جیفری ایپسٹین کا پراسرار جزیرہ: جنت نما مقام کے پیچھے چھپا خوفناک راز

سن 1998ء میں ایک امریکی سرمایہ کار نے تقریباً 80 لاکھ ڈالر میں بحیرۂ کیریبین میں واقع 75 ایکڑ پر مشتمل ایک نجی جزیرہ خریدا۔ یہ جزیرہ امریکی ورجن آئی لینڈز کا حصہ تھا اور اس کا نام لٹل سینٹ جیمز (Little Saint James) تھا۔
ظاہری طور پر یہ جزیرہ کسی جنت سے کم دکھائی نہیں دیتا تھا۔ سرسبز درختوں سے ڈھکی خوبصورت وادیاں، سمندر کے نیلگوں پانی، محل نما عالیشان رہائش گاہ، پرتعیش مہمان خانے، بڑے سوئمنگ پول، جدید جم اور ہیلی پیڈ ہر چیز شاہانہ طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی تھی۔

لیکن اسی دلکش منظر کے پیچھے ایک نہایت ہولناک حقیقت پوشیدہ تھی۔ بعد میں سامنے آنے والے الزامات کے مطابق اس جزیرے پر کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کے ساتھ جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔ انہی الزامات کی وجہ سے مقامی آبادی اس جزیرے کو ایک بدنام نام سے پکارنے لگی۔

رپورٹس کے مطابق کئی متاثرہ لڑکیوں نے یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی، مگر چاروں طرف سمندر ہونے کے باعث فرارہونا مشکل تھا۔ ایک کم عمر لڑکی سمندر تیر کر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑی گئی تو اس کے سفری کاغذات وغیرہ سب ضبط کر لیے گئے۔

اس معاملے کا سب سے زیادہ حیران کن پہلو یہ تھا کہ اس جزیرے پر دنیا بھر کی معروف شخصیات، دولت مند افراد اور بااثر لوگ آتے رہے۔ ان میں سیاست دان، صنعت کار، ارب پتی کاروباری شخصیات اور دیگر مشہور افراد جیسے کہ بل کلنٹن پرنس اینڈریو ڈونالڈ ٹرمپ اسٹیپھین ہوکنگ وغیرہ شامل تھے۔

آخر یہ شخص کون تھا؟

اس کا نام جیفری ایپیسٹن تھا۔ یہ بندہ اپنی ابتدائی زندگی میں ایک اسکول میں ٹیچر کی ملازمت کرتا تھا ، لیکن بعد ازاں مالیاتی مشاورت (فائنانس ایڈوائزر) بن گیا، پھر اسی ہنر کی بنیادپر انتہائی دولت مند افراد کے حلقوں تک رسائی حاصل کر لی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے کروڑوں ڈالر کی دولت جمع کی اور دنیا کے بااثر ترین لوگوں میں اپنی شناخت بنا لی۔ اسی اثر و رسوخ نے اسے عالمی سطح پر ایک انتہائی متنازع شخصیت بنا دیا، جس کے گرد آج بھی بے شمار سوالات و الزامات گردش کر رہے ہیں ، لیکن اثرورسوخ مضبوط ہونے کی وجہ سے ان پر لگائے گئے الزامات بے معنی ہوجاتے تھے ۔

مارچ 2005ء میں فلوریڈا کے پولیس اسٹیشن میں درج ایک چھوٹی سی شکایت نے ایک زلزلہ برپا کردیا امریکی ریاست فلوریڈا کے پام بیچ علاقے میں ایک چودہ سالہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ پولیس کے پاس پہنچی اور ایک ایسی شکایت درج کرائی جس نے بعد میں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ اس کی ایک جاننے والی لڑکی اسے ایک امیر شخص کے گھر یہ کہہ کر لے گئی تھی کہ وہاں صرف جسمانی مالش (مساج) کرنی ہوگی اور اس کے بدلے دو سو سے تین سو ڈالر معاوضہ ملے گا۔ لیکن جب وہ وہاں پہنچی تو صورتِ حال بالکل مختلف تھی۔ اس کے بیان کے مطابق جیفری ایپسٹین صرف ایک تولیہ پہنے اس کے سامنے آیا، اور اس سے نامناسب مطالبات کیے اور پھر اس کا جنسی استحصال کیا۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی سے پوچھا کہ کیا وہ کسی اور لڑکی کو جانتی ہے جو اس گھر میں جا چکی ہو؟ اس نے دو نام بتائے۔ جب ان دونوں لڑکیوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے مزید دو لڑکیوں کے نام بتائے۔ پھر ان سے مزید نام سامنے آئے۔ یوں متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی گئی۔
چند ہی ماہ کے اندر پام بیچ پولیس نے درجنوں متاثرہ لڑکیوں کی شناخت کر لی، جبکہ مزید متاثرین کی تلاش بھی جاری تھی۔ تفتیش کے دوران ایک انتہائی تشویش ناک حقیقت سامنے آئی کہ تقریباً تمام لڑکیوں کی کہانی ایک جیسی تھی۔
ہر ایک کو روزگار اور آسان کمائی کا لالچ دے کر بلایا جاتا، جسمانی مالش کے بہانے گھر میں داخل کیا جاتا اور پھر ان کا جنسی استحصال کیا جاتا۔ متعدد متاثرہ لڑکیاں معاشی طور پر انتہائی کمزور خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں، جبکہ بعض یتیم بھی تھیں، جن کے حق میں آواز اٹھانے والا کوئی موجود نہیں تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی انفرادی جرم نہیں بلکہ ایک منظم جال تھا۔ متاثرہ لڑکیوں کو نئی لڑکیاں لانے کے بدلے اضافی رقم دی جاتی تھی۔ اس طرح ایک لڑکی دوسری کو، دوسری تیسری کو اور تیسری مزید لڑکیوں کو اس نیٹ ورک میں شامل کرتی چلی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق زیادہ تر متاثرین کی عمریں اٹھارہ برس سے کم تھیں، جس کی وجہ سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔

سن 2006ء میں امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے بھی اس مقدمے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کیں۔ اس پر خصوصی آپریشن چلائی گئی ۔ تحقیقات کے دوران فلوریڈا، نیویارک اور نیو میکسیکو سمیت مختلف ریاستوں سے متاثرین کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ تفتیش کاروں نے درجنوں گواہوں سے پوچھ گچھ کی اور شواہد جمع کیے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق جیفری ایپسٹین کے خلاف کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات کے لیے خاطر خواہ شواہد موجود تھے۔

قانونی ماہرین کی رائے میں اگر مقدمہ معمول کے مطابق چلتا تو جیفری ایپسٹین کو کئی دہائیوں، بلکہ ممکنہ طور پر عمر بھر قید کی سزا ہو سکتی تھی۔لیکن اس مرحلے پر کہانی نے ایک غیر متوقع رخ اختیار کیا۔ پس پردہ ایسے قانونی معاملات طے ہونے لگے جنہوں نے پورے مقدمے کی سمت ہی بدل دی۔ بعد میں ان ہی معاملات کو امریکی تاریخ کے سب سے متنازع معاملات میں شمار کیا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا جیفری ایپسٹین کو اس کے اثر و رسوخ، دولت اور طاقتور تعلقات کی وجہ سے غیر معمولی رعایت دی جا رہی تھی؟

پولیس کی تحقیقات میں 53 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی۔ فلوریڈا، نیویارک اور نیو میکسیکو سمیت مختلف ریاستوں میں متاثرہ لڑکیوں کے بیانات قلم بند کیے گئے، جبکہ جیفری ایپسٹین پر نابالغ لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ درجنوں متاثرین، متعدد گواہوں، ایف بی آئی کی تفصیلی تحقیقات اور سنگین الزامات کے بعد جیفری ایپسٹین کو عمر بھر کے لیے جیل جانا چاہیے تھا، لیکن پردے کے پیچھے کچھ اور ہی کھیل کھیلا جا رہا تھا۔

استغاثہ کے بعض اعلیٰ حکام خفیہ طور پر ایپسٹین کے وکلاء کے ساتھ ایک معاہدہ کر رہے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایپسٹین کو صرف جسم فروشی سے متعلق دو نسبتاً معمولی الزامات تسلیم کرنے تھے، جبکہ اس کے بدلے میں نہ صرف اسے بلکہ اس کے بعض ساتھیوں کو بھی دیگر تمام ممکنہ وفاقی فوجداری مقدمات سے استثنا (Immunity) دے دیا گیا۔ یعنی ان الزامات پر اس کے خلاف مزید کارروائی نہیں کی جا سکتی تھی۔

اس معاہدے کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اسے مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔ یہاں تک کہ متاثرہ لڑکیوں کو بھی اس کی اطلاع نہیں دی گئی، حالانکہ امریکی قانون کے مطابق ایسے کسی بھی معاہدے سے متاثرین کو آگاہ کرنا لازمی ہوتا ہے۔

30 جون 2008 کو جیفری ایپسٹین عدالت میں پیش ہوا اور معاہدے کے مطابق ان دو الزامات کا اعترافِ جرم کر لیا۔ اس کے نتیجے میں اسے صرف 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ مزید حیرت انگیز بات یہ تھی کہ دورانِ سزا اسے پام بیچ کاؤنٹی جیل کے ایک خصوصی حصے میں رکھا گیا، جہاں اسے ہفتے میں چھ دن، روزانہ بارہ گھنٹے اپنے ذاتی دفتر جانے کی اجازت حاصل تھی۔ عملی طور پر وہ صرف رات گزارنے کے لیے جیل واپس آتا تھا۔

اس کے باوجود اس نے پوری سزا بھی مکمل نہ کی، بلکہ جولائی 2009 میں، سزا ختم ہونے سے تقریباً پانچ ماہ پہلے ہی، اسے رہا کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ اسی متنازع خفیہ معاہدے کے باعث ممکن ہوا، جس کی منظوری میں اُس وقت کے وفاقی پراسیکیوٹر الیگزینڈر آکوسٹا کا اہم کردار بتایا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں یہی الیگزینڈر آکوسٹا، Donald Trump کی پہلی صدارتی حکومت میں سیکریٹری آف لیبر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد کئی برس تک جیفری ایپسٹین بظاہر معمول کی زندگی گزارتا رہا۔ وہ اپنے نجی طیارے میں دنیا بھر کا سفر کرتا، اپنے نجی جزیرے پر پُرتعیش تقریبات منعقد کرتا اور بااثر شخصیات سے روابط برقرار رکھتا رہا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس داستان کا اختتام یہی ہے؛ مرکزی ملزم قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ آنے والے برسوں میں اس نے ایک نیا اور مزید حیران کن موڑ لینا تھا۔

دنیا کے ایک کونے میں ایک ایسی صحافی بھی موجود تھی جس نے عزم کر رکھا تھا کہ وہ جیفری ایپسٹین کو قانون کی گرفت سے بچ کر نہیں جانے دے گی۔ اس صحافی کا نام جولی کے براؤن تھا، جو امریکی تحقیقی صحافی تھیں اور میامی ہیرالڈ سے وابستہ تھیں۔

سن 2009 میں ایپسٹین کی رہائی کے بعد جولی کے براؤن نے اس مقدمے کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے کئی برس تک متاثرہ خواتین، عدالتی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ بالآخر نومبر 2018 میں انہوں نے اپنی تحقیقی رپورٹوں کا ایک جامع سلسلہ شائع کیا۔ یہ محض ایک یا دو مضامین نہیں تھے بلکہ ایسی مسلسل تحقیقات تھیں جن میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آخر انصاف کے نظام نے ایپسٹین کے ساتھ اتنی غیر معمولی نرمی کیوں برتی۔ ان رپورٹوں کو "Perversion of Justice" کا عنوان دیا گیا۔

یہ رپورٹیں منظرِ عام پر آتے ہی امریکی میڈیا اور عوام میں ہلچل مچ گئی۔ عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا اور ایپسٹین کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اسی بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں نیویارک کے وفاقی حکام نے ایک بار پھر اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ اپنی تحقیق کے دوران جولی کے براؤن نے 80 سے زائد ممکنہ متاثرین کی نشاندہی کی۔ انہوں نے متعدد متاثرہ خواتین کے انٹرویوز کیے، ان کے بیانات کو دستاویزی شکل دی اور ایسے شواہد پیش کیے جنہوں نے اس مقدمے کو ایک نئی سمت دے دی۔

بالآخر جولائی 2019 میں جیفری ایپسٹین کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس مرتبہ اس پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات عائد کیے گئے، جن میں طویل قید کی سزا کا امکان موجود تھا۔ لیکن پھر اس کہانی نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ 10 اگست 2019 کو جیفری ایپسٹین نیویارک کی جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری حکام نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے سیل میں بستر کی چادر (Bed Sheet) کی مدد سے خودکشی کر لی۔ اس واقعے کے بعد کئی ایسے سوالات سامنے آئے جنہوں نے عوامی شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا۔ بتایا گیا کہ اس رات ایپسٹین اپنے سیل میں اکیلا تھا، جبکہ جیل کے کیمرے بھی اس رات بند تھے ، جس کے باعث اس وقت کی مکمل ویڈیو دستیاب نہ تھی۔ انہی وجوہات کی بنا پر مختلف حلقوں میں متعدد سازشی نظریات (Conspiracy Theories) گردش کرنے لگے۔

کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے قتل کیا گیا تاکہ وہ بااثر شخصیات کے بارے میں مزید معلومات ظاہر نہ کر سکے۔ ان دعوؤں کو مختلف سیاسی حلقوں میں بھی تقویت ملی۔ بعد ازاں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پوسٹ کو ری شیئر کیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین کے پاس بل کلنٹن سے متعلق خفیہ معلومات تھیں، اسی لیے اسے قتل کر دیا گیا۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی حتمی اور قابلِ اعتماد ثبوت آج تک پیش نہیں کیا جا سکا۔

ایپسٹین کیس کے حوالے سے ایک عرصے تک سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا ایک مقبول نعرہ رہا کہ "Epstein Didn't Kill Himself"۔ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے کو بارہا اٹھایا اور وعدہ کیا کہ اقتدار میں آتے ہی ایپسٹین سے متعلق تمام خفیہ دستاویزات (Epstein Files) عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ مختلف انٹرویوز میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایپسٹین فائلز کو ڈی کلاسیفائی کریں گے، تو ان کا جواب واضح طور پر ہاں میں ہوتا تھا۔

جنوری 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی کے بعد سب کی نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ ایپسٹین فائلز کب منظرِ عام پر آئیں گی، خصوصاً ان کے حامی اس معاملے پر بے حد پُرجوش تھے۔ لیکن جولائی 2025 میں امریکی محکمۂ انصاف (Department of Justice) نے اعلان کیا کہ ایپسٹین کے مبینہ کلائنٹس کی کوئی باضابطہ فہرست موجود نہیں، لہٰذا اس حوالے سے مزید کوئی فائل جاری نہیں کی جائے گی۔اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف میں بھی تبدیلی آ گئی۔ انہوں نے ایپسٹین فائلز کے معاملے کو ایک غیر اہم اور پرانا موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی مخالفین کی جانب سے بار بار اٹھایا جانے والا مسئلہ ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) کو اپنی توجہ ووٹر فراڈ جیسے اہم معاملات پر مرکوز رکھنی چاہیے، نہ کہ ایسے مقدمات پر جنہیں وہ ماضی کا قصہ قرار دیتے تھے۔اس اچانک تبدیلی نے بہت سے مبصرین اور خود ٹرمپ کے بعض حامیوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا کر دیے کہ آخر وہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہو گئے؟ اسی دوران ایلون مسک نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کا نام ایپسٹین سے متعلق دستاویزات میں موجود ہے، اسی لیے یہ فائلیں جاری نہیں کی جا رہیں۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنی یہ پوسٹ حذف کر دی، لیکن اس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کر گئیں۔

اس بحث کے دوران متعدد پرانی رپورٹس بھی دوبارہ زیرِ بحث آئیں، جن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کئی برس تک ایک دوسرے کے سماجی حلقے کا حصہ رہے۔ بعض اخباری رپورٹس، خصوصاً The New York Times سمیت مختلف ذرائع کے مطابق، دونوں کی شناسائی 1980 کی دہائی میں شروع ہوئی اور 1990 کی دہائی میں وہ مختلف تقریبات، نجی محفلوں، ہوٹلوں اور دیگر سماجی اجتماعات میں ایک ساتھ دیکھے جاتے رہے۔

کچھ سابق ملازمین اور دیگر افراد نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ دونوں کے درمیان باقاعدہ رابطہ رہتا تھا۔ اسی طرح بعض خواتین نے یہ الزامات بھی عائد کیے کہ مختلف تقریبات میں ٹرمپ اور ایپسٹین دونوں موجود تھے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف عائد ہونے والے کسی بھی غیر قانونی عمل کے الزام کو تسلیم نہیں کیا، اور ان الزامات میں سے متعدد کی عدالتی سطح پر تصدیق بھی نہیں ہوئی۔

سن 2002 میں ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ایپسٹین کے بارے میں یہ کہا تھا کہ وہ "ایک شاندار آدمی ہے" اور یہ بھی کہا کہ اسے خوبصورت خواتین پسند ہیں، جن میں نسبتاً کم عمر خواتین بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں جب ایپسٹین کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے تو ٹرمپ نے کہا کہ ان کا ایپسٹین سے تعلق برسوں پہلے ختم ہو چکا تھا۔

ان تمام واقعات کے بعد مختلف حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں ضرور سامنے آئیں کہ شاید ایپسٹین فائلز میں ایسی معلومات موجود ہوں جو بااثر شخصیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم آج تک ایسی کوئی سرکاری دستاویز منظرِ عام پر نہیں آئی جس میں یہ ثابت ہو کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین کے جرائم میں شرکت کی ہو۔

نومبر 2025 میں امریکی کانگریس میں ایک بل پیش کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکی محکمۂ انصاف (Justice Department) 30 دن کے اندر ایپسٹین سے متعلق تمام سرکاری دستاویزات عوام کے سامنے پیش کرے۔

اس بل پر ووٹنگ کے دوران ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا، جب ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان نے پارٹی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس کی حمایت کی۔ امریکہ کے نظام میں ارکانِ کانگریس کو اپنی جماعت کی ہدایت کے برخلاف ووٹ دینے کی آزادی حاصل ہوتی ہے، اسی لیے یہ بل منظور ہوگیا اور 19 نومبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس پر دستخط کرنا پڑے۔ بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ ان دستاویزات سے کئی طاقتور شخصیات کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔ تاہم 19 دسمبر کو محکمۂ انصاف نے صرف چند ہزار صفحات جاری کیے، جبکہ 23 دسمبر کو مزید 30 ہزار صفحات منظر عام پر آئے۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ سیاہ مارکر سے ڈھانپا گیا تھا، جس کی وجہ سے کئی نام، تاریخیں اور اہم معلومات پڑھنا ممکن نہیں تھا۔

اس کے باوجود بعض مبصرین نے دعویٰ کیا کہ ان دستاویزات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام متعدد مقامات پر آیا ہے۔ بعض ای میلز اور دیگر ریکارڈز کے حوالے سے یہ دعوے بھی کیے گئے کہ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان تعلقات موجود تھے، دستاویزات میں ایک لیموزین ڈرائیور کے بیان کا بھی ذکر کیا گیا، جس نے ایف بی آئی کو بتایا کہ اس نے برسوں پہلے ٹرمپ سے متعلق کچھ مشتبہ گفتگو سنی تھی۔ اسی طرح ایک خاتون کے الزامات اور ایک متنازع خط کا بھی حوالہ دیا گیا، لیکن ان تمام دعووں کی صداقت پر مختلف آراء موجود ہیں، جبکہ بعض دستاویزات کی صحت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ محکمۂ انصاف نے کئی حساس معلومات کو ضرورت سے زیادہ حذف (Redact) کیا، جبکہ بعض ماہرین نے دعویٰ کیا کہ بعض چھپائے گئے الفاظ تکنیکی طریقوں سے دوبارہ دیکھے جا سکتے ہیں۔

ابھی بھی بتایا جاتا ہے کہ ایپسٹین کیس سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل مزید دستاویزات منظرِ عام پر آنا باقی ہیں۔ محکمۂ انصاف کے مطابق ان دستاویزات کی جانچ اور قانونی تقاضوں کے مطابق حساس معلومات حذف کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس لیے یہ معاملہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اور آئندہ جاری ہونے والی دستاویزات سے مزید حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم جب تک تمام ریکارڈ منظرِ عام پر نہیں آجاتا اور آزادانہ تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، کسی بھی فرد کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی