آریس ایس کی دہشتگردی ملک میں اور ملکی سسٹم میں کس طرح زوروں پر ہے ،

2008 میں احمد آباد میں سلسلہ وار بم دھماکہ ہوا تھا جولائی کا مہینہ تھا اور 70 منٹ میں مسلسل 21 بم دھماکے ہسپتالوں میں بسوں میں بس اسٹیشنوں میں اور کچھ علاقوں میں بھی ہوا اس دھماکہ کے بعد تقریبا 56 لوگوں کی موت ہو گئی اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ٹفن میں گاڑیوں میں اسکوٹی وغیرہ میں بم کو رکھا گیا تھا ، ایک تنظیم جس کا نام ہے حرکت الجہاد الاسلامی پاکستان کی تنظیم ہے اس نے اس حملے کی ذمہ داری لی ٹی وی چینل نے دعوی کیا کہ ان کو احمد آباد میں بم دھماکہ ہونے سے صرف پانچ منٹ پہلے 14 صفحات پر مشتمل ایک میل انڈین مجاہدین کی طرف سے آیا جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ گجرات 2002 میں جس طرح مسلمانوں کا قتل عام ہوا، امبانی نے ممبئی میں وقف کی زمین پر جو اپنا گھر بنانا شروع کیا ہے ایسے تمام معاملوں کا بدلہ لیا جائے گا، گجرات کا بدلہ لینے کے لیے آپ صرف پانچ منٹ کا انتظار کرو اس کے بعد ہی احمد آباد میں سلسلہ وار بم دھماکہ ہوا پھر اس کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرا دیا گیا اور مسلسل گجرات اے ٹی ایس نے گجرات اور مختلف صوبوں سے مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جس میں مدرسہ کالجز اسکول  یونیورسٹیز سے جڑے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بھی گرفتار کیا گیا ان پر 2008 کی احمد آباد بم دھماکہ کرنے کا الزام لگادیا گیا عدالت میں مقدمہ چلتا رہا اس کے بعد احمد آباد کی اسپیشل عدالت نے فروری 2022 کے فیصلے میں 77 افراد میں سے 28 کو بری کر دیا کیونکہ ان کے خلاف خاطر خواہ ثبوت نہیں مل سکے تھے 38 کو پھانسی کی سزا سنائی اور 11 کو عمر قید کی سزا سنائی یعنی کل 49 افراد کو سزا سنائی گئی اور 28 کو عدالت نے بری کر دیا اس کے بعد اس فیصلے کو گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا پھر سات جولائی 2026 کو گجرات ہائی کورٹ نے جولائی 2008 کے احمد آباد دھماکہ کے سلسلے میں وہی فیصلہ سنایا جو احمد آباد کی اسپیشل عدالت کا فیصلہ تھا یعنی 38 ملزموں کو پھانسی کی موت کی سزا سنائی گئی اور 11 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 2008میں احمد آباد ، ممبئی جے پور ، بنگلور جیسے بڑے بڑے شہروں میں میں بم دھماکے ہوئے ان تمام بم دھماکوں کا الزام بھارتی مسلمانوں پر لگایا گیا انڈین مجاہدین (جو آریس یس ہی کا ایک گروہ ہے) کے نام پر پورے ملک دیش میں سنگھی ایجنسیوں نے ہزاروں مسلمانوں کو گرفتار کیا مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا داغ لگا دیا گیا برائے نام کبھی ہائی کورٹ سے کبھی سپریم کورٹ سے مسلمانوں کو (ان کا کیریئر تباہ کرنے کے بعد ) رہائی ملی  جو الزام مسلمانوں پر ثابت ہی نہیں ہو سکا ، پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس کا مجرم کون ہے جب پکڑے گئے مسلمان بے گناہ ثابت ہوئے تو بم دھماکے کس نے کیے تھے ؟ ۔ بعد میں رہائی پانے والوں نے  سچائی بتائی اور کہا کہ سنگھی ایجنسی نے زبردستی ان کو گرفتارکرکے ان سے  سادہ کاغذ پر سائن کرایا جاتا تھا گجرات کے یہ آدم خور سنگھی اے ٹی ایس افسران اور دیگر ملک کے سنگھی ایجنسی خود کہتے تھے کہ ہم جانتے ہیں تم قصوروار نہیں ہو تم نے بم دھماکہ نہیں کیا ہے لیکن کس نے کیا ہے ابھی تک ہمیں پتہ نہیں چل سکا (جو ایک جھوٹی بات تھی سب ان کو پتہ ہے بس مسلمانوں کو پریشان کرنا ہے ) لیکن ہمیں کچھ لوگوں کو گرفتار کرنا ہوگا تم مسلمان ہو اسی لیے ہم تمہیں پکڑ رہے ہیں ۔ بہر حال امید ہے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا اور وہاں سے انصاف (کیریئر تباہ ہونے کے بعد ) ضرور ملے گا ۔ یہ بات طے ہے کہ ملک کے تمام اہم عہدوں پر سنگھی قابض ہوچکا ہے انہیں کی طرف سے یہ سب ڈرامہ کیا جاتا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی