دیتے۔ وہ تمسخرانہ انداز میں بولا: تمھارا مطالبہ سر آنکھوں پر، لیکن کیا تمھارا اس کے علاوہ بھی کوئی مطالبہ ہے؟ ماجدہ بولی: میں مرنے سے پہلے اپنے والد کو دیکھنا چاہتی ہوں، خواہ صرف دو گھڑیوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس سے پوچھنے لگا: وہ کیوں؟ بولی: تاکہ میں ان کے ہاتھ چوم لوں اور بس ان کی رضا حاصل کر لوں۔ وہ اسی مسخرے پن سے بولا: بخدا تمھاری سوچ کس قدر مریضانہ ہے اگر تم مریض نہ ہوتیں تو یہاں نہ ہوتیں۔ اس نے دھڑ سے دروازہ بند کیا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو اس کے ہمراہ کئی تابوت نما صندوق اور خواتین کے رومال نما کپڑے تھے۔ الحاجہ اپنی حیرت چھپا نہ سکیں اور پوچھ بیٹھیں: آپ کیا کر رہے ہیں؟ ۔ آپ ہمارے لیے یہ صندوق کس لیے لائے ہیں؟ بولا: کیا تمھارا یہی مطالبہ نہ تھا؟ ذرا دیکھو ہم کس طرح تمھارے مطالبات ابھی پورے کرتے ہیں۔ ہم سب غصے سے دانت پیس کر رہ گئے۔ الحاجہ زور سے بولیں: کیا؟ ہم جب سے اس بلاک میں آئے ہیں اول روز سے ہمارا کوئی مطالبہ منظور نہیں کیا گیا، نہ ہی پلٹ کر ہمیں کوئی جواب دیا گیا ہے اور فقط اب۔۔۔۔۔۔! بولا: مجھے تو آج ہی آپ کے مطالبے کی خبر پہنچی ہے۔ ہم سب انتہائی اکتاہٹ سے یکبارگی بولے: خلاص۔ نہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے نہ آپ کی کسی چیز کی ۔ بس اس دروازے کو بند کر دو تا کہ ہمارا آخری وقت آسانی سے کٹ جائے اور جب ہم مر جائیں پھر جو چاہو کر لینا۔ وہ دھمکاتے ہوئے نہایت کمینگی سے بولا: نہیں۔ اطمینان رکھو، تمھیں یوں موت نہیں آئے گی ۔ تمھاری کسی بلی کی مانند سات روحیں ہوں گی۔وہ سارا دن تھوڑی تھوڑی دیر بعد چکر لگاتا رہا اور نہایت بھدے اور بیوقوفانہ انداز میں کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح ہماری ہڑتال توڑوا کر انعام کا مستحق بن جائے۔ حتّیٰ کہ ہمیں بھوک سے بھی بڑھ کر اس سے اکتاہٹ ہونے لگی اور اس کے بار بار مختلف چیزیں پیش کرنے اور ہمارے انکار سے ہماری تھکاوٹ اور کمزوری دوچند ہو گئی۔ نا معلوم مقام کی جانب نیا سفر ہڑتال جاری رہی اور ساتویں روز میں داخل ہو گئی۔ علی الصبح اچانک ہی بلاک کا دروازہ لوہے کی زنجیروں اور ہتھکڑیوں کی جھنکار سے بج اٹھا، ہماری آنکھیں پتھرا گئیں اور ہم ڈرتے ڈرتے اٹھ بیٹھے۔ میں اس وقت حمام میں تھی، میں نے ابو طلال کو اپنا نام پکارتے ہوئے سنا جو ان زنجیروں کے ساز میں بھی صاف طور پر سنائی دیا۔ اس نے دو تین مرتبہ میرا نام لے کر کہا: فوراً آجاؤ۔ فوراً۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں واقعی موت کے پھندے کے سامنے کھڑی ہوں یا وہ مجھے اسی جانب ہانک کر لے جانے کے لیے آیا ہے۔ میں خوف سے اسی جگہ بیٹھ گئی۔ نہ تو مجھ میں جواب دینے کی طاقت تھی نہ اٹھنے کی سکت۔ میں اٹھ کر کرتی بھی کیا ۔ لڑکیوں نے آکر مجھے اٹھایا اور اس کے سامنے لا کر کیا۔ میں نے نیم بے ہوشی میں اس کی جانب دیکھا اور اس نے آگے بڑھ کر ہتھکڑی میرے ہاتھ میں لگا دی۔ الحاجہ نے پکار کر کہا: فقط یہی؟ ہمیں بھی اس کے ساتھ لے جاؤ۔ کیا موت کا پھندا صرف اسی کا مقدر ہے ہم سب اسی کی اہل ہیں۔ آؤ ہم سب کو لے جاؤ تاکہ اس زندگی سے ہماری جان چھوٹے ۔ تاہم وہ ان کی جانب متوجہ نہ ہوا اور باری باری ہمارے نام پکار کر نکالنے لگا اور باہر نکال کر سب کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگانے لگا۔ جب دوسری لڑکیوں کی قیدیوں کے نام نہ پکارے گئے تو وہ بھی باہر نکل کر پکارنے لگیں اور منیرہ چیخ کر بولی: رکو۔ ہم بھی ان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ وہ غضب ناک ہو کر دھاڑا اور پوری قوت سے اسے اندر کی جانب دھکیلنے لگا۔ ٹھک کی زور دار آواز آئی اور منیرہ الٹ کر نیچے گری۔ باقی سب کو بھی اسی سختی سے واپس بلاک میں لوٹا دیا گیا۔ پھر وہ ہمیں لے کر امانات کے دفتر میں گیا اور ہماری چیزیں ہمارے حوالے کیں، اسی لمحے الحاجہ پر انکشاف ہوا کہ ان کی آمد کے موقعے پر جو سونا ان سے لے کر امانات کے دفتر میں رکھا گیا تھا وہ چوری ہو چکا ہے اور ان کی منت سماجت اور اصرار کے باوجود ان میں سے کوئی چیز واپس نہ مل سکی۔ ابو طلال ہمیں لے کر شاح کے صحن میں آگیا، میں سب سے آگے تھی، اس نے مجھے زور سے جھٹکا دیا اور بولا: ادھر رک جاؤ۔ میں نے دیکھا کہ میں صحن کے بیچ میں کھڑی ہوں اور ڈھیروں اہل کار میرے اردگرد کھڑے ہیں، افسر اعلیٰ ناصیف اوپر اپنے دفتر کی کھڑکی میں کھڑا جھانک رہا تھا۔ ابو طلال نے میرے سر پر چپت مار کر کہا: اپنا سر اوپر کرو۔میں نے کہا: میں سر اوپر نہیں کرنا چاہتی۔ بولا: میں ابھی تمھارا حجاب اتار دوں گا۔ میں نے کہا: جو چاہو کرو۔ بولا: شاید تمھیں اندازہ نہیں ہے کہ تمھارے گرد کتنے اہل کار کھڑے ہیں؟ اگر اب بھی تم نے ہڑتال نہ توڑی تو میں تمھیں ان سب کے سامنے رسوا کر ڈالوں گا۔ میں نے کہا: جو چاہے کرو۔ جو کچھ تم کر چکے ہو اس سے بڑھ کر کیا کر سکتے ہو۔ وہ بھڑک اٹھا اور مجھے برے الفاظ میں لعنت ملامت کرنے لگا اور دین کو گالیاں دینے لگا۔ نے میں نے کچھ جواب نہ دیا تو وہ ماجدہ کی جانب مڑا اور مجھے اسے ایک زنجیر میں کس رہا رہا، پھر وہ مجھ سے کہنے لگا: بتاؤ! اب یہ سب اہل کار یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ ، سراسیمگی میں وہ کچھ نہ بول سکی  سوائے اس کے کہ نہیں، میں نہیں جانتی۔

جاری .....

1 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی